aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khatmal"
میری توہین تھی کھٹمل سے مکوڑے سے شکستنوچنا جو پڑا تکیہ تو برا مان گئے
اس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہے
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہےکہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں
مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو
چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیںاور یہ سب دریچہ ہائے خیال
تھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کےتھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
ہوں مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھےجو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطر
خیریت اپنی لکھا کرتا ہوںاب تو تقدیر میں خطرہ بھی نہیں
مری نظر کو چاہئے وہی چراغ دور کاکھٹک رہی ہے ہر کرن نظر میں خار کی طرح
اور سارے غم مٹ جائیں گےتم خوف و خطر سے درگزرو
ہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیں
آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیالمدھ بھرا حرف کوئی زہر بھرا حرف کوئی
کیوں جان حزیں خطرہ موہوم سے نکلےکیوں نالۂ حسرت دل مغموم سے نکلے
پلکیں آنکھوں پہ جھکتی آتی ہیںانکھڑیوں میں کھٹک رہی ہے رات
مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسيجيبولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا
ترک دنیا کا سماں ختم ملاقات کا وقتاس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤ گے
کمال نظم ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویاہویدا تھی نگینے کی تمنا چشم خاتم سے
خطا و جرم کہوں اپنی بے گناہی کوسحر کا نور لکھوں رات کی سیاہی کو
لہجے میں یہ کھٹک ہے کہ ہے نیشتر کی دھاراور گر رہا ہے دھار سے شبنم کا آبشار
کچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books