aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khauf"
سو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیےکہ مجھ کو حرص کرم ہے نہ خوف خمیازہاسے ہے سطوت شمشیر پر گھمنڈ بہتاسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ
کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گےوہ تم کو خوف دلائیں گےجو ہے وہ بھی کھو سکتا ہےاس راہ میں رہزن ہیں اتنےکچھ اور یہاں ہو سکتا ہےکچھ اور تو اکثر ہوتا ہےپر تم جس لمحے میں زندہ ہویہ لمحہ تم سے زندہ ہےیہ وقت نہیں پھر آئے گاتم اپنی کرنی کر گزروجو ہوگا دیکھا جائے گا
خود اپنے سائے کی جنبش سے خوف کھائے ہوئےتصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تموہ شوخیاں وہ تبسم وہ قہقہے نہ رہےہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تمچھپا چھپا کے خموشی میں اپنی بے چینیخود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تممیری امید اگر مٹ گئی تو مٹنے دوامید کیا ہے بس اک پیش و پس ہے کچھ بھی نہیںمری حیات کی غمگینیوں کا غم نہ کروغم حیات غم یک نفس ہے کچھ بھی نہیںتم اپنے حسن کی رعنائیوں پہ رحم کرووفا فریب ہے طول ہوس ہے کچھ بھی نہیںمجھے تمہارے تغافل سے کیوں شکایت ہومری فنا مرے احساس کا تقاضا ہےمیں جانتا ہوں کہ دنیا کا خوف ہے تم کومجھے خبر ہے یہ دنیا عجیب دنیا ہےیہاں حیات کے پردے میں موت پلتی ہےشکست ساز کی آواز روح نغمہ ہےمجھے تمہاری جدائی کا کوئی رنج نہیںمرے خیال کی دنیا میں میرے پاس ہو تمیہ تم نے ٹھیک کہا ہے تمہیں ملا نہ کروںمگر مجھے یہ بتا دو کہ کیوں اداس ہو تمخفا نہ ہونا مری جرأت تخاطب پرتمہیں خبر ہے مری زندگی کی آس ہو تممرا تو کچھ بھی نہیں ہے میں رو کے جی لوں گامگر خدا کے لیے تم اسیر غم نہ رہوہوا ہی کیا جو زمانے نے تم کو چھین لیایہاں پہ کون ہوا ہے کسی کا سوچو تومجھے قسم ہے مری دکھ بھری جوانی کیمیں خوش ہوں میری محبت کے پھول ٹھکرا دومیں اپنی روح کی ہر اک خوشی مٹا لوں گامگر تمہاری مسرت مٹا نہیں سکتامیں خود کو موت کے ہاتھوں میں سونپ سکتا ہوںمگر یہ بار مصائب اٹھا نہیں سکتاتمہارے غم کے سوا اور بھی تو غم ہیں مجھےنجات جن سے میں اک لحظہ پا نہیں سکتایہ اونچے اونچے مکانوں کی ڈیوڑھیوں کے تلےہر ایک گام پہ بھوکے بھکاریوں کی صداہر ایک گھر میں ہے افلاس اور بھوک کا شورہر ایک سمت یہ انسانیت کی آہ و بکایہ کارخانوں میں لوہے کا شور و غل جس میںہے دفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہیہ شاہراہوں پہ رنگین ساڑیوں کی جھلکیہ جھونپڑوں میں غریبوں کے بے کفن لاشےیہ مال روڈ پہ کاروں کی ریل پیل کا شوریہ پٹریوں پہ غریبوں کے زرد رو بچےگلی گلی میں یہ بکتے ہوئے جواں چہرےحسین آنکھوں میں افسردگی سی چھائی ہوئییہ جنگ اور یہ میرے وطن کے شوخ جواںخریدی جاتی ہیں اٹھتی جوانیاں جن کییہ بات بات پہ قانون و ضابطے کی گرفتیہ ذلتیں یہ غلامی یہ دور مجبورییہ غم بہت ہیں مری زندگی مٹانے کواداس رہ کے مرے دل کو اور رنج نہ دو
پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضاپھر وہی عام ہوئیں اہل ریا کی باتیںنعرۂ حب وطن مال تجارت کی طرحجنس ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں
اب کیوں اس دن کا ذکر کروجب دل ٹکڑے ہو جائے گااور سارے غم مٹ جائیں گےتم خوف و خطر سے درگزروجو ہونا ہے سو ہونا ہےگر ہنسنا ہے تو ہنسنا ہےگر رونا ہے تو رونا ہےتم اپنی کرنی کر گزروجو ہوگا دیکھا جائے گا
مری نظروں میںآئندہ کے افسوس کے سائے لرزاں ہیںمجھے قید خوف سے رہا کرومیں اپنے درد کی ننگی دھوپ سےگھنی تسلی مانگ مانگ کے ہار گیااے درد مرا فیصلہ کرومری خالی آنکھیںمنظر منظر بھٹک رہیلڑکھڑا رہی ہیںدیا کرومجھے خوابوں کی بیساکھی دو
میرے اسکول مری یادوں کے پیکر سن لےمیں ترے واسطے روتا ہوں برابر سن لےتیرے استادوں نے محنت سے پڑھایا ہے مجھےتیری بینچوں نے ہی انسان بنایا ہے مجھےنا تراشیدہ سا ہیرا تھا تراشا تو نےذہن تاریک کو بخشا ہے اجالا تو نےعلم کی جھیل کا تیراک بنایا ہے مجھےخوف کو چھین کے بے باک بنایا ہے مجھےتجھ سے شفقت بھی ملی تجھ سے محبت بھی ملیدولت علم ملی مجھ کو شرافت بھی ملیشفقتیں ایسی ملی ہیں مجھے استادوں کیپرورش کرتا ہو جیسے کوئی شہزادوں کیتیری چاہت میں میں اس درجہ بھی کھو جاتا تھاتیری بینچوں پہ ہی کچھ دیر کو سو جاتا تھا
تو خوف نہیں لے چل!اے عشق کہیں لے چل!
جہاں زادوہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوتجس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہےمحیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زنتمام رات تیرتے رہے تھے ہمہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کےتیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سےکہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہےہم ایک دوسرے سے مطمئن زوال عمر کے خلافتیرتے رہےتو کہہ اٹھی: 'حسن یہاں بھی کھینچ لائیجاں کی تشنگی تجھے!'(لو اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا میںکہ میرا حلق آنسوؤں کی بے بہا سخاوتوںسے شاد کام ہوگیا!)مگر یہ وہم دل میں تیرنے لگا کہ ہو نہ ہومرا بدن کہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیانہیں، مجھے دوئی کا واہمہ نہیںکہ اب بھی ربط جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھےیہی وہ اعتبار تھاکہ جس نے مجھ کو آپ میں سمو دیامیں سب سے پہلے 'اپ 'ہوںاگر ہمیں ہوں تو ہو اور میں ہوں پھر بھی میںہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں!اگر میں زندہ ہوں تو کیسے آپ سے دغا کروں؟کہ تیرے جیسی عورتیں، جہاں زاد،ایسی الجھنیں ہیںجن کو آج تک کوئی نہیں 'سلجھ' سکاجو میں کہوں کہ میں 'سلجھ' سکا تو سر بسرفریب اپنے آپ سے!کہ عورتوں کی ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پرجواب جس کا ہم نہیں(لبیب کون ہے؟ تمام رات جس کا ذکرتیرے لب پہ تھاوہ کون تیرے گیسوؤں کو کھینچتا رہالبوں کو نوچتا رہاجو میں کبھی نہ کر سکانہیں یہ سچ ہے میں ہوں یا لبیب ہورقیب ہو تو کس لیے تری خود آگہی کی بے ریا نشاط ناب کاجو صد نوا و یک نوا خرام صبح کی طرحلبیب ہر نوائے ساز گار کی نفی سہی!)مگر ہمارا رابطہ وصال آب و گل نہیں، نہ تھا کبھیوجود آدمی سے آب و گل سدا بروں رہےنہ ہر وصال آب و گل سے کوئی جام یا سبو ہی بن سکاجو ان کا ایک واہمہ ہی بن سکے تو بن سکے!
مظلومرات چھائی تو ہر اک درد کے دھارے چھوٹےصبح پھوٹی تو ہر اک زخم کے ٹانکے ٹوٹےدوپہر آئی تو ہر رگ نے لہو برسایادن ڈھلا خوف کا عفریت مقابل آیایا خدا یہ مری گردان شب و روز و سحریہ مری عمر کا بے منزل و آرام سفرکیا یہی کچھ مری قسمت میں لکھا ہے تو نےہر مسرت سے مجھے عاق کیا ہے تو نےوہ یہ کہتے ہیں تو خوشنود ہر اک ظلم سے ہےوہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہےگر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟ان کی مانوں کہ تری ذات کا اقرار کروں؟
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
اے عشق ازل گیر و ابد تاباے کاہن دانشور و عالی گہر و پیرتو نے ہی بتائی ہمیں ہر خواب کی تعبیرتونے ہی سجھائی غم دلگیر کی تسخیرٹوٹی ترے ہاتھوں ہی سے ہر خوف کی زنجیراے عشق ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خواب
خوف آفت سے کہاں دل میں ریا آئے گیبات سچی ہے جو وہ لب پہ سدا آئے گیدل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفتمیری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گیمیں اٹھا لوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پرخدمت قوم و وطن میں جو بلا آئے گیسامنا صبر و شجاعت سے کروں گا میں بھیکھنچ کے مجھ تک جو کبھی تیغ جفا آئے گیغیر زعم اور خودی سے جو کرے گا حملہمیری امداد کو خود ذات خدا آئے گیآتما ہوں میں بدل ڈالوں گا فوراً چولاکیا بگاڑے گی اگر میری قضا آئے گیخون روئے گی سما پر میرے مرنے پہ شفقغم منانے کے لیے کالی گھٹا آئے گیابر تر اشک بہائے گا مرے لاشے پرخاک اڑانے کے لیے باد صبا آئے گیزندگانی میں تو ملنے سے جھجکتی ہے فلکؔخلق کو یاد مری بعد فنا آئے گی
درخت! میرے دوستتم مل جاتے ہو کسی نہ کسی موڑ پراور آسان کر دیتے ہو سفرتمہارے پیر کی انگلیاںجمی رہیں پاتال کے بھیدوں پرقائم رہے میرے دوستتمہارے تنے کی متانت اور قوتدھوپ اور بارش تمہیں اپنے تحفوں سے نوازتی رہےتم بہت پروقار اور سادہ ہومیرے تھیلے کو جاننا چاہتے ہوضرور.... یہ لو میں اسے کھولتا ہوںروٹیاں دعائیں اور نظمیںمیرے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیںایک شاعر کے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتادوست دکھ دینا تم نے سیکھا ہی نہیںتم نے نہ تو مجھ سے شاعری کا مطلب پوچھااور نہ کبھی میرے مطالعے پر شک کیاایسا ہی ہونا چاہئے دوستوں کواگر میرے پاس اک اور زندگی ہوتی توتو میں اپنی پہلی زندگی تمہاری جڑوں پر گزار دیتامگر میں گھر سے خاندان بھر خوشیوں کے لیے نکلا ہوںاور وہاں میرا انتظار کیا جا رہا ہےتم نے میرے دوستہاں تم نےبہت کچھ سکھایا ہے مجھےمثلاً زمین اور آسمانی بجلیاور ہوااور انتظاراور دوسروں کے لیے زندہ رہنابہت قیمتی ہیں یہ باتیںمیں کیا دے سکتا ہوں اس فیاضی کا جوابمیرے پاس تمہارے لیےایک روٹی اور دعا ہےروٹی: تمہاری چیونٹیوں کے لیےدعا تمہارے آخری دن کے لیےمجھے معلوم ہے تم نے کلہاڑی کے مصافحےاور آری کی ہنسی سے کبھی خوف نہیں کھایامگر تم روک نہیں سکتے انہیںکوئی بھی نہیں روک سکتاخدا کرےخدا کرے تمہاری شاخوں سے ایک جھونپڑی بنائی جائےبازوؤں کے گھیرے میں نہ آنے والے تمہارےتنے کی لکڑیبہت کافی ہےدو پہیوں اور ایک کشتی کے لیےدوست: ہم پھر ملیں گےمسافر اور چھکڑامسافر اور کشتیکہیں نہ کہیں ہم پھر ایک ساتھ ہوں گےکہیں نہ کہیںایک ساتھ.... ہم سامنا کریں گےہوا کا اور راستوں کامسرت اور موت کا....
مرنے چلے تو سطوت قاتل کا خوف کیااتنا تو ہو کہ باندھنے پائے نہ دست و پامقتل میں کچھ تو رنگ جمے جشن رقص کارنگیں لہو سے پنجۂ صیاد کچھ تو ہوخوں پر گواہ دامن جلاد کچھ تو ہوجب خوں بہا طلب کریں بنیاد کچھ تو ہو
مجھے خوف ہے کہ کتاب میںمرے روز و شب کی اذیتیںوہ ندامتیں وہ ملامتیںکسی حاشیے پہ رقم نہ ہوںمیں فریب خوردۂ برتریمیں اسیر حلقۂ بزدلیوہ کتاب کیسے پڑھوں گی میں؟
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
اے وطن جوش ہے پھر قوت ایمانی میںخوف کیا دل کو سفینہ ہے جو طغیانی میںدل سے مصروف ہیں ہر طرح کی قربانی میںمحو ہیں جو تری کشتی کی نگہبانی میںغرق کرنے کو جو کہتے ہیں زمانے والےمسکراتے ہیں تری ناؤ چلانے والے
ہم جیتیں گےحقا ہم اک دن جیتیں گےبالآخر اک دن جیتیں گےکیا خوف ز یلغار اعداہے سینہ سپر ہر غازی کاکیا خوف ز یورش جیش قضاصف بستہ ہیں ارواح الشہداڈر کاہے کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books