aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khushbu.e.n"
میرے اس جھونپڑے میںکتنی ہی خوشبوئیں ہیںجو مرے گرد سدا رینگتی ہیںاسی اک رات کی خوشبو کی طرح رینگتی ہیںدر و دیوار سے لپٹی ہوئی اس گرد کی خوشبو بھی ہےمیرے افلاس کی تنہائی کییادوں کی تمناؤں کی خوشبوئیں بھیپھر بھی اس جھونپڑے میں کچھ بھی نہیںیہ مرا جھونپڑا تاریک ہے گندہ ہے پراگندہ ہےہاں کبھی دور درختوں سے پرندوں کی صدا آتی ہےکبھی انجیروں کے زیتونوں کے باغوں کی مہک آتی ہےتو میں جی اٹھتا ہوںتو میں کہتا ہوں کہ لو آج نہا کر نکلا!ورنہ اس گھر میں کوئی سیج نہیں عطر نہیں ہےکوئی پنکھا بھی نہیں،تجھے جس عشق کی خو ہےمجھے اس عشق کا یارا بھی نہیں!
سیلف میڈ لوگوں کا المیہروشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہےزندگی کے رستے میں بچھنے والے کانٹوں کوراہ سے ہٹانے میںایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میںخوشبوئیں پکڑنے میں گلستاں سجانے میںعمر کاٹ دیتے ہیںعمر کاٹ دیتے ہیںاور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیںکیسی کیسی خواہش کو قتل کرتے جاتے ہیںدرگزر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ہیںصبر کے سمندر میں کشتیاں چلاتے ہیںیہ نہیں کہ ان کو اس روز و شب کی کاہش کاکچھ صلہ نہیں ملتامرنے والی آسوں کا خوں بہا نہیں ملتازندگی کے دامن میں جس قدر بھی خوشیاں ہیںسب ہی ہاتھ آتی ہیںسب ہی مل بھی جاتی ہیںوقت پر نہیں ملتیں وقت پر نہیں آتیںیعنی ان کو محنت کا اجر مل تو جاتا ہےلیکن اس طرح جیسےقرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائےاصل جو عبارت ہو پس نوشت ہو جائےفصل گل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ہیںان کے صحن میں سورج دیر میں نکلتے ہیں
اے دل بے خبرجو ہوا جا چکی اب نہیں آئے گیجو شجر ٹوٹ جاتا ہے پھلتا نہیںواپسی موسموں کا مقدر تو ہےجو سماں بیت جائے پلٹتا نہیںجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراب کسے ڈھونڈھتا ہے سر رہ گزراے دل کم نظر اے مرے بے خبر اے مرے ہم سفروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکاچاندنی تھا ہوا صرف رنگ قمرخواب تھا آنکھ کھلتے ہی اوجھل ہواپیڑ تھا رت بدلتے ہوا بے ثمراے دل بے اثر اے مرے چارہ گریہ ہے کس کو خبر!کب ہوائے سفر کا اشارہ ملے!کب کھلیں ساحلوں پر سفینوں کے پرکون جانے کہاں منزل موج ہے!کس جزیرے پہ ہے شاہ زادی کا گھر اے مرے چارہ گراے دل بے خبر کم نظر معتبرتو کہ مدت سے ہے زیر بار سفربے قرار سفرریل کی بے ہنر پٹریوں کی طرحآس کے بے ثمر موسموں کی طرحبے جہت منزلوں کی مسافت میں ہےرستہ بھولے ہوئے رہرووں کی طرحچوب نار سفراعتبار نظر کس گماں پر کریںاے دل بے بصریہ تو ساحل پہ بھی دیکھتی ہے بھنورریت میں کشت کرتی ہے آب بقاکھولتی ہے ہواؤں میں باب اثرتجھ کو رکھتی ہے یہ زیب دار سفر بے قرار سفراے دل بے ہنرگرم سانسوں کی وہ خوشبوئیں بھول جاوہ چہکتی ہوئی دھڑکنیں بھول جابھول جا نرم ہونٹوں کی شادابیاںحرف اقرار کی لذتیں بھول جابھول جا وہ ہوا بھول جا وہ نگرکون جانے کہاں روشنی کھو گئیلٹ گیا ہے کہاں کاروان سحراب کہاں گیسوؤں کے وہ سائے کہاںاس کی آہٹ سے چمکے ہوئے بام و در اے دل بے بصررنگ آسودگی کے تماشے کہاںجھٹپٹا ہے یہاں رہ گزر رہ گزروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکااب کسے ڈھونڈھتا ہے ارے بے خبرجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراے دل کم نظر اے مرے چارہ گر اے مرے ہم سفر
میرے شہر کے سارے رستے بند ہیں لوگومیں اس شہر کا نغمہ گرجو دو اک موسم غربت کے دکھ جھیل کے آیاتاکہ اپنے گھر کی دیواروں سےاپنی تھکی ہوئی اور ترسی ہوئیآنکھیں سہلاؤںاپنے دروازے کے اترتے روغن کواپنے اشکوں سے صیقل کر لوںاپنے چمن کے جلے ہوئے پودوںاور گرد آلود درختوں کیمردہ شاخوں پر بین کروںہر مہجور ستون کو اتنا ٹوٹ کے چوموںمیرے لبوں کے خون سےان کے نقش و نگار سبھی جی اٹھیںگلی کے لوگوں کو اتنا دیکھوںاتنا دیکھوںمیری آنکھیںبرسوں کی ترسی ہوئی آنکھیںچہروں کے آنگن بن جائیںپھر میں اپنا ساز اٹھاؤںآنسوؤں اور مسکانوں سے جھلمل جھلملنظمیں غزلیں گیت سناؤںاپنے پیاروںدرد کے ماروں کا درماں بن جاؤںلیکن میرے شہر کے سارے رستوں پراب باڑ ہے لوہے کے کانٹوں کیشہ دروازے پر کچھ پہرے دار کھڑے ہیںجو مجھ سے اور مجھ جیسے دل والوں کیپہچان سے عاریمیرے ساز سےسنگینوں سے بات کریںمیں ان سے کہتا ہوںدیکھومیں اس شہر کا نغمہ گر ہوںبرسوں بعد کڑی راہوں کیساری اذیت جھیل کے اب واپس آیا ہوںاس مٹی کی خاطرجس کی خوشبوئیںدنیا بھر کی دوشیزاؤں کے جسموں کی مہکوں سےاور سارے جہاں کےسبھی گلابوں سےبڑھ کر ہےمجھ کو شہر میںمیرے شہر میں جانے دولیکن تنے ہوئے نیزوں نےمیرے جسم کو یوں برمایامیرے ساز کو یوں ریزایامیرا ہمکتا خون اور میرے سسکتے نغمےشہ دروازے کی دہلیز سےرستے رستےشہر کے اندر جا پہنچے ہیںاور میں اپنے جسم کا ملبہساز کا لاشہاپنے شہر کے شہ دروازےکی دہلیز پہ چھوڑ کےپھر انجانے شہروں کی شہراہوں پرمجبور سفر ہوںجن کو تج کر گھر آیا تھاجن کو تج کر گھر آیا تھا
ہے میری رات میں اب نیند تیریہم اک دوجے میں یوں کھوئے ہوئے ہیںہمارے خواب بھی اک دوسرے کےبدن کو اوڑھ کر سوئے ہوئے ہیںمرے تکیے میں تیری خوشبوئیں ہیںمری چادر پہ تیری سلوٹیں ہیںتو رہتی ہے مرے پہلو میں ہر دممرے بستر پہ تیری کروٹیں ہیںہو شامیں روز راتیں یا سحر ہوکوئی بھی وقت ہو کوئی پہر ہوتصور میں ترے ڈوبا رہوں میںتجھے خود سے الگ کیسے کروں میں
دن کی خشمگیں نظریںکھو گئیں سیاہی میںآہنی کڑوں کا شوربیڑیوں کی جھنکاریںقیدیوں کی سانسوں کیتند و تیز آوازیںجیلروں کی بدکاریگالیوں کی بوچھاریںبے بسی کی خاموشیخامشی کی فریادیںتہہ نشیں اندھیرے میںشب کی شوخ دوشیزہخار دار تاروں کوآہنی حصاروں کوپار کر کے آئی ہےبھر کے اپنے آنچل میںجنگلوں کی خوشبوئیںٹھنڈکیں پہاڑوں کیمیرے پاس لائی ہے
مرے بچے یہ کہتے ہیں''تم آتی ہو تو گھر میں رونقیں خوشبوئیں آتی ہیںیہ جنت جو ملی ہے سب انہیں قدموں کی برکت ہےہمارے واسطے رکھنا تمہارا اک سعادت ہے''
وہ رات وہ حلب کی کارواں سرا کا حوضجس کو میں نے جسم و جان کی خوشبوئیں کشید کر کےقطرہ قطرہ نو برس میں آنسوؤں سے پر کیاوہ ایک رات صرف ایک رات میں تمام خشک ہو گیاہم اپنے وصل کی تمازتوں میں ایسے جل بجھےکہ راکھ تک نہیں بچییہ ایک جاں کی تشنگیمجھے تجھے بہ یک زماں بھلا کہاں کہاں نہ کھینچتی پھریمگر یہ تو نے کیا کہاکہ تیرے جیسی عورتیں جہاں زادایسی الجھنیں ہیں جن کو آج تک کوئی نہیں سلجھ سکاکہ عورتوں کی ذات ہے وہ طنز اپنے آپ پرجواب جن کا ہم نہیںتو پھر یہ جام و مینا و سبو و حوض و رود نیلاس زمیں کی گود میںازل کی حرف گیر تابناکی کے لئےکہیں بھی کچھ بہم نہیں
لفظ بہت سےجگ مگ جگ مگ کرتے تارےچاند نہیں بننے پاتے ہیںرات گلے میں پھنس جاتی ہےجذبے کتنےبورائی الہڑ خوشبوئیںپھول نہیں بننے پاتی ہیںذات گلے میں پھنس جاتی ہےلیکن اکثرتیری یادیںتیرا چہرہ بن کر آئیںجگ مگ جگ مگ کرتے تارےبورائی الہڑ خوشبوئیںچاند جلے رہتے ہیں شب بھرپھول کھلے رہتے ہیں شب بھررات سمندر بن جاتی ہےذات سمندر بن جاتی ہے
کسی عورت کا پیراہن کسی خلوت کی خوشبوئیںکسی اک لفظ بے معنی کی میٹھی میٹھی سرگوشییہی چیزیں مرے غمگیں خیالوں پر ہمیشہ چھائی رہتی ہیں
جو ہے جو اب تک ہوا ہے جو ہو رہا ہےاس سے کسے مفر ہےکوئی جو چاہےکہ عہد رفتہ سے ایک پل پھر سے لوٹ آئےکہا ہوا لفظ ان کہا ہو سکےتو اس آرزو کا حاصل وہ جانتا ہےبہت سہی اختیار و امکاںبرگ و خس کی تاب و مجال کیا ہےنموئے غنچہ میں اس کا اپنا کمال کیا ہےتری نگاہوں میں تیرا غم کوہ سے گراں تر ہےتو سمجھتا ہےتیرے سینے کے سرخ لاوے سےشہر و قریہ پگھل رہے ہیںخزاں زمستاں تری اداسی کے آئنے ہیںتو مشتعل ہو تو زلزلوں سے زمین کانپےتجھے گماں ہےکہ گل کھلے ہیں ترے تبسم کی پیروی میںیہ پھول کو اختیار کب تھاکہ کون سی شاخ پر کھلےکون کنج میں مسکرائےاور کن فضاؤں میں خوشبوئیں بکھیرے
ایک مدت ہوئی سوچتے سوچتےتم سے کہنا ہے کچھ پر میں کیسے کہوںآرزو ہے مجھے ایسے الفاظ کیجو کسی نے کسی سے کہے ہی نہ ہوںسوچتا ہوں کہ موج صبا کے سبک پاؤں میں کوئی پازیب ہی ڈال دوںچاہتا ہوں کہ ان تتلیوں کے پروں میں دھنک باندھ دوںسرمئی شام کے گیسوؤں میں بندھی بارشیں کھول دوں خوشبوئیں گھول دوںپھول کے سرخ ہونٹوں پہ افشاں رکھوںخواب کی مانگ میں نور سندور کی کہکشاں کھینچ دوںاک تخیل کی بے ربطیوں کو تسلسل کی زنجیر دوںخواب کو جسم دوں جسم کو اسم دوںکوئی تعبیر دوں ایک تصویر دوں اور تصویر کو روبرو رکھ کے اک حرف توقیر دوںکیا کہوں یہ کہوں یوں کہوں پر میں کیسے کہوںجتنے الفاظ ہیں سب کہے جا چکے سب سنے جا چکےتشنہ اظہار کو معتبر سا کوئی اب سہارا ملےاک کنایہ ملے اک اشارہ ملےخوبصورت انوکھی علامت ملے ان کہا ان سنا استعارہ ملےآرزو ہے مجھے ایسے الفاظ کی جستجو ہے مجھے ایسے الفاظ کیجن سے پتھر کو پانی کیا جا سکےخواب کو اک حقیقت کیا جا سکےایک زندہ کہانی کیا جا سکےسرحد جاودانی کیا جا سکے
دسمبر کا مہینہ اور دلی کی سردیستاروں کی جھلملاتی جھرمٹ سے پرےآسمان کے ایک سنسان گوشے میںپونم کا ٹھٹھرتا ہوا کوئی چاند جیسےبادلوں میں کھاتا ہے متواتر ہچکولےہولے ہولےتنہا مسافراور دور تک کہرے کی چادر میں لپٹیبل کھاتی سڑکیںدھند کی غبار میں کھویا ہوا انڈیا گیٹٹھنڈ میں ٹھوکریں کھاتا مسافرخوش نصیب ہےبادلوں میں گھس جاتا ہے چاندمیری کرسمس کی رونقیں پھیلی ہیں تمامستاروں سے روشن سجے دھجے بازارلذیذ کھانوں کی خوشبوئیں جہاں پھیلی ہیں ہر سوبازار کی گرم فضاؤں میںمے کی سرمستی میں ڈوبا ہوا ہے پورے شہر کا شبابتنہا مسافر کیچند روزہ مسافت بھی کیا شے ہے یارو!ہم وطنوں سے دوراپنوں سے دورجمنا تٹ پر جیسے بن مانجھی کے ناؤبوٹ کلب کے سرد پانی میں جیسےتیرتا رکتا ہوا کوئی تنہا حبابتنہا مسافر سوچتا ہےکوئی ہے جس کا وہ ہاتھ تھام لے ہولے ہولےکوئی ہے جو اس کے ساتھ کچھ دور چلے ہولے ہولےدھند میں کھوئی ہوئی منزلیںطویل سڑکیںاور تنہا مسافرجیسے پونم کا ٹھٹھرتا ہوا کوئی چاندبادلوں میں کھاتا ہے متواتر ہچکولےہولے ہولے
ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پرتھرکتی ہوئی شوخ کرنوں نے چنگاریاں گھول دی ہیںتھکی دھوپ نے آ کے لہروں کی پھیلی ہوئی ننگی بانہوں پہ اپنی لٹیں کھول دی ہیںیہ جوئے رواں ہےکہ بہتے ہوئے پھول ہیں جن کی خوشبوئیں گیتوں کی سسکاریاں ہیںیہ پگھلے ہوئے زرد تانبے کی چادر پہ الجھی ہوئی سلوٹیں ہیںکہ زنجیر ہائے رواں ہیںبس اک شور طوفاںکنارا نہ ساحلنگاہوں کی حد تکسلاسل سلاسلکہ جن کو اٹھائے ہوئے ڈولتی پنکھڑیوں کے سفینے بہے جا رہے ہیںبہے جا رہے ہیںکہیں دور ان گھور اندھیروں میں جو فاصلوں کی ردائیں لپیٹے کھڑے ہیںجہاں پر ابد کا کنارا ہے اور اک وہ گاؤںوہ گنے کے کیاروں پہ آتی ہوئی ڈاک گاڑی کے بھورے دھوئیں کی چھچھلتی سی چھاؤں
موہنی جھریاں سبک آنکھیںمہرباں شفقتوں سے پر چہرہتھپکیاں دیتے ہاتھ نرم آغوشچاہتیں دیکھ بھال پیار دلارسارے کنبے کی فکر سب کا خیالرابطے رشتے داریاں ناطےخاطریں وضع داریاں مہماںمرتبے حیثیت حساب نسابنظم و ترتیب گھر کے اخراجاتموت میت بیاہ پیدائشتعزیت تہنیت کے چال چلنچھٹی عاشورہ عید اور براتہر بڑے چھوٹے دن کا پاس و لحاظروزے نفلیں وظیفے تسبیحیںصدقہ منت مراد پیر فقیرخیر خیرات بخششیں نذریںلاگ لگ لین دین میل ملاپپوچھ گچھ رکھ رکھاؤ ریت رواجرونقیں خوش کلامیاں آدابرات قصے کہانیاں چہلیںمیز الماری پاندان پلنگذائقے رنگ خوشبوئیں چہرے
پہلے زمانہ اور تھا مے اور تھی دور اور تھاوہ بولیاں ہی اور تھیں وہ ٹولیاں ہی اور تھیں، وہ ہولیاں ہی اور تھیںلیکن مرے پیر مغاںکل تو نیا انداز تھااک دور کا تھا خاتمہ اک دور کا آغاز تھاتیرے وفاداروں نے جب کھیلیں گلابی ہولیاںنکلے بنا کر ٹولیاںہنستے چلے گاتے چلےاپنے گلابی رنگ سے دنیا کو نہلاتے چلےمسجد سے منہ موڑے ہوئےمندر کا سنگ آستاں چھوڑے ہوئےگرجا سے کترائے ہوئےجیسے کہ ہوں روحانیت کی زندگانی ہی سے گھبرائے ہوئےدور وفاداری کا یہ انجام تھافکر گنہ گاری کا تازہ دل ربا پیغام تھاتیرے ہی کوچے میں یہ سب عہد وفا توڑے گئےرشتے نئے جوڑے گئےاور پھر گنہ گاروں نے کیا رندانہ ہنگامے کیےاس وقت ان کو یاد تھا بس ایک ترسانا ترامفلسوں ناداروں کو للچانا تراجب میکدے کی گود میںتیرے جفا تیری سزا کے نام پر ساغر چلےسوکھے ہوئے کاسے لبالب بھر چلےسب اپنے لب تر کر چلےپھر توڑ دیں وہ پیالیاں جن میں سدا پی آئے تھےشیشے چھنا چھن چھن چھنا چھن ٹوٹتےاور رند لذت لوٹتےٹوٹے ہوئے شیشوں کا اک انبار تھاشیشوں کے اس انبار میں اک وہ بھی کہنہ جام تھاجس کو سکندر کے قوی ہیکل جواںبھاگے تھے پورس کی زمیں کو چھوڑ کران میں وہ کاسے بھی تو ہیں جن کو عرب لے آئے تھےاپنی عبا سے ڈھانپ کرپینے سے پہلے دیکھتے تھے محتسب کو جھانک کرلیکن کبھیپینے سے باز آتے نہ تھے فاتح جو تھےان میں ہیں ایسے جام بھیجن پر پٹھانوں کے قوی ہاتھوں کے دھندلے سے نشاںکچھ آج بھی موجود ہیںاور ان نشانوں میں ہے خوں مفتوح ہندستان کااور ان میں ہیں وہ جام بھی جن کو مغل لے آئے تھےتاتار سے قندھار سے کابل سے رکنا باد سےمفتوح ہندستان میںجن کو وہ اپنے قصر عالیشاں میں چھلکاتے رہےتیغوں سے کھنکاتے رہےاور وہ حسیں نازک سبک ہلکی صراحی کس کی ہےپیرس کے مے خانوں میں یہ مشہور تھیلایا تھا اک تاجر اسے جو بعد میں فاتح بنایہ ہلکے شیشوں کے گلاس اور یہ نئے ہلکے سے پیگجن پر لکھا ہے یہ بنے تھے ملک انگلستان میںاور حال کی صدیوں میں چلتے رہےپینے کو مل جاتی تھی پی لیتے تھے ہملیکن تہی دستی کا یہ عالم تھا دل جلتے رہےہم آج گھبرا ہی گئےاور ان سبھی شیشوں کو چکناچور کر ڈالا وفور جوش میںچھن چھن چھنا چھن توڑ کرجیسے کہ بربادی کی دیوی چھم چھما چھم ناچتیہولی منانے کے لیے مے خانے میں آ ہی گئےٹوٹے ہوئے شیشوں کے اس انبار پرہم نے جلائی آگ یوںزردشت کا پاکیزہ دل سچائیوں پر ہنس دیاجیسے کہ یہ کہنے لگاجلنے دو جلنے دو یوں ہی شیشے پگھلنے دو یوں ہیتیرے وفاداروں نے یوں پیر مغاںشب بھر جلائیں ہولیاںنعرے وہ مستانے لگے اس جوش میںدل گر پڑے احساس کی آغوش میںاور بول اٹھے تسلیم اے پیر مغاں جاتے ہیں ہمکل پھر پلٹ کر آئیں گےاس وقت اس مے خانے میں سامان ہوں گے دوسرےتیرے پرانے ذہن کے معیار توڑے جائیں گےتعمیر نو کی جائے گیلیکن ہمارے سال خوردہ مہرباں پیر مغاںتجھ کو برا لگتا ہے کیوںغیروں کا کیا تیرا بھی کیایہ مے کدہ ہم سب کا ہے پنچایتیتو کیا ہے تیرا خوف کیاکہہ تو دیا پیر مغاں کل پلٹ کر آئیں گےہرگز نہ ہم باز آئیں گےکس کو ڈراتا ہے کہ تم اس کی سزا پا جاؤ گےگاتے تھے ہم گاتے ہیں ہم گائیں گے ہمہرگز نہ باز آئیں گے ہمجھیلیں گے جیتے جائیں گےپیروں میں ہے زنجیر لیکن ٹوٹ بھی سکتی ہے یہہاں آج ہستی قید ہے کل چھوٹ بھی سکتی ہے یہگانے دے گانے دے ہمیںدھومیں مچانے دے ہمیںشیشے کو شیشے سے لڑانے دے ہمیںچھن چھن چھنا چھن کی صدابڑھنے دے بڑھنے دے ابھیہم مست و بے خود ناچتے گاتے جلاتے توڑتےہنستے رہیں چلتے رہیںاور تو بھی خود پیر مغاںہولی کے نغمے سن ذرا اور دیکھ اپنی آنکھ سےتیرے وفاداروں نے کیا کھیلیں گلابی ہولیاںمنہ مے کدے سے موڑ کر ہولی کی یہ ٹولی چلیگل زار میںسبزے لچکتی ڈالیاں گنجان، سندر جھاڑیاںپانی کی سینچی کیاریاں، کانٹوں میں چبھتی پتیاںیہ سب سہی لیکن یہاں وہ شے کہاںجس کے لیے مشہور ہے انگور نابہاں کیا کہا پیر مغاںتلووں کے نیچے پھول ہیں ان میں سے دو اک چن بھی لوںخالی ہیں گلدستے ترےتجھ کو نہیں معلوم ابھیخالی یہ گلدستے ترے خالی ہی رہ جائیں گے ابپھولوں نے ٹھانی ہے کہ شاخوں ہی پہ مر جائیں گے اباور تیرے کمروں میں وہ نہ آئیں گے ابمنہ بند کلیاں اب کہاںجو اپنی سندر موہنی مسکان کر دیں رائیگاںاور اپنا گلشن چھوڑ دیں سینے میں خوشبوئیں لیےاور اجنبی ماحول میںطاق نظر کی کانپتی زینت بنیںکلیوں کے منہ اب کھل چکے منہ بند کلیاں اب کہاںکلیاں کہاں یہ پھول ہیںخاک چمن کی گود میں آرام جاں یہ پھول ہیںآتش زباں یہ پھول ہیںاور دیکھ تو یہ پھول کتنے شوخ ہیںجو ٹوٹ کر شاخوں سے گر جاتے ہیں تیری راہ میںاے دلکش پیر مغاںیہ چاہتے ہیں روک دیں گل زار میں راہیں تریتیرے لیے چارہ ہی کیا اب رہ گیاان بے حیا پھولوں کی آنکھوں کا تو پانی بہہ گیااب ہیں یہ ان کی جرأتیں روکیں گے تیرے راستےتو بھی خدا کے واسطےان کو کچل دے پیس دےورنہ خدا نخواستہیہ روک ہی لیں راستہکلیاں نہیں کانٹے ہیں یہکانٹوں سے بھی بد تر ہیں یہ نشتر ہیں یہ خنجر ہیں یہگل زار میں تیرے قدم کچھ آج تو آئے نہیںتو نے انہیں سبزوں پہ کی ہے مے کشیصدیوں سے تیرا دور ہےگل زار پر ہے حق تراتو ڈر گیا پیر مغاںکتنا بھیانک خواب تھاتعبیر کچھ بھی ہو مگرتیرے وفاداروں نے کلکس آن سے کس بان سے کس شان سےکھیلیں گلابی ہولیاں
زندگی کی سگریٹتمہارے ساتھ پینے کی خاطرمیں نے اپنے سوچنے کی صلاحیتتمہارے نام کر دی تھیاور وہ تمام مکھوٹےتمہارے کمرے میں سجا دئے تھےجنہیں تم نے عمر بھرشکار کیا تھامیں اپنی ساری خوشبوئیںخرچ کر کےتمہارا پورا درد خرید رہی تھیلیکن تم نے آنکھوں پر ہی نہیںدماغ پر بھی پٹی باندھ رکھی تھیسڑک حادثے کے بعدمیرا پلستر چڑھتے سمےجو تم نے ایک لمحے کواپنی آنکھوں کی پٹی کھول دی تھیتمہارا سر جھک گیا تھامجھے معلوم تھا میں تمہیں کھو دوں گیجو کھو جاتا ہےاس کے کھونے کا افسوس گانٹھ بن جاتا ہےمیں اگرچہ ہل نہیں سکتی تھیسوچنے سے محروم نہیں تھیاور دنیا سوچنے سے عبارت ہےمیری آنکھیں سوج گئی تھیں بند نہیں تھیںاور کانوں میں وہ سب آوازیں آ رہی تھیںجب تم میرے حافظے کے مفلوج ہو جانے کا اعلان کر رہے تھےمیں دیکھ رہی تھیلوگ تمہاری طرف متوجہ ہوئے تھےلیکن تمہارے دماغ پہ لگائی ہوئی پٹیسب کو نظر آ گئی تھیتم جان لو کہ دنیا سوچنے سے عبارت ہےاب زندگی کی سگریٹ صرف میں پیوں گیاور تم سگریٹ کی راکھ کی طرحمیری انگلیوں سے جھڑتے رہوگے
تری تمام دلیلوں کی قدر ہے لیکنفقط دلیلوں سے سب خواہشیں نہیں بھرتیںبدن کی اپنی ضرورت ہے دل کی اپنی طلبگلوں کا کام کبھی خوشبوئیں نہیں کرتیں
لیکن یاربآرزو کے ان مرجھائے سوکھے پھولوںان گم شدہ جنتوں سےکیسی صندلیدل آویزخوشبوئیں آتی ہیں!
اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہوتھکے لگتے ہوآنکھوں میں کئی صدیوں کی نیندیں جاگتی ہیںفاصلوں کی گرد پلکوں پر جمی ہےاجنبی! کیسی مسافت سے گزر کر آ رہے ہوکون سے دیسوں کے قصےدرد کی خاموش لے میں گا رہے ہودور سے نزدیک آتے جا رہے ہواجنبی آؤ!کسی اگلے سفر کی رات سے پہلےذرا آرام کر لوپھر سنیں گے داستاں تم سے انوکھی سر زمینوں کیہوا میں تیرتے رنگیں مکانوں کی مکینوں کیپڑاؤ عمر بھر کا ہےالاؤ تیز ہونے دومحبت خیز ہونے دوشناسا خواہشوں کی خوشبوئیں جلنے لگی ہیںاجنبیت قربتوں کے لمس میں سرشارگم گشتہ زمانے ڈھونڈھتی ہےزندگی دکھ درد بھی قرنوں پرانے ڈھونڈھتی ہے!!
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books