aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "lagte"
کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہےکئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیںبنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظجن پر اب کوئی معنی نہیں اگتےبہت سی اصطلاحیں ہیں
سفید شرٹ تھی تم سیڑھیوں پہ بیٹھے تھےمیں جب کلاس سے نکلی تھی مسکراتے ہوئےہماری پہلی ملاقات یاد ہے نا تمہیںاشارے کرتے تھے تم مجھ کو آتے جاتے ہوئےتمام رات وہ آنکھیں نہ بھولتی تھیں مجھےکہ جن میں میرے لئے عزت اور وقار دکھےمجھے یہ دنیا بیابان تھی مگر اک دنتم ایک بار دکھے اور بے شمار دکھےمجھے یہ ڈر تھا کہ تم بھی کہیں وہی تو نہیںجو جسم پر ہی تمنا کے داغ چھوڑتے ہیںخدا کا شکر ہے کہ تم ان سے مختلف نکلےجو پھول توڑ کے غصے میں باغ چھوڑتے ہیںزیادہ وقت نہ گزرا تھا اس تعلق کوکہ اس کے بعد وہ لمحہ قریں قریں آیاچھوا تھا تم نے مجھے اور مجھے محبت پریقین آیا تھا لیکن کبھی نہیں آیاپھر اس کے بعد میرا نشۂ سکوت گیامیں کشمکش میں تھی تم میرے کون لگتے ہومیں امرتا تمہیں سوچوں تو میرے ساحر ہومیں فارحہ تمہیں دیکھوں تو جون لگتے ہوہم ایک ساتھ رہے اور ہمیں پتہ نہ چلاتعلقات کی حد بندیاں بھی ہوتی ہیںمحبتوں کے سفر میں جو راستے ہیں وہیہوس کی سمت میں پگڈنڈیاں بھی ہوتی ہیںتمہارے واسطے جو میرے دل میں ہے حافیؔتمہیں میں کاش یہ سب کچھ کبھی بتا پاتیاور اب مزید نہ ملنے کی کوئی وجہ نہیںبس اپنی ماں سے میں آنکھیں نہیں ملا پاتی
مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہےاکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتےجب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہواپھر سے باندھ کےاور سرا کوئی جوڑ کے اس میںآگے بننے لگتے ہوتیرے اس تانے میں لیکناک بھی گانٹھ گرہ بنتر کیدیکھ نہیں سکتا ہے کوئی
کشش نہیں ہے تمہارے بنا بہاروں میںیہ چھت یہ چاند ستارے اداس لگتے ہیںچمن کا رنگ نسیم سحر گلاب کے پھولنہیں ہو تم تو یہ سارے اداس لگتے ہیں
یہ شاخسار کے جھولوں میں پینگ پڑتے ہوئےیہ لاکھوں پتیوں کا ناچنا یہ رقص نباتیہ بے خودئ مسرت یہ والہانہ رقصیہ تال سم یہ چھما چھم کہ کان بجتے ہیںہوا کے دوش پہ کچھ اودی اودی شکلوں کینشے میں چور سی پرچھائیاں تھرکتی ہوئیافق پہ ڈوبتے دن کی جھپکتی ہیں آنکھیںخموش سوز دروں سے سلگ رہی ہے یہ شام!مرے مکان کے آگے ہے ایک چوڑا صحن وسیعکبھی وہ ہنستا نظر آتا ہے کبھی وہ اداساسی کے بیچ میں ہے ایک پیڑ پیپل کاسنا ہے میں نے بزرگوں سے یہ کہ عمر اس کیجو کچھ نہ ہوگی تو ہوگی قریب چھیانوے سالچھڑی تھی ہند میں جب پہلی جنگ آزادیجسے دبانے کے بعد اس کو غدر کہنے لگےیہ اہل ہند بھی ہوتے ہیں کس قدر معصوموہ دار و گیر وہ آزادیٔ وطن کی جنگوطن سے تھی کہ غنیم وطن سے غداریبپھر گئے تھے ہمارے وطن کے پیر و جواںدیار ہند میں رن پڑ گیا تھا چار طرفاسی زمانے میں کہتے ہیں میرے دادا نےجب ارض ہند سنچی خون سے ''سپوتوں'' کےمیان صحن لگایا تھا لا کے اک پوداجو آب و آتش و خاک و ہوا سے پلتا ہواخود اپنے قد سے بہ جوش نمو نکلتا ہوافسون روح بناتی رگوں میں چلتا ہوانگاہ شوق کے سانچوں میں روز ڈھلتا ہواسنا ہے راویوں سے دیدنی تھی اس کی اٹھانہر اک کے دیکھتے ہی دیکھتے چڑھا پروانوہی ہے آج یہ چھتنار پیڑ پیپل کاوہ ٹہنیوں کے کمنڈل لئے جٹادھاریزمانہ دیکھے ہوئے ہے یہ پیڑ بچپن سےرہی ہے اس کے لئے داخلی کشش مجھ میںرہا ہوں دیکھتا چپ چاپ دیر تک اس کومیں کھو گیا ہوں کئی بار اس نظارے میںوہ اس کی گہری جڑیں تھیں کہ زندگی کی جڑیں؟پس سکون شجر کوئی دل دھڑکتا تھامیں دیکھتا تھا اسے ہستیٔ بشر کی طرحکبھی اداس کبھی شادماں کبھی گمبھیرفضا کا سرمئی رنگ اور ہو چلا گہراگھلا گھلا سا فلک ہے دھواں دھواں سی ہے شامہے جھٹپٹا کہ کوئی اژدہا ہے مائل خوابسکوت شام میں درماندگی کا عالم ہےرکی رکی سی کسی سوچ میں ہے موج صبا
یہ چاندنی میں دھلے پاؤں جب بھی رقص کریںفضا میں ان گنے گھنگرو چھنکنے لگتے ہیںیہ پاؤں جب کسی رستے میں رنگ برسائیںتو موسموں کے مقدر چمکنے لگتے ہیں
میں ان سے پوچھتا ہوں:پل کیسے بنایا جاتا ہےپل بنانے والے کہتے ہیں:تم نے کبھی محبت نہیں کیمیں کہتا ہوں: محبت کیا چیز ہےوہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہوتو پہلے دریا سے ملو۔۔۔روئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیںدریا اپنے سمندر کی طرف بہتا رہتا ہےیہ سپردگی ہےیہ سپردگی بچپن ہے اور بچپن بہشت۔۔۔لیکن بہشت تک پہنچنے کے لئے ایک جہنم سے گزرنا پڑتا ہےمیں پوچھتا ہوں جہنم کیا ہے؟وہ کہتے ہیں: اس سوال کا جواب درختوں کے پاس ہےکوئی بھی موسم ہو وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتےانہیں مٹی سے محبت ہےانہیں پرندوں اور چیونٹیوں سے محبت ہےجو ان کے جسم میں گھر بناتی ہیں'گھر کیا ہے؟' میں پوچھتا ہوں؟وہ سب ہنسنے لگتے ہیںپہلا مزدور کہتا ہے:اپنی عورت کی طرف جاؤہر سوال کا جواب مل جائے گا
جہاں زاد کیسے ہزاروں برس بعداک شہر مدفون کی ہر گلی میںمرے جام و مینا و گل داں کے ریزے ملے ہیںکہ جیسے وہ اس شہر برباد کا حافظہ ہوںحسن نام کا اک جواں کوزہ گر اک نئے شہر میںاپنے کوزے بناتا ہوا عشق کرتا ہوااپنے ماضی کے تاروں میں ہم سے پرویا گیا ہےہمیں میں کہ جیسے ہمیں ہوں سمویا گیا ہےکہ ہم تم وہ بارش کے قطرے تھے جو رات بھر سےہزاروں برس رینگتی رات بھراک دریچے کے شیشوں پہ گرتے ہوئے سانپ لہریںبناتے رہے ہیںاور اب اس جگہ وقت کی صبح ہونے سے پہلےیہ ہم اور یہ نوجواں کوزہ گرایک رویا میں پھر سے پروئے گئے ہیںجہاں زادیہ کیسا کہنہ پرستوں کا انبوہکوزوں کی لاشوں میں اترا ہےدیکھویہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیںکبھی جام و مینا کی لم تک نہ پہنچیںیہی آج اس رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںکو پھر سے الٹنے پلٹنے لگے ہیںیہ ان کے تلے غم کی چنگاریاں پا سکیں گےجو تاریخ کو کھا گئی تھیںوہ طوفان وہ آندھیاں پا سکیں گےجو ہر چیخ کو کھا گئی تھیںانہیں کیا خبر کس دھنک سے مرے رنگ آئےمرے اور اس نوجواں کوزہ گر کےانہیں کیا خبر کون سی تتلیوں کے پروں سےانہیں کیا خبر کون سے حسن سےکون سی ذات سے کس خد و خال سےمیں نے کوزوں کے چہرے اتارےیہ سب لوگ اپنے اسیروں میں ہیںزمانہ جہاں زاد افسوں زدہ برج ہےاور یہ لوگ اس کے اسیروں میں ہیںجواں کوزہ گر ہنس رہا ہے!یہ معصوم وحشی کہ اپنے ہی قامت سے ژولیدہ دامنہیں جویا کسی عظمت نارسا کےانہیں کیا خبر کیسا آسیب مبرم مرے غار سینے پہ تھاجس نے مجھ سے اور اس کوزہ گر سے کہااے حسن کوزہ گر جاگدرد رسالت کا روز بشارت ترے جام و میناکی تشنہ لبی تک پہنچنے لگا ہےیہی وہ ندا کے پیچھے حسن نام کایہ جواں کوزہ گر بھیپیاپے رواں ہے زماں سے زماں تکخزاں سے خزاں تک
تمہیں معلوم ہے کیسے تمہارے بن رہا ہوں میںمیں شب بھر جاگتا اور چاند سے باتیں کیا کرتاکہیں جب بات آتی تھی تمہارے حسن کی تو میںالجھ پڑتا تھا اس سے بھیتمہارے حسن کے حق میں دلیلیں میری سن سن کرستارے ہنسنے لگتے تھےتمہاری واپسی کے خواب مجھ کو دن میں آتے تھے
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
جب بھی چوم لیتا ہوں ان حسین آنکھوں کوسو چراغ اندھیرے میں جھلملانے لگتے ہیںخشک خشک ہونٹوں میں جیسے دل کھنچ آتا ہےدل میں کتنے آئینے تھرتھرانے لگتے ہیںپھول کیا شگوفے کیا چاند کیا ستارے کیاسب رقیب قدموں پر سر جھکانے لگتے ہیںذہن جاگ اٹھتا ہے روح جاگ اٹھتی ہےنقش آدمیت کے جگمگانے لگتے ہیںلو نکلنے لگتی ہے مندروں کے سینے سےدیوتا فضاؤں میں مسکرانے لگتے ہیںرقص کرنے لگتی ہیں مورتیں اجنتا کیمدتوں کے لب بستہ غار گانے لگتے ہیںپھول کھلنے لگتے ہیں اجڑے اجڑے گلشن میںتشنہ تشنہ گیتی پر ابر چھانے لگتے ہیںلمحہ بھر کو یہ دنیا ظلم چھوڑ دیتی ہےلمحہ بھر کو سب پتھر مسکرانے لگتے ہیں
یہ آئے دن کے ہنگامےیہ جب دیکھو سفر کرنایہاں جانا وہاں جانااسے ملنا اسے ملناہمارے سارے لمحےایسے لگتے ہیںکہ جیسے ٹرین کے چلنے سے پہلےریلوے اسٹیشن پرجلدی جلدی اپنے ڈبے ڈھونڈتےکوئی مسافر ہوںجنہیں کب سانس بھی لینے کی مہلت ہےکبھی لگتا ہےتم کو مجھ سے مجھ کو تم سے ملنے کاخیال آئےکہاں اتنی بھی فرصت ہےمگر جب سنگ دل دنیا میرا دل توڑتی ہے توکوئی امید چلتے چلتےجب منہ موڑتی ہے توکبھی کوئی خوشی کا پھولجب اس دل میں کھلتا ہےکبھی جب مجھ کو اپنے ذہن سےکوئی خیال انعام ملتا ہےکبھی جب اک تمنا پوری ہونے سےیہ دل خالی سا ہوتا ہےکبھی جب درد آ کے پلکوں پہ موتی پروتا ہےتو یہ احساس ہوتا ہےخوشی ہو غم ہو حیرت ہوکوئی جذبہ ہواس میں جب کہیں اک موڑ آئے تووہاں پل بھر کوساری دنیا پیچھے چھوٹ جاتی ہےوہاں پل بھر کواس کٹھ پتلی جیسی زندگی کیڈوری ٹوٹ جاتی ہےمجھے اس موڑ پربس اک تمہاری ہی ضرورت ہےمگر یہ زندگی کی خوب صورت اک حقیقت ہےکہ میری راہ میں جب ایسا کوئی موڑ آیا ہےتو ہر اس موڑ پر میں نےتمہیں ہمراہ پایا ہے
تمناؤں کے میلے اب نہیں لگتے کبھی دل میںکشش باقی رہی کوئی نہ راہوں میں، نہ منزل میںدھواں سا اب نظر آتا ہے مجھ کو ماہ کامل میں
لمبے وقت سے سوچ رہا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںملنے سے گھبراتا ہوں میں جھوٹ نہیں کہہ پاتا ہوںاس کے شکوے اس کی شکایت جھگڑے سے ڈر جاتا ہوںادھر ادھر کی باتیں مجھ کو ذرا نہ خوش کر پاتی ہیںجانے کیوں ایسا ہوں میںدوست نہیں بن پاتے میرےرشتے نہیں سنبھلتے ہیںبے جا محبت بے جا تکلفدونوں اوچھے لگتے ہیںاوروں کی کمیوں کو بالکلاچھا نہیں کہہ پاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںاچھے بھلے کاموں میں اکثردیر بہت کر دیتا ہوںامی سے باتیں کرنی ہوں بیٹی کے اسکول ہو جاناکوئی نیا ناول پڑھنا ہو کوئی کہانی لکھنی ہوسب کو ٹالتا رہتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبھیڑ بھرے شہروں سے مجھ کووحشت سی ہو جاتی ہےگاؤں جنگل سنسان جگہیںاکثر خوش آ جاتی ہیںکوئی الھڑ چہرہ دیکھوں من کو وہ بھا جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںپیڑوں کے پیراہن دیکھوں پھولوں کی خوشبو کو سونگھوںرنگ برنگی تتلیاں پکڑوں ہلکی ہلکی بوندیں بھیٹھنڈی نرم ہوائیں جب جب چپکے سے چھو جاتی ہیںیا کوئل کی بولی سن لوں من بیاکل ہو جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںنٹ بنجارن سنیاسی اور کھیل تماشے والے لوگکھنڈر ویرانہ جلتی دھوپ پھولی سرسوں دھان کے کھیتلال پتنگ اور پیلی مینا اندر دھنش اور ندی کی دھارآتے ہیں جب خواب میں میرے دیوانہ ہو جاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبہت مجھے اچھا کہتے ہیں برا بھی کوئی کہتا ہےسامنے میری مدح سرائی پیچھے گالی دیتا ہےہمدردی ہے کوئی دکھاتا کوئی سازش کرتا ہےپھر بھی چپ چپ سا رہتا ہوں جیسے بہت انجان ہوں میںجانے کیوں ایسا ہوں میںتھوڑی سی آزادی مجھ کو تھوڑا بہت وقت کا زیاںکبھی کبھار کی اچھی باتیں کسی کسی کا سچا پیارچھوٹی موٹی کوئی شرارت کھلکھلا کر ہنسنا بھییہ سب خوش کر جاتے ہیں جب تولگتا ہے کہ زندہ ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میں
کچھ لوگجو میرے دل کو اچھے لگتے تھےعمروں کے ریلے میں آئےاور جا بھی چکےکچھ دھندوں میں مصروف ہوئےکچھ چوہا دوڑ میں جیتے گئےکچھ ہار گئےکچھ قتل ہوئےکچھ بڑھتی بھیڑ میںاپنے آپ سے دور ہوئےکچھ ٹوٹ گئے کچھ ڈوب گئے
پھر بھی انجانے میں جب شہر کی راہوں میں کہیںدیکھ لیتا ہوں میں دوشیزہ جمالوں کے ہجومروح پر پھیلنے لگتا ہے اداسی کا غبارذہن میں رینگنے لگتے ہیں خیالوں کے ہجوم
سہانی نمود جہاں کی گھڑی تھیتبسم فشاں زندگی کی کلی تھیکہیں مہر کو تاج زر مل رہا تھاعطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھیسیہ پیرہن شام کو دے رہے تھےستاروں کو تعلیم تابندگی تھیکہیں شاخ ہستی کو لگتے تھے پتےکہیں زندگی کی کلی پھوٹتی تھیفرشتے سکھاتے تھے شبنم کو روناہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھیعطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کوخودی تشنہ کام مے بے خودی تھیاٹھی اول اول گھٹا کالی کالیکوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھیزمیں کو تھا دعویٰ کہ میں آسماں ہوںمکاں کہہ رہا تھا کہ میں لا مکاں ہوںغرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیاراکہ نظارگی ہو سراپا نظاراملک آزماتے تھے پرواز اپنیجبینوں سے نور ازل آشکارافرشتہ تھا اک عشق تھا نام جس کاکہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارافرشتہ کہ پتلا تھا بے تابیوں کاملک کا ملک اور پارے کا پاراپئے سیر فردوس کو جا رہا تھاقضا سے ملا راہ میں وہ قضا رایہ پوچھا ترا نام کیا کام کیا ہےنہیں آنکھ کو دید تیری گواراہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہاجل ہوں مرا کام ہے آشکارااڑاتی ہوں میں رخت ہستی کے پرزےبجھاتی ہوں میں زندگی کا شرارامری آنکھ میں جادوئے نیستی ہےپیام فنا ہے اسی کا اشارامگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسیوہ آتش ہے میں سامنے اس کے پاراشرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میںوہ ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تاراٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسووہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گواراسنی عشق نے گفتگو جب قضا کیہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکاراگری اس تبسم کی بجلی اجل پراندھیرے کا ہو نور میں کیا گزارابقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہقضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ
ناز سے حوریں ترانے حمد کے گانے لگیںعورتیں بھر بھر کے اپنی جھولیاں جانے لگیں
تم خدا ہوخدا کے بیٹے ہویا فقط امن کے پیمبر ہویا کسی کا حسیں تخیل ہوجو بھی ہو مجھ کو اچھے لگتے ہومجھ کو سچے لگتے ہواس ستارے میں جس میں صدیوں کےجھوٹ اور کذب کا اندھیرا ہےاس ستارے میں جس کو ہر رخ سےرینگتی سرحدوں نے گھیرا ہےاس ستارے میں جس کی آبادیامن بوتی ہے جنگ کاٹتی ہےرات پیتی ہے نور مکھڑوں کاصبح سینوں کا خون چاٹتی ہےتم نہ ہوتے تو جانے کیا ہوتاتم نہ ہوتے تو اس ستارے میںدیوتا راکشش غلام امامپارسا رند راہ بر رہزنبرہمن شیخ پادری، بھکشوسبھی ہوتے مگر ہمارے لیےکون چڑھتا خوشی سے سولی پر
روتی ہوں تو ہنستے ہو تمبڑے ہی اچھے لگتے ہو تم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books