aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "let"
کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا کٹ گیا ہےکبھی سینے پہ رکھ کے لیٹ جاتے تھےکبھی گودی میں لیتے تھےکبھی گھٹنوں کو اپنے رحل کی صورت بنا کرنیم سجدے میں پڑھا کرتے تھے چھوتے تھے جبیں سے
سنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہےسنا ہے شیر كا جب پیٹ بھر جائے تو وو حملہ نہیں کرتادرختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہےہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیںتو مینا اپنے بچے چھوڑ کرکوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہےسنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہےسنا ہے جب کسی ندی کے پانی میںبئے کے گھونسلے كا گندمی سایہ لرزتا ہےتو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیںکبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے توکسی لکڑی کے تختے پرگلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیںسنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہےخداوندا! جلیل واماں معتبر! دانا واماں بینا منصف واماں اکبر!مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی كا کوئی قانون نافذ کر!کوئی دستور نافذ کر
فرش پر لیٹ گئی ہے تو کبھی روٹھ کے مجھ سےاور کبھی فرش سے مجھ کو بھی اٹھایا ہے منا کرتاش کے پتوں پہ لڑتی ہے کبھی کھیل میں مجھ سےاور کبھی لڑتی بھی ایسے ہے کہ بس کھیل رہی ہےاور آغوش میں ننھے کو
وہ ماں کہ آیت رحمت ہے جس کی چین جبیںوہ ماں کہ ہاں سے بھی ہوتی ہے بڑھ کے جس کی نہیںدم عتاب جو بنتی فرشتہ رحمت کاجو راگ چھیڑتی جھنجھلا کے بھی محبت کاوہ ماں کہ گھڑکیاں بھی جس کے گیت بن جائیںوہ ماں کہ جھڑکیاں بھی جس کی پھول برسائیںوہ ماں ہم اس سے جو دم بھر کو دشمنی کر لیںتو یہ نہ کہہ سکے اب آؤ دوستی کر لیںکبھی جو سن نہ سکی میری توتلی باتیںجو دے سکی نہ کبھی تھپڑوں کی سوغاتیںوہ ماں بہت سے کھلونے جو مجھ کو دے نہ سکیخراج سر خوشئ سرمدی جو لے نہ سکیوہ ماں میں جس سے لڑائی کبھی نہ ٹھان سکاوہ ماں میں جس پہ کبھی مٹھیاں نہ تان سکا
آج کل بھولے ہوئے ہیں سب الیکشن اور ڈیبیٹپریکٹیکل کی کاپیوں کے آج کل بھرتے ہیں پیٹحاضری اب کون بولے کون اب آئے گا لیٹکالج اور اسکول ہیں سنسان خالی ان کے گیٹبند ہے کمرے کے اندر گردش لیل و نہارکیا خبر آئی خزاں کب کب گئی فصل بہار
اٹھاؤ ہاتھ کہ دست دعا بلند کریںہماری عمر کا اک اور دن تمام ہواخدا کا شکر بجا لائیں آج کے دن بھینہ کوئی واقعہ گزرا نہ ایسا کام ہوازباں سے کلمۂ حق راست کچھ کہا جاتاضمیر جاگتا اور اپنا امتحاں ہوتاخدا کا شکر بجا لائیں آج کا دن بھیاسی طرح سے کٹا منہ اندھیرے اٹھ بیٹھےپیالی چائے کی پی خبریں دیکھیں ناشتہ پرثبوت بیٹھے بصیرت کا اپنی دیتے رہےبخیر و خوبی پلٹ آئے جیسے شام ہوئیاور اگلے روز کا موہوم خوف دل میں لیےڈرے ڈرے سے ذرا بال پڑ نہ جائے کہیںلیے دیے یونہی بستر میں جا کے لیٹ گئے
سنو میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہےوہاں سردی بہت ہوگیاکیلے شام کو جب تم تھکے قدموں سے لوٹو گےتو گھر میں کوئی بھی لڑکیسلگتی مسکراہٹ سےتمہاری اس تھکاوٹ کوتمہارے کوٹ پر ٹھہری ہوئی بارش کی بوندوں کوسمیٹے گی نہ جھاڑے گینہ تم سے کوٹ لے کر وہ کسی کرسی کے ہتھے پراسے لٹکا کے اپنے نرم ہاتھوں سےچھوئے گی اس طرح جیسے تمہارا لمس پاتی ہوتم آتش دان کے آگے سمٹ کر بیٹھ جاؤ گےتو ایسا بھی نہیں ہوگاتمہارے پاس وہ آ کربہت ہی گرم کافی کا ذرا سا گھونٹ خود لے کروہ کافی تم کو دے کر تم سے یہ پوچھےکہو کیا تھک گئے ہو تمتم اپنی خالی آنکھوں سےیوں اپنے سرد کمرے کو جو دیکھو گے تو سوچو گےٹھٹھر کر رہ گیا سب کچھتمہاری انگلیوں کی سرد پوروں پرکسی رخسار کی نرمیکسی کے ہونٹ کی گرمیتمہیں بے ساختہ محسوس تو ہوگیمگر پھر سرد موسم کی ہوا کا ایک ہی جھونکاتمہیں بے حال کر دے گاتھکے ہارے ٹھٹھرتے سرد بستر پراکیلے لیٹ جاؤ گے
سرائے لگتی تھی اک دور کی عمارت تھیوہاں پہنچ کے اتاروں گا بوجھ کندھوں سےاور سوچا تھا اک غسل لے کر میںفلک کو اوڑھ کے سو جاؤں گا شب میں
ہاں تصور کو میں اب اپنے بنا کر دولہااسی پردے کے نہاں خانے میں لے جاؤں گاکیسے تلوار چلی کیسے زمیں کا سینہدل بے تاب کی مانند تڑپ اٹھا تھاایک بے ساختہ انداز میں بجلی کی طرحجل پری گوشۂ خلوت سے نکل آئی تھی!زندگی گرم تھی ہر بوند میں آبی پاؤںخشک پتوں پہ پھسلتے ہوئے جا پہنچے تھے!میں بھی موجود تھا اک کرمک بے نام و نشاںمیں نے دیکھا کہ گھٹا شق ہوئی دھارا نکلیبرق رفتاری سے اک تیر کماں نے چھوڑااور وہ خم کھا کے لچکتا ہوا تھرا کے گراقلۂ کوہ سے گرتے ہوئے پتھر کی طرحکوئی بھی روک نہ تھی اس کے لیے اس کے لیےخشک پتوں کا زمیں پر ہی بچھا تھا بستراسی بستر پہ وہ انجان پری لیٹ گئی!
ہم خزاں کی غدود سے چل کرخود دسمبر کی کوکھ تک آئےہم کو فٹ پاتھ پر حیات ملیہم پتنگوں پہ لیٹ کر روئے
اتنی گزری ہے گراں چیزوں کی ارزانی مجھےہو گیا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھےدودھ میں بالکل نظر آتا نہیں پانی مجھےدل نے کر رکھا ہے محو صد پریشانی مجھے''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''کام دھندا کچھ نہیں دل کس طرح بہلاؤں میںکیوں نہ لیڈر بن کے ساری قوم کو بہکاؤں میںجب نہیں دھندا تو چندا ہی کروں اور کھاؤں میںاسکریننگ کی کمیٹی کے نہ ہاتھ آ جاؤں میں''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''کیوں نہ اڈیٹر بنوں اخبار گوہر بار کااور قلم کو روپ دوں چلتی ہوئی تلوار کاہاتھ میں شملہ ہو سب اشراف کی دستار کامارشل لا میں مگر پہلا ہے ٹکڑا مار کا''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''سوچتا ہوں پھر کہ حج کر آؤں اسمگلر بنوںمال دین و مال دنیا کا بڑا ڈیلر بنوںملک کے اندر بنوں یا ملک کے باہر بنوںالغرض جو کچھ بنوں میں فوج سے بچ کر بنوں''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''کیا خبر تھی قیمتیں یوں ہوں گی سستی ایک دن''رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن''چور بازاری کی مٹ جائے گی ہستی ایک دنہوگی شیورولیٹ پہ بھی ٹو لیٹ کی تختی ایک دن''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''بحر کے سینے سے سونا تک اگلوایا گیاگندم خلوت نشیں بازار میں لایا گیااور ذخیرہ باز سے چکی میں پسوایا گیانفع خوروں کا دوالہ تک نکلوایا گیا''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''ہائے کشکول گدائی لے کے اب جائے گا کونلال گندم لا کے ہم کالوں کو کھلوائے گا کونجس کو امریکی سور کھاتے تھے وہ کھائے گا کونساتھ میں گندم کے مسٹر گھن کو پسوائے گا کون''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''غیر ملکی مال کو روتی ہیں اب تک بیبیاںاور ہر امپورٹ کے لائسنس کو ان کے میاںغیر بنکوں میں جو دولت ہے وہ آئے گی یہاں''یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں''''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''یا میں سب کچھ چھوڑ دوں اور چور بازاری کروںزندگی کی فلم میں ایسی اداکاری کروںدونوں ہاتھوں سے کما کر عذر ناداری کروںجب حکومت ٹیکس مانگے آہ اور زاری کروں''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''
صبح سویرےوہ بستر سے سائے جیسی اٹھتی ہےپھر چولھے میں رات کی ٹھنڈی آگ کوروشن کرتی ہےاتنے میں دن چڑھ جاتا ہےجلدی جلدی چائے بنا کر شوہر کو رخصت کرتی ہےسیارے گردش کرتے ہیںشہر میں صحرا صحراؤں میں چٹیل میداںکہساروں کے نشیب و فراز بنا کرتے ہیںسارے گھر کو دھوتی ہےکپڑے تولیے ٹوتھ برش بستر کی چادرکوئی کتاب اٹھاتی ہے رکھ دیتی ہےریڈیو آن کیا پھر روکا آن کیاپھر کوئی پرانا خط پڑھتی ہے(گھنٹی بجی)''مریم! آ جاؤ''''تم کیسی؟ ہو وہ کیسے ہیں''''کیا اس کا کوئی خط آیا؟''(تھوڑی خاموشی کا وقفہ)''تم کیسی ہو''''تم سے مطلب؟ سچ کہہ دوں تو کیا کر لو گی''دیکھو سب کی سب بیٹھی ہوں''اچھا''''اچھا''(دروازہ پھر بند ہو گیا)''اب کیا کرنا!گھر تو بالکل صاف پڑا ہےکوئی شکن بستر پہ نہیں ہےدیوار و در دھلے دھلائےکوئی دھبہ یا مکڑی کا جالا تنکاکہیں کچھ نہیںکیا کرنا ہے!اف! وہ کلنڈرکتنے برس ہو گئے پھر بھیآئیں تو ان سے کہتی ہوںبالکل نیا کلنڈر لائیںکچھ بھوک نہیںاب کیا کرنا ہےلیٹ رہوں؟ لیکن کیا لیٹوںجانے کتنا لیٹ چکی ہوںکھڑی رہوںہاں کھڑی رہوںپر میں تو کب سے کھڑی ہوئی ہوںکھڑکی کا پردہ ہی کھولوںدھوپ کہاں تک آ پہنچی ہےلاؤ اپنا البم دیکھوںنیر شبنم شفق صبوحی اختر جوہیکیسے ہوں گےآں! یہ میں ہوںاتی پیاری پیاری تھی میںمیں بالکل ہی بھول گئی تھیسب کتنا اچھا لگتا تھاابا، اماں، بھیا، اپیسب زندہ تھےسایہ نانی گلشن آپاہاں اور وہ گوریا باباآنسو نغمے شور ٹھہاکے سارے اک سر میں ہوتے تھےساری دنیا گھر لگتی تھیاماں ادھر بلایا کرتیںابا ادھر پکارا کرتےبھیا ڈانٹتےاپی ڈھیروں پیار جتاتیںکھانا، پینا، سونا، جاگنا، ہنسنا، روٹھنا، منناڈور بندھی تھیایک میں ایک پرویا ہوا تھاکل نمو کے گھر شادی ہےپاس ہی کوئی موت ہوئی ہےکالج کی چھٹی کب ہوگیعید پھر اب کی تیس کی ہوگیہم بھی لیل قدر جاگیں گےشہلا کی منگنی کیوں ٹوٹی؟کیا اقبال کوئی شاعر تھا؟چپ بڑکے ابا سن لیں گےسائے دوڑ رہے ہیں گھر میںہر گوشے میں اوپر نیچے اندر باہر دوڑ رہے ہیںلمبے چھوٹے سبز و زرد ہزاروں سائےباہر شہر میں کوئی نہیں ہےدھوپ سیہ پڑتی جاتی ہےقد آدم آئینے میںاس کا ننگا جسم کھڑا ہےجسم کے اندر سورج کا غنچہ مہکا ہےسیارے گردش کرتے ہیںسب انجانے سیاروں میں بھولے بسرے گھر روشن ہیںکس لمحے کا ہے یہ تماشہہست و بود کے سناٹے میںلا موجود کی تاریکی میںصرف یہی آئینہ روشنصرف اک عکس گزشتہ روشنبچھڑے گھر کا سایہ روشن
میرے گھر کی دیواریں اب مجھ کو چاٹ رہی ہیںسارے شہر کی مٹی میں جو میرا حصہ تھاوہ بھی لوگوں میں تقسیم ہوا ہے اپنی اس کی قبر پر میری آنکھیںاڑتی دھول کیخوشبو تھامے لٹک کر لیٹ گئی ہیںایسے سمے اب کون آتا ہےٹیڑھی ترچھی انگلیوں میں سارے وفا کے دھاگے ہلکے ہلکے ٹوٹ رہے ہیںہڈیوں کے جلنے کی بو بستر کی شکنوں میں گھلنے لگی ہےدروازوں کو بند کرو یا کھولوہوا میں شعلے مدھم مدھم راکھ کی صورت سوتے جاتے ہیںاور ہم اکھڑی سانس کے وقفے میں لفظوں کے تعویذ گلے میں ڈالےتصویروں سے پوچھتے ہیں تم آؤ گےآؤ گے تو اپنی آوازوں کے سائے بھی لے جاناسارے خواب اور پرچھائیں تمہاری سالگرہ کا تحفہ ہیںان پر نئے چمکیلے ورق لگا کرایسی ہی لڑکی کو بھجوانا جس کو تم نے اپنا کہا ہووہ لڑکی بھی دروازوں کی دروازوں سے اب حرف وفا کو سننے لگی ہےاس کو تم مت ترسانا اس کے پاس چلے جانایا اس کو پاس بلا لینا وہ آ جائے گیلڑکی ہے نا کہنا کیسے ٹالے گی
میری لکھنے میں عمر گزری ہےتیری پڑھنے کی عمر ہے لڑکیتیری سوچوں کی سب خبر ہے مجھےمجھ پہ یہ وقت آ کے بیت چکامیں بھی خود سے سوال کرتا تھاکس کی غزلوں میں کس کے جلوے ہیںکس کا چہرہ ہے کس کی نظموں میںکون روتا ہے کس کے لہجے میںکس کے شعروں میں کس کی باتیں ہیںپھر جوابات مل گئے مجھ کواب ہنسی آتی ہے سوالوں پراور تجھ پر بھی اور خود پر بھیتجھے معلوم کیا کہ اک آمدکتنے جذبوں سے حاملہ ہو کرلیٹ کر ایک بیسوا کی طرحکورے کاغذ کے سرد بستر پروہ حرامی کلام جنتی ہےجس پہ فتوے فقیہ شہر کے ہیںجو خداؤں کو گالی لگتا ہےجس پہ رجعت پسند کڑھتے ہیںجس پہ جدت پرست ہنستے ہیںجس کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں لونڈےجس کے فن کا زمانہ بیت گیاجس سے نفرت ہے علم والوں کوجس پہ خود مجھ کو غصہ آتا ہےجسے تو بھی سمجھ نہیں پاتینام اپنا کھرچ کے جس پر سےمیں نے ردی میں بارہا بیچااور سگریٹ خریدے اپنے لیےاور اس دل کو آگ میں پھونکاجس کے جذبوں سے حاملہ ہو کرکورے کاغذ کے سرد بستر پرلیٹ کر ایک بیسوا کی طرحمیری قدرت کی شاہکار آمدوہ حرامی کلام جنتی ہےتیری سوچوں کی سب خبر ہے مجھےمیرے شعروں میں کون ہے مت سوچتیری پڑھنے کی عمر ہے لڑکیاور پھر سوچنے سے کیا حاصلبارور جستجو ہوئی بھی تو کیامیری غزلوں میں تو ہوئی بھی تو کیا
تمہاری موتتمہاری ماں کی کوکھ سےتمہارے ساتھ ہی پیدا ہوئی تھیلیکن تم نے ہاتھ تھاما زندگی کاموت کو بند کیا کسی کال کوٹھری میںاور بھول گئےاتہاس کی مردہ کتابوں اور خون سے سنے لجلجے اخباروں کو پڑھتے وقتتم نے موت کو یاد کیاچار آنسو بہائےمگر تم ڈرپوک تھےتم موت کو گلے نہ لگا سکےمیرے خیال سے تو تمہیںجرمنی فلسطین کشمیر ہیروشیما گودھرا اور سیریا میں ایک ایک بار مر جانا چاہیئے تھامگر تم ڈرپوک تھےاور تم اب بھی ڈرپوک کی طرحچھت سے کود کر ایک جھٹکے میں مرنا چاہتے ہوتم میں نہیں ہمتپٹری پر لیٹ کر ٹرین کے انتظار کیتم ڈرپوک اور واہیات ہوکہ تم نے مرنے کے لیے عشق جیسی بے ہودہ چیز کو چنا
کیا میری آنکھوں میں سناٹا ہےنہیں برف باری ہو رہی ہےلوگ مجھ سے خوف کھانے لگے ہیں جیسے مردے سےکیا مجھ سے کافور کی بو آتی ہےنہیں تو میری سانسوں میں ساون کا عبث اور املتاس کی گرمی ہےاور سانسو اور آنکھوں کے درمیانفاصلہ زیادہ نہیںپھر بھی بہت ہےاس لیے کہ ختم ہو جائے تو اسٹرگل ہی ختم ہو جائےزندگی کو جاری تو رکھنا ہے انتقامرات بہت پڑی ہے الاؤ جلتا رہے تو اچھا ہےجانور دھوئیں سے خوف کھاتے ہیںاور انسان راکھ سےآگ میرا سہاگ ہےعاشقوں کے دلوں پر ہاں نہیں ہوتے کہ مانگ نکال کر آگ بھر دی جائےاس لیے ان کے دل پھٹ جاتے ہیںآگ اندر اتر جاتی ہےاوپر برف گرتی رہتی ہےکپاس کے پھولوں پر محرم کا موسم ہے یا حسینا وا حسیناکپاس دھنکی ہوئی آسماں کی چھاتی سے برستی ہےٹھنڈی ٹھار پلکیں بھی نہیں جھپکتیںپلکوں کی جھالریں سفید ہو جاتی ہیں برف بن کر ان میں اٹی رہتی ہےاور اندر بر آمدے خالی ہو جاتے ہیں سیزن مگ جاتا ہےلڑکی ناخن کاٹتی ہے تو چاند اس کی ہتھیلی پر اتر آتا ہےتمہارا دولہا بہت خوبصورت ہوگادونوں ہتھیلیاں جوڑو تو بھلاچاند تو پورا ہو گیا مگر روشنی ہاتھوں میں بند نہیں ہو سکیپھیل گئی ہتھیلیوں میں چھید تھےسائنٹفک سی بات ہےآگ امیر سہاگ سب لڑکیوں کے دلوں میں نہیں جلتی اس لیے کہ سبلڑکیاں عاشق نہیں ہوتیںمحبوبائیں ہوتی ہیںاور ان کی آنکھوں کے بر آمدے خوان سے سجے رہتے ہیںبرف باری ان کے لیے سیزن ہے میرے لیے موسم اپنے مشرق معنوں کے ساتھسورج طلوع ہوتا ہےبرف باری اور بلندیوں پر چڑھ گئیجانور میدانوں میں نکل آئے پلکیں خانہ بدوش ہو گئیںاپنا ساون اٹھائے اٹھائےگھاٹ گھاٹ دو بند پانی اسلام آباد میں نہ راجستھان میںبرف کی نہر نکالی جائے گیاور محبوبائیں آگ کے بستر پر لیٹ کر میٹھی برف کے گولے چوسیں گیابھی ان کی عمر ہی کیا ہےابھی تو یہ لوگ اسمال چکنس آف اسنیک پالتی ہیںماتھے پر کنڈل ڈالتی ہیںچاہے جانے کے لیےلمبی سنہری کار اوردو بوند پانینہ برفستان میں نہ آتش دان میںلڑکی کی جنس تبدیل ہو رہی ہےلڑکی کا دولہا دو بوند پانی کی خاطر ہوا ہو گیالڑکی اسکیر کرو ہو گئی شاید دولہا کے بھائیوں کے کھیتوں میںاچھا ہے در بدری ہونے سے تو بچ رہیبچ رہی تو اسے بچانےاس کا دولہا ضرور آئے گا
آج پھرمیں آفس سےگھر کو لیٹ پہنچا تھاڈور بیل بجاتے ہیجھٹ پٹا کے آئی وہاس نےمسکرا کے پھربیگ ہاتھ سے لے کرکہہ دیا کےفریش ہو جاؤمیں نےآپ کی خاطرآپ کی وہ فیوریٹ ڈشآج پھر پکائی ہےمیری بھوک حد درجہ بڑھ گئی تھیسو میں نےآج کھانا کھانے میںپھر سے جلد بازی کیبھول بیٹھا کے وہ بھی اب تلک کی بھوکی ہے
کنفیوشیش نے کہا تھاہو نہ چھٹکارا زنا بالجبر سے توہار مانولیٹ جاؤلطف اٹھاؤ اور اسے مقسوم جانواور گاندھی نے کہا ہےایسی مشکل پیش آ جائے تو فوراًکاٹ لو اپنی زباں کواور نفس کو روک لو حتٰی کی دم جائے نکل اور ہو رہائی
مسلسل چلتے رہنے کی خوشی میں لیٹ جاتی ہے محبت گھاس میںپتھر کی سل پر یادگاری سیڑھیوں کے بیچگیلے موسموں میں پاؤں میں آتی ہوئی ان سیڑھیوں کے ساتھجن پر لوگ چلتے ہیںاور اک دم ہنسنے لگتے ہیںمسلسل چلتے رہنے کی خوشی میںاب ان کے پاؤں پر شبنم گرے گیآؤ چل دیں باندھ لیں جوتوں کے تسمےآؤ چل دیں ان کنیزوں کے تعاقب میںجو آسودہ ہوئیںاور سو گئیں پتھر کی سل پریادگاری سیڑھیوں کے بیچگیلے موسموں میںاب ان کے پاؤں پر شبنم گرے گی
ٹوپیوں کی ایک گٹھری باندھ کرکر لیا ایک شخص نے عزم سفرراستہ اتنا نہ تھا دشوار ترتھک گیا وہ راہ میں پھر بھی مگرپیڑ دیکھا راستے میں سایہ دارسانس لینا چاہا اس نے لیٹ کرساتھ ہی بہتی تھی اک ندی وہاںپانی جس میں تھا رواں شفاف ترلیٹتے ہی نیند اس کو آ گئیمال سے اپنے ہوا وہ بے خبرپیڑ پر بندر تھے کچھ بیٹھے ہوئےجب پڑی گٹھری پہ ان سب کی نظردھیرے دھیرے نیچے اترے اور وہلے گئے گٹھری اٹھا کر پیڑ پرکھول کر گٹھری پہن لیں ٹوپیاںجچ رہے تھے ٹوپیوں میں جانورشور کرنے لگ گئے بندر بہتجاگ اٹھا جو سو رہا تھا بے خبراس نے جب گٹھری نہ دیکھی آس پاسدل میں یہ سوچا گئی گٹھری کدھرپیڑ پر اس نے جو دیکھا غور سےآئے بندر ٹوپیاں پہنے نظرٹوپیاں پانے کی کوشش اس نے کیمل نہ پایا جب اسے کوئی ثمراپنے سر سے اپنی ٹوپی کو اتارپھینک دی غصے میں اس نے گھاس پرسب نے پھینکیں اپنی اپنی ٹوپیاںبندروں پر یہ ہوا اس کا اثرجمع کر لیں اس نے اپنی ٹوپیاںسوئے منزل باندھ لی پھر اس نے کمرٹوپیاں کیسے افقؔ ملتیں اسےعقل سے لیتا نہ کام اپنی اگر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books