aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "luuluu"
زردار کی تو ان میں ہے بچھ رہی پلنگڑیدلبر پری سی بیٹھی جھمکائے چوڑی نبگڑیمفلس کی ٹوٹی پٹی یا ٹاٹ کی جھلنگڑیرنڈی ملی تو کالی یا کنجی لولی لنگڑیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
گرمی کی تپش بجھانے والیسردی کا پیام لانے والیقدرت کے عجائبات کی کاںعارف کے لیے کتاب عرفاںوہ شاخ و درخت کی جوانیوہ مور و ملخ کی زندگانیوہ سارے برس کی جان برساتوہ کون خدا کی شان برساتآئی ہے بہت دعاؤں کے بعدوہ سیکڑوں التجاؤں کے بعدوہ آئی تو آئی جان میں جاںسب تھے کوئی دن کے ورنہ مہماںگرمی سے تڑپ رہے تھے جان داراور دھوپ میں تپ رہے تھے کہساربھوبل سے سوا تھا ریگ صحرااور کھول رہا تھا آب دریاسانڈے تھے بلوں میں منہ چھپائےاور ہانپ رہے تھے چارپائےتھیں لومڑیاں زباں نکالےاور لو سے ہرن ہوئے تھے کالےچیتوں کو نہ تھی شکار کی سدھہرنوں کو نہ تھی قطار کی سدھتھے شیر پڑے کچھار میں سستگھڑیال تھے رود بار میں سستڈھوروں کا ہوا تھا حال پتلابیلوں نے دیا تھا ڈال کندھابھینسوں کے لہو نہ تھا بدن میںاور دودھ نہ تھا گئو کے تھن میںگھوڑوں کا چھٹا تھا گھاس دانہتھا پیاس کا ان پہ تازیانہگرمی کا لگا ہوا تھا بھبکااور انس نکل رہا تھا سب کاطوفان تھے آندھیوں کے برپااٹھتا تھا بگولے پر بگولاآرے تھے بدن پہ لو کے چلتےشعلے تھے زمین سے نکلتےتھی آگ کا دے رہی ہوا کامتھا آگ کا نام مفت بد نامرستوں میں سوار اور پیدلسب دھوپ کے ہاتھ سے تھے بے کلگھوڑوں کے نہ آگے اٹھتے تھے پاؤںملتی تھی کہیں جو روکھ کی چھاؤںتھی سب کی نگاہ سوئے افلاکپانی کی جگہ برستی تھی خاک
ادھر بیٹھوپرائی لڑکیوں کو اس طرح دیکھا نہیں کرتےیہ لپ اسٹکیہ پوڈراور یہ اسکارفکیا ہوگامجھے کھیتوں میں مزدوری سے فرصت ہی نہیں ملتیمرے ہونٹوں پہ گھنٹوں بوند پانی کی نہیں پڑتیمرے چہرے مرے بازو پہ لو اور دھوپ رہتی ہےگلے میں صرف پیتل کا یہ چندن ہار کافی ہےہوا میں دل کشی ہےاور فضا سونا لٹاتی ہےمجھے ان سے عقیدت ہےیہی میری متاع میری نعمت ہے
اب آگ بگولے ناچیں گےسب لنگڑے لولے ناچیں گےگرداب بلا بن جائیں گےروندی ہوئی مٹی کے ذرےطوفان بہ پا بن جائیں گےصحرا دریا بن جائیں گےاب خوب ہنسے گا دیوانہ
مئی کا آن پہنچا ہے مہینہبہا چوٹی سے ایڑی تک پسینابجے بارہ تو سورج سر پہ آیاہوا پیروں تلے پوشیدہ سایاچلی لو اور تڑاقے کی پڑی دھوپلپٹ ہے آگ کی گویا کڑی دھوپزمیں ہے یا کوئی جلتا توا ہےکوئی شعلہ ہے یا پچھوا ہوا ہےدر و دیوار ہیں گرمی سے تپتےبنی آدم ہیں مچھلی سے تڑپتےپرندے اڑ کے ہیں پانی پہ گرتےچرندے بھی ہیں گھبرائے سے پھرتےدرندے چھپ گئے ہیں جھاڑیوں میںمگر ڈوبے پڑے ہیں کھاڑیوں میںنہ پوچھو کچھ غریبوں کے مکاں کیزمیں کا فرش ہے چھت آسماں کینہ پنکھا ہے نہ ٹٹی ہے نہ کمرہذرا سی جھونپڑی محنت کا ثمرہامیروں کو مبارک ہو حویلیغریبوں کا بھی ہے اللہ بیلی
یہ تو برزخ ہے یہاں وقت کی ایجاد کہاںاک برس تھا کہ مہینہ ہمیں اب یاد کہاںوہی تپتا ہوا گردوں وہی انگارا زمیںجا بہ جا تشنہ و آشفتہ وہی خاک نشیںشب گراں زیست گراں تر ہی تو کر جاتی تھیسود خوروں کی طرح در پہ سحر آتی تھیزیست کرنے کی مشقت ہی ہمیں کیا کم تھیمستزاد اس پہ پروہت کا جنون تازہسب کو مل جائے گناہوں کا یہیں خمیازہناروا دار فضاؤں کی جھلستی ہوئی لو!محتسب کتنے نکل آئے گھروں سے ہر سوتاڑتے ہیں کسی چہرہ پہ طراوت تو نہیںکوئی لب نم تو نہیں بشرے پہ فرحت تو نہیںکوچہ کوچہ میں نکالے ہوئے خونی دیدےگرز اٹھائے ہوئے دھمکاتے پھرا کرتے ہیںنوع آدم سے بہر طور ریا کے طالبروح بے زار ہے کیوں چھوڑ نہ جائے قالبزندگی اپنی اسی طور جو گزری غالبؔہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
جون کی گرمی کڑکتی دھوپ لو چلتی ہوئیہر گھڑی مزدور کے سر سے قضا ٹلتی ہوئیسر پہ گارے کی کڑھائی اور دیوار بلندہانپتا وہ چڑھ رہا ہے لے کے ہمت کی کمندپاڑ پر پہنچا تو اک گالی سنی معمار سےجی میں آیا سر کو ٹکرا دے اسی دیوار سےہائے اس مظلوم کی مجبوریاں نا چاریاںجان کا آزار ہیں افلاس کی بیماریاںدل میں کہتا ہے کہ یہ معمار بھی مزدور ہےپھر یہی جان حزیں کیوں اس قدر مقہور ہےاس کی اجرت مجھ سے دگنی ہے مگر کم ہے شعورتمکنت کس بات پر کس چیز پر اتنا غرورمیں اگر نادار ہوں یہ بھی نہیں سرمایہ داربھوت وہ ہے کس بڑائی کا جو اس پر ہے سواراینٹ گارا میں نہ دوں اس کو تو یہ کس کام کااصل میں معمار میں ہوں یہ فقط ہے نام کامیری ہمت کہہ رہیں ہیں کاخ دیوان بلندآہ اس پر بھی میں دنیا میں ہوں اتنا مستمندلگ گیا پھر کام میں یہ سوچ کر وہ بد نصیباے خدا دنیا میں اتنا بھی نہ ہو کوئی غریبدن ڈھلا جس وقت مالک بھی مکاں کا آ گیااک سکوت مرگ سا دیوار و در پر چھا گیاکانپتا رہتا ہے ہر مزدور جس کے نام سےسب اسی دھن میں تھے وہ خوش ہو ہمارے کام سےاس کی پیشانی پہ لیکن بل ذرا آنے لگےپھن اٹھا کر تمکنت کے سانپ لہرانے لگےسب سے پہلے اس نے گالی دی اسی معمار کواپنی ملکیت جو سمجھا تھا ہر اک دیوار کوجوش نخوت سے کہا اس نے کہ اے پاجی لعیںکل جہاں تک تھی گئی دیوار اب بھی ہے وہیںکیا کیا ہے تو نے دن بھر میں ذرا مجھ کو بتایوں تکبر میں وہ آ کر جائزہ لینے لگادل میں وہ مزدور پھر کہنے لگا اف رے غضبجو بھی اس دنیا میں ہیں فرعون ہیں وہ سب کے سبجس کا جس پر بس چلے پامال کرتا ہے اسےخود اگر خوش حال ہے بد حال کرتا ہے اسےکیا کہوں سرمایہ داروں کے ستم کی داستاںدیدۂ مزدور ہے مزدور سے بھی خونفشاںجس کی لاٹھی اس کی بھینس اس مثل کو صادق سمجھیہ سمجھ کر اس خدائے پاک کو رازق سمجھ
اب کے مٹی کی عبارت میں لکھی جائے گیسبز پتوں کی کہانی رخ شاداب کی باتکل کے دریاؤں کی مٹتی ہوئی مبہم تحریراب فقط ریت کے دامن میں نظر آئے گیبوند بھر نم کو ترس جائے گی بے سود دعانم اگر ہوگی کوئی چیز تو میری آنکھیںمیرا اجڑا ہوا چہرہ مری پتھر آنکھیںقحط افسانہ نہیں اور یہ بے ابر فلکآج اس دیس کل اس دیس کا وارث ہوگاہم سے ترکے میں ملیں گے اسے بیمار درختتیز کرنوں کی تمازت سے چٹختے ہوئے ہونٹدھوپ کا حرف جنوں لو کا وصیت نامہاور مرے شہر طلسمات کی بے در آنکھیںمری بے در مری بنجر مری پتھر آنکھیں
گرمی کے ظلم سے یہدنیا دہک رہی تھیپیاسی زمین کب سےآکاش تک رہی تھیموسم کو کیا ہوا ہےپل میں بدل گیا ہےلو بن کے چل رہی تھییہ تو وہی ہوا ہےدیکھو چلی ہوائیںچلائیں سائیں سائیںبادل کو ساتھ اپنےہر سمت لے کے جائیںتھم تھم چلے ہیں بادلڈم ڈم بجے ہیں بادلکھولی ہے آسماں نےبادل کی اپنی چھاگلپانی برس رہا ہےموسم یہ ہنس رہا ہےبارش میں بھیگتا ہےکیچڑ میں پھنس رہا ہےبستے اٹھائے بچےاسکول کو چلے ہیںکھیتوں کی سمت اپنےدہقاں نکل پڑے ہیںہر سمت پانی پانیندیوں میں ہے روانیپنچھی چہک رہے ہیںخوشیوں کی ہے نشانیگرمی کو کھا گئی ہےہر سمت چھا گئی ہےدل کو لبھا گئی ہےبرسات آ گئی ہے
بین کرتی عورتوں سےہم پوچھ رہے ہیں میرؔ کے شعر کا مطلببے گھر بھونروں سے کہہ رہے ہیںشکنتلا کو رجھانے کے لیےلو بھری دوپہر میںکوکنے کا تقاضہ کر رہے ہیں کوئل سےاس مشکل وقت میںکچھ لوگ کہہ رہے ہیں ہم سےاپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیےایک ٹوٹے ہوئے برتن کوچاک سے وفاداری ثابت کرنے کے لیےکچھ لوگ تالیاں بجا رہے ہیںکچھ حیران ہو کر دیکھ رہے ہیںان کی اور ہماری شکلیہ معصوم ہیںانہیں معاف کر دینا میرے خدااور ممکن ہو تو ہمیں بھیکہ ہم جی رہے ہیںاس مشکل وقت میں بھی
کنوینس کچھ بھی جب نظر آیا نہ دائیں بائیںسوچا کہ آج ہم بھی منی بس میں بیٹھ جائیںجانا تھا لالو کھیت چڑھے تھے صدر سے ہمرخصت ہوئے تھے سر بہ کفن اپنے گھر سے ہمہر راہ بس کی شہر خموشاں کی راہ تھیہر سیٹ بس کی آخری آرام گاہ تھیرقاص خوش ادا کی طرح ہل رہی تھی بسنا آشنا ٹرک سے گلے مل رہی تھی بسفٹ پاتھ سے بھی ہاتھ ملاتی ہوئی چلیٹھمکہ قدم قدم پہ لگاتی ہوئی چلیپرزہ ہر ایک مظہر چنگ و رباب تھااس بس کا اتفاق سے بھونپو خراب تھاڈھیلی کمانیوں میں ترنم بلا کا تھادیکھا اتر کے بس سے تو جھونکا ہوا کا تھاگانے میں ٹھیک ٹھاک تھے چلنے میں ویک تھےاس محفل سماع میں پہیے شریک تھےنازک سماعتوں پہ ستم ڈھا رہی تھی بسالٹے سروں میں کوئی غزل گا رہی تھی بسہو تو گئے تھے بس میں مسافر سب ایڈجسٹڈر تھا کہ ہو نہ جائے کہیں ٹائروں میں برسٹبس میں سکڑ کے تھان سے چٹ ہو گئے تھے ہمپرزے تھے اور مشین میں فٹ ہو گئے تھے ہمجو کچھ بھی مل رہا تھا لیے جا رہے تھے ہمدھکوں کی گیند کیچ کئے جا رہے تھے ہممجبور ہو گئے تھے جمیل و حسین لوگمرغا بنے ہوئے تھے معزز ترین لوگبس میں مثال شاخ ثمر جھک گئے تھے لوگخوددار و سر بلند تھے پر جھک گئے تھے لوگکچھ شوقیہ تھے کچھ بہ ارادہ جھکے ہوئےعظمت میاں تھے سب سے زیادہ جھکے ہوئےآزاد طبع واقف گیراج ہی نہ تھیسگنل کی بتیوں کی تو محتاج ہی نہ تھیاسٹاپ سے چلی تو رکی اک دکان میںآخر اسے پناہ ملی سائبان میںوہ لوگ چل دیے جو سر رہ گزر نہ تھے''منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے''
تم نے محبت کو مرتے دیکھا ہے؟چمکتی ہنستی آنکھیں پتھرا جاتی ہیںدل کے دالانوں میں پریشان گرم لو کے جھکڑ چلتے ہیں
میری آنکھوں میں جم گئی ہےاداس لو بھری دوپہرہمالہ کی چوٹی پر جمنے والی برف کی طرفمیں بھول چکا ہوںاملتاس کے پھول سے اپنا پہلا مکالمہکمرے کے کس دروازے سےکھڑکی سے یا روزن سےداخل ہوئی تھی سورج کی پہلی کرنمجھے کچھ یاد نہیں
اک لکڑی کی کرسی بھی ہےبوڑھی سی اور لنگڑی لولی
سردی گزری گرمی آئیساتھ میں اپنے ہلچل لائیگرم ہوا ہر سو چلتی ہےسورج سے دھرتی جلتی ہےانسانوں کا حال برا ہےحیوانوں میں حشر بپا ہےجھلس رہے ہیں پیڑ اور پودےپگھل رہے ہیں برف کے تودےسوکھ گئے ہیں ندی نالےپڑ گئے سب کی جان کے لالےاترا ہوا ہے سب کا چہرہگھر کے باہر لو کا خطرہڈھونڈ رہا ہے ہر اک سایاگرمی نے اتنا گرمایاٹھنڈا پانی لسی شربتبڑھ گئی ان سے سب کی چاہتلیموں کا رس آم کا پتاکھاتے ہیں سب شوق سے گناپنکھا تیزی سے چلتا ہےجسم مگر پھر بھی جلتا ہےسب کی زباں پر پانی پانیبھیج دے مولیٰ برکھا رانی
تو ''لو'' ایسے سمےمیری رگوں میں خون کے بدلےوہ پانی ہےجو ارماں سادھ لینے والے پیڑوں کا مقدر ہےمرے طوفان کی موجیںکسی برفیلے چوٹی کی وہ تحریریں ہیں جن کواب فقط ایسے فرشتے پڑھ سکیں گےجو کبھی بد بخت دھرتی پر اترتے ہی نہیںچلو یوں ہی سہیتم جو بھی چاہوجس طرح چاہو وہی ہوگامیں اک گرداب کی مانند واپس لوٹتا ہوںاس سمندر میںکہ جس کی تہہ میں جا کرسب خزانے ڈوب جاتے ہیں
آگ برابر پھینک رہا تھا سورج دھرتی والوں پرتپتی زمیں پر لو کے بگولے خاک اڑاتے پھرتے تھےنہر کنارے اجڑے اجڑے پیڑ کھڑے تھے کیکر کےجن پر دھوپ ہنسا کرتی ہے ویسے ان کے سائے تھےاک چرواہا بھیڑیں لے کر جن کے نیچے بیٹھا تھاسر پر میلا صافا تھا اور کلہاڑی تھی ہاتھوں میںچلتے چلتے چرواہے سے میں نے اتنا پوچھ لیااے بھیڑوں کے رکھوالے کیا لوگ یہاں کے دانا ہیںکیا یہ سچ ہے یاں کا حاکم نیک بہت اور عادل ہےسر کو جھکا کر دھندلی آنکھوں والا دھیمے سے بولابادل کم کم آتے ہیں اور بارش کب سے روٹھی ہےنہریں بند پڑی ہیں جب سے ساری دھرتی سوکھی ہےکچھ سالوں سے کیکر پر بھی پھلیاں کم ہی لگتی ہیںمیری بھیڑیں پیاسی بھی ہیں میری بھیڑیں بھوکی ہیں
نہ خوف دھوپ کا ہے کچھ نہ لو سے ڈرتا ہےنہا نہا کے پسینے میں کام کرتا ہے
اب گرمی آ جائے گیناک چنے چبوائے گیسورج سر پر آئے گاپرچھائیں چھپ جائے گیتپ کے زمیں اب سورج سےتانبا سی ہو جائے گیدھوپ میں چلنے پھرنے سےدیکھنا لو لگ جائے گیہونٹ تری کوسیں گےخشک زباں ہو جائے گیشربت اور فالودے سےدل کی کلی کھل جائے گیبرف بنے گی کثرت سےگھر گھر بکنے آئے گیٹھنڈے پانی سے خس کیٹٹی چھڑکی جائے گیگرمی کی گرما گرمیدیکھنا ناچ نچائے گیکام سے جی اکتائے گاجسم میں جاں بولائے گیایسی گرمی میں کیوں کرنظم یہ لکھی جائے گی
ذرے ذرے پہ بجلی سی برسا گئیںچلتے چلتے جو پنکھا ذرا رک گیاجس کو بھی چھو لیا اس کو گرما گئیںجھٹ پسینے کا دریا سا بہنے لگاگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کا موسم گیاگرم پانی ہے کوئی پیے کس طرحکالی کالی گھٹاؤں کا موسم گیااور نہ پانی پیے تو جیے کس طرحگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںدھوپ میں پاؤں مٹی پہ جو پڑ گیالیجئے گھر میں باہر سے برف آ گئیدھوپ میں کیا رکھا آگ پر رکھ دیاسارے بچوں میں پیدا ہوئی کھلبلیگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںدھوپ میں گھر سے باہر نہ جائے کوئیبرف والی کٹوری جو منہ سے لگیجان کر لو کا جھونکا نہ کھائے کوئیسچ یہ ہے جان میں جان ہی آ گئیگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیںمیز بھی گرم ہے کھاٹ بھی گرم ہےفرش بھی گرم ہے ٹاٹ بھی گرم ہےگرمیاں آ گئیںگرمیاں آ گئیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books