aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maash"
کوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاش
سچ بتا اے عاشق دیرینۂ فکر معاشزہر میں تریاک کے عنصر کی بھی کی ہے تلاش
خستۂ فکر معاشپارۂ نان جویں کے لیے محتاج ہیں ہم
ذہن کو ڈس رہی ہے فکر معاشکیا کروں کیا کروں کدھر جاؤں
چنے مونگ ماش اور مسر، ساری دالیںمہینے میں دو بار قیمہ یا مرغی کا سالن
جس کے دل کی دھڑکنوں میں غم کے پھانسوں کی خراشبے کسی جس کا سہارا مفلسی جس کی معاش
پڑھیں لکھیں گے جوان ہوں گےمعاش کی فکر ان کی قسمت
دل میں کاوش نہ تلاشنہ کوئی خواہش مخفی نہ تمنائے معاش
کیوں اینٹھے ہیں ماش کے آٹے کی طرح آپدھوتی سے آپ کی نہیں ہلدی کی بو گئی
عوام کو رہی فکر معاش ہر لمحہمدبروں نے بھی چاہا یہی غنیمت ہے
نثر نظم آلود ہے یہ طرز نو کی شاعریماش کی کھچڑی ہے جو پوری طرح پکی نہ ہو
گو شاعری کا رنگ نکھرتا چلا گیاشیرازۂ معاش بکھرتا چلا گیا
نہ یوں حیات ہو فکر معاش سے بیزارکہ جیسے پاؤں میں ہوتی ہے قید کی زنجیر
مٹی کی کلھیا میں ہرے دھنیے کی چٹنیاصلی گھی میں بگھری ماش کی دال کی خوشبو
تمام جبر معاش کا بس یہی نظام زکوٰۃ حل ہےدلت کی محرومیوں پہ آنسو بہانے والو
جہان خوش معاش کےکسی نئے فریب کی ہے منتظر
ہمیشہ فکر معاش میں گمسفر ہمارا لکھا ہے ظلمات کے افق پر
انسان وہ کرے جو ملک بھی نہ کر سکیںفکر معاش نورؔ اگر درمیاں نہ ہو
مرے معاش پہ ہوتے تو ہیں اثر اندازکہ میں بھی فرد بشر ہوں مجھے بھی جینا ہے
جبر غم حیات کے صدقے ترا خیالبار غم معاش پر قربان ہو گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books