aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "martaba"
اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خواباس دور سے اس دور کے سوکھے ہوئے دریاؤں سےپھیلے ہوئے صحراؤں سے اور شہروں کے ویرانوں سےویرانہ گروں سے میں حزیں اور اداس!اے عشق ازل گیر و ابد تابمیرے بھی ہیں کچھ خواب!اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خوابوہ خواب کہ اسرار نہیں جن کے ہمیں آج بھی معلوموہ خواب جو آسودگیٔ مرتبہ و جاہ سےآلودگیٔ گرد سر راہ سے معصوم!جو زیست کی بے ہودہ کشاکش سے بھی ہوتے نہیں معدومخود زیست کا مفہوم!
جب ملے تھے تم سے پہلی مرتبہیہ لگا جیسے کہ سب کچھ پا لیامل گئی تھی اس جہاں کی ہر خوشیبدلی بدلی ہو گئی تھی زندگیایک دن پھر ہائے ایسا بھی ہواہو گئے اک دوسرے سے ہم جداملنے کی بس آس باقی رہ گئیاک تڑپتی پیاس باقی رہ گئیآج بھی اس دل کو میرے ہے یقیںکیا پتہ کس موڑ ٹکرائے کہیںاس لئے امید رکھ کر برقرارکرتا ہوں ہر پل تمہارا انتظار
نیک بچے دل سے کرتے ہیں ادب استاد کاباپ کی الفت سے بہتر ہے غضب استاد کاعام لوگوں کی جہالت دور کرنے کے لیےحق تعالی نے بنایا ہے سبب استاد کااس کی برکت سے جہاں میں پھیلتی ہیں نیکیاںکیوں نہ پھر استاد سے راضی ہو رب استاد کاکچھ نہ کچھ عمدہ سبق دیتی ہے اس کی زندگیخلق سے خالی نہیں ہے کوئی ڈھب استاد کاجس گھڑی نادان بچوں کو سکھاتا ہے وہ علمچوم لیتے ہیں فرشتے آ کے لب استاد کابس اسے پڑھنے پڑھانے سے ہمیشہ کام ہےکتنا اچھا مشغلہ ہے روز و شب استاد کاخواہ ساری عمر اس کے پاؤں دھو دھو کر پئےآدمی سے حق ادا ہوتا ہے کب استاد کاامتحاں میں حل نہ ہو جس دم کوئی مشکل سوالخود پسندوں کو پتا چلتا ہے تب استاد کاشکر کے جذبات سے گردن جھکا لیتا ہوں میںیاد آتا ہے مجھے احسان جب استاد کاکل زمانے کی نگاہوں میں وہ عزت پائے گامرتبہ پہچان جائے گا جو اب استاد کااس کی عالمگیر حیثیت ہے شاہوں کی طرحکل عجم استاد کا ہے کل عرب استاد کاچل رہے ہیں آج دنیا میں ہزاروں محکمےسچ اگر پوچھو تو ہے یہ فیضؔ سب استاد کا
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہیےکہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے
لوگ استاد جس کو کہتے ہیںاس کا رتبہ عظیم ہوتا ہےمرتبہ اس کا جو نہیں سمجھےوہ سدا زندگی میں روتا ہےعلم کی ایک انجمن استادپھول شاگرد اور چمن استادکتنا اونچا مقام ہے اس کاساری دنیا میں نام ہے اس کاذہن و دل کو سنوارتے رہنارات دن بس یہ کام ہے اس کافکر اس کی جہاں مہکتی ہےراہ تاریک بھی چمکتی ہےفکر اس کی سرور محفل کافکر اس کی سکون ساحل کافکر اس کی چراغ ہے دل کافکر اس کی ہے نور منزل کااس کا سایا خدا کی رحمت ہےتربیت اس کی ایک نعمت ہےاس کا جو احترام کرتے ہیںدونوں عالم میں ان کی عزت ہےاس کی خدمت سے نور ملتا ہےزندگی کا شعور ملتا ہےزندگی کا پیام ہے استادقابل احترام ہے استاد
زندگی کے امتحاں میں حوصلہ دیتی ہے یہچاہنے والوں کو اونچا مرتبہ دیتی ہے یہ
میں نے انٹرویو کیا کل ایک روزہ خور سےمیں زباں سے بولتا تھا وہ شکم کے زور سےمیں نے پوچھا آپ نے روزہ یہ کیوں رکھا نہیںپیٹ دکھلانے لگا بولا کہ یوں رکھا نہیںروزہ یوں رکھا نہیں چلتی نہیں باد صباموسم گرما میں روزے آئے ہیں اس مرتبہجاب کرنی ہے ضروری کام کرنا ہے مجھےکوک پزّا کے سہارے شام کرنا ہے مجھےمیں نے لسی کے گلاسوں میں پیا کچھ اور ہےدوپہر میں مرغ کھانے کا مزا کچھ اور ہےدن میں کھانے کے لیے اقرار کر لیتا ہوں میںشام کو مسجد میں بھی افطار کر لیتا ہوں میںکوئی شے کھاتے ہوئے میں نے چھپائی ہی نہیںآج تک میری ہوئی روزہ کشائی ہی نہیںروزہ خوری پر مری دنیا کو حیرانی نہیںروزہ یوں رکھا نہیں بجلی نہیں پانی نہیںمیں جو بے روزہ ہوں یہ بھی تاجروں کا ظرف ہےسو روپے اجرت ہے میری سو روپے کا برف ہےروح افزا کے بنا دنیا کی حوریں رہ گئیںروزہ داروں کے لیے سوکھی کھجوریں رہ گئیںروزہ یوں رکھا نہیں ہو جائے گا کھانا خرابلنچ پر آئے گی کل ہوٹل میں رشک ماہتابمیں ہوں شاعر مہرباں ہے مجھ پہ خلاق ازلپیش کرنی ہے مجھے محفل میں اک تازہ غزلاجر روزہ کیا ہے یہ شعروں میں بتلاؤں گا میںلنچ میں افطار کی تشریح بن جاؤں گا میںبھوک اور شاعر کا چوں کہ چولی دامن کا ہے ساتھمجھ سے بڑھ کے جانتا ہے کون روزہ کی صفاتپندرہ گھنٹے کا روزہ ہر جوان و پیر کاشام کرنا صبح کا لانا ہے جوئے شیر کا
تیرے دل کو تو ہزاروں کی لگن رہتی ہےمیرے دل میں تری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیںتیری عادت میں عداوت کی فراوانی ہےمیری عادت میں مروت کے سوا کچھ بھی نہیںتیرے عالم میں تخیل ہے حسیں باتوں کامیرے عالم میں تو حیرت کے سوا کچھ بھی نہیںحسن میں تیرے ہے اک نور کی دنیا رقصاںاور مرے عشق میں ظلمت کے سوا کچھ بھی نہیںتیری قسمت میں ہیں تحریر طرب گوں لمحےمیری قسمت میں مصیبت کے سوا کچھ بھی نہیںتیری فطرت تو ہے باتوں سے بتانا دل کامیری فطرت میں صداقت کے سوا کچھ بھی نہیںسچ ہے افضلؔ کو ترے عشق نے برباد کیامرتبہ اس کا بھی تھا ورنہ بلند و بالا
اوقات بھول جاؤں میں اپنی جہاں پہنچہرگز مرے خدا مجھے وہ مرتبہ نہ دے
مجھے بھی اس بات کا غم ہےمیں نے اس کا خیال کیوں نہیں کیاکئی مرتبہ سوچتا تو تھاذکر بھی کرتا تھا اپنوں سےپھر اگلی ہی دفعہجب سنتا تھا کچھ انگلش گانےذہن سے اتر جاتا تھا اس تنہا نظم کا خیال
میں عورت ہوں تخلیق جہاں کا اک سبب بھی ہوںمیں بالکل بے طلب ہوں اور زمانے کی طلب بھی ہوںمیں دیوی پیار کی ہوں حسن ہی میرا وسیلہ ہےخلوص و سادگی زیور وفا میرا قبیلہ ہےہنر جینے کا بخشا علم کا پرچم بھی لہرایاپلے ہیں گود میں میری جنہوں نے مرتبہ پایاوفاداری محبت ہی فقط میرا حوالہ ہےمری اقدار کا ہمسر فقط کوہ ہمالہ ہےپڑھا ہے میرؔ و غالبؔ عصمتؔ و منٹوؔ کو بھی میں نےیہ رنگوں میں بسی ہر داستاں گویا لکھی میں نےبہت فرسودہ رسموں پر جلائی بھی گئی ہوں میںقدامت کے طریقوں سے ستائی بھی گئی ہوں میںتجارت بھی مری ہوتی رہی تہمت سہی میں نےگزاری ہے بہت مرمر کے گویا زندگی میں نےانا کی بھینٹ چڑھ کر آگ کے شعلوں میں جلتی ہوںزمیں میں دفن ہو جاتی ہوں اور بے موت مرتی ہوںبیاہی جاتی ہوں قرآن سے بھی میں یہاں اب تککہ زندہ ہے یہاں پر کاروباری کا جہاں اب تکبہت ہی پست ہوں اور لائق دشنام ہوں میں ہیزنا بالجبر میں بھی مورد الزام ہوں میں ہیمیں انساں ہوں فرشتہ اور ولی میں بھی نہیں کوئیخطا کرتی ہوں گنگا کی دھلی میں بھی نہیں کوئیکہ صبر و شکر سے معمور ہے ایثار سے بھی دلمگر آخر کو تھک جاتا ہے یوں آزار سے بھی دلنہیں درکار کوئی مرتبہ دولت نہ زر مجھ کوخداوندا مری قربانیوں کا دے اجر مجھ کو
ناز کیوں ہو نہ تجھے کرشن دلاری جمناتو تو رادھا کی سہیلی بنی پیاری جمنارتبہ عالی ہے ترا مرتبہ بھاری جمناہر جگہ فیض اتم رہتا ہے جاری جمناہے یقیں گرم کسی دن بھری محفل ہوگیراس منڈل کی وہ لیلا لب ساحل ہوگیمٹ گیا لطف ترا چھن گیا گہنا تیراجب کنھیا نہیں بے لطف ہے رہنا تیراغم اٹھانا ستم و جور کو سہنا تیراپانی ہو ہو کے شب و روز یہ بہنا تیراآتش ہجر کچھ اس درجہ لگی ہے تن میںدل نہ متھرا میں بہلتا ہے نہ بندرابن میںبات بگڑی نہیں اب بھی ہے وہی بات تریوہی جاڑا وہی گرمی وہی برسات تریدن اسی ڈھنگ اسی رنگ کی ہے رات تریکون کہہ سکتا ہے کچھ بھی نہیں اوقات تریکرشن صدقے ہیں تو رادھا ہیں فدائی جمناہر طرف خلق میں ہے تیری دہائی جمناسادی سادی ہے روش وضع ہے بھولی بھالیہے روانی بھی غضب چال بھی ہے متوالینیلی موجوں سے پشیماں ہوئیں زلفیں کالیحسن و آرائش و زینت سے بڑھی خوشحالیاللہ اللہ رے اس ناز و ادا کی ہستیتیرے آگے نہیں کچھ آب بقا کی ہستیپوچھے رادھا سے کوئی قدر حقیقت تیریکرشن سے جانچے کوئی خوبی عزت تیریساری دنیا میں ہے پھیلی ہوئی عظمت تیریاس کو جنت ملی کی جس نے بھی خدمت تیریاپنا ہم رتبہ جو پایا تجھے گنگا جی نےاپنے پہلو میں بٹھایا تجھے گنگا جی نےباعث ناز ہے بے شبہ ہمالہ کے لئےسبب فخر و شرف گوکل و متھرا کے لئےخاص اک نعمت حق وادی و صحرا کے لئےمختصر یہ ہے بڑی چیز ہے دنیا کے لئےدل کی سربستہ کلی فرط خوشی سے کھل جائےاس کو امرت ملے جس کو ترا پانی مل جائےسچ ہے اسرار حقیقت کا خزانہ تو ہےحال و مستقبل و ماضی کا زمانہ تو ہےلطف آگیں طرب آمیز فسانہ تو ہےسب ہیں بیگانے اگر ہے تو یگانہ تو ہےصاف آئینے کی صورت ہے صفائی تیریبندگی کیوں نہ کرے ساری خدائی تیرینگۂ فضل و ترحم سے اشارا کر دےجو نہ ہو کام کسی سے وہ خدارا کر دےرنج و غم درد و قلق دور ہمارا کر دےپیاری مخلوق میں کچھ اور بھی پیارا کر دےرہنمائی تری بسملؔ کے لئے سب کچھ ہےنا خدائی تری بسملؔ کے لئے سب کچھ ہے
جس جگہ کی ہو بے وفا مٹیاس جگہ سے مری اٹھا مٹیایک دن خود بہ خود یہ ہونا ہےتو تو مٹی میں مت ملا مٹیجانے کس کس طرح ملے بچھڑےآگ پانی فلک ہوا مٹیرنگ اور نسل کی تمیز غلطآدمی اصل میں ہے کیا مٹیہم سدا جاں پہ کھیل جاتے ہیںہم کو دیتی ہے جب صدا مٹیسجدہ کرنے کو دل ترستا ہےلا وطن کی وطن سے لا مٹیکیسی مردہ پرست ہے دنیامر کے پاتی ہے مرتبہ مٹیسب پہ حق اس کا سب پہ قرض اس کاجانے کب کس کو لے بلا مٹیروتی ہنستی ہے چلتی پھرتی ہےکتنے رنگوں میں جا بجا مٹیروندتا ہے کمہار مٹی کواس کو روندے گی دیکھنا مٹیجس کو ہم نے عزیز تر جاناسب سے پہلے وہ دے گیا مٹیاپنے اندر چھپائے بیٹھی ہےساری دنیا کا فلسفہ مٹییہ کہیں پر ہے ڈھیر بے معنیاور کہیں پر ہے کیمیا مٹی
اگرچہ یہ سچ ہےکئی بار دل میرا بے حد دکھا ہے تمہاری وجہ سےکئی بار پلکوں پہ آئے ہیں آنسو تمہاری وجہ سےکئی بار سہنی پڑی سخت لہجے کی تیزی و تندی تمہاری وجہ سےکئی مرتبہ نا مناسب رویہ بھی جھیلا ہے میں نے تمہاری وجہ سےکئی بار بے بات غصہ کی زد پر بھی آنا پڑا ہے تمہاری وجہ سےکئی مرتبہ عزت نفس کو طاق پر رکھ کے سوری بھی کہنا پڑا ہے تمہاری وجہ سےتو یہ بھی تو سچ ہےجو اس پہلے سچ سے کہیں معتبر ہے بڑا دل نشیں ہےکہ اکثر ملا ہے مرے غم کو مرہم تمہاری وجہ سےکئی بار میں روتے روتے ہنسی ہوں تمہاری وجہ سےمرے آنسوؤں کو میسر ہوا ایک بر وقت کندھا تمہاری وجہ سےکئی بار افسردگی کے سمندر میں گرنے سے پہلے بچائی گئی ہوں تمہاری وجہ سےہنر ضبط گریہ کا در آیا مجھ میں تمہاری وجہ سےہوئے وا شعور غم زیست کے در تمہاری وجہ سےاجاگر ہوا مجھ میں احساس ہستی تمہاری وجہ سےہوا منکشف لفظ اخلاص مجھ پہ تمہاری وجہ سےہوا فہم و ادراک سچی خوشی کا تمہاری وجہ سےتمہاری وجہ سے ہی مسرور و شاداب رہنے لگی ہوںاگرچہ میں اندر سے ٹوٹی ہوئی ہوںمگر پھر بھی اب تک جو بکھری نہیں ہوں تمہاری وجہ سےیہ سچ ہے مرے دوست میں جی رہی ہوں تمہاری وجہ سے
خون سے سینچا وطن کی سر زمین پاک کومرتبہ اکسیر کا بخشا یہاں کی خاک کو
کسی نے چار چھ دس مرتبہ کاٹا تھا گالوں پرمیں کرتا ہی رہا مچھر شماری وہ نہیں آئی
رب العزتوہ زمین جسے تو نے بنی آدم کے لیے جنت بنایا تھااور امن کے گہوارے کا نام دیا تھاجہاں ہماری آزمائش کے لیے شجر ممنوعہ کے ساتھ ساتھہماری ربوبیت کے لیے تو نے شجر حیات بھی اگایا تھاہماری وہ زمین پانی ہوا اور خشکی کی مخلوق کا مشترکہ گھر تھیاس پیاری زمین پر آباد ساری مخلوق ایک دوسرے سے راضی تھیاور جس کی ساری مخلوق کو باہم راضی دیکھ کر تو بھی ہم سے راضی تھااے رب العزت ہم نے وہ زمین اپنے ہاتھوں برباد کر کے رکھ دی ہےہمارا تجھ پر کوئی حق نہیں کہ ضد کریںلیکن تو نے توبہ کا دروازہ تو کھلا رکھا ہےبے شک توبہ کی ابتدا اعتراف سے ہوتی ہےمگر اس کی انتہا ہمیشہ دعا سے ہوتی آئی ہےمیرے پاس دعا کے لائق الفاظ نہیں ہیںلیکن تیرے پاس میری گونگی التجا سننے کے لیے بہت اچھے کان ہیںحسن سماعت تجھ پر ختم ہےاس لیے کہ تو ازل سے مضطروں کی سنتا اور مردہ زمینوں کو زندہ کرتا آیا ہےسن اے سمیع سنایک مرتبہ پھر اس زمین پر امن امید اور مسرت کے پھریرے لہرا دےایک مرتبہ پھر اس کے بیٹے بیٹیوں کا ہاتھ پکڑانہیں ادھورے پن سے نجات دے دےپورا کر دے انہیںوہ ہوس اور بے صبری کی کھولتی دلدل میںبد صورت مینڈکوں کی طرح اوندھے منہ پڑے ہیںانہیں پورے قد سے کھڑا کر دےان کی عظمت آدم لوٹا دےانہیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا سکھا دےتوفیق دے انہیں کہ تیری عطا کردہ قوت تخلیق سےزمین کو حسن اور معنی سے مالا مال کر دیںاحترام ڈال دے ان کے دل و دماغ میں اس زمین کے لیےاپنی اس ماں کے لیےاس کی ساری مخلوق کے لیےنسل عقیدے جنس اور ثقافت کا فرق ان کی وحدت میں نئے رنگ بھرےوہ پورے کرۂ ارض پر پھیلے ہوں لیکن ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کروہ پورے کرۂ ارض کو ایک ایسے دسترخواں کی شکل دے دیںجس پر زمین کا سارا رزق زمین کی ساری مخلوق کے لیے عام ہوچھ عرب انسان ہی نہیں زمین کی ساری مخلوق سیراب و شاد کام ہواے رب العزتتو نے اس زمین کی صورت میں جو جنت ہمیں دی تھیہم نے اسے اپنے لیے جہنم بنا لیا ہےیہ جہنم صرف نفاق اور نفرت ہی نہیں خوف سے بھی لبریز ہےایک دوسرے سے خوف اپنے آپ سے خوفاور خوف تو محبت کی نفی ہوتا ہےاور ساری محبتوں کی ابتدا اور انتہاہمیں ایک مرتبہ پھر محبت سے سرشار کر دےکہ محبت کے بغیر ہمیں نہ تو سچا امن نصیب ہوگا اور نہ سچی زندگیہم محبت سے محروم رہے تو خواہ تو زمین کو سو مرتبہ بھی جنت بنا دےہم ہزار مرتبہ اسے جہنم بنا کے رکھ دیں گےہم نے نفرت نفاق اور خوف کو آزما کر دیکھ لیا ہےاے رب العزتہمارے وجود محبت کے لیے اس طرح ترس رہے ہیںجیسے پیاسی زمین بارش کے لیے ترستی ہےہمیں محبت نصیب کر دے
برسوں بعد بر نوک زبان رہتا ہے کوئی شعرپھر ایک دناس کے جانے پہچانے ہزار مرتبہ دہرائے ہوئے الفاظ کے اندرکھل جاتا ہے معانی کا ایک نیا دروازہاور رہ جاتے ہیں ہم ہکا بکاجس مفہوم پر سر دھنتے آئے تھے کل تک کتنا سطحی کتنا ادھورا تھا وہشکر کرتے ہیں کہ نہیں پوچھ لیا کسی نے ہم سے اس شعر کا مطلبستیہ ناس کر ڈالتے اچھے بھلے شعر کا ان نئے معانی کے بغیر ہمیہی کچھ ہوتا ہے زندگی میں پیش آنے والےواقعات و حادثات کے ساتھ بھیجو کچھ بیت گیا اور بیت رہا ہے ہم پردیر تک راز ہی نہیں کھلتا اس کی اہمیت کابے مقصد ہو رہا ہے یہ سب کچھیا اس کا ہمارے مستقبل اور مقدر سے بھی تعلق ہے کچھپھر پردہ سا ہٹتا ہے اور ہو جاتے ہیں ہم غرق حیرتکتنا محدود تھا ہمارا نقد علماور کن مغالطوں میں پڑے ہوئے تھے ہممجھے تو خوگر سا بنا دیا ہے روزمرہ کی اس حیرانی و پریشانی نےنئے سے نیا صدمہ سہنے کو تیار رہتا ہوں صبح و شاماپنی جہالت کے انکشاف پرونڈے کرکٹ تو شوق سے دیکھتے ہیں آپ بھییوں سمجھیے کہ مشق تھا گزشتہ کل کا میچ آج کے میچ کیمشق ہے آج کا میچ آنے والے کل کے لیےاور کل جو میچ ہوگا اپنی جگہ وہ فائنل ہی کیوں نہ ہومشق ہوگا پرسوں کے میچ کیہڈیاں گل گئیں اتنی سادہ سی بات سمجھتے سمجھتےکہ ہر دن طلوع ہوتا ہے اپنے ساتھ ایک نیا سوال ایک نیا چیلنج لے کراور مطالبہ کرتا ہے ہم سے ایک نئے جواب ایک نئے طرز عمل کانہ تو زندگی ہی جامد ہے نہ زندگی کا خالق خدازندگی بہتے دریا کی طرح بدلتی رہتی ہے ہر لحظہ قائم و دائم رہتے ہوئےاور نت نئی تخلیق میں مصروف خدا بھی نہیں ہوتا کبھی پہلے والا خداجب زندگی اور اس کے خالق ہی کی کایا کلپ ہوتی رہتی ہے یوںتو اشعار ہوں یا واقعات و حادثات بدل جاتا ہے ہر شے کا مفہومبھئی، بدل جاتے ہیں ہم خود بدل جاتی ہے ہماری نظر ہمارا احساسبدل جاتی ہیں وہ محبتیںجن کے ازلی و ابدی ہونے کی قسمیں کھایا کرتے تھے ہمبدل جاتی ہیں بے بدل دوستیاںوہ خواہشیں بدل جاتی ہیں جنہوں نےایک عمر پاگل بنائے رکھا ہوتا ہے ہمیںاور تو اور بدل جاتے ہیں دین اور ایمانراستے ہی نہیں بدل جاتی ہیں منزلیںسن رہے ہیں آپبھر تو نہیں پائے آپ بھی؟کدھر چل دیے آپ؟بدل تو نہیں گئے آپ بھی؟
صبح فرغانہ میں تھی اور ہوئی رنگوں میں شامآل تیمور کی آشفتہ سری تجھ کو سلاملمعۂ آخر خورشید سراج الدین تھامقطع درد فزا غزل رنگیں تھاوہ شہ نیک نفس نیک نسب نیک نژادوہ شہ نیک نظر نیک نشاں نیک نہادپیکر خلق و وفا خوگر اعمال حسنخسرو فکر رسا بادشہ فہم و فطنصاحب طرز نوی مالک انداز کہنفخر دیں فخر زمیں فخر زماں فخر زمنلال قلعے کا وہ صوفی وہ محبت کا امیںجس کی مٹی سے بھی محروم ہے دلی کی زمیںمرتبہ دان ادیبان و حکیمان وطنقدر دان شعر اے ہمہ دان و ہمہ فنغالبؔ و ذوقؔ کے افکار کا وہ قدر شناسجس کو تھا مومنؔ و آزردہؔ کی عظمت کا پاسارض دلی نے بغاوت کا جب اعلان کیاسرخ رو ہو گیا اولاد کو قربان کیاجب بدیسی کی حکومت سے زمیں تنگ ہوئیاسی قاعد کی قیادت میں بڑی جنگ ہوئیجس کا دربار تھا اک مجمع عالی نفساںجس جگہ کوثر و تسنیم سے دھلتی تھی زباںساز ہندی کی نوا نغمۂ اردو کی صداجس کے اشعار سے آتی ہے اخوت کی ندامرد درویش شرافت کا گنہ گار بھی تھاپارسا رند بھی تھا شاعر دیندار بھی تھاجس کو کہتے ہیں زمینوں کا شہ عرش نشاںمشکل اصناف سخن جس کے لئے تھے آساںنہ ہو اگرچہ ظفر مند و ظفر یاب مگرفلک شعر پہ تابندہ ہے از نام ظفر
جفا شعار ستم کیش حریت دشمنڈرا رہا ہے تو آنکھیں یہ کیا دکھا کے مجھےمرے قدم کو ہو جنبش یہ غیر ممکن ہےپیام شوق سے دے درد و ابتلا کے مجھےکوئی مجھے رہ حق سے ہٹا نہیں سکتااگر یقین نہ ہو دیکھ لے ہٹا کے مجھےزباں پہ کلمۂ حق کے سوا جو حرف آ جائےتو پھونک دے مری غیرت ابھی جلا کے مجھےہے آشنا مرے کام و دہن سے تلخئ غمیہ زہر دیکھ لے سو مرتبہ پلا کے مجھےہے میرے واسطے معراج روح تختۂ دارتو خوش اگر ہے تو ہو دار پر چڑھا کے مجھےفنا ہے میرے لئے مژدۂ بقائے دوامسنا رہا ہے تو احکام کیا قضا کے مجھےسوا خدا کے کسی سے میں دب نہیں سکتانہ رکھ سکے گا تو ہرگز کبھی دبا کے مجھےترے خیال میں گر ہوں میں قابل تسخیرتو دیکھ لے غم و آلام میں پھنسا کے مجھےمری طرف سے اجازت ہے تجھ کو عام اس کیکہ دے سکے تو غم و رنج انتہا کے مجھےخوشی کے ساتھ ہوں راضی ہر ابتلا کے لئےتو منتخب مجھے کر تو سہی جفا کے لئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books