aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mayassar"
حسنؔ نامی ہمارے گھر میں اک سقراطؔ گزرا ہےوہ اپنی نفی سے اثبات تک معشر کے پہنچا ہے
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزیاس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو
پیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجود
میں آہیں بھر نہیں سکتا کہ نغمے گا نہیں سکتاسکوں لیکن مرے دل کو میسر آ نہیں سکتا
جب آنسوؤں کو میسر ہزار شانے تھےجب انتظار نہ کرنے کے سو بہانے تھے
کیوں بھی کہنا جرم ہے کیسے بھی کہنا جرم ہےسانس لینے کی تو آزادی میسر ہے مگر
غرض وہ حسن اب اس رہ کا جزو منظر ہےنیاز عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونےہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا
جس پہ تم جوتیوں سے پھرتے ہوواں میسر نہیں وہ اوڑھنے کو
غم میسر ہے تو اس کو غم کونین بنادل حسیں ہے تو محبت بھی حسیں پیدا کر
توقیر کرو اس کی جو لمحہ میسر ہےجو وقت پہ ہو جائے بس کام وہ بہتر ہے
جن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کی
تو پھر یہ زندگی کا کینوس رنگوں سے بھر جاتامیسر ہے مجھے بھی
اس کے دامن میں ہے آسودہ وہ فتنہ جس سےجسم تو جسم میسر نہیں روحوں کو اماں
دنیا کے سارے میوے اس گلستان میں ہیںسب نعمتیں میسر ہندوستان میں ہیں
اس دور میں بھی مرد خدا کو ہے میسرجو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے رائی
ایک وہ جس کو میسر ہوں عمارات و نقیبایک وہ جس کو نہ ہو پھونس کا چھپر بھی نصیب
کسی نے گھر کی حویلی گرو رکھا ہاریجو کچھ تھی جنس میسر بنا بنا ہاری
ایسے بد بخت زمانے میں ہزاروں ہوں گےجن کو لوری بھی میسر نہیں آتی ہوگی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books