aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "misra.a"
گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھاچاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھافضا میں کیٹسؔ کے لہجے کی نرماہٹ تھیموسم اپنے رنگ میں فیضؔ کا مصرعہ تھادعا کے بے آواز الوہی لمحوں میںوہ لمحہ بھی کتنا دل کش لمحہ تھاہاتھ اٹھا کر جب آنکھوں ہی آنکھوں میںاس نے مجھ کو اپنے رب سے مانگا تھاپھر میرے چہرے کو ہاتھوں میں لے کرکتنے پیار سے میرا ماتھا چوما تھا!
یہ دور نو مبارک فرخندہ اختری کاجمہوریت کا آغاز انجام قیصری کاکیا جاں فزا ہے جلوہ خورشید خاوری کاہر اک شعاع رقصاں مصرع ہے انوری کاروز سعید آیا چھبیس جنوری کادور جدید لایا بھارت کی برتری کا
دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقادبحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتارصرف ادب کے غم میں غلطاں چلنے پھرنے سے لاچارچہروں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے برسوں کے بیماراردو ادب میں ڈھائی ہیں شاعر میرؔ و غالبؔ آدھا جوشؔیا اک آدھ کسی کا مصرعہ یا اقبالؔ کے چند اشعاریا پھر نظم ہے اک چوہے پر حامد مدنیؔ کا شہکارکوئی نہیں ہے اچھا شاعر کوئی نہیں افسانہ نگارمنٹوؔ کرشنؔ ندیمؔ اور بیدیؔ ان میں جان تو ہے لیکنعیب یہ ہے ان کے ہاتھوں میں کند زباں کی ہے تلوارعالؔی افسر انشاؔ بابو ناصرؔ میرؔ کے بر خوردارفیضؔ نے جو اب تک لکھا ہے کیا لکھا ہے سب بیکاران کو ادب کی صحت کا غم مجھ کو ان کی صحت کایہ بے چارے دکھ کے مارے جینے سے ہیں کیوں بے زارحسن سے وحشت عشق سے نفرت اپنی ہی صورت سے پیارخندۂ گل پر ایک تبسم گریۂ شبنم سے انکار
جاب بھی کرنی ہے کھانا بھی پکانا ہے مجھےشعر بھی کہنے ہیں مصرع بھی اٹھانا ہے مجھے
سنگ باری میں یہ شیشے کا مکاں کس کا ہےاس در و بام میں خوشبوئے وفا کیسی ہےکس کی آواز سے دیواروں کے سینے میں فگارمیرے معبود مرے گھر کی فضا کیسی ہےچھاؤں دیتے نہیں آنگن کے گھنیرے اشجارغم کی چھائی ہوئی گھنگھور گھٹا کیسی ہےایک کونپل پہ تھا انگشت حنائی کا نشاںیہ لہو روتی ہوئی شاخ حنا کیسی ہےکس کی تصویر ہے یہ جس پہ گماں ہوتا ہےجانے کب بول اٹھے اف یہ ادا کیسی ہےکس نے تکیہ پہ یہ کاڑھا ہے گرے کا مصرعہائے ٹوٹی ہوئی نیندوں کی سزا کیسی ہے
شاعر نے شعر عرض کیا رامپور سےمصرعہ اٹھا دیا ہے کسی نے قصور سے
بولی کہ مجھے لوگ پکارا کئے میریڈیڈی نے مرا نام تو رکھا تھا مرینہ
تجھ کو راز نہیں کہہ سکتاراز تو اکثر کھل جاتے ہیںلیکن میں بھی راز نہیں ہوںمیں اک غمگیں آئینہ ہوںمیری نظموں کا ہر مصرعہ اس آئینہ کا جوہر ہےآئینہ میں جھانک کر لوگ اپنے کو دیکھ رہے ہیںآئینہ کو کس نے دیکھا
تمہارے لیے سنبھال کر رکھا تھازمین کی کشش سے باہر ایک آسمانایک گھوڑے کی پیٹھاور ایک سڑک جس پردھوپ چمکیلیبارش البیلی ہوتی ہےایک مصرع لکھا تھا تمہارے لیےمن کی مٹی میں دبا کر رکھی تھیتمہارے نام کی کونپلتمہارے لیے بچائی تھیلہو کی لالیرت جگےعقیدوں کی شکستگیآگ کی لپٹیں ایک ہاتھ میںایک میں آب پاکایک آنکھ شرمیلیایک آنکھ بیباککشتی کے تختےاور شوق کا مواج دریاشہد دنیا کو بانٹ دیابچا کر رکھا اپنا مومتم اس کی باتی ہوتیںہم جلتے ساری رات
ہمارے شعروں میں مقتل کے استعارے ہیںہمارے غزلوں نے دیکھا ہے کوچۂ قاتلصلیب و دار پہ نظمیں ہماری لٹکی ہیںہماری فکر ہے زخمی لہو لہان ہے فکرہر ایک لفظ پریشاں ہر ایک مصرعہ اداسہم اپنے شعروں کے مفہوم پر پشیماں ہیںخدا کرے کہ جو آئیں ہمارے بعد وہ لوگہمارے فن کی علامات کو سمجھ نہ سکیںچراغ دیر و حرم سے کسی کا گھر نہ جلےنہ کوئی پھر سے حکایات رفتگاں لکھےنہ کوئی پھر سے علامات خونچکاں لکھےفصیل دار سروں کے چراغ رقص جنوںسراب تشنہ لبی خار آبلہ پائیدریدہ پیرہنی چاک دامنی وحشتسموم، آتش گل، برق، آشیاں، صیادروایتیں یہ مرے عہد کی علامت ہیںعلامتیں یہ مرے شعر کا مقدر ہیںخدا کرے کہ جو آئیں ہمارے بعد وہ لوگہمارے فن کی علامات کو سمجھ نہ سکیںچراغ دیر و حرم سے کسی کا گھر نہ جلےنہ کوئی پھر سے حکایات رفتگاں لکھےنہ کوئی پھر سے علامات خونچکاں لکھے
ابھی تو نا مکمل نظم کا اک آخری مصرعہ کتاب ہجر میں تحریر کرنا ہےخس و خاشاک غم اسلاف میں تقسیم ہو جائیں تو سر سے بوجھ اترےقرض کا جامہ پہن کر اک نئے رستے پہ جانا کب مناسب ہےابھی ٹھہروابھی ہم کو جزیرے میں ہوا کے سبز جھونکوں سے شجر کی بات کرنا ہےسویروں کی امامت کرنے والی ضو نگاہوں میں پرونے تک ٹھہر جاؤاندھیروں میں کسی لو کے بنا لمبا سفر آغاز کرنا کب مناسب ہےابھی ٹھہروہجوم دلبراں آداب گریہ سے نہیں واقفدر و دیوار حسرت میں ذرا سی بھیڑ لگ جائے تو چلتے ہیںخبر بھیجوکہ یوں چپ چاپ میت کی طرح گھر سے نکلنا کب مناسب ہےذرا ٹھہروابھی کچھ کام باقی ہیںذرا یہ کام نمٹا لیں تو چلتے ہیں
ایک میں بھی تو ہوں پکا شاعرمگر ان باتوں سے بالکل انکارسند ماضی سے پر میرا کلامفکر امروز سے کرتا ہوں فرارہوتا ہے صاف مرا ہر مصرعایک بھی شعر نہیں ذہن پہ بارلیکن اس کے لیے اب کیا میں کروںیہ سمجھتے نہیں مجھ کو فن کار
مرے راز داںمیری آنکھوں میں دیکھوبتاؤ مجھے کیا کہیں خوف ہےکیا کہیں کوئی خواہشمچلتی ہوئی پا برہنہ ملیکیا مری آنکھ کے بانکپن میںنقاہت تو ابھری نہیںمحبت کا دھاگا جو الجھا ہوا ہےکہیں اس کی سرخی توآنکھوں میں دکھتی نہیںمرے راز داںمیری باتوں کو سوچو بتاؤ مجھےکیا کہیں ان میں تقدیر سےکوئی شکوہ بھی ہےکوئی دوغلا پنتلفظ کی ''غلطی''کہیں نا مرادی کا بے وزن مصرعہشقاوت تنفر بھرا کوئی جملہاگر ایسا ہے تو بتاؤ مجھے
چائے کی بھاپ میںگھلتے، معدوم ہوتے ہوئے قہقہے شام کا بانکپنکوئی مصرع دھوئیں کے بگولوں میں کمپوز ہوتا ہواکوئی نکتہ جو اسرار کے گھپ اندھیرے سے شعلہ صفت سر اٹھائےعجب دھیما دھیما نشہ اختلافات کااپنے نچلے سروں میں کوئی فکر مربوط کرتا ہوا زاویہطنز کے ناوک خوش سلیقہ کی سن سنہواؤں سے محفوظ سانسوں میں آراستہ مختلف سگریٹوں کی مہکشام کے سرمئی بانکپن میں کسی کوٹ، مفلر، سوئیٹر سے اٹھتی ہوئیخوشبوئے آشناجوڑتی ہے ہمیں اک سمے سے جو مدت سےاک ناملائم زمانے میں محکوم ہےکون لحظے کو واپس بلائےسمے کو مکمل کرےاپنی نظمیں اسی اک تسلسل زدہ دائرے میں ہیںپرکار جن کی رہائی پہ مائل نہیںریستورانوں کے کونوں میں سہمی ہوئیکتنی شاموں کا جادو یہاں سطر در سطر محبوس ہےہم جو قید زماں و مکاں سے نکلنے کو پر مارتے ہیںبھلا شام ڈھلنے پہ الفاظ کے پنچھیوں کو جکڑتے ہیں کیوںدام تصویر میںیہ بگولے، دھواں، بھاپ اسیری کے عادی نہیںشام خود رات کی گود میں جا کے گرنے کو بے تاب ہے
کیا جانے اس ظریف کے کیا دل میں آئی تھیکرفیو میں جس نے محفل شعری سجائی تھیاللہ ایسا ذوق جہنم میں ڈال دےکرفیو میں شاعروں کو جو گھر سے نکال دےایسے میں جب کہ شہر کے سب راستے ہوں بندسڑکوں پہ آ گئے تھے یہ با ذوق شر پسندایسے میں جب کہ گھر سے نکلنا محال تھالیکن یہ شاعروں کی انا کا سوال تھاشعری محاذ خانۂ شاعر سے دور تھاکعبہ میں حاجیوں کو پہنچنا ضرور تھاشاعر رواں تھے شعر کے چاقو لیے ہوئےدل میں خیال خدمت اردو لیے ہوئےزور قلم کے ساتھ سپاہ ریاض تھیقانون ہاتھ میں تھا بغل میں بیاض تھیگلیوں میں قتل و خوں تھا سڑک پر فساد تھاشاعر بزور فکر شریک جہاد تھاکیسی نکل رہی تھی صدا گن مشین سےجیسے کسی کو داد ملے سامعین سےشاعر بیاض لائے تھے صندوق کی طرحمصرعے اگل رہے تھے وہ بندوق کی طرحجب فائرنگ اہل سخن کی ہوئی تمامیہ خدمت ادب کا پولس نے صلہ دیاکچھ شاعروں کو روڈ پہ مرغا بنا دیاکچھ کہنہ مشق بھی تھے سجود و رکوع میںجبراً انہیں پڑھایا گیا تھا شروع میںطرحی مشاعرے کا سماں دے رہے تھے وہاک مصرع طرح پہ اذاں دے رہے تھے وہکچھ شاعروں کو نغمہ سرائی کی فکر تھیصدر مشاعرہ کو رہائی کی فکر تھیجب شاعروں کے ہاتھ شریک دعا ہوئےکرفیو کا وقت ختم ہوا تب رہا ہوئےسب اپنے اپنے گھر گئے اس ہاؤ ہو کے بعدشاعر عظیم ہوتا ہے ہر کرفیو کے بعد
میں اپنی شاعریاک ڈایری میں نوٹ کرتا تھاکوئی احساس مجھ میں نظم بھرتایا کوئی مصرعہ اترتا تھاتو سب سے پہلے مجھ کونوٹ بک درکار ہوتی تھیجہاں کاغذ کی حدت سےقلم کی روشنائی کی حرارت سےغزل تیار ہوتی تھیبنا اس دھیمی دھیمی آنچ کےمیرے لیے ہر نظم ہی دشوار ہوتی تھیپھر اک دن مجھ کو چاچا زاد بھائی نے یہ بتلایاوہ خود بھی نوجواں اردو کا شاعر ہےوہ اپنی شاعری سیل فون میں محفوظ کرتا ہےسو جب چاہے اسے پڑھتا ہےاوروں سے شیئر کرکے انہیں محظوظ کرتا ہےاسے بجلی کے آنے جانے سےکچھ فرق پڑتا ہی نہیںنہ ہی اسے دن رات سے کچھ لینا دینا ہےاسے جب شاعری کرنی ہوتو کاغذ قلم کی کھوج میںلمحہ تلک ضائع نہیں کرتاجہاں وہ شعر اپنا نوٹ کرتا ہےاندھیرا بھی وہاں سایہ نہیں کرتاسو اس کی بات سن کرمیں نے اپنی ڈائری سنبھال لیاور اپنے موبائل میں مصرعہ لکھتے لکھتےدوست کی اک کال لیپھر کال گھنٹوں تک چلیبیکار کی خواہش وہ مصرعہ پورا کرنے کیمیرے اندر پلیلیکن وہ پھر جاتی رہیپھر یوں ہوا جب بھی کوئی الہاممیرے در کو کھٹکاتا رہاجب کیفیت کوئی میرے احساس تک آتی رہیمیں اس سمےسیل فون کو ڈھونڈا کیالیکن وہاں احساس کو اک ربط میںتحریر کر پانے سے پہلےبیسوں بے ربط بے حس نوٹی فیکیشنمیری اسکرین پر ظاہر ہوئےاور ہم ہمیشہ کے لیے کچھ لکھنے سے قاصر ہوئےگم ہو گئے ان بے حسوں کی فوج میںآئی نہ میری شاعری پھر موج میںاب سوچتا ہوں کیا پرانی ڈایری بہتر نہیںدیوان میرا فون کے اندر نہیںٹچ اسکرین کے اس پار ہےشاید میرے الفاظ کی یک بستگی کوصرف کاغذ کی تپش درکار ہے
موج رواں ہیں مصرعہ بے ساختہ ترےبحر سخن میں بحر محبت کا جوش ہے
مہینہ بھر سر کے بال نہ کٹواؤں تو مجھے کیادیکھنے والوں کو وحشت ہونے لگتی ہےہر ہفتے ہاتھوں اور پیروں کے ناخن نہ لوں تومحسوس ہوتا ہے جانور بنتا جا رہا ہوںصبح شیو نہ بناؤں تو گھر سے نکلتے جھجک آتی ہےٹھہریے ذرا میں دیکھ لوں باہر یہ شور کیسا ہےارے مالی لان میں گھاس کی مشین پھیر رہا تھاآپ تو جانتے ہیں گھاس نہ کٹے تو مچھر جان نہیں چھوڑتےویسے کبھی آپ نے تاکستانوں میں انگور کی ٹنڈ منڈ مڈھیوں کو دیکھا ہےیقین ہی نہیں آتا کہ ان سے نئی شاخیں پھوٹیں گیجو پتوں اور گچھوں سے لد جائیں گیابھی میں نے گلاب کے پودوں کی اپنے ہاتھوں سے کانٹ چھانٹ کی ہےمیری عالم فاضل بیوی کی جان نکلتی جا رہی تھیجب میں بے دردی سے قینچی چلا رہا تھالیکن میں باغبانوں کی اولاد ہوںدکھ تو مجھے بھی ہوتا ہےپلے ہوئے پودوں اور درختوں کو چھانگتے ہوئےلیکن پھول اور پھل تو اس کے بغیر یوں سمجھے رنگ ہی نہیں لاتےنہ وہ حسن نہ وہ مزہ نہ وہ بہتاتآپ بھی سوچتے ہوں گے پنجاب کا مقدمہ لڑتے لڑتےمیں حجاموں اور مالیوں کی وکالت کرنے تو نہیں چل پڑاسادہ سی بات ہے کہ انسانوں اور پودوں کی تراش خراش ہوتی رہنی چاہیےلیکن کیا بال کٹوا لیے جائیں ناخن لے لیے جائیں شیو کر لی جائےتو کام ختم ہو جاتا ہےکیا انسان صرف جسم کا نام ہے یاجذبات خیالات خواہشات اور عزائم بھی ہمارا حصہ ہیںتو کیا جسم کے ساتھ ان کی تراش خراش بھی ضروری ہےشاید جذبات اور خیالات کی تراش خراش ہی کو تہذیب کہتے ہیںشاید خواہشاتاً اور عزائم کی نوک پلک سنوارنے ہی سے تمدن نے جنم لیا ہےورنہ تو انسان غرض مندانہ حقوق ہی کے چکر سے نہیں نکلتااور ذمہ داریوں کے ادراک و احساس کی نوبت ہی نہیں آتیمعاف کیجیے یہ ساری چوری چکاری بد کاری ہوس کارییہ ساری لوٹ مار جعل سازی حرا مزدگی بے صبری نا شکر گزارییہ سارا جھوٹ فریب لالچ فتنہ فسادجذبات و خیالات اور خواہشات و عزائم کی حجامت نہ بنانے ہی کا تو نتیجہ ہےجناب جذبات کو تمیز اور خیالات کو اخلاق نہ سکھایا جائےخواہشات اور عزائم کے منہ پر انسانیت کی لگام نہ دی جائےتو پھر وہی کچھ ہوتا ہے جو آج ہمارے یہاں ہو رہا ہےاور یہ کہہ کر زیادہ دن گزارہ نہیں ہو سکتا کہاس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میںآپ ہنسیں گے میں جب بھی یہ مصرع پڑھتا ہوںاس طرح سے مجھے استرا یاد آ جاتا ہےقینچیاں یاد آ جاتی ہیں حجامت یاد آ جاتی ہےکچھ بھی ہو میں تو سمجھتا ہوں کہ قومی سطح پر ہماری حجامت بہت ضروری ہو گئی ہےہمارے صرف بال اور ناخن ہی نہیں بڑھ گئےہم ظاہر ہی میں نہیں باطن میں بھی جانور بنتے جا رہے ہیںجانوریت ہمارے دل و دماغ میں اتر گئی ہےاب تو اندر باہر حجامت کی ضرورت ہےبھئی بلاؤ کسی نشتر بدست حجام کو جو حجامت بنائے اور فصد کھولے ہماریلیکن ایک انار اور سو بیمارایک اکیلا حجام اور چودہ کروڑ انسانیہ تو ہم سب کو خود ہی آئینے کے سامنے بیٹھ کر حجامت بنائی اور فصد کھولنی پڑے گی اپنیتو بھائیو اور بہنومیرے پیارے ہم وطنوآج سے قومی سطح پر ہمارا یک نکاتی ایجنڈا کیا ٹھہرابولئے سب بولئے پورے زور سے بولئےحجامتحجامتاپنی اپنی حجامت
یہاں کہاں سے مجھے رفعت خیال ملےکہاں سے شعر کو اخلاص کا جمال ملےکہاں سے قال کو گم گشتہ رنگ حال ملےحضور ایک ہی مصرع یہ ہو سکا موزوںمیں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
ہجرت ہوتی ہے سب کی ایک ہی جیسیمنزل نہیں ملتی سب کو ایک سیسارے لگاؤ ایک سا ہی دکھ دیتے ہیںخوشیاں دیگر ہوتی ہیں سب کیجوتم اپنا رنج و غماپنی پریشانی مجھے دے دوسناتے ہوئے زندگی میں آئےوےمیرا کچھ سامانتمہارے پاس پڑا ہے وہ لوٹا دوسناتے ہوئے چلے گئےایک تنہا شخصجب پھر سے تنہا ہوتا ہےتب کسی شاعر کاخارج کیا ہوامصرعہ ہو جاتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books