aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mubtilaa"
بہت شدید تشنج میں مبتلا لوگویہاں سے دور محبت کا ایک قریہ ہےیہاں دھوئیں نے مناظر چھپا رکھے ہیں مگرافق بقا کا وہاں سے دکھائی دیتا ہےیہاں تو اپنی صدا کان میں نہیں پڑتیوہاں خدا کا تنفس سنائی دیتا ہے
آج پھر مجھ سےمرا کمرہ مخاطب ہےدراڑیں وہ کبھیچھت کی دکھاتا ہےکبھی دیوار میں پڑتے شگافوں کونشاں جھلسے ہوئے رنگوں کا مجھ کومبتلا کر دیتا ہے ہیبت میںمکڑی کے سبک جالےہوا کے دوش پر لہرانے لگتے ہیںزوال زندگی کا وہ پتہ بھی دینے لگتے ہیںزمیں کمرے کیبوسیدہ کہانی جب سناتی ہےکواڑوں سے صدا اٹھتی ہےرونے اور سسکنے کیکبھی آہیں سی بھرنے کہانہیں لمحوں کے سائے میں مگرکچھ جھانکتی انگور کی بیلیںدریچے سے تبسم کا شگفتہ عکسدکھلاتی ہیں آنکھوں کو
رسول مصلوب کے دو ہزار برسوں کے بعد یہ واقعہ ہوایہ اس زمانے کی بات ہے جب رسول خورشید راس الافلاک پر چمکتا تھاوہ اک زمستاں کی نیم شب کا سماں تھاوہ نیم شب اک رقیق چادر نہ جانے کب سے زمیں کے مردار کالبد پرپڑی ہوئی ہے اور اس کے مسموم روزنوں سے گلے سڑے جسم کا تعفن ابل رہا ہےشجر حجر دھند کے کفن میں چھپی ہوئی خامشی کے سینے میں چبھ رہے تھےعناصر وقت منجمد تھےتمام روحیں فشار مرقد میں مبتلا تھیںاور ایسے ہنگام میں اک آواز نور افگنظہور خورشید کی بشارت سے دشت و در کو جلا رہی تھیہزارہا شب گزیدگاں کے ہجوم سے میں نے اس کو دیکھاوہ خون آدم میں اپنی زندہ خزاں زدہ انگلیاں ڈبوئے کھڑا تھا
میں اس کی آنکھوں کو دیکھتا رہتا ہوںمگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتامیں اس کی باتوں کو سنتا رہتا ہوںمگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتااب اگر وہ کبھی مجھ سے ملےتو میں اس سے بات نہیں کروں گااس کی طرف دیکھوں گا بھی نہیںمیں کوشش کروں گامیرا دل کہیں اور مبتلا ہو جائےاب میں اسے یاد بنا دینا چاہتا ہوں
مجھے زندگی سے عزیز ترفقط ایک تیری ہی ذات تھیتری ہر نگاہ مرے لیےسبب سکون حیات تھیمری داستان وفا کبھیتری شرح حسن صفات تھیمگر اب تو رنگ ہی اور ہےنہ وہ طرز ہے نہ وہ طور ہےیہ ستم بھی قابل غور ہےتجھے اپنے حسن کا واسطہمجھے بھول جا مجھے بھول جاقسم اضطراب حیات کیمجھے خامشی میں قرار ہےمرے صحن گلشن عشق میںنہ خزاں ہے اب نہ بہار ہےیہی دل تھا رونق انجمنیہی دل چراغ مزار ہےمجھے اب سکون دگر نہ دےمجھے اب نوید سحر نہ دےمجھے اب فریب نظر نہ دےنہ ہو وہم عشق میں مبتلامجھے بھول جا مجھے بھول جا
جو ان کے مبتلا ہیں سب چیز لا رہے ہیںکرتی بنا رہے ہیں انگیا رنگا رہے ہیںجو جو ہیں ان کی باتیں سب کچھ اٹھا رہے ہیںباہیں گلے میں ڈالے عشرت منا رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
نتیجہ سن کے کئی لوگ بد حواس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےصلہ ملا ہے ہمیں سال بھر کی محنت کاچمک رہا ہے ستارہ ہماری قسمت کایہی تو وقت ملا ہے ہمیں مسرت کاجو فیل ہو گئے وہ کس قدر اداس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےوہ امتحان میں راتوں کو جاگ کر پڑھناوہ نیند آنکھوں میں چھائی ہوئی مگر پڑھناوہ آدھی رات سے بستر پہ تا سحر پڑھنازہے نصیب وہ لمحات ہم کو راس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےجو کھیل کود میں دن رات چور رہتے تھےہر ایک کھیل میں شامل ضرور رہتے تھےجو صبح و شام کتابوں سے دور رہتے تھےجہاں میں آج وہی مبتلائے یاس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےجنہیں تھا اپنی لیاقت پہ اعتبار بہتجنہیں خود اپنے قلم پر تھا اختیار بہتجو اپنے آپ کو سمجھے تھے ہوشیار بہتانہیں کے ہوش اڑے اور گم حواس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئے
ہوئی جب سے سائنس زر کی مطیعجو تھا علم کا اعتبار اٹھ گیااور اس سانپ کو زندگی مل گئیاسے ہم نے ضحاک کے بھاری کاندھے پہ دیکھا تھا اک دنیہ ہندو نہیں ہے مسلماں نہیںیہ دونوں کا مغز اور خوں چاٹتا ہےبنے جب یہ ہندو مسلمان انساںاسی دن یہ کم بخت مر جائے گا
کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہےوہ فقر جس میں ہے بے پردہ روح قرآنیخودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنییہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سلطانییہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا عياراسی مقام سے آدم ہے ظل سبحانییہ جبر و قہر نہیں ہے یہ عشق و مستی ہےکہ جبر و قہر سے ممکن ۔۔۔نہیں جہاں بانیکیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کوکہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانیمثال ماہ چمکتا تھا جس کا داغ سجودخرید لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانیہوا حریف مہ و آفتاب تو جس سےرہی نہ تیرے ستاروں میں وہ درخشانی
تم نے دیکھا کوئی اس کا پوچھنے والا نہیںتھا مرض میں مبتلا وہ قید نکہت کا اسیر
محبت زندگی ہےمحبت دل کی تیرہ ساعتوں میں روشنی ہےیہ ویرانوں میں خود رو نغمگی ہےمحبت جرأت اظہار ہے کردار ہےمحبت دیدۂ بے دار ہے پندار ہےایثار ہےمحبت جان دیتی ہےمحبت مان دیتی ہےمحبت بے نشاں رشتوں کو بھی پہچان دیتی ہےمحبت عقل بھی ہےمحبت ماورائے عقل بھی ہےمحبت ہجر بھی ہے وصل بھی ہےمحبت پیش رفت نسل بھی ہےمحبت زخم پر مرہممحبت سربسر ترحممحبت محترم سچ کا علم زور قلممحبت کاوش پیہممحبت راز یزداں کھولتی ہےمحبت ظرف آدم تولتی ہےمحبت خامشی میں بولتی ہےمحبت آرزو ہے جستجو ہے رنگ و بو ہےمحبت جیت کر مٹنے کی خو ہےمحبت ہار کر بھی سرخ رو ہےمحبت ابتدا ہے انتہا ہےمحبت باعث ارض و سما ہےمحبت میں خدا بھی مبتلا ہے
پھر اچانک تم ہم سے جدا ہو گئیںاور ہمیں مبتلا کر دیا گیاآنسوؤں کے کرب و بلا میںاور ہم تم سے ملنے کے لیےموت سے پیار کرنے لگےاور انتظار کرنے لگےکہ جب ہم جسم سے آزاد ہوں گےتو تمہاری نرم اور دلگیر محبت کیبانہوں میں تمہیںبوسہ دے سکیں گےتمہارے سینے سے لگ کرہنس اور رو سکیں گےتمہاری خوب صورت آنکھوں سےخود کو دیکھ سکیں گےتمہارے ساتھ ہمیشہ کے لیےجی سکیں گے
آئنہ دیکھنے کا شوق ہے وہاس کا ہر شخص مبتلا دیکھاسامنے آئنے کے بن ٹھن کرہم نے احباب کو کھڑا دیکھاکوئی موچھوں پہ تاؤ دیتا ہےکوئی ڈاڑھی سنوارتا دیکھاکوئی کپڑوں کو صاف کرتا ہےکوئی منہ دیکھتا ہوا دیکھاشانہ ہے یا برش ہے یا رومالہاتھ خالی نہ ایک کا دیکھاشوق ہے عام جامہ زیبی کاجس کو دیکھا ہے خود نما دیکھادیکھا سب نے ہی اپنا جسم و لباسلیک یہ طرفہ ماجرا دیکھادیکھنے سے کبھی نہیں سیریروز گو چہرہ بارہا دیکھااپنی صورت کے سب ہیں شیدائیسب کو اپنا فریفتہ دیکھاصورت ظاہری مگر اے دوستجس نے دیکھی ہے اس نے کیا دیکھادیکھنے والا اس کو کہتے ہیںجس نے باطن بھی برملا دیکھادل کا آئینہ پاس ہے سب کےصاف ایسا کم آئنا دیکھامجھ سے پوچھو تو وہ ہے نیک نصیبجس نے یہ آئنہ ذرا دیکھاصورت حال ہے خبر پائیاور اپنا برا بھلا دیکھانطق و اطوار دین اور ایماںسب کو جیسے ہیں برملا دیکھااور پھر لے کے سعی کا رومالنقص جو جو کہ جا بہ جا دیکھااس کی اس طرح سے صفائی کیکہ نہ آنکھوں نے پھر ذرا دیکھایہ ہے آئینہ دیکھنا اے دوستدیکھا اس طرح تو بجا دیکھا
اگرچہ ہیں اپنی جگہ سارے کاممگر ڈاکٹر کا ہے اپنا مقامذرا درد میں مبتلا ہوں اگرپکارے ہیں سب ڈاکٹر ڈاکٹرکہیں پر اگر ہو برا حادثہتو پھر کام آتا ہے یہ ناخداکہیں آپریشن کہیں سرجریبھلا کس سے ہوگی یہ چارہ گریبدن کا ہر اک زخم بھرنے کو ہیںمسیحا ہی یہ کام کرنے کو ہیںمگر کام یہ ذمہ داری کا ہےاور احساس ایمانداری کا ہےہے اس کام میں یوں تو محنت بڑیخدا ان کو دیتا ہے عزت بڑیبڑے ہو کے سوچا ہے میں نے یہیکہ میں ڈاکٹر ہی بنوں گی کبھیغریبوں سے میں فیس لوں گی نہیںکبھی یہ گناہ میں کروں گی نہیںمری یہ دعا سن لے میرے خدامجھے ایسی خدمت کے لائق بنا
میں ستاروں اور درختوں کی خاموشی کو سمجھ سکتا ہوںمیں انسانوں کی باتیں سمجھنے سے قاصر ہوںمیں انسانوں سے نفرت نہیں کرتامیں ایک عورت سے محبت کرتا ہوںمیں دنیا کے راستوں پر چلنے سے معذور ہوںمیں اکیلا ہوںمیں لوگوں میں شامل ہونا نہیں چاہتامیں آزاد رہنا چاہتا ہوںمیں خوش رہنا چاہتا ہوںمیں محبت کے بغیر خوش نہیں رہ سکتامیں ایک عورت کی محبت کا بھوکا ہوںمیں ایک عورت کی محبت نہیں پا سکامیں تنہائی سے نکلنے کا راستہ نہیں پا سکامیں دکھ میں مبتلا ہوںمیں ایک عورت کو سمجھنے سے قاصر ہوںمیں خاموشی کی آوازوں کو سمجھ سکتا ہوں
نہ کپڑا نہ روٹی نہ لوٹا نہ دھوتیپریشاں ہے پوتا بلکتی ہے پوتیکہ قیمت میں گندم کا دانہ ہے موتییہ ممکن نہیں تھا ولادت نہ ہوتیہر اک سمت کوہ ندا چیختا ہےجو پیدا ہوا مبتلائے بلا ہے
بس چلی جا رہی ہے عمر گریزاں کی طرحٹھس کے بیٹھے ہیں مسافر صف مژگاں کی طرحمبتلا پیچ میں ہیں زلف پریشاں کی طرحدر پہ لٹکے ہیں بشر خار مغیلاں کی طرحریس کرتی ہیں بسیں شہر کے بازاروں میںہیں یہ سب قابض ارواح کے اوزاروں میں
زندگی ایک خواب ہےمیرے لیے محبت کا طویل اور اذیت ناک خوابمیں دنیا کے ہنگاموں سے غافل ہوںانسانوں کا شور میری ذات کی سرحدوں پر رک جاتا ہےاندر آنا منع ہےمیرے دل کا دروازہ بند ہےمیرا کوئی گھر نہیںمیں اپنے پاگل پن کے ریگستان میں بھٹک رہا ہوںمیں اپنے اندر سفر کر رہا ہوںمیں باہر نہیں نکل سکتامیں اپنی خواہش کے مطابق عمل نہیں کر سکتامیں برزخ میں ہوںجنت اور جہنم باہر ہیںمیرے لیے باہر صرف ایک عورت ہےدنیا میرے لیے نہیں ہےمیں اپنی تنہائی میں قید ہوںحقیقت سے بے خبر اور غافلایک عورت کے خیال میں کھویا ہوامحبت کے طویل اور اذیت ناک خواب میں مبتلایہ مسلسل جاں کنی کی حالتکیا یہ زندگی ہے
میں تو اک وجود خیال ہوںمجھے جس طرح سے بھی سوچ لومیں یقیں بھی ہوں میں گماں بھی ہوںمیں یہاں بھی ہوں میں وہاں بھی ہوںکبھی فکر میں کبھی ذکر میںکبھی جوش میں کبھی ہوش میںکبھی خود سے خود کی تلاش میںکبھی میں نہیں کبھی جاں نہیںکہ میں مبتلائے جنون ہوںمیں خودی میں خود کا سکون ہوںیہی عشق ہے مرا کارواںمیں کدھر نہیں میں کہاں نہیںمرا یار مجھ میں میں یار میںمیں ہوں بے خودی کے خمار میںمرا یار مجھ میں ہے رقص زنمیں رواں رواں بھی رواں نہیںمری راحتوں میں تو جلوہ گرمری وحشتوں کا تو ہم سفرمرا ہجر تو مرا وصل تومرے گھر کا ایک پتا ہے بسجہاں تو نہیں میں وہاں نہیں
بچہیہاں آ کے کن آفتوں میں پھنسا میںترے لیکچر میں ہوا مبتلا میںکہیں اور ہی کھاؤں گا اب ہوا میںتو جاتا نہیں تو نہ جا لے چلا میںچمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books