aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naqaab"
مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کاجو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہےمرا قلم نہیں اس دزد نیم شب کا رفیقجو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
لیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھیاپنی آنکھوں میں لیے دعوت خواب آتی تھی
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میںخون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغسازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کی نقابلے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ
یہ کتنے پھول ٹوٹ کر بکھر گئے یہ کیا ہوایہ کتنے پھول شاخچوں پہ مر گئے یہ کیا ہوابڑھی جو تیز روشنی چمک اٹھی روش روشمگر لہو کے داغ بھی ابھر گئے یہ کیا ہواانہیں چھپاؤں کس طرح نقاب ڈھونڈھتا ہوں میںجنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میںکہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہےسانس کی طرح سے آپ آتے رہے جاتے رہےخوش تھے ہم اپنی تمناؤں کا خواب آئے گااپنا ارمان برافگندہ نقاب آئے گانظریں نیچی کیے شرمائے ہوئے آئے گاکاکلیں چہرے پہ بکھرائے ہوئے آئے گاآ گئی تھی دل مضطر میں شکیبائی سیبج رہی تھی مرے غم خانے میں شہنائی سیپتیاں کھڑکیں تو سمجھا کہ لو آپ آ ہی گئےسجدے مسرور کہ معبود کو ہم پا ہی گئےشب کے جاگے ہوئے تاروں کو بھی نیند آنے لگیآپ کے آنے کی اک آس تھی اب جانے لگیصبح نے سیج سے اٹھتے ہوئے لی انگڑائیاو صبا! تو بھی جو آئی تو اکیلی آئیمیرے محبوب مری نیند اڑانے والےمیرے مسجود مری روح پہ چھانے والےآ بھی جا، تاکہ مرے سجدوں کا ارماں نکلےآ بھی جا، کہ ترے قدموں پہ مری جاں نکلے
پہلوئے شاہ میں یہ دختر جمہور کی قبرکتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہےکتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقابکتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے
تولے ہوئے ہے تیغ و سناں حس بے نقابناوک فگن ہے جلوۂ پنہان لکھنؤ
جس کی آواز کانوں میں صبح صبح چڑیوں کی طرح چہکتی تھیجس کی موجودگی سے فضاؤں میں خوشبو سی مہکتی تھیوہ میری پہلی محبت تھیجس کی آنکھیں دیکھ متأثر ہو جاتے تھے ہرننقاب سے جس کا چہرہ ایسے جھلکتا تھا جیسے سورج کی پہلی کرنجس کا مسکرانا تھا کہ جیسے وادیوں میں سحر کا آناکسی پھول کی طرح جس پہ تتلیاں منڈرایا کرتی تھیںوہ چاند سے آئی تھی شاید رات میں ستاروں سے باتیں کیا کرتی تھیجو دن کا پہلا پیغام بھی تھی اور رات کا آخری سلام بھیصبح با خیر سے لے کر شب بخیر تک جو میرا تکیہ کلام تھیوہ میری پہلی محبت تھیخاموشی میں چھپائے جذبات جو سمجھ لیتی تھیبن ظاہر کئے تمام احساسات جو پرکھ لیتی تھیمیرے لئے جو ہر کہانی ہر ایک قصے میں تھیہر ایک شاعری ہر ایک غزل کے حصے میں تھیجو ہر نظم میں تھی اور ہر موسیقی میں بھیدل دار بھی تھی جو اور دنیا دار بھیشان و شوکت کی اس دنیا میں مجھ غریب کی چاہت کی طلب گار تھیوہ میری پہلی محبت تھیجو ماضی تھی مگر میرا مستقبل نہ بن پائیمیرے ساتھ ہر حال میں راضی تھی مگر زندگی میں شامل نہ ہو پائیپیار کی راہ میں جو میری ہم سفر تھیجس کے جانے کے بعد میری زندگی صفر تھیکچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں اور کچھ دل کےمگر روح کا رشتہ صرف جس شخص سے تھاوہ میری پہلی محبت تھیمیرے تخیل میں جو اک تصویر بن کے رہ گئیجو دل میں میرے بس کے تقدیر میں کسی اور کی ہو گئیجو ہم راز بھی تھی اور میری زندگی کا سب سے بڑا راز بھیجس کے جانے کے مدتوں بعد بھی اس کے واپس آنے کی ایک آس تھیوہ میری پہلی محبت تھیوہ میری پہلی محبت تھی
یہ دھڑکتا ہوا گنبد میں دل شاہجہاںیہ در و بام پہ ہنستا ہوا ملکہ کا شبابجگمگاتا ہے ہر اک تہ سے مذاق تفریقاور تاریخ اڑھاتی ہے محبت کی نقابچاندنی اور یہ محل عالم حیرت کی قسمدودھ کی نہر میں جس طرح ابال آ جائےایسے سیاح کی نظروں میں کھپے کیا یہ سماںجس کو فرہاد کی قسمت کا خیال آ جائےدوست میں دیکھ چکا تاج محل۔۔۔۔۔واپس چل
کر چکا ہوں آج عزم آخریشام سے پہلے ہی کر دیتا تھا میںچاٹ کر دیوار کو نوک زباں سے ناتواںصبح ہونے تک وہ ہو جاتی تھی دوبارہ بلند،رات کو جب گھر کا رخ کرتا تھا میںتیرگی کو دیکھتا تھا سرنگوںمنہ بسورے، رہ گزاروں سے لپٹتے، سوگوارگھر پہنچتا تھا میں انسانوں سے اکتایا ہوامیرا عزم آخری یہ ہے کہ میںکود جاؤں ساتویں منزل سے آج!آج میں نے پا لیا ہے زندگی کو بے نقاب،آتا جاتا تھا بڑی مدت سے میںایک عشوہ ساز و ہرزہ کار محبوبہ کے پاساس کے تخت خواب کے نیچے مگرآج میں نے دیکھ پایا ہے لہوتازہ و رخشاں لہو،بوئے مے میں بوئے خوں الجھی ہوئی!وہ ابھی تک خواب گہ میں لوٹ کر آئی نہیںاور میں کر بھی چکا ہوں اپنا عزم آخری!جی میں آئی ہے لگا دوں ایک بیباکانہ جستاس دریچے میں سے جوجھانکتا ہے ساتویں منزل سے کوئے بام کو!
پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئینیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئیڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتیوادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئیتیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیںآندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئیجیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیتایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئینونہالوں کو سناتی میٹھی میٹھی لوریاںنازنینوں کو سنہرے خواب دکھلاتی ہوئیٹھوکریں کھا کر لچکتی گنگناتی جھومتیسر خوشی میں گھنگروؤں کی تال پر گاتی ہوئیناز سے ہر موڑ پر کھاتی ہوئی سو پیچ و خماک دلہن اپنی ادا سے آپ شرماتی ہوئیرات کی تاریکیوں میں جھلملاتی کانپتیپٹریوں پر دور تک سیماب جھلکاتی ہوئیجیسے آدھی رات کو نکلی ہو اک شاہی براتشادیانوں کی صدا سے وجد میں آتی ہوئیمنتشر کر کے فضا میں جا بجا چنگاریاںدامن موج ہوا میں پھول برساتی ہوئیتیز تر ہوتی ہوئی منزل بمنزل دم بہ دمرفتہ رفتہ اپنا اصلی روپ دکھلاتی ہوئیسینۂ کہسار پر چڑھتی ہوئی بے اختیارایک ناگن جس طرح مستی میں لہراتی ہوئیاک ستارہ ٹوٹ کر جیسے رواں ہو عرش سےرفعت کہسار سے میدان میں آتی ہوئیاک بگولے کی طرح بڑھتی ہوئی میدان میںجنگلوں میں آندھیوں کا زور دکھلاتی ہوئیرعشہ بر اندام کرتی انجم شب تاب کوآشیاں میں طائر وحشی کو چونکاتی ہوئییاد آ جائے پرانے دیوتاؤں کا جلالان قیامت خیزیوں کے ساتھ بل کھاتی ہوئیایک رخش بے عناں کی برق رفتاری کے ساتھخندقوں کو پھاندتی ٹیلوں سے کتراتی ہوئیمرغ زاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خراموادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئیاک پہاڑی پر دکھاتی آبشاروں کی جھلکاک بیاباں میں چراغ طور دکھلاتی ہوئیجستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ واراپنا سر دھنتی فضا میں بال بکھراتی ہوئیچھیڑتی اک وجد کے عالم میں ساز سرمدیغیظ کے عالم میں منہ سے آگ برساتی ہوئیرینگتی مڑتی مچلتی تلملاتی ہانپتیاپنے دل کی آتش پنہاں کو بھڑکاتی ہوئیخودبخود روٹھی ہوئی بپھری ہوئی بکھری ہوئیشور پیہم سے دل گیتی کو دھڑکاتی ہوئیپل پہ دریا کے دما دم کوندتی للکارتیاپنی اس طوفان انگیزی پہ اتراتی ہوئیپیش کرتی بیچ ندی میں چراغاں کا سماںساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئیمنہ میں گھستی ہے سرنگوں کے یکایک دوڑ کردندناتی چیختی چنگھاڑتی گاتی ہوئیآگے آگے جستجو آمیز نظریں ڈالتیشب کے ہیبت ناک نظاروں سے گھبراتی ہوئیایک مجرم کی طرح سہمی ہوئی سمٹی ہوئیایک مفلس کی طرح سردی میں تھراتی ہوئیتیزئی رفتار کے سکے جماتی جا بجادشت و در میں زندگی کی لہر دوڑاتی ہوئیڈال کر گزرے مناظر پر اندھیرے کا نقاباک نیا منظر نظر کے سامنے لاتی ہوئیصفحۂ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوشحال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئیڈالتی بے حس چٹانوں پر حقارت کی نظرکوہ پر ہنستی فلک کو آنکھ دکھلاتی ہوئیدامن تاریکئ شب کی اڑاتی دھجیاںقصر ظلمت پر مسلسل تیر برساتی ہوئیزد میں کوئی چیز آ جائے تو اس کو پیس کرارتقائے زندگی کے راز بتلاتی ہوئیزعم میں پیشانی صحرا پہ ٹھوکر مارتیپھر سبک رفتاریوں کے ناز دکھلاتی ہوئیایک سرکش فوج کی صورت علم کھولے ہوئےایک طوفانی گرج کے ساتھ ڈراتی ہوئیایک اک حرکت سے انداز بغاوت آشکارعظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئیہر قدم پر توپ کی سی گھن گرج کے ساتھ ساتھگولیوں کی سنسناہٹ کی صدا آتی ہوئیوہ ہوا میں سیکڑوں جنگی دہل بجتے ہوئےوہ بگل کی جاں فزا آواز لہراتی ہوئیالغرض اڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطرشاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی
زندگی محبوب ہے پھر بھی دعائیں موت کیمانگتا ہے دل مرا دن رات کیوںقسمت غم گیں کے ہونٹوں پر کبھیآ نہیں سکتی خوشی کی بات کیوںکیوں نگاہوں پر مری چھائے ہیں آنسو کے نقاباس سوال مستقل کا کیوں نہیں ملتا جوابکیا خودی کی الجھنیں میرے ارادے توڑ کرکر رہی ہیں مجھ کو اس دنیا میں ناکام حیاتکیوں نہیں آتی وہ راتجس کی خرم تر سحرآرزو ہے مجھ سے ہو اب ہم کلامراحتیں معدوم ہیں میرے تخیل سے تمامراستہ مجھ کو نظر آتا نہیںراستہ مجھ کو خوشی کا کیوں نظر آتا نہیںچل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکلہاں سنبھل قعر خموشی میں نہ گر ہاں اب سنبھلبے خودی مسلک بنا لے بھول جا سب آج کلچھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچلسینۂ آتش فشاں کی طرح گرمی سے ابلچل مرے دل راستہ خوشیوں کا دیکھاور شعلہ عیش کے لمحوں کا دیکھدل گرفتہ آنسوؤں کو خشک کردیکھ رستہ آنسوؤں کو خشک کرچھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچلچل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکل
اس کی دانائی کا حاصل ناخن عقدہ کشاتابناکئ ضمیر و زیرکی کا آفتابچاہنے والوں کا اس کی ذکر ہی کیا کیجیےاس کے دشمن بھی سرہانے رکھتے ہیں اس کی کتابمادی تاریخ عالم جس کی تالیف عظیمتاس کیپٹال ہے یا زیست کا لب لبابپڑھ کے جس کے ہو گئیں ہشیار اقوام غلاماشتراکی فلسفہ کا کھل گیا ہر دل میں بابکتنے دوزخ اس کے اک منشور سے جنت بنےکتنے صحراؤں کو جس نے کر دیا شہر گلابمارکس نے سائنس و انساں کو کیا ہے ہمکنارذہن کو بخشا شعور زندگانی کا نصاباس کی بینش اس کی وجدانی نگاہ حق شناسکر گئی جو چہرۂ افلاس زر کو بے نقاب''غصب اجرت'' کو دیا ''سرمایہ'' کا جس نے لقببے حساب اس کی بصیرت اس کی منطق لا جوابآفتاب تازہ کی اس نے بشارت دی ہمیںاس کی ہر پشین گوئی ہے برافگندہ نقابکوئی قوت اس کی سد راہ بن سکتی نہیںوقت کا فرمان جب آتا ہے بن کر انقلاباہل دانش کا رجز اور سینۂ دہقاں کی ڈھاللشکر مزدور کے ہیں ہم صفیر و ہم رکابکاٹتی ہے سحر سلطانی کو جب موسیٰ کی ضربسطوت فرعون ہو جاتی ہے از خود غرق آبآج کی فرعونیت بھی کچھ اسی انداز سےرفتہ رفتہ ہوتی جائے گی شکار انقلابلڑ رہا ہے جنگ آخر کیسۂ سرمایہ دارجوہری ہتھیار سے کرتا نہیں جو اجتناباپنے مستقبل سے طاغوتی تمدن کو ہے یاسدیدنی ہے دشمن انسانیت کا اضطرابحضرت اقبالؔ کا ابلیس کوچک خوف سےلرزہ بر اندام یوں شیطاں سے کرتا ہے خطابپنڈت و ملا و راہب بے ضرر ٹھہرے مگرٹوٹنے والا ہے تجھ پر اک یہودی کا عتابوہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیبنیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
شفق نزع میں لے رہی تھی سنبھالااندھیرے کا غم کھا رہا تھا اجالاستاروں کے رخ سے نقاب اٹھ رہی تھیفضاؤں سے موج شباب اٹھ رہی تھیمئے زندگی جام مے نوش میں تھیوہ کیف مسرت، وہ لمحات رنگیںوہ احساس مستی وہ جذبات رنگیںوہ پر کیف عالم وہ دل کش نظارےوہ جلووں کے بہتے ہوئے خشک دھارےوہ نمکین آغاز شب اللہ اللہنمائش کی وہ تاب و تب اللہ اللہوہ باب مزمل پہ جشن چراغاںفلک پر ہوں جیسے ستارے درخشاںفضاؤں میں گونجے ہوئے وہ ترانےوہ جاں بخش نغمے وہ پر لطف گانےوہ ہر سمت حسن و لطافت کی جانیںوہ آراستہ صاف ستھری دکانیںکہیں پر ہے نظارہ کاری گری کاکہیں گرم ہوٹل ہے پیشاوری کابہ قدر سکوں وہ دلوں کا بہلناامیروں غریبوں کا یکجا ٹہلنانمایاں نمایاں وہ یاران کالجوہ عشرت بہ داماں جوانان کالجکوئی تیز دستی و چستی پہ نازاںکوئی صحت و تندرستی پہ نازاںکوئی حسن کی جلوہ ریزی پہ مائلکوئی شوخ نظروں کی تیزی پہ مائلادھر چشم حیراں کی نظارہ سازیادھر حسن والو کی جلوہ طرازیخراماں خراماں وہ ہمجولیوں میںنکلتی ہوئی مختلف ٹولیوں میںنقابوں میں وہ بے نقابی کا عالمجو لاتا ہے دل پر خرابی کا عالمکسی کا وہ چہرے سے آنچل اٹھاناکسی کا کسی سے نگاہیں چراناکبھی یک بیک چلتے چلتے ٹھہرنانگاہوں سے جلووں کی اصلاح کرناکبھی اک توجہ دکانوں کی جانبکبھی اک نظر نوجوانوں کی جانبتماشا غرض کامیاب آ رہا تھانمائش پہ گویا شباب آ رہا تھاادھر ہم بھی بزم تخیل سجا کرکھڑے ہو گئے ایک دکاں پہ آ کرنظر مل گئی دفعتاً اک نظر سےدھڑکنے لگا دل محبت کے ڈر سےادھر تو نظر سے جبیں سائیاں تھیںادھر سے بھی کچھ ہمت افزائیاں تھیںخلش دل کی دونوں کو تڑپا گئی تھیمحبت کی منزل قریب آ گئی تھیخیالات میں اس طرف اک تلاطملبوں پر ادھر ہلکا ہلکا تبسمنگاہوں سے عہد وفا ہو رہا تھااشاروں سے مطلب ادا ہو رہا تھاادھر عشق کے بام و در سج رہے تھےگھڑی میں جو دیکھا تو نو بج رہے تھےیکایک جواں کچھ مرے پاس آئےجو تھے آستینوں پہ بلے لگائےکہا اتنی تکلیف فرمائیے گانمائش سے تشریف لے جائیے گاغرض چل دئے گھر کو مجبور ہو کرمحبت کے جلووں سے معمور ہو کرہوئی جاری رہی تھی عجب حالت دلکوئی چھین لے جیسے پڑھتے میں ناولہم اس طرح باب مزمل سے نکلےلہو جیسے ٹوٹے ہوئے دل سے نکلےبہر حال اب بھی وہی ہے نمائشنوید طرب دے رہی ہے نمائشوہی جشن ہے اور وہی زندگی ہےمگر جیسے ہر شے میں کوئی کمی ہےارے او نگاہوں پہ چھا جانے والیمرے دل کو رہ رہ کے یاد آنے والیتری طرح جلوہ نما ہے نمائشترے حسن کا آئنا ہے نمائشنمائش میں تیری لطافت ہے پنہاںنمائش میں تیری نزاکت ہے پنہاںنگاہوں کو ناحق تری جستجو ہےیقیناً نمائش کے پردے میں تو ہے
نہ پھر وہ میں تھانہ پھر وہ تم تھےنہ جانے کتنی مسافتیں درمیاں کھڑی تھیںاس ایک لمحے کے آئینے پرنہ جانے کتنے برس پریشان دھول کی طرح سے جمے تھےجنہیں رفاقت سمجھ کے ہم دونوں مطمئن تھےاس ایک لمحے کے آئینے میںجب اپنے اپنے نقاب الٹ کرخود اپنے چہروں کو ہم نے دیکھاتو ایک لمحہوہ ایک لمحے کا آئینہ کتنی صدیوں کتنے ہزار میلوں کی شکل میںدرمیاں کھڑا تھانہ پھر وہ میں تھا نہ پھر وہ تم تھےبس ایک ویراں خموش صحرا بس ایک ویراں خموش صحرا
محبت آہ تیری یہ محبت رات بھر کی ہےتری رنگین خلوت کی لطافت رات بھر کی ہےترے شاداب ہونٹوں کی عنایت رات بھر کی ہےترے مستانہ بوسوں کی حلاوت رات بھر کی ہےمہ روشن ہے تو اور تیری طلعت رات بھر کی ہےگل شبو ہے تو اور تیری نکہت رات بھر کی ہےتو کیا جانے کہ سودائے محبت کس کو کہتے ہیںمحبت اور محبت کی لطافت کس کو کہتے ہیںغم ہجراں ہے کیا اور سوز الفت کس کو کہتے ہیںجنوں ہوتا ہے کیسا اور وحشت کس کو کہتے ہیںتو کیا جانے غم شب ہائے فرقت کس کو کہتے ہیںترے اظہار الفت کی فصاحت رات بھر کی ہےنگاہ مست سے دل کو مرے تڑپا رہی ہے توادائے شوق سے جذبات کو بھڑکا رہی ہے تومجھے بچے کی صورت ناز سے پھسلا رہی ہے توکھلونے دے کے بوسوں کے مجھے بہلا رہی ہے تومگر نادان ہے تو آہ دھوکا کھا رہی ہے توترا روئے درخشاں ہے بظاہر ماہتاب آساترے ہونٹوں کی شادابی ہے رنگت میں شراب آساترے رخسار کی مہتابیاں ہیں آفتاب آسامگر ان کی حقیقت ہے حباب آسا سراب آساکہ غازے کی صباحت اس پہ چھائی ہے نقاب آسااور اس غازے کی بھی جھوٹی صباحت رات بھر کی ہےیہ مانا تیری خلوت کی فضا روح گلستاں ہےتری خلوت کا ہر فانوس اک مہتاب لرزاں ہےترا ابریشمی بستر نہیں اک خواب خنداں ہےترا جسم آفت دل تیرا سینہ آفت جاں ہےتو اک زندہ ستارہ ہے جو تنہائی میں تاباں ہےمگر کہتے ہیں تاروں کی حکومت رات بھر کی ہےلطافت سے ہیں خالی تیرے کمھلائے ہوئے بوسےطراوت سے ہیں خالی تیرے مرجھائے ہوئے بوسےنزاکت سے ہیں خالی تیرے گھبرائے ہوئے بوسےحقیقت سے ہیں خالی تیرے شرمائے ہوئے بوسےمحبت سے ہیں خالی تیرے گھبرائے ہوئے بوسےاور ان بوسوں کی یہ جھوٹی حلاوت رات بھر کی ہےترے زہریلے بوسے مجھ کو جس دم یاد آئیں گےمرے ہونٹوں پہ کالے ناگ بن کر تھرتھرائیں گےپشیمانی کے جذبے مجھ کو دیوانہ بنائیں گےمرے انکار کو نفرت کے خنجر گدگدائیں گےمرے دل کی رگوں میں غم کے شعلے تیر جائیں گےمیں سمجھا! آہ سمجھا! یہ مسرت رات بھر کی ہےمجھے دیوانہ کرنے کی مسرت بے خبر کب تکرہے گی میرے دل میں تیری الفت کارگر کب تکمجھے مسحور رکھے گا یہ عشق بے ثمر کب تکحقیقت کی سحر آخر نہ ہوگی پردہ در کب تکمجھے مغلوب کر کے خوش ہے تو ظالم مگر کب تکتری یہ فتح میری یہ ہزیمت رات بھر کی ہے
دبائے رکھا ہے سینے میں اپنی آہوں کووہیں دیا ہے شب و روز پیچ و تاب انہیںزبان شوق بنایا نہیں نگاہوں کوکیا نہیں کبھی وحشت میں بے نقاب انہیںخیال ہی میں کیا پرورش گناہوں کیکبھی کیا نہ جوانی سے بہریاب انہیںیہ مل رہی ہے مرے ضبط کی سزا مجھ کوکہ ایک زہر سے لبریز ہے شباب مرااذیتوں سے بھری ہے ہر ایک بیداریمہیب و روح ستاں ہے ہر ایک خواب مراالجھ رہی ہیں نوائیں مرے سرودوں کیفشار ضبط سے بے تاب ہے رباب مرامگر یہ ضبط مرے قہقہوں کا دشمن تھاپیام مرگ جوانی تھا اجتناب مرا
انساں الٹ رہا ہے رخ زیست سے نقابمذہب کے اہتمام فسوں پروری کی خیر
آہنی بت دیو پیکر اجنبیچیختی چنگھاڑتی خونیں سرائےروح الجھی جا رہی ہے کیا کروںچار جانب ارتعاش رنگ و نورچار جانب اجنبی بانہوں کے جالچار جانب خوں فشاں پرچم بلندمیں مری غیرت مرا دست سوالزندگی شرما رہی ہے کیا کروںکار گاہ زیست کے ہر موڑ پرروح چنگیزی برافگندہ نقابتھام اے صبح جہان نو کی ضوجاگ اے مستقبل انساں کے خوابآس ڈوبی جا رہی ہے کیا کروں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books