aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nazmiya"
میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہےہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات
جب دکھ کی ندیا میں ہم نےجیون کی ناؤ ڈالی تھی
یہ کس کی مہکی مہکی سانسیں تازہ کر گئیں دماغشبوں کے راز نور مہ کی نرمیاں لئے ہوئے
ندیا کے گہرے پانی میں کھائے نہ کئی دن سے غوطےگھر ہی میں پڑے اب سڑتے ہیں ندیا پہ نہانا چھوڑ دیا
ٹھہر گئی آسماں کی ندیاوہ جا لگی ہے افق کنارے
برسات میں ندیا کی سیریں ہمیں کرنے دوگر ڈوب کے مرتے ہیں ڈیڈی ہمیں مرنے دو
چھلکتی روشنی تاریکیوں پہ چھائی جاتی ہےاڑائے نازیت کی لاش پر کوئی کفن جیسے
کبیراؔ کچھ سمجھاتا ہےاسی سرجو ندیا کے پار
تم مری آواز دبا نہیں سکتےمرے لکھے ہوئے الفاظ مٹا نہیں سکتے
وہ غرور حسن کی نرمیاںوہ نگاہ لطف کی بارشیں
تیرے ہونٹوں کی لالیتری نرمیاں گھل گئیں
زمیں کی گود میں کتنے سمندر ہیںکناروں پر نمیدہ ریت کے ذرات ہیں
مہکتی ہواؤں سےہلکی ہلکی ٹھنڈی نرمیاں ٹپک پڑیں
کس ندیا میں ڈھونڈوں بچپنکس دریا میں جوانی
پیار کی آنکھوں سے آنسو پوچھےنرمیاں
پیٹ بھرنے کے لیے یہ ناصیہ سائی نہ تھیاور ابھی تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہ تھی
یہ وہ مقام تھا کہ تاریخ دانوں و محققین نے ہار جیت کے نظریات کو الگ انداز سے دیکھاتیری مامتا کو سلام زینب اپنے جگر گوشوں کا غم اٹھا کر خود کو ٹوٹنے نہیں دیا
صلیبیں اپنے سینے پرسماعت پر نمیدہ زنگ کے تالے سنبھالے
تمہارا کوئی مذہب کوئی نظریہ نہیں ہےپیٹ کی بھوک سے جنس کی آسودگی تک
میری آنکھوں کی نمیدہ کور پر اشک ندامت کی طرف بھی دیکھ لیناجھلملاتا اک ستارہ جیسے استغفار کا کوئی وظیفہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books