aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nimaT"
اگر کہیں ان کے بس میں ہو تووطن کی مٹی کے چپے چپے پہ چھاؤنی ہواگر کہیں ان کے بس میں ہو توبدن کی مٹی کے چپے چپے پہ چھاؤنی ہوجو لوگ اب تک مسائل ہست و بود ہی سے نمٹ رہے تھےاب ان میں اک فصل نیست کٹتی ہو اور نابود اگ رہا ہواگر کہیں ان کے بس میں ہو توزمین سے بارود اگ رہا ہو
بڑی دل بستگی کے ساتھپہلے خود تجھے تعمیر کرنا ہےکمال آرزو کو جو میسر ہیںبڑی چاہت سے پھر تجھ میںوہ سارے رنگ بھرنے ہیںتجھے تصویر کرنا ہےہجوم ابن آدم کے لیےتیری گزر گاہوں پہکچھ تازہ گل و لالہ بچھانے ہیںتجھے اک خواب کی تعبیر کرنا ہےچراغ جاں کی تابانی سے تجھ کوپرتو تنویر کرنا ہےنمٹ کر ان سبھی کاموں سے اے دنیاترے فن کار کو خوئے زمانہ نا شناسی سےتجھے اپنے لیے خود لائق تعزیر کرنا ہے
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ہستی کی متاع بے پایاں جاگیر تری ہے نہ میری ہےاس بزم میں اپنی مشعل دل بسمل ہے تو کیا رخشاں ہے تو کیایہ بزم چراغاں رہتی ہے اک طاق اگر ویراں ہے تو کیاافسردہ ہیں گر ایام ترے بدلا نہیں مسلک شام و سحرٹھہرے نہیں موسم گل کے قدم قائم ہے جمال شمس و قمرآباد ہے وادیٔ کاکل و لب شاداب و حسیں گلگشت نظرمقسوم ہے لذت درد جگر موجود ہے نعمت دیدۂ تراس دیدۂ تر کا شکر کرو اس ذوق نظر کا شکر کرواس شام و سحر کا شکر کرو ان شمس و قمر کا شکر کرو
میرے ہونے کی زمانے میں وضاحت کرنادل کے جذبات کی دنیا سے حفاظت کرناویسے مشکل ہے کسی پر بھی یہ نعمت کرناپھر بھی ممکن ہو تو تا عمر محبت کرنا
جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیدن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیچلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیتن ٹھوکر مار پچھاڑا ہو اور دل سے ہوتی ہو کشتی سیتھر تھر کا زور اکھاڑا ہو بجتی ہو سب کی بتیسیہو شور پھپو ہو ہو کا اور دھوم ہو سی سی سی سی کیکلے پہ کلا لگ لگ کر چلتی ہو منہ میں چکی سیہر دانت چنے سے دلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں میں سردی نے آ باندھ دیا ہو یہ چکرجو ہر دم کپ کپ ہوتی ہو ہر آن کڑاکڑ اور تھر تھرپیٹھی ہو سردی رگ رگ میں اور برف پگھلتا ہو پتھرجھڑ باندھ مہاوٹ پڑتی ہو اور تس پر لہریں لے لے کرسناٹا باؤ کا چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر چار طرف سے سردی ہو اور صحن کھلا ہو کوٹھے کااور تن میں نیمہ شبنم کا ہو جس میں خس کا عطر لگاچھڑکاؤ ہوا ہو پانی کا اور خوب پلنگ بھی ہو بھیگاہاتھوں میں پیالہ شربت کا ہو آگے اک فراش کھڑافراش بھی پنکھا جھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیجب ایسی سردی ہو اے دل تب روز مزے کی گھاتیں ہوںکچھ نرم بچھونے مخمل کے کچھ عیش کی لمبی راتیں ہوںمحبوب گلے سے لپٹا ہو اور کہنی، چٹکی، لاتیں ہوںکچھ بوسے ملتے جاتے ہوں کچھ میٹھی میٹھی باتیں ہوںدل عیش وطرب میں پلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہو فرش بچھا غالیچوں کا اور پردے چھوٹے ہوں آ کراک گرم انگیٹھی جلتی ہو اور شمع ہو روشن اور تس پروہ دلبر، شوخ، پری، چنچل، ہے دھوم مچی جس کی گھر گھرریشم کی نرم نہالی پر سو ناز و ادا سے ہنس ہنس کرپہلو کے بیچ مچلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیترکیب بنی ہو مجلس کی اور کافر ناچنے والے ہوںمنہ ان کے چاند کے ٹکڑے ہوں تن ان کے روئی کے گالے ہوںپوشاکیں نازک رنگوں کی اور اوڑھے شال دو شالے ہوںکچھ ناچ اور رنگ کی دھومیں ہوں عیش میں ہم متوالے ہوںپیالے پر پیالہ چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں ہو خلوت کا اور عیش کی سب تیاری ہووہ جان کہ جس سے جی غش ہو سو ناز سے آ جھنکاری ہودل دیکھ نظیرؔ اس کی چھب کو ہر آن ادا پر واری ہوسب عیش مہیا ہو آ کر جس جس ارمان کی باری ہوجب سب ارمان نکلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روحبے علم ہے اگر تو وہ انساں ہے نا تمامبے علم و بے ہنر ہے جو دنیا میں کوئی قومنیچر کا اقتضا ہے رہے بن کے وہ غلامتعلیم اگر نہیں ہے زمانہ کے حسب و حالپھر کیا امید دولت و آرام و احترامسید کے دل میں نقش ہو اس خیال کاڈالی بنائے مدرسہ لے کر خدا کا نامصدمے اٹھائے رنج سہے گالیاں سنیںلیکن نہ چھوڑا قوم کے خادم نے یہ کامدکھلا دیا زمانہ کو زور دل و دماغبتلا دیا وہ کرتے ہیں کرنے والے کامنیت جو تھی بخیر تو برکت خدا نے دیکالج ہوا درست بہ صد شان و احتشامسرمائے میں کمی تھی سہارا کوئی نہ تھاسید کا دل تھا درپئے تکمیل انتظامآخر اٹھا سفر کو وہ مرد خستہ پئےاحباب چند ساتھ تھے ذی علم و خوش کلامقسمت کہ رہبری سے ملی منزل مرادفرماں روائے ملک دکن کو کیا سلامحالت دکھائی اور ضرورت بیان کیخوبی ث التماس کیا قوم کا پیامرحم آ گیا حضور کو حالت پہ قوم کیپھر کیا تھا موجزن ہوا دریا فیض عامماہانہ دو ہزار کیا اک ہزار ثامید ث زیادہ عطا تھی یہ لا کلاماکبرؔ کی ی دعا ہے خدا کی جناب میںتا حشر اس رئیس و ریاست کو ہو قیامکیا وقت پر ہوئی ہے کہ بے احتجاج فکرتاریک اپنی آپ ہے فیاضی نظام
اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیراے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیراس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھشہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھفکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہیصبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہیسنگ تربت ہے مرا گرویدۂ تقریر دیکھچشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھمدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دیںترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیںوا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباںچھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاںوصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سےدیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سےمحفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑرنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑتو اگر کوئی مدبر ہے تو سن میری صداہے دلیری دست ارباب سیاست کا عصاعرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھےنیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھےبندۂ مومن کا دل بيم و ريا سے پاک ہےقوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہےہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامہ معجز رقمشیشۂ دل ہو اگر تیرا مثال جام جمپاک رکھ اپنی زباں تلمیذ رحمانی ہے توہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبروسونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سےخرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے
ادھر بیٹھوپرائی لڑکیوں کو اس طرح دیکھا نہیں کرتےیہ لپ اسٹکیہ پوڈراور یہ اسکارفکیا ہوگامجھے کھیتوں میں مزدوری سے فرصت ہی نہیں ملتیمرے ہونٹوں پہ گھنٹوں بوند پانی کی نہیں پڑتیمرے چہرے مرے بازو پہ لو اور دھوپ رہتی ہےگلے میں صرف پیتل کا یہ چندن ہار کافی ہےہوا میں دل کشی ہےاور فضا سونا لٹاتی ہےمجھے ان سے عقیدت ہےیہی میری متاع میری نعمت ہے
گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھیپر بوند ابھی نہیں پڑی تھیہر قطرہ کے دل میں تھا یہ خطرہناچیز ہوں میں غریب قطرہتر مجھ سے کسی کا لب نہ ہوگامیں اور کی گوں نہ آپ جوگاکیا کھیت کی میں بجھاؤں گا پیاساپنا ہی کروں گا ستیاناسخالی ہاتھوں سے کیا سخاوتپھیکی باتوں میں کیا حلاوتکس برتے پہ میں کروں دلیریمیں کون ہوں کیا بساط میریہر قطرہ کے دل میں تھا یہی غمسرگوشیاں ہو رہی تھیں باہمکھچڑی سی گھٹا میں پک رہی تھیکچھ کچھ بجلی چمک رہی تھیاک قطرہ کہ تھا بڑا دلاورہمت کے محیط کا شناورفیاض و جواد و نیک نیتبھڑکی اس کی رگ حمیتبولا للکار کر کہ آؤ!میرے پیچھے قدم بڑھاؤکر گزرو جو ہو سکے کچھ احسانڈالو مردہ زمین میں جانیارو! یہ ہچر مچر کہاں تکاپنی سی کرو بنے جہاں تکمل کر جو کرو گے جاں فشانیمیدان پہ پھیر دوگے پانیکہتا ہوں یہ سب سے برملا میںآتے ہو تو آؤ لو چلا میںیہ کہہ کے وہ ہو گیا روانہ''دشوار ہے جی پہ کھیل جانا''ہر چند کہ تھا وہ بے بضاعتکی اس نے مگر بڑی شجاعتدیکھی جرأت جو اس سکھی کیدو چار نے اور پیروی کیپھر ایک کے بعد ایک لپکاقطرہ قطرہ زمیں پہ ٹپکاآخر قطروں کا بندھ گیا تاربارش لگی ہونے موسلا دھارپانی پانی ہوا بیاباںسیراب ہوئے چمن خیاباںتھی قحط سے پائمال خلقتاس مینہ سے ہوئی نہال خلقتجرأت قطرہ کی کر گئی کامباقی ہے جہاں میں آج تک ناماے صاحبو! قوم کی خبر لوقطروں کا سا اتفاق کر لوقطروں ہی سے ہوگی نہر جاریچل نکلیں گی کشتیاں تمہاری
نغمہ در جاں رقص برپا خندہ بر لبدل تمناؤں کے بے پایاں الاؤ کے قریبدل مرے صحرا نورد پیر دلریگ کے دل شاد شہری ریگ تواور ریگ ہی تیری طلبریگ کی نکہت ترے پیکر میں تیری جاں میں ہےریگ صبح عید کے مانند زرتاب و جلیلریگ صدیوں کا جمالجشن آدم پر بچھڑ کر ملنے والوں کا وصالشوق کے لمحات کے مانند آزاد و عظیمریگ نغمہ زنکہ ذرے ریگ زاروں کی وہ پازیب قدیمجس پہ پڑ سکتا نہیں دست لئیمریگ صحرا زرگری کی ایک کی لہروں سے دورچشمۂ مکر و ریا شہروں سے دورریگ شب بیدار ہے سنتی ہے ہر جابر کی چاپریگ شب بیدار ہے نگراں ہے مانند نقیبدیکھتی ہے سایۂ آمر کی چاپریگ ہر عیار غارت گر کی موتریگ استبداد کے طغیاں کے شور و شر کی موتریگ جب اٹھتی ہے اڑ جاتی ہے ہر فاتح کی نیندریگ کے نیزوں سے زخمی سب شہنشاہوں کے خوابریگ اے صحرا کی ریگمجھ کو اپنے جاگتے ذروں کے خوابوں کینئی تعبیر دےریگ کے ذروں ابھرتی صبح تمآؤ صحرا کی حدوں تک آ گیا روز طربدل مرے صحرا نورد پیر دلآ چوم ریگہے خیالوں کے پری زادوں سے بھی معصوم ریگریگ رقصاں ماہ و سال نور تک رقصاں رہےاس کا ابریشم ملائم نرم خو خنداں رہےدل مرے صحرا نورد پیر دلیہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤراہ گم کر دوں کی مشعل اس کے لب پر آؤ آؤتیرے ماضی کے خذف ریزوں سے جاگی ہے یہ آگآگ کی قرمز زباں پر انبساط نو کے راگدل مرے صحرا نورد پیر دلسرگرانی کی شب رفتہ سے جاگکچھ شرر آغوش صرصر میں ہیں گماور کچھ زینہ بہ زینہ شعلوں کے مینار پر چڑھتے ہوئےاور کچھ تہہ میں الاؤ کی ابھیمضطرب لیکن مذبذب طفل کمسن کی طرحآگ زینہ آگ رنگوں کا خزینہآگ ان لذات کا سر چشمہ ہےجس سے لیتا ہے غذا عشاق کے دل کا تپاکچوب خشک انگور اس کی مے ہے آگسرسراتی ہے رگوں میں عید کے دن کی طرحآگ کاہن یاد سے اتری ہوئی صدیوں کی یہ افسانہ خواںآنے والے قرنہا کی داستانیں لب پہ ہیںدل مرا صحرا نورد پیر دل سن کر جواںآگ آزادی کا دل شادی کا نامآگ پیدائش کا افزائش کا نامآگ کے پھولوں میں نسریں یاسمن سنبل شفیق و نسترنآگ آرائش کا زیبائش کا نامآگ وہ تقدیس دھل جاتے ہیں جس سے سب گناہآگ انسانوں کی پہلی سانس کے مانند اک ایسا کرمعمر کا اک طول بھی جس کا نہیں کافی جوابیہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہواس لق و دق میں نکل آئیں کہیں سے بھیڑیےاس الاؤ کو سدا روشن رکھوریگ صحرا کو بشارت ہو کہ زندہ ہے الاؤبھیڑیوں کی چاپ تک آتی نہیںآگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیمآگ سے صحرا کے ٹیڑھے رینگنے والےگرہ آلود ژولیدہ درختجاگتے ہیں نغمہ در جاں رقص برپا خندہ بر لباور منا لیتے ہیں تنہائی میں جشن ماہتابان کی شاخیں غیر مرئی طبل کی آواز پر دیتی ہیں تالبیخ و بن سے آنے لگتی ہے خداوندی جلاجل کی صداآگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیمرہروؤں صحرا نوردوں کے لیے ہے رہنماکاروانوں کا سہارا بھی ہے آگاور صحراؤں کی تنہائی کو کم کرتی ہے آگآگ کے چاروں طرف پشمینہ و دستار میں لپٹے ہوئےافسانہ گوجیسے گرد چشم مژگاں کا ہجومان کے حیرت ناک دل کش تجربوں سےجب دمک اٹھتی ہے ریتذرہ ذرہ بجنے لگتا ہے مثال ساز جاںگوش بر آواز رہتے ہیں درختاور ہنس دیتے ہیں اپنی عارفانہ بے نیازی سے کبھییہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہوریگ اپنی خلوت بے نور و خودبیں میں رہےاپنی یکتائی کی تحسیں میں رہےاس الاؤ کو سدا روشن رکھویہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہوایشیا افریقہ پہنائی کا نامبے کار پہنائی کا نامیورپ اور امریکہ دارائی کا نامتکرار دارائی کا ناممیرا دل صحرا نورد پیر دلجاگ اٹھا ہے مشرق و مغرب کی ایسی یک دلیکے کاروانوں کا نیا رویا لیےیک دلی ایسی کہ ہوگی فہم انساں سے ورایک دلی ایسی کہ ہم سب کہہ اٹھیںاس قدر عجلت نہ کراژدہام گل نہ بنکہہ اٹھیں ہمتو غم کل تو نہ تھیاب لذت کل بھی نہ بنروز آسائش کی بے دردی نہ بنیک دلی بن ایسا سناٹا نہ بنجس میں تابستاں کی دوپہروں کیبے حاصل کسالت کے سوا کچھ بھی نہ ہواس جفا گر یک دلی کے کارواں یوں آئیں گےدست جادو گر سے جیسے پھوٹ نکلے ہوں طلسمعشق حاصل خیز سے یا زور پیدائی سے جیسے ناگہاںکھل گئے ہوں مشرق و مغرب کے جسمجسم صدیوں کے عقیمکارواں فرخندہ پے اور ان کا بارکیسہ کیسہ تخت جم اور تاج کےکوزہ کوزہ فرد کی سطوت کی مےجامہ جامہ روز و شب محنت کا خےنغمہ نغمہ حریت کی گرم لےسالکو فیروز بختو آنے والے قافلوشہر سے لوٹو گے تم تو پاؤ گےریت کے سرحد پہ جو روح ابد خوابیدہ تھیجاگ اٹھی ہے شکوہ ہائے نے سے وہریت کی تہہ میں جو شرمیلی سحر روئیدہ تھیجاگ اٹھی ہے حریت کی لے سے وہاتنی دوشیزہ تھی اتنی مرد نا دیدہ تھی صبحپوچھ سکتے تھے نہ اس کی عمر ہمدرد سے ہنستی نہ تھیذروں کی رعنائی پہ بھی ہنستی نہ تھیایک محجوبانہ بے خبری میں ہنس دیتی تھی صبحاب مناتی ہے وہ صحرا کا جلالجیسے عز و جل کے پاؤں کی یہی محراب ہوزیر محراب آ گئی ہو اس کو بے داری کی راتخود جناب عز و جل سے جیسے امید زفافسارے ناکردہ گناہ اس کے معافصبح صحرا شادباداے عروس عز و جل فرخندہ رو تابندہ کھوتو اک ایسے حجرۂ شب سے نکل کر آئی ہےدست قاتل نے بہایا تھا جہاں ہر سیج پرسینکڑوں تاروں کا رخشندہ لہو پھولوں کے پاسصبح صحرا سر مرے زانو پہ رکھ کر داستاںان تمنا کے شہیدوں کی نہ کہہان کی نیمہ رس امنگوں آرزوؤں کی نہ کہہجن سے ملنے کا کوئی امکاں نہیںشہد تیرا جن کو نش جاں نہیںآج بھی کچھ دور اس صحرا کے پاردیو کی دیوار کے نیچے نسیمروز و شب چلتی ہے مبہم خوف سے سہمی ہوئیجس طرح شہروں کی راہوں پر یتیمنغمہ بر لب تاکہ ان کی جاں کا سناٹا ہو دورآج بھی اس ریگ کے ذروں میں ہیںایسے ذرے آپ ہی اپنے غنیمآج بھی اس آگ کے شعلوں میں ہیںوہ شرر جو اس کی تہہ میں پر بریدہ رہ گئےمثل حرف ناشنیدہ رہ گئےصبح صحرا اے عروس عز و جلآ کہ ان کی داستاں دہرائیں ہمان کی عزت ان کی عظمت گائیں ہمصبح ریت اور آگ ہم سب کا جلالیک دلی کے کارواں ان کا جمالآؤاس تحلیل کے حلقے میں ہم مل جائیںآؤشاد باغ اپنی تمناؤں کا بے پایاں الاؤ
جو کوئی سیانی ہے ان میں تو کوئی ہے نا کندوہ شور بور تھی سب رنگ سے نپٹ یک چندکوئی دلاتی ہے ساتھن کو یار کی سوگندکہ اب تو جامہ و انگیا کے ٹولے ہیں سب بندپھر آ کے کھلیں گے ہو کر دو چار ہولی میں
اب زرد یہ چیرا جو ترے سر پہ جما ہےاور اس پہ یہ طرہ جو زری کا بھی دھرا ہےنیما بھی ترا رنگ سے کیسر کے بھرا ہےپوشاک پہ تیری گل صد برگ فدا ہےنرگس تری آنکھوں پہ ہے قربان ادھر دیکھ
دوں گا نہ زحمتکر لی ہے نیتسحری میں امی مجھ کو جگانا
زمانے کی ہوا بدلی ادھر رنگ چمن بدلاگلوں نے جب روش بدلی عنادل نے وطن بدلاطریقہ آشنائی کا کبھی ایسا نہ بدلا تھاکہ چال عشاق نے بدلی حسینوں نے چلن بدلابدلتے آئے ہیں یوں تو ہمیشہ دور گردوں کےنہ ایسا بھی کہ ہم بدلے ہمارا کل جتن بدلامقاصد مذہب و ملت کے بدلے دور عالم نےصحائف کی شرح بدلی کتابوں کا متن بدلابدل ڈالا ہے ایسا مغربی تہذیب نے ہم کومذاق خوان نعمت اور طرز پیرہن بدلاپرانی چال بے ڈھنگی ہماری دیکھیں کب بدلےابھی تک جگ ہی بدلے تھے غضب یہ ہے قرن بدلانہ بدلا پر نہ بدلا ہائے طرز معشرت قومیاگرچہ ساری دنیا کا ہنر اور علم و فن بدلانظام شاعری میں ہائے آیا انقلاب ایساکہ شان نظم بدلی اور انداز سخن بدلاسلیقہ انتقاد جنس حرفت کا نہیں ہم کوزر خالص سے ابریشم نما یورپ نے سن بدلانہ بدلا ہے نہ بدلے گا فقط قانون اسلامیقمرؔ جب تک کہ قدرت نے نہ یہ چرخ کہن بدلا
ہم کتنا روئے تھے جب اک دن سوچا تھا ہم مر جائیں گےاور ہم سے ہر نعمت کی لذت کا احساس جدا ہو جائے گاچھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے شہد کی مکھی کی بھن بھنچڑیوں کی چوں چوں کوؤں کا ایک اک تنکا چننانیم کی سب سے اونچی شاخ پہ جا کر رکھ دینا اور گھونسلہ بنناسڑکیں کوٹنے والے انجن کی چھک چھک بچوں کا دھول اڑاناآدھے ننگے مزدوروں کو پیاز سے روٹی کھاتے دیکھے جانایہ سب لا یعنی بیکار مشاغل بیٹھے بیٹھے ایک دم چھن جائیں گےہم کتنا روئے تھے جب پہلی بار یہ خطرہ اندر جاگا تھااس گردش کرنے والی دھرتی سے رشتہ ٹوٹے گا ہم جامد ہو جائیں گےلیکن کب سے لب ساکت ہیں دل کی ہنگامہ آرائی کیبرسوں سے آواز نہیں آئی اور اس مرگ مسلسل پران کم مایہ آنکھوں سے اک قطرہ آنسو بھی تو نہیں ٹپکا
سبھی کالے دھن والے ہیں خیریت سےجہاں ہیں جدھر ہیں وہ ہیں عافیت سےملے نہ ملے ان کو اچھی نیت سےیہ روپیہ اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
خدائے برترتیری وحدانیت کی قسمجب بھی تیرے آگے سر بہ سجود ہوئیتو نیت کیکہ زمین کے ان تمام خداؤں کو رد کرتی ہوںجو اپنے عہدوں کے آگےمجھے جھکانے پر بضد رہےاے ہمیشہ رہنے والی ذاتجب کوئی جسم خاکی طاقت کے نشے میںکسی کمزور کو کچلتا ہےتب گزرتا وقت اس پر بہت ہنستا ہےاے رازق رحیمہم ایسے نظام کو بھوگ رہے ہیںجہاں ایک کی بقا دوسرے کی بھوک پر قابض ہونے میں ہےتو کہ واقف ہے دلوں کے بھید سےایسے حالات آ جاتے ہیں کہسچ گوشہ نشین ہو جاتا ہےشرافت اور حیا پہسنگ باری ہوتی ہےاے خالق کائناتتو نے اپنے کلام میں زمین کا دکھ بیان کیا ہےجو ان گنت مظالم اپنے اوپر جھیلتی ہےاس زمین کی خاموشی کی قسمسارے ظالم اپنی دشت اپنی سفاکیوں کا کھیل رچاتے رچاتےایک دن زمین کے اندر چلے جاتے ہیںاے خدائے عظیمیہ زمین میرا بچھونامیں نے اس کی خامشی کو اپنے سینے میں اتاراتیرے عطا کیے ہوئے حوصلے نےمیرے قدم اکھڑنے نہیں دیئےورنہکسی ڈرل مشین کی طرحجملے دل میں سوراخ کرتے گئےتشنج زدہ چہروں پر ہنسی تب دکھائی دیجب آنکھوں سے خواب چھین لیے گئےاے میرے پروردگارہمیں ایک ایسا معاشرہ دیا گیاجہاں ہمارے پھیپڑوں پہ پاؤں رکھ کے حکمرانی کرنے والےہماری سانس کے چلنے رکنے کا تماشا دیکھتے ہیںتماشہ بینوں کی آنکھوں اس انت کی منتظر ہوتی ہیںکہ جب ان سے زندہ رہنے کی بھیک مانگی جائےاے میرے معبودمیں نے ایسے ہی کگار پہتیری برتری طلب کیاے میرے دکھوں کے رازداںتو واقف ہےجب میرے ارد گرد گریۂ وحشت طاری تھااور مجھے بتایا جا رہا تھاکہ سرطان میرے باپ کو کھا رہا ہےوہ وقت تھا کہ نہ کوئی حرف تسلی کام آ سکتا تھا نہ کوئی امید باقی رہ گئی تھیمیری آنکھیں خشک تھیںمیرے سارے آنسو میرے اندر گرتے گئےوہ وقت تھا میرے معبودجب تو نے میرے قلب کو غم سے لبریز کر کےمیری تربیت کی تھیمجھے باور ہواکہ آنے والے وقت میں قدم قدم پہمجھے سرطان کا سامان کرنا ہوگافقروں میں قہقہوں میںاس شیطان کو کنکری کون مارےجو تاریک دلوں کے منا میں بیٹھا ہےمیرے مولامیں کسی معجزے کی منتظر نہیںبس اتنی ہمت دے مجھےکہ تیرگی کے مقابلروشنی کو ہمیشگی دے دوں
بڑے احمق ہواسے بھولنے کو کہتے ہوجیتے جی مرنے کینیت نہیں ہماری ہے
حضرت آدم پہ جو گزری ہے سب کو یاد ہےدانۂ گندم کی زندہ آج تک بیداد ہےآج پھر اولاد آدم پر وہی افتاد ہےاس کا بانی بھی فرشتوں کا وہی استاد ہےدور دورہ آج اس کا چور بازاروں میں ہےماہرین چور بازاری کے غم خواروں میں ہےان میں دیکھا اس کا جلوہ جو ذخیرہ باز ہیںدفن تہہ خانوں میں جن کے بوریوں کے راز ہیںبوریوں سے ملتے جلتے توند کے انداز ہیںاور فریاد و بکا میں سب کے ہم آواز ہیںتوند پر ہے ہاتھ اور فاقوں سے حالت زار ہےان کو ایندھن اس جہنم کے لیے درکار ہےہو گیا بازار سے آٹے کا ایسا انتقالاب کھلے بازار میں آٹے کا ملنا ہے محالاک ذخیرہ باز مولانا نما دوکان دارقوم کے اس ابتلا سے کل بہت تھے بے قرارآہ اس ملت کا کیوں گیہوں پہ ہے دار و مدارکاش کھاتی باجرا یا کاش یہ کھاتی جواراس کے کھانے کے لیے نعمت ہر اک موجود ہےدانۂ گندم بھلا کیوں گوہر مقصود ہےسچ جو پوچھو تو کہوں شیطان کا راشن ہے یہجس نے جنت لوٹ لی انساں کا وہ دشمن ہے یہحیف ہے انسان کر دے اس پر جنت تک نثارسب کو گندم سے بچانا اے مرے پروردگارسینکڑوں من یوں تو گیہوں میرے تہہ خانے میں ہےاور مزا بھی کیا مجھے آزار پہچانے میں ہےمیرے حصہ کی وہی مے ہے جو پیمانے میں ہےہاں مگر دوزخ جو ہے گیہوں کے پروانے میں ہےجس نے گیہوں کھا لیا دوزخ میں گولے کھائے گاجس کو جنت چاہیئے وہ صرف چھولے کھائے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books