aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nisaar-e-jur.at-e-inkaar"
وقت اور دریا ہیں دو چیزیں جداپھر بھی ان میں مشترک ہے بات کیاہے مزاج وقت و دریا ایک ساوقت گزرا اور دریا بہہ گیاوقت گزرا واپس آ سکتا نہیںکوئی کوشش سے بھی لا سکتا نہیںیوں ہی دریا کا جو پانی بہہ گیاآج تک واپس نہ کوئی لا سکاپانی تو بہہ کر سمندر میں گرااور وقت آفاق میں گم ہو گیاگو بظاہر ایک ہیں دونوں مگرفرق اک باریک آتا ہے نظرآب دریا بہہ کے جا پہنچا جہاںلہلہاتی ہیں وہاں پر کھیتیاںیعنی پانی جس جگہ ہو کر بہاپھر وہاں افراط سے سبزہ اگایعنی جس جا سے گزر جاتا ہے یہوہ زمیں زرخیز کر جاتا ہے یہیعنی بہہ کر یہ بہر صورت نثارؔچھوڑتا ہے اپنے پیچھے سبزہ زاروقت ہی کا مصرف جائز نثارؔباغ ہستی کو ہے کرتا پر بہارہاں مگر جب رائیگاں جاتا ہے وقتچھوڑ کر ویرانیاں جاتا ہے وقت
چلتی پھرتی اک دیواردیکھی عجائب گھر میں نثارؔہلتی تھی وہ ادھر ادھرچلتی تھی وہ کھمبوں پرچار جڑے تھے اس میں کھمبےموٹے موٹے لمبے سےدیوار سے تھا گنبد جو لگاپائپ تھا اس سے جڑا ہواادھر ادھر وہ ہلتا تھاموٹا موٹا بھدا سابھالا لے کر بیٹھے تھےمیاں مہاوت اکڑے ہوئےگنبد میں تھے دروازےچھوٹے چھوٹے بھورے سےکہتے ہیں یہ اہل زباںہوتے ہیں دیوار کے کانکان تھے اس کے جیسے سوپبھورا بھورا رنگ اور روپگدا تھا دیوار کے اوپرچمک رہی تھی چم چم چادرننھے منے بیٹھے تھےپھولوں کے گلدستے تھےگنبد میں سے دو بھالےادھر ادھر تھے نکلے ہوئےچمک رہے تھے ایسے ساتھیدانت دکھائے جیسے ہاتھیاب یہ بتاؤ ننھے ساتھیدیکھی تھی دیوار کہ ہاتھی
مگر میں آج بہت دور جانے والا ہوںبس اور چند نفس کو تمہارے پاس ہوں میںتمہیں جو پا کے خوشی ہے تم اس خوشی پہ نہ جاؤتمہیں یہ علم نہیں کس قدر اداس ہوں میںکیا تم کو خبر اس دنیا کی کیا تم کو پتہ اس دنیا کامعصوم دلوں کو دکھ دینا شیوہ ہے اس دنیا کاغم اپنا نہیں غم اس کا ہے کل جانے تمہارا کیا ہوگاپروان چڑھو گی تم کیسے جینے کا سہارا کیا ہوگاآؤ کہ ترستی بانہوں میں اک بار تو تم کو بھر لوں میںکل تم جو بڑی ہو جاؤ گی جب تم کو شعور آ جائے گاکتنے ہی سوالوں کا دھارا احساس سے ٹکرا جائے گاسوچو گی کہ دنیا طبقوں میں تقسیم ہے کیوں یہ پھیر ہے کیاانسان کا انساں بیری ہے یہ ظلم ہے کیا اندھیر ہے کیایہ نسل ہے کیا یہ ذات ہے کیا یہ نفرت کی تعلیم ہے کیوںدولت تو بہت ہے ملکوں میں دولت کی مگر تقسیم ہے کیوںتاریخ بتائے گی تم کو انساں سے کہاں پر بھول ہوئیسرمائے کے ہاتھوں لوگوں کی کس طرح محبت دھول ہوئیصدیوں سے برابر محنت کش حالات سے لڑتے آئے ہیںچھائی ہے جو اب تک دھرتی پر اس رات سے لڑتے آئے ہیںدنیا سے ابھی تک مٹ نہ سکا پر راج اجارہ داری کاغربت ہے وہی افلاس وہی رونا ہے وہی بیکاری کامحنت کی ابھی تک قدر نہیں محنت کا ابھی تک مول نہیںڈھونڈے نہیں ملتیں وہ آنکھیں جو آنکھیں ہو کشکول نہیںسوچا تھا کہ کل اس دھرتی پر اک رنگ نیا چھا جائے گاانسان ہزار برسوں کی محنت کا ثمر پا جائے گاجینے کا برابر حق سب کو جب ملتا وہ پل آ نہ سکاجس کل کی خاطر جیتے جی مرتے رہے وہ کل آ نہ سکالیکن یہ لڑائی ختم نہیں یہ جنگ نہ ہوگی بند کبھیسو زخم بھی کھا کر میداں سے ہٹتے نہیں جرأت مند کبھی
یہیں کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں نےیہیں کی جرأت اظہار حرف مدعا میں نےیہیں دیکھے تھے عشوۂ ناز و انداز حیا میں نےیہیں پہلے سنی تھی دل دھڑکنے کی صدا میں نےیہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
وہ شدت بیاں ہو کہ ہو جرأت بیان حقگستاخ اتنی ہو گئی میری زباں کبھی کبھی
اسلام کی تعلیم سے بیگانہ ہوا تونا محرم ہر جرات رندانہ ہوا توآبادئی ہر بزم تھا ویرانہ ہوا توتو ایک حقیقت تھا اب افسانہ ہوا تو
بے جرأت رندانہ ہر عشق ہے روباہیبازو ہے قوی جس کا وہ عشق ید اللہیجو سختیٔ منزل کو سامان سفر سمجھےاے وائے تن آسانی ناپید ہے وہ راہیوحشت نہ سمجھ اس کو اے مردک میدانیکہسار کی خلوت ہے تعلیم خود آگاہیدنیا ہے روایاتی عقبیٰ ہے مناجاتیدر باز دو عالم را این است شہنشاہی
کہنے کو حاتمؔ و قارونؔ و کرنؔ بھی آئےاپنے حصے میں وہی رنج و محن ہیں کہ جو تھےجرأت عیسیٰؔ و منصورؔ سے بھی کچھ نہ ہواروز و شب مرحلۂ دار و رسن ہیں کہ جو تھے
میں کہ خود محرم ذوق پروازہم راز سر بلندیچاند تاروں کی محفل سے نظریں چرائےمیں کہ خود ساغر شوقپیمانۂ جذب و مستیحلقۂ مے گساراں سے دامن بچائےمیں کہ خود جرأت احترام دیدخود جرأت احترامصرف اک جرأت آرزو پر پشیماںمیں کہ خود سارے عالم کے درد و الم کی امیںاپنے زخموں کے آتش نوائی پہ خنداںمیں کہ ہر راز سر بستہ سے آشنامیں کہ آہنگ ہستی کی ہم راز ہوںمیں ہوں صدیوں کی کھوئی ہوئی اک صدامیں عناصر کا ٹوٹا ہوا ساز ہوں
اک کبھی نہ بیتنے والی شباک ہاتھ نہ آنے والا دناس شب سے جان چھڑانے میںاس دن کو ڈھونڈ کے لانے میںہم ریزہ ریزہ ہو کے رہےجو پایا تھا وہ کھو کے رہےاس پانے میں اس کھونے میںہونے میں اور نہ ہونے میںکچھ سود و زیاں کا ہاتھ ہے کیایا اور ہی کوئی بات ہے کیااس ساری اضافی باتوں میںبس ایک ہی بات ضروری ہےیاں شب کی سحر سے دوری ہےاس شب کے تسلسل میں پنہاںاک گھور اندھیرا جہل کا ہےجس جہل کی کالی آندھی نےجیون کے سچ کو چاٹ لیااور ہم نے اسی ویرانی میںاک اندھا جیون کاٹ لیااس کالے اندھے جیون میںغربت کی تیرہ بختی نےکچھ قسمت کے احسان نے بھیکچھ جبر وقت کی سختی نےانسان سے کیا کچھ چھینا ہےیہ جینا کیسا جینا ہےپسماندگیٔ جاں روح تلکدر آئی سیاہی اوڑھے ہوئےہم مقتل شب میں آ بیٹھےانکار کا دامن چھوڑے ہوئےانکار کہ جس کی جنبش لبہر شب کی سحر بن سکتی ہےیہ جرأت و نافرمانیٔ شببے بس کی سپر بن سکتی ہےپھر کیوں اس قتل گہہ شب میںآ بیٹھے ہیں جی ہار کے ہماقرار سے لب آسودہ سہیمنکر تو نہیں انکار کے ہم
جن سر افرازوں کی روحیں آج ہیں افلاک پرموت خود حیراں تھی جن کی جرأت بے باک پر
گنگناتی عشرتیں دے کر دل غم ناک کوہم نوا اپنا بنا کر جرأت بے باک کو
خاک کے ذروں کو تنویر نظر دیتا ہے وہپھول کی پتی کو لوہے کا جگر دیتا ہے وہجب اسے مہمیز کرتی ہے تخیل کی اداظلمت شب کو تجلیٔ سحر دیتا ہے وہسازش بربادئ عالم جہاں جب بھی ہوئیساری دنیا جاگ جاتی ہے خبر دیتا ہے وہجب رگ جمہوریت کو کاٹنے بڑھتا ہے ظلمبے گناہی صبر کرتی ہے اثر دیتا ہے وہاس قدر فطرت کے حسن دل ربا پر ہے فداطالب سر ہو اگر فطرت تو سر دیتا ہے وہخود تہی دامن سہی لیکن زر اخلاص سےدامن تہذیب انسانی کو بھر دیتا ہے وہعظمت آدم سے کر کے منضبط اپنا سخنغم زدوں کو جرأت ذوق سفر دیتا ہے وہموت کو تسخیر کر کے قوت ادراک سےمردنی چہروں کو جینے کا ہنر دیتا ہے وہقلب شاعر کو ملی ہیں عشق کی سب برکتیںعشق ہی سے قلب آہن موم کر دیتا ہے وہ
تسلط لاکھ یہ صیاد و برق و باغباں کر لیںنہیں ممکن کہ ہم باہر چمن سے آشیاں کر لیںبدل دیں یہ زمیں پیدا نیا اک آسماں کر لیںہم اپنے جذبۂ دل سے مہیا اک جہاں کر لیںابھی سب دغدغہ مٹ جائے یہ صیاد و گلچیں کاجو ہم پیدا شعور زندگیٔ گلستاں کر لیںزمانہ دے رہا ہے دعوت بیداری و جرأتنگاہ و دل کو آمادہ برائے امتحاں کر لیںپہنچ جائیں ہم استقلال کی ایسی بلندی پرنظر مستغنیٔ ہنگامۂ سود و زیاں کر لیںابھی ہو جائیں پارہ پارہ سب اعدا کی تدبیریںذرا ہم مجتمع اپنے اگر تاب و تواں کر لیںگزر اچھا نہیں ہر دم یہ ضد پر آشیانے کیبس اپنا راستہ ہی مختلف اب بجلیاں کر لیںبدل جائے ابھی انعامؔ نظم شورش باطلذرا ہم اتباع مشرب روحانیاں کر لیں
امیدہے غلط نوحۂ غم گوہر شہوار ہے توفی الحقیقت بڑی عزت کا سزا وار ہے توموجزن ہے تری رگ رگ میں شہیدوں کا لہوبدر و احزاب کی جنگوں کا علم دار ہے توجرأت خالد جاں باز ملی ہے تجھ کووارث زور شہ حیدر کرار ہے توکون کہتا ہے تجھے جنس دنی ہیچ مبرزتو بہت کچھ ہے اگر مسلم بیدار ہے توتو اگر چاہے نکل سکتی ہے صحرا میں بھی راہسعئ پیہم کے لیے کوہ گراں اک پر کاہکون کہتا ہے کہ سامان سے وابستہ ہےتیری عزت ترے ایمان سے وابستہ ہےسب سے اول تجھے لازم ہے خدا کی پہچانآدمیت اسی عرفان سے وابستہ ہےخود گرا پڑتا ہے لازم ہے خدا کی پہچانتیری وقعت بھی تری آن سے وابستہ ہےاس سے کٹ جائے تو کوڑی بھی نہیں مول تراقدر و قیمت تری قرآن سے وابستہ ہےتو ہے شاکی کہ زمانہ نے تجھے کھویا ہےاور زمانے کو شکایت ہے کہ تو سویا ہے
زہد و پیری میں بھی اک جرأت رندانہ تھیسامنے موت کے تدبیر حریفانہ تھی
جاں نثار ازلی شیر دکن کا وارثپیشواؤں کے گرجتے ہوئے رن کا وارث
یہ تیری جرأت اظہار یہ بپھرا ہوا لہجہیقیں مجھ کو دلاتے ہیںتری بیٹی کو یہ شکوہ نہیں ہوگا
انہیں شعلوں کی تمازت کا سہارا لے کربربریت کے ہر ایوان سے ٹکرایا ہوںہر کڑے وقت میں سنگین چٹانوں کی طرحتند حالات کے طوفان سے ٹکرایا ہوںتو کہاں اور مری جرأت بے باک کہاںتجھ کو اس کاہش جاں سوز کا ادراک کہاں
جاں نثار وطنچھوڑ کر انجمنبھایا گنگ و جمنہند کا بانکپنراہ میں کھو گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books