aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nuur-e-husn"
غریبوں کی دنیا ہے عزت سے خالیغریبوں کی دنیا ہے زینت سے خالیہر اک عظمت و شان و شوکت سے خالییہ دنیا ہے نور مسرت سے خالیغریبوں کی دنیا میں راحت نہ ڈھونڈھوغریبوں کی دنیا میں راحت نہیں ہے
ہندو مسلم بھید مٹاسب سے اپنی یاری رکھچاہے اپنی جان گنواآن وطن کی پیاری رکھدشمن سے بھی یاری رکھایسی بھی دل داری رکھمایوسی سے مت گھبراکوشش اپنی جاری رکھپہلے دینی فرض نبھاپیچھے دنیا داری رکھدور سفر پر جانا ہےچلنے کی تیاری رکھکھوٹے سکے مت اپناآنکھوں میں بیداری رکھٹھونک بجا کر سب کو دیکھاتنی تو ہشیاری رکھتیرے کام یہ آئیں گیباتیں دھیان میں ساری رکھچاہے جتنے دیپ جلاایک گلی اندھیاری رکھنورؔ غزل کے پھول کھلامشق سخن کو جاری رکھلفظوں کو گل ریز بنانظم و غزل معیاری رکھ
میں کیا چاہتا ہوں میں کیا چاہتا ہوںہر اک چیز کو بھولنا چاہتا ہوںمری چاہ کو دیکھ کیا چاہتا ہوںقسم چاہتا ہوں جفا چاہتا ہوںمحبت میں تیری مٹا چاہتا ہوںفنا ہو کے لطف بقا چاہتا ہوںوہی پیاری پیاری ادائیں تمہاریمیں اک بار پھر دیکھنا چاہتا ہوںمدد المدد بے خودیٔ محبتمیں اپنے تئیں ڈھونڈھنا چاہتا ہوںتری چاہ کا چاہ کہتے ہیں جس کواسی چاہ میں ڈوبنا چاہتا ہوںمجھے نورؔ ہے درد دل کی تمنامگر درد بھی لا دوا چاہتا ہوں
حال دل دل نواز کیا جانےناز والا نیاز کیا جانےپوچھ رندوں سے راز سر بستہصوفیٔ پاکباز کیا جانےکس کو کہتے ہیں دیر کیا ہے حرمعاشقی امتیاز کیا جانےذرے ذرے پہ سجدہ ریزی ہےتیرا وحشی نماز کیا جانےمے پرستی میں کیفیت کیا ہےزاہد حق نواز کیا جانےجو حقیقت سے روشناس ہو نورؔوہ طلسم مجاز کیا جانے
وہ پردہ روئے پر انوار سے اٹھا نہ سکےہم اپنے سوئے ہوئے بخت کو جگا نہ سکےتڑپ تڑپ کے تو بسمل نے جان تک دے دیوہ آب تیغ کے دو گھونٹ بھی پلا نہ سکےہماری ان کی محبت رہی اسی صورتادھر بڑھا نہ سکے ہم ادھر گھٹا نہ سکےہزار ولولے موجود تھے طبیعت میںمگر جب ان سے ملی آنکھ بھی ملا نہ سکےنظر ملاتے ہی ساقی نے کر دیا بے خودپلائی ایسی کہ پھر ہوش میں ہم آ نہ سکےنہ پوچھ قصۂ بے چارگیٔ عشق نہ پوچھیہ راز وہ ہے کسی کو جو ہم بتا نہ سکےجناب نورؔ ہمیں تو مٹا دیا لیکنہمارے نقش محبت کو وہ مٹا نہ سکے
دل ہی میں درد دل رہے لب پر فغاں نہ ہوراز نہاں کا اور کوئی رازداں نہ ہواک جام میں جو جلوۂ کون و مکاں نہ ہوزاہد مرید حضرت پیر مغاں نہ ہویہ کیا کہا کہ راز محبت عیاں نہ ہوممکن نہیں کہ آگ لگے اور دھواں نہ ہودار و مدار تیرے ہی لطف و کرم پہ ہےتو مہرباں نہ ہو تو کوئی مہرباں نہ ہوانسان وہ کرے جو ملک بھی نہ کر سکیںفکر معاش نورؔ اگر درمیاں نہ ہو
بہار آئی کہ کوئی جھومتا مستانہ آتا ہےگھٹا آتی ہے یا اڑتا ہوا مے خانہ آتا ہےگریباں چاک دامن ٹکڑے ٹکڑے طوق گردن میںسر محشر ترا کس شان سے دیوانہ آتا ہےعجب حیرت فزا نظارہ ہے دربار قاتل کالئے سر ہاتھ میں ہر اک پئے نذرانہ آتا ہےکبھی اے نورؔ بت خانے کو کعبے میں نہاں دیکھاکبھی کعبے میں پوشیدہ نظر بت خانہ آتا ہے
دل آج صرف ناز کئے جا رہا ہوں میںپابندیٔ نیاز کئے جا رہا ہوں میںنقش قدم پہ ان کے جھکا کر جبین شوقسجدوں سے سرفراز کئے جا رہا ہوں میںاے عشق بھر کے دے مجھے پھر جام بے خودیاب پھر کچھ امتیاز کئے جا رہا ہوں میںدیکھا ہے اس نے پھر نگہ فتنہ ساز سےپھر دل پہ فخر و ناز کئے جا رہا ہوں میںاس مہ جبیں کے حسن کا دے کر حسیں فریبتاروں سے ساز باز کئے جا رہا ہوں میںپھر کر رہا ہوں شاہد فطرت سے چھیڑ چھاڑپھر انکشاف راز کئے جا ہوں میں
میں ایک لمحہنگار ہستی کا انتہائی لطیف پیکرجلال ہستی میں سر اٹھائےجمال ہستی کی سر خوشی میںنہ جانے کب سے کھڑا ہوا ہوںکروڑوں صدیاں گزر چکی ہیںمگر یہ لمحہچراغ ہستی میں لو نما ساہر ایک سپنے ہر ایک منظر میںضو فشاں ہے
جنم سے موت کا وقفہ وجود کا پرتوہزاروں خواب جگائے ہوئے تصور میںعجیب کرب سے لبریز اپنی ذات لیےبھٹک رہا ہے خلا میںازل سے ایسے ہیبغیر معنی و مقصد بلا کا شور لیےنحیف پیکر ہستی خزاں رسیدہ ہےمری حیات کا مقصد اگر چنیدہ ہےرہا وہ کس لیے مخفیعجب تماشا ہےحصول زیست سے کیوں نورؔ نا شناسا ہےبقا کی راہ یہاں دور تک ندارد ہےہر ایک لمحہ یہاں موت سے عبارت ہےمرے وجود کا احساس کیا شرارت ہے
انشاؔ جی یہ کون آیا کس دیس کا باسی ہےہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں اداسی ہےخوابوں کے گلستاں کی خوشبوئے دل آرا ہےیا صبح تمنا کے ماتھے کا ستارا ہےترسی ہوئی نظروں کو اب اور نہ ترسا رےاے حسن کے سوداگر اے روپ کے بنجارےرمنا دل انشاؔ کا اب تیرا ٹھکانا ہواب کوئی بھی صورت ہو اب کوئی بہانا ہو
ماضی کی ڈیوڑھی کی چلمنکھلے دریچے کی جالی سےچھن چھن آئیںروپ کی جوت حنا کی لالی کل کی یادیںسوندھی خوشبو ٹھنڈی بوندیںکل کے باسی آنسو جن سےفردا کے بالیں کا پردا بھیگ رہا ہےسحر زدہ محبوس حسینہسپنوں کے شیلاٹ کی رانیآئینوں میں حسن شکستہ دیکھ رہی ہےکتنے چہرے ٹوٹے ٹوٹےپہچانے ان پہچانے سےآگے پیچھے آگے پیچھے بھاگ رہے ہیںقلعے کے آسیب کی صورت کس کی سسکی کس کا نالہکمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہے
تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےاے مرے سوچ نگر کی رانی اے مرے خلد خیال کی حوراتنے دنوں جو میں گھلتا رہا ہوں تیرے بنا یونہی دور ہی دورسوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا میں من سے گیا پھر تن سے گیاشہر وطن میں اجنبی ٹھہرا آخر شہر وطن سے گیاروح کی پیاس بجھانی تھی پر یہاں ہونٹوں کی پیاس بھی بجھ نہ سکیبچتے سنبھلتے بھی ایک سلگتا روگ بنی مرے جی کی لگیدور کی بات نہ سوچ ابھی مرے ہات میں تو ذرا ہات تو دےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےباغ میں ہے اک بیلے کا تختہ بھینی ہے اس بیلے کی سگندھاے کلیو کیوں اتنے دنوں تم رکھے رہیں اسے گود میں بندکتنے ہی ہم سے روپ کے رسیا آئے یہاں اور چل بھی دیئےتم ہو کہ اتنے حسن کے ہوتے ایک نہ دامن تھام سکےصحن چمن پر بھونروں کے بادل ایک ہی پل کو چھائیں گےپھر نہ وہ جا کر لوٹ سکیں گے پھر نہ وہ جا کر آئیں گےاے مرے سوچ نگر کی رانی وقت کی باتیں رنگ اور بوہر کوئی ساتھ کسی کا ڈھونڈے گل ہوں کہ بیلے میں ہوں کہ توجو کچھ کہنا ہے ابھی کہہ لے جو کچھ سننا ہے سن لےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے
یہ بڑا چاند چمکتا ہوا چہرہ کھولےبیٹھا رہتا ہے سر بام شبستاں شب کوہم تو اس شہر میں تنہا ہیں، ہمیں سے بولےکون اس حسن کو دیکھے گا یہ اس سے پوچھوسونے لگتی ہے سر شام یہ ساری دنیاان کے حجروں میں نہ در ہے نہ دریچہ کوئیان کی قسمت میں شب ماہ کو رونا کیساان کے سینے میں نہ حسرت نہ تمنا کوئی
سوچ رہا ہوں جنگ سے پہلے، جھلسی سی اس بستی میںکیسا کیسا گھر کا مالک، کیسا کیسا مہماں تھاسب گلیوں میں ترنجن تھے اور ہر ترنجن میں سکھیاں تھیںسب کے جی میں آنے والی کل کا شوق فراواں تھامیلوں ٹھیلوں باجوں گاجوں باراتوں کی دھومیں تھیںآج کوئی دیکھے تو سمجھے، یہ تو سدا بیاباں تھاچاروں جانب ٹھنڈے چولھے، اجڑے اجڑے آنگن ہیںورنہ ہر گھر میں تھے کمرے، ہر کمرے میں ساماں تھااجلی اور پر نور شبیہیں روز نماز کو آتی تھیںمسجد کے ان طاقوں میں بھی کیا کیا دیا فروزاں تھااجڑی منڈی، لاغر کتے، ٹوٹے کھمبے خالی کھیتکیا اس نہر کے پل کے آگے ایسا شہر خموشاں تھا
تیرے جبیں سے نور حسن ازل عیاں ہےاللہ رے زیب و زینت کیا اوج عز و شاں ہے
اے خاک ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہےدریائے فیض قدرت تیرے لئے رواں ہےتیری جبیں سے نور حسن ازل عیاں ہےاللہ رے زیب و زینت کیا اوج عز و شاں ہےہر صبح ہے یہ خدمت خورشید پر ضیا کیکرنوں سے گوندھتا ہے چوٹی ہمالیا کی
گوشہ گوشہ تیرا نور علم سے معمور ہےذرہ ذرہ حامل نور چراغ طور ہے
وہ دامن کا ہر اک خار مغیلاں سے الجھناطول و عرض دشت و دریا پار کر جاناوہ ہر ذرے میں دھرتی کی صدا سنناوہ ہر قطرے کے آئینے میںنور حسن مطلق کا لرزنادل نظر حرف و ہنر کا ایک ہو جاناتکلم جستجو رفتار و غم کا مدعا پاناکوئی عیسیٰ نفس دیتا تھا نام زیست نذرانہلرزتا التہاب آگہی سے تھا مری نظروں کا پیمانہگریزاں ساعتوں کے کارواں کو کس نے پکڑا ہےنظر محو مآل دوش و فردا ہےکئی دیوار و سقف و سائباں کے منجمد چہرےکئی اونچی فصیلیں راہ میں حائلکئی بے فیض کاوش ہائے تنہائیکئی بے مہریاں پیکار بے مفہوم پر مائلکئی تیروں نے میری خیمہ گاہ شوق کو چھیداکئی ترکش ہوئے اس جسم پر خالیہوئی جاتی ہے رزم زندگانی مضمحل گھائل
اک خواب خاص چشم محمد میں تھا چھپاتعبیر نور عین محمد نے عام کی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books