aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "peshkash"
بعد گاندھی کے نہ سن ہم نے سماں دیکھا کیافصل گل آتے ہی ہر باغ و چمن اجڑا کیادل ہی افسردہ ہو جب پیشکش صہبا کیاآنکھ ہی جب نہ رہے دعوت نظارہ کیا
فریج کا ٹھنڈا پانی پیناگھی والی روٹی کھانااجلے بستر پہ سو رہناٹی وی سے جی بہلانااللہ میرے گھر آنامیرے گھر میں چھپ جانا
احتجاجی مظاہرے کے دورانادھر ادھر بھاگتے ہوئےلوگوں کے بیچ سڑک پر پھٹنے والےآنسو گیس کے شیل کی طرحآپ کی نظمیں پڑھتے ہوئےآنکھوں میں جلن ہونے لگتی ہےگلے میں خراشیں پڑ جاتی ہیںناک سے بے تحاشا پانی بہنے لگتا ہےبھاگنے والے لوگوں کی طرحدل بہت زور سے دھڑکنے لگتا ہےاپنی حالیہ نظموں میںسیوریج پائپ کے ساتھچلنے والی خود رو بیلوں کے بجائےآپ گندے پانی کا ذکر کر رہے ہیںریلوے لائن کے آس پاسکھلنے والے پھولوں کے بجائے ایکسپریس ٹرین پرنا معلوم ڈاکوؤں کی فائرنگ کا ذکرخطرے کی علامت ہےاور کولہی عورتوں کے خلاف پولیس آپریشن کی بات توانتہائی پریشان کن ہےورلڈکپ کی خوشی میںہوائی فائرنگ سے ہلاک ہونے والیعورت کی موت محض اتفاقیہ تھیآپ اس کی یاد میں نعرے بازی نہ کریںقاعد حزب اختلاف کی طرحآپ کو ہماری ہر پالیسی سے اختلاف ہےآپ کے لیے ہمارا ہر آئینی قدم غیر آئینی ہےاور ہماری ہر پیشکش قبولآپ کو ہماری ہر بات پر غصہ آتا ہےاور ہمیں خیر چھوڑیںآپ کی نئی نظم کا ہر لفظکرائے کے گوریلوں کی بندوقوں سےنکلنے والی گولیوں کی طرح ہےہم آپ کو ایک سزا یافتہ دہشت بنا سکتے ہیںیا ایک غیر ملکی ایجنٹ قرار دے سکتے ہیںآپ غدار بھی ہو سکتے ہیںمگر فی الحال ہمارے لیےآپ ایک اشتعال انگیز شاعر ہیں
آداب آدابتسلیمات تسلیماتمزاج اقدسفضل ربی ہےنمازیں پڑھتے ہیںفراغتوں سے ڈرتے ہیںاللہ خیروبرکت دےسنا ہے آپ نے نئی گاڑیخرید لیجی ہاں مرسڈیز ہےاللہ کے فضل سےگرین کارڈ ہولڈر بھی ہیںمگر آپ کا وہ کمیونزمآپ تو خاصے ریڈیکل تھےشکر باریٔ تعالی کاجس نے اندھیروں میںروشنی دکھائیاللہ بڑا بادشاہ ہےلاس اینجلز کے پوش قبرستان میںجگہ بک کرا دی ہےآپ کا کیا ارادہ ہےفتنہ و فساد سےنجات ملی ہے نہ ملے گیکیا آپ کو ویزا بھجوائیںپیشکش کا شکریہمگر اپنے دیسی قبرستان جیسیتازہ ہوائیں امریکہ میں کہاںاور پھر اپنے یہاں بکنگ کیبھی ضرورت نہیںمیں تو کہتا ہوں قبلہآپ بھی یہیں رک جائیںعمر کی آخری کگار پر کھڑے ہیںمیں نہیں سمجھتا کہ بلاوا آنے میںکوئی دیر ہوگیقیل و قال سے کام نہ لیںایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیںقبرستان کی ہری بھری فضاؤں میںخوب گزرے گیجو مل بیٹھیں گےدیوانے دو
شادی کی پیشکش پہ رہے گا مرا جواببالکل پسند آپ کی صورت نہیں مجھے
میں کہ اس کرب قیامت سے ہوں آگاہ مجھےپیشکش جام کی کرتے ہوئے خوف آتا ہےتیرے اعصاب پہ یہ بار مبادا ہو گراں اس درجہفرش ہستی پہ بکھر جائے تو ٹکڑے ہو کر
تیری صورت جب بھی یاد آئی جگر تڑپا گئیتیری فرقت میں مرے پاؤں میں کل موچ آ گئیخامشی سی میری دنیائے نظر میں چھا گئیکر کے بحر غم میں میری کشتئ دل پاش پاشبازیٔ گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
مقام عظمت انساں کو تو نے فاش کیاجمود بستہ غلامی کو پاش پاش کیاحیات صبح محبت کے نور میں گم ہےعجیب چیز ترا دل کشا تبسم ہےیہ جبر و قہر کے بندے یہ شور و شر کے غلامنہ پا سکیں گے تری زندگی کی رمز دوامدیا ہے صلح و مساوات کا سبق تو نےعطا کیا ہے جنوں کو نیا افق تو نےفنا کدے کو بنایا ہے جنت گل پوشرواں دواں ہیں جہاں نیل و گنگ دوش بدوشیہ معجزہ ہے ترے ذوق تازہ کاری کاکہ سرنگوں ہے فر و فال شہریاری کانہیں ہے تیرے سوا کوئی راز دان وطنتجھی سے فائز منزل ہے کاروان وطنوفا کے راگ محبت کی آگ لے کے گیاتو اپنے ساتھ وطن کا سہاگ لے کے گیاستم سے روح صداقت کبھی نہ ہارے گینگاہ عشق تجھے تا ابد پکارے گی
بدھا عظیم شخص تھاجو تخت و تاج چھوڑ کربتان نسل و قومیتوقار عز و سلطنتغرور جاہ و مرتبتکے بندھنوں کو توڑ کربہ زیر سایۂ شجرتپسیا میں محو تھاگیان دھیان میں مگننئی روش خیال میںجو آدمی کو آدمی کے ظلم سے نجات دےجو ذات پات کے طلسم سامری کو مات دےبرہمنوں کی قدغنوں کا زور پاش پاش ہوجہاں میں جو اندھیر ہے اسے شکست فاش ہووہ سوچتا چلا گیا اسے سراغ مل گیامہاتما مہاتما عظیم اس کی آتماکہ جس کے دل میں کرب کائنات تھاستودۂ صفات تھاپکار کر کہا کہ اے جہان غم کے باسیومری صدا کو تو سنواہنسا پرمو دھرما اک اصول لا زوال ہےیہ فکر بے نظیر ہے یہ سوچ بے مثال ہےکسی کو دکھ نہ دو کہ یہ گناہ ہے وبال ہےجو اس سے منحرف ہوئے تو زندگی محال ہےیہی ہے راز زندگیطریق صلح و آشتییہی نجات روح ہےیہی ہے دل کی شانتیمہاتما عظیم تھامہاتما نے سچ کہا
یہ دھند شک کی گر چھٹےسکوت گر انا کا پاش پاش ہوتو ہم بھی آنکھ کھول کریہ دیکھ لیںہمارے اپنے درمیاںصلیب فاصلوں کی ہے کہاں کہاں گڑھی ہوئیخلوص کی جو کہکشاںہمارے سر پہ خیمہ زن تھی آخرش کہاں گئیکہاں گئی چمک دمک وہ روشنیکہ جس سے فیضیاب تھےہماری زندگی کے دن جو الفتوں کے خواب تھےیہ دھند شک کی گر چھٹےسکوت گر انا کا پاش پاش ہوتو ایک بار پھر ہمارے درمیاں کے فاصلےسمٹ کے قربتوں کا روپ دھار لیںسو ہم بھی زندگی سنوار لیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books