aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pichak"
یہ بیل پچک جائے گا سوچا نہیں میں نےاب کچلا گیا پیسا گیا میرے بدن سے
پچک کے جو ابھر آئے گی پہلی حالت میںگناہ کو نہ چھپاؤ
پچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہو
تپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہے
مگر دوزخ پگھل جائے جو میرے سانس اپنا لےتم اپنی مام کے بے حد مرادی منتوں والے
کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیں
ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیںکوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
میری ہر فتح میں ہے ایک ہزیمت پنہاںہر مسرت میں ہے راز غم و حسرت پنہاں
ہے منجمدیا پگھل رہا ہے
اور بھول گئے پچھلی رت میںکیا کھویا تھا کیا پایا تھا
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیںجب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےزندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکار
ہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گا
پرائے شعلوں میں جل رہا ہےپگھل رہا ہے
کبھی پگھل بھی سکتے ہیںوہ بندشوں سے کہتا تھا
پچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے
کبھی ہم سن حسینوں میں بہت خوش کام و دل رفتہکبھی پیچاں بگولہ ساں کبھی جیوں چشم خوں بستہ
کوئی دھوکا نہ ہو؟ایسا کوئی شعبدہ پنہاں نہ ہو؟
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے گلاب چہرے پہ مسکراہٹکہ جیسے چاندی پگھل رہی ہو
تھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books