aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "piite"
1وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاجب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ کا ساگر چھلکے گاجب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیجس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مر مر کر جیتے ہیںجس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیںان بھوکی پیاسی روحوں پر اک دن تو کرم فرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمانا کہ ابھی تیرے میرے ارمانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںمٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںانسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیدولت کے لیے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گاچاہت کو نہ کچلا جائے گا غیرت کو نہ بیچا جائے گااپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ دنیا شرمائے گیوو صبح کبھی تو آئے گیبیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کےٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کےجب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمجبور بڑھاپا جب سونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گامعصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گاحق مانگنے والوں کو جس دن سولی نہ دکھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیفاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گےسینوں کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گےیہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بنائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گی2وہ صبح ہمیں سے آئے گیجب دھرتی کروٹ بدلے گی جب قید سے قیدی چھوٹیں گےجب پاپ گھروندے پھوٹیں گے جب ظلم کے بندھن ٹوٹیں گےاس صبح کو ہم ہی لائیں گے وہ صبح ہمیں سے آئے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیمنحوس سماجی ڈھانچوں میں جب ظلم نہ پالے جائیں گےجب ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے جب سر نہ اچھالے جائیں گےجیلوں کے بنا جب دنیا کی سرکار چلائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیسنسار کے سارے محنت کش کھیتوں سے ملوں سے نکلیں گےبے گھر بے در بے بس انساں تاریک بلوں سے نکلیں گےدنیا امن اور خوشحالی کے پھولوں سے سجائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گی
اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیاتحق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذاتمیں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہےہر دم متغیر تھے خرد کے نظریاتمحرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سےبینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتاتآج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابتمیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافاتہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندےتو خالق اعصار و نگارندۂ آناتاک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوںحل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالاتجب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچےکانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ باتگفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتاجب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالاتوہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبودوہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماواتمشرق کے خداوند سفیدان فرنگیمغرب کے خداوند درخشندہ فلزاتیورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہےحق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلماترعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میںگرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عماراتظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہےسود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجاتیہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومتپیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساواتبیکاری و عریانی و مے خواری و افلاسکیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحاتوہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محرومحد اس کے کمالات کی ہے برق و بخاراتہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومتاحساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتآثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخرتدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا ماتمے خانہ کی بنیاد میں آیا ہے تزلزلبیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خراباتچہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شامیا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کراماتتو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میںہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقاتکب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہدنیا ہے تری منتظر روز مکافات
وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاجب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ ساگر چھلکے گاجب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیجس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مرمر کے جیتے ہیںجس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیںان بھوکی پیاسی روحوں پر اک دن تو کرم فرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمانا کہ ابھی تیرے میرے ارمانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںمٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںانسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیدولت کے لئے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گاچاہت کو نہ کچلا جائے گا غیرت کو نہ بیچا جائے گااپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ دنیا شرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیبیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کےٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کےجب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائے جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمجبور بڑھاپا جب سونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گامعصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گاحق مانگنے والوں کو جس دن سولی نہ دکھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیفاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گےسینے کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گےیہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بتائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گی
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگاسکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگاگزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والےبنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگاکبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گےبرہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہوگاسنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخرجو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگانکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھاسنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگاکیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میںتو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خوار ہوگادیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگاتمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گیجو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگاسفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کاہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگاچمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کویہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہوگاجو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایایہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہوگاکہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیںتو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگاخدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارےمیں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگایہ رسم بزم فنا ہے اے دل گناہ ہے جنبش نظر بھیرہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہوگامیں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے در ماندہ کارواں کوشرر فشاں ہوگی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہوگانہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کاتو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہوگانہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کیکہیں سر راہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
بیٹھے ہیں کتنے خوش ہو اونچے چھوا کے بنگلےپیتے ہیں مے کے پیالے اور دیکھتے ہیں جنگلےکتنے پھرے ہیں باہر خوباں کو اپنے سنگ لےسب شاد ہو رہے ہیں عمدہ غریب کنگلےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
اس گرانی میں بھلا کیا غنچۂ ایماں کھلےجو کے دانے سخت ہیں تانبے کے سکے پل پلےجائیں کپڑے کے لیے تو دام سن کر دل ہلےجب گریباں تا بہ دامن آئے تو کپڑا ملے
ہر اک دور میں ہر زمانے میں ہمزہر پیتے رہے، گیت گاتے رہےجان دیتے رہے زندگی کے لیےساعت وصل کی سر خوشی کے لیےدین و دنیا کی دولت لٹاتے رہےفقر و فاقہ کا توشہ سنبھالے ہوئےجو بھی رستہ چنا اس پہ چلتے رہےمال والے حقارت سے تکتے رہےطعن کرتے رہے ہاتھ ملتے رہےہم نے ان پر کیا حرف حق سنگ زنجن کی ہیبت سے دنیا لرزتی رہیجن پہ آنسو بہانے کو کوئی نہ تھااپنی آنکھ ان کے غم میں برستی رہیسب سے اوجھل ہوئے حکم حاکم پہ ہمقید خانے سہے، تازیانے سہےلوگ سنتے رہے ساز دل کی صدااپنے نغمے سلاخوں سے چھنتے رہےخونچکاں دہر کا خونچکاں آئینہدکھ بھری خلق کا دکھ بھرا دل ہیں ہمطبع شاعر ہے جنگاہ عدل و ستممنصف خیر و شر حق و باطل ہیں ہم
میں اکثر سرد راتوں میںزمین خانۂ دل پراکیلے بیٹھ جاتا ہوںپھر اپنا سر جھکا کر یاد عہد رفتگاں دل میں سجاتا ہوںخیال ماضیٔ دوراں مرے اس جسم کے اندر عجب طوفاں اٹھاتا ہےہزاروں میل کا لمبا سفر پیدل کراتا ہےمیں یادوں کے دھندلکوں میں تمہارے نقش پا کو ڈھونڈنے جب بھی نکلتا ہوںتو اک تاریک وادی میں اترتا ہوںجہاں یادوں کی کچھ بے رنگ تصویریں مجھے بکھری پڑی معلوم دیتی ہیںمجھے آواز دیتی ہیںکہ وحشت کا یہ جنگل باہیں پھیلائے بلاتا ہےمرا شوق نظر تھک کر زمین پر بیٹھ جاتا ہےاچانک جب تمہاری یاد کے وحشی جانور آواز دیتے ہیںمیں ڈرتا ہوںکہ جیسے کوئی بچہ اپنے ہی سائے سے ڈر جائےکوئی شیشہ بکھر جائےکوئی فرقت میں گھبرائےمرے تار نفس پر ضرب کرتی مستقل دھڑکنمجھے رکنے نہیں دیتیمجھے تھکنے نہیں دیتییہ بے چینی مجھے پھر اک سفر پر لے کے آتی ہےمیں چلتا ہوںکہ جیسے اک مسافر بعد مدت اپنے گھر جائےٹھٹھرتی سرد راتوں میںکوئی جیسے کہ جم جائےکہ جیسے سانس تھم جائےمگر میرے مقدر میںسکون قلب و جاں کب ہےنگاہ یاس میں مبہم سہی کوئی نشاں کب ہےکہیں پر شورش امواج دریا ہےکہیں آواز قلقل ہےمگس کا شور ہے سرسر صبا کی آہ و گریہ ہےسو دل اپنا مچلتا ہےکسی سے کب بہلتا ہےدھواں اٹھتا ہے دل سے آنکھ میں طوفاں مچلتا ہےطبیعت زور کرتی ہےیہ دھڑکن شور کرتی ہےتمہاری یاد کے یہ چیختے اور پیٹتے لمحےمجھے رونے نہیں دیتےمجھے سونے نہیں دیتے
آج لیبر یونین میں شادمانی آئی ہےآج مزدوروں کو یاد اپنی جوانی آئی ہےمل کے مالک کو مگر یاد اپنی نانی آئی ہےیا الٰہی کیا بلائے آسمانی آئی ہےسنتے ہیں مزدور سے مالک کا مہرہ پٹ گیا''ایک جا حرف وفا لکھا تھا وہ بھی مٹ گیا''
خدا حشر میں ہو مددگار میراکہ دیکھی ہیں میں نے مسز سالا مانکا کی آنکھیںمسز سالا مانکا کی آنکھیںکہ جن کے افق ہیں جنوبی سمندر کی نیلی رسائی سے آگےجنوبی سمندر کی نیلی رسائیکہ جس کے جزیرے ہجوم سحر سے درخشاںدرخشاں جزیروں میں زرتاب و عناب و قرمز پرندوں کی جولاں گہیںایسے پھیلی ہوئی جیسے جنت کے داماںپرندے ازل اور ابد کے مہ و سال میں بال افشاں!خدا حشر میں ہو مددگار میراکہ میں نے لیے ہیں مسز سالا مانکا کے ہونٹوں کے بوسےوہ بوسے کہ جن کی حلاوت کے چشمےشمالی زمینوں کے زرتاب و عناب و قرمز درختوںکے مدہوش باغوں سے آگےجہاں زندگی کے رسیدہ شگوفوں کے سینوںسے خوابوں کے رم دیدہ زنبور لیتے ہیں رس اور پیتے ہیں وہکہ جس کے نشے کی جلا سےزمانوں کی نادیدہ محراب کے دو کناروں کے نیچےہیں یک بارگی گونج اٹھتے خلا و ملا کے جلاجلجلاجل کے نغمے بہم ایسے پیوست ہوتے ہیں جیسےمسز سالا مانکا کے لب میرے لب سے!
1یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیںزندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نےشمع جلتی ہے پر اک رات میں جل جاتی ہےیاں تو ایک عمر اسی طرح سے جلتے گزریکون سی خاک ہے یہ جانے کہاں کا ہے خمیراک نئے سانچے میں ہر روز ہی ڈھلتے گزریکس طرح میں نے گزاری ہیں یہ غم کی گھڑیاںکاش میں ایسی کہانی کو سنا بھی سکتاطعنہ زن ہیں جو مرے حال پہ ارباب نشاطان کو اک بار میں اے کاش رلا بھی سکتامیں کہ شاعر ہوں میں پیغام بر فطرت ہوںمیری تخئیل میں ہے ایک جہان بیداردسترس میں مری نظارۂ گلہائے چمنمیرے ادراک میں ہیں کن فیکوں کے اسرارمرے اشعار میں ہے قلب حزیں کی دھڑکنمیری نظموں میں مری روح کی دل دوز پکارپھر بھی رہ رہ کے کھٹکتی ہے مرے دل میں یہ باتکہ مرے پاس تو الفاظ کا اک پردہ ہےصرف الفاظ سے تصویر نہیں بن سکتیصرف احساس میں حالات کی تفسیر کہاںصرف فریاد میں زخموں کی وہ زنجیر کہاںایسی زنجیر کہ ایک ایک کڑی میں جس کیکتنی کھوئی ہوئی خوشیوں کے مناظر پنہاںکتنی بھولی ہوئی یادوں کے پر اسرار کھنڈرکتنے اجڑے ہوئے لوٹے ہوئے سنسان نگرکتنے آتے ہوئے جاتے ہوئے چہروں کے نقوشکتنے بنتے ہوئے مٹتے ہوئے لمحات کا رازکتنی الجھی ہوئی راہوں کے نشیب اور فراز2کیا کہوں مجھ کو کہاں لائی مری عمر رواںآنکھ کھولی تو ہر اک سمت اندھیروں کا سماںرینگتی اونگھتی مغموم سی اک راہ گزارگرد آلام میں کھویا ہوا منزل کا نشاںگیسوئے شام سے لپٹی ہوئی غم کی زنجیرسینۂ شب سے نکلتی ہوئی فریاد و فغاںٹھنڈی ٹھنڈی سی ہواؤں میں وہ غربت کی تھکندر و دیوار پہ تاریک سے سائے لرزاںکتنی کھوئی ہوئی بیمار و فسردہ آنکھیںٹمٹماتے سے دیے چار طرف نوحہ کناںمضمحل چہرے مصائب کی گراں باری سےدل مجروح سے اٹھتا ہوا غم ناک دھواںیہی تاریکیٔ غم تو مرا گہوارہ ہےمیں اسی کوکھ میں تھا نور سحر کے مانندہر طرف سوگ میں ڈوبا ہوا میرا ماحولمیرا اجڑا ہوا گھر میرؔ کے گھر کے ماننداک طرف عظمت اسلاف کا ماتھے پہ غروراور اک سمت وہ افلاس کے پھیلے ہوئے جالبھوک کی آگ میں جھلسے ہوئے سارے ارماںقرض کے بوجھ سے جینے کی امنگیں پامالوقت کی دھند میں لپٹے ہوئے کچھ پیار کے گیتمہر و اخلاص زمانے کی جفاؤں سے نڈھالبھائی بھائی کی محبت میں نرالے سے شکوکنگہ غیر میں جس طرح انوکھے سے سوال''ایک ہنگامے پہ موقوف تھی گھر کی رونق''مفلسی ساتھ لیے آئی تھی اک جنگ و جدالفاقہ مستی میں بکھرتے ہوئے سارے رشتےتنگ دستی کے سبب ساری فضائیں بے حالاک جہنم کی طرح تھا یہ مرا گہوارہاس جہنم میں میرے باپ نے دم توڑ دیاٹوٹ کر رہ گئے بچپن کے سہانے سپنےمجھ سے منہ پھیر لیا جیسے مری شوخی نےمیرے ہنستے ہوئے چہرے پہ اداسی چھائیجیسے اک رات بھیانک مرے سر پر آئیراہیں دشوار مگر راہنما کوئی نہ تھاسامنے وسعت افلاک خدا کوئی نہ تھامیرے اجداد کی میراث یہ ویران سا گھرجس کو گھیرے ہوئے ہر سمت تباہی کے بھنورجس کی چھت گرتی ہوئی ٹوٹا ہوا دروازہہر طرف جیسے بکھرتا ہوا اک شیرازہنہ کہیں اطلس و کمخواب نہ دیبا و حریرہر طرف منہ کو بسورے ہوئے جیسے تقدیرمجھ کو اس گھر سے محبت تو بھلا کیا ہوتییاں اگر دل میں نہ جینے کی تمنا ہوتییہ سمجھ کر کہ یہی ہے مری قسمت کا لکھااس کی دیوار کے سائے میں لپٹا رہتالیکن اس دل کی خلش نے مجھے بیدار کیامجھ کو حالات سے آمادۂ پیکار کیابے کسی رخت سفر بن کر مرے ساتھ چلییاد آئی تھی مجھے گاؤں کی ایک ایک گلیلہلہاتی ہوئی فصلیں وہ مرے آم کے باغوہ مکانوں میں لرزتے ہوئے دھندلے سے چراغدور تک پانی میں پھیلے ہوئے وہ دھان کے کھیتاور تالاب کنارے وہ چمکتی ہوئی ریتمیرے ہم عمر وہ ساتھی وہ مرے ہمجولیمیرے اسکول کے وہ دوست مری وہ ٹولیایک بار ان کی نگاہوں نے مجھے دیکھا تھاجیسے اک بار مرے دل نے بھی کچھ سوچا تھا''میں نے جب وادئ غربت میں قدم رکھا تھادور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو''
اے جوانان وطن روح جواں ہے تو اٹھوآنکھ اس محشر نو کی نگراں ہے تو اٹھوخوف بے حرمتی و فکر زیاں ہے تو اٹھوپاس ناموس نگاران جہاں ہے تو اٹھواٹھو نقارۂ افلاک بجا دو اٹھ کرایک سوئے ہوئے عالم کو جگا دو اٹھ کرایک اک سمت سے شبخون کی تیاری ہےلطف کا وعدہ ہے اور مشق جفا کاری ہےمحفل زیست پہ فرمان قضا جاری ہےشہر تو شہر ہے گاؤں پہ بھی بمباری ہےیہ فضا میں جو گرجتے ہوئے طیارے ہیںبرسر دوش ہوا موت کے ہرکارے ہیںاس طرف ہاتھوں میں شمشیریں ہی شمشیریں ہیںاس طرف ذہن میں تدبیریں ہی تدبیریں ہیںظلم پر ظلم ہیں تعزیروں پہ تعزیریں ہیںسر پہ تلوار ہے اور پاؤں میں زنجیریں ہیںایک ہو ایک کہ ہنگامۂ محشر ہے یہیعرصۂ زیست کا ہنگامۂ اکبر ہے یہیاپنی سرحد پہ جو اغیار چلے آتے ہیںشعلہ افشاں و شرر بار چلے آتے ہیںخون پیتے ہوئے سرشار چلے آتے ہیںتم جو اٹھ جاؤ تو بے کار چلے آتے ہیںخوں جو بہہ نکلا ہے اس خوں میں بہا دو ان کوان کی کھودی ہوئی خندق میں گرا دو ان کورنگ گلہائے گلستان وطن تم سے ہےسورش نعرۂ رندان وطن تم سے ہےنشۂ نرگس خوبان وطن تم سے ہےعفت ماہ جبینان وطن تم سے ہےتم ہو غیرت کے امیں تم ہو شرافت کے امیںاور یہ خطرے میں ہیں احساس تمہیں ہے کہ نہیںیہ درندے یہ شرافت کے پرانے دشمنتم کہ ہو حامل آداب و روایات کہنجادہ پیما کے لیے خضر ہو تم یہ رہزنتم ہو خرمن کے نگہبان یہ برق خرمنخطۂ پاک میں زنہار نہ آنے پائیںآ ہی جائیں جو یہ زندہ تو نہ جانے پائیںمرد و زن پیر و جواں ان کے مظالم کے شکارخون معصوم میں ڈوبی ہوئی ان کی تلواریہ قیامت کے ہوس ناک غضب کے خوں خاران کے عصیاں کی نہ حد ہے نہ جرائم کا شماریہ ترحم سے نہ دیکھیں گے کسی کی جانبان کی توپوں کے دہن کر دو انہی کی جانبیہ تو ہیں فتنۂ بیدار دبا دو ان کویہ مٹا دیں گے تمدن کو مٹا دو ان کوپھونک دو ان کو جھلس دو کہ جلا دو ان کوشان شایان وطن ہو یہ بتا دو ان کویاد ہے تم کو کن اسلاف کی تم یادیں ہوتم تو خالد کے پسر بھیم کی اولادیں ہوتم تو تنہا بھی نہیں ہو کئی دم ساز بھی ہیںروس کے مرد بھی ہیں چین کے جاں باز بھی ہیںکچھ نہ کچھ ساتھ فرنگی کے فسوں ساز بھی ہیںاور ہم جیسے بہت زمزمہ پرداز بھی ہیںدور انسان کے سر سے یہ مصیبت کر دوآگ دوزخ کی بجھا دو اسے جنت کر دو
الفت کے پیمبر ہیں پرستار اسی کےاخلاص کی مے پیتے ہیں مے خوار اسی کےمردان مجاہد ہیں طلب گار اسی کےہندو ہوں کہ مسلم ہیں گرفتار اسی کے
مفلسی سے کرتے ہیں جب آدمیت کو جداجب لہو پیتے ہیں تہذیب و تمدن کے خدا
تیری پلکوں پہ یہ اشکوں کے ستارے کیسےتجھ کو غم ہے تری محبوب تجھے مل نہ سکیاور جو زیست تراشی تھی ترے خوابوں نےجب پڑی چوٹ حقائق کی تو وہ ٹوٹ گئیتجھ کو معلوم ہے میں نے بھی محبت کی تھیاور انجام محبت بھی ہے معلوم تجھےتجھ سے پہلے بھی بجھے ہیں یہاں لاکھوں ہی چراغتیری ناکامی نئی بات نہیں دوست میرےکس نے پائی ہے غم زیست کی تلخی سے نجاتچار و ناچار یہ زہراب سبھی پیتے ہیںجاں لٹا دینے کے فرسودہ فسانوں پہ نہ جاکون مرتا ہے محبت میں سبھی جیتے ہیںوقت ہر زخم کو ہر غم کو مٹا دیتا ہےوقت کے ساتھ یہ صدمہ بھی گزر جائے گااور یہ باتیں جو دہرائی ہیں میں نے اس وقتتو بھی اک روز انہی باتوں کو دہرائے گا
یہ دعویٰ ہےجہاں میں چند لوگوں کاکہ ہم نے زندگی کو جیت رکھا ہےہمارے پاس یعنی ایٹمی ہتھیار ہیں اتنےہمارا دوست ننھا ایلین بھی ہےکروڑوں سال کی تاریخ کو اب جانتے ہیں ہمکہ ہم نے موت پر اب فتح پا لی ہےپلینٹ مارس پر پانی بھی ڈھونڈا ہےیہ سب کہتے ہوئے اکثروہ شاید بھول جاتے ہیںابھی اک چیز باقی ہے کہ جو ان میپڈ ہے اب تکجسے ہم ذہن کہتے ہیںہمارے سائنس دانوں نے بھی مانا ہےکہ اب تک کچھ ہی حصہ ذہن کاہم جان پائے ہیںبہت کچھ ہے جسے اب بھی ہمیں ڈیکوڈ کرنا ہےمیں اکثر سوچتا ہوںسوچ کر حیران ہوتا ہوںفقط کچھ گرام کے اس ذہن سے یہ ساری ہلچل ہےستارے چاند سورج تتلیاں جگنو بھری راتیںیہ سارہ آرٹ اور اس آرٹ پر تنقید جو کچھ ہےکتابوں سے بھری ہر لائبریریاور انسانوں کے دل میں بڑھ رہی دوریکہیں ناراضگی آنکھوں میں بھر کر خود میں ہی گھٹناکہیں پر بھوک بیماری یا پالیٹکس کی پاوریہ ایف بی اور ٹوئیٹر پر جو جاری ہیں سبھی بحثیںاور انسٹاگرام پر ہر پل کی تصویریںیہ دنیا بھر کی فلمیں اور فیسٹیولیہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے پھولوں سے نازک لوگمرے ہونٹھوں سے ایک اک نظم کا یوں ٹوٹتے رہنافقط کچھ گرام کے اس ذہن سے ہی ساری ہلچل ہےنگاہیں موڑ کر یہ دیکھنا میراتمہارا مسکرانا بھیفلک کو دیکھ کر یوں روٹھ جانا بھیکہ اپنی زندگی میں روشنی کے نام پرکچھ بھی نہیں ہےاور یہ کیا کھیل ہےجس میں محض ماتیں ہی ماتیں ہیںمحض گھاتیں ہی گھاتیں ہیںمگر یہ دکھ جو ہم کو رات دن محسوس ہوتا ہےہمارے ذہن سے اٹھتا دھواں ہے بساگر ہم غور سے دیکھیں تو ڈھیروں راز کھلتے ہیںکہ میں تم سے اگر کہتا ہوںتم سے عشق کرتا ہوںتو یہ سن کر تمہاری سانس کی لے تیز چلتی ہےیہی انفاس کا پردہجو اٹھتا ہےجو گرتا ہےاسی انفاس کے پردہ کے پیچھے سےہمارا ذہن سب کچھ دیکھتا ہےسوچتا ہے بات کرتا ہےصدی سے بند دروازوں کے پیچھے سےکوئی آواز آتی ہےہمیں لگتا ہے یہ سب کچھ ہمیں تو کر رہے ہیںپر حقیقت اور ہی کچھ ہےہمیں معلوم کرنا ہےکہ جلتے ذہن کے جنگل کا راجہ کون ہے آخرہمیں معلوم کرنا ہےہمارے ذہن میں چھپ کر اشارہ کون کرتا ہےیہ کس کے حکم پر ہم روز مرتے اور جیتے ہیںیہ کس کے واسطے ہم زندگی کا زہر پیتے ہیں
طوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےالو جب مردنگ بجائے کوا شور مچائےککڑوں کوں کی تان لگا کے مرغا گائے خیالقمری اپنی ٹھمری گائے مرغی دیوے تالمور اپنی دم کو پھیلا کر کتھک ناچ دکھائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےچڑیا باجی سبھا میں ناچے خوشی سے چھم چھم چھمموٹی بطخ چونچ سے ڈھولک پیٹے دھم دھم دھمبیا بجائے منجیرے اور بھونرا بھجن اڑائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےبلبل گل کی یاد میں رو رو گائے دیپک راگمست پپیہا دور سے نغموں کی بھڑکائے آگکوئل پہن کے پائل ساری محفل میں اٹھلائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےرنگ برنگی چڑیاں اب چھیڑیں ایسی قوالیپتا پتا بوٹا بوٹا تال میں دیوے تالیپھوپھی چیل وجد میں آ کر اونچی تان لگائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےانگلستان کا سارس آ کر ناچے راک این رولمرغابی سے بولے میڈم انگلش گانا بولدیکھو دیکھو کتنی پیاری محفل ہے یہ ہائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائے
بھول گئی ہے آج تو رہبر حق نگاہ کوبھول گئی ہے آج تو مرد جہاں پناہ کوبھول گئی ہے آج تو ضبط کے بادشاہ کوتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومتیرے مہنت تو ابھی مست ہیں ذات پات میںتیرے بڑے بڑے گرو غرق ہیں چھوت چھات میںآہ کہ ڈھونڈھتی ہے تو نور اندھیری رات میںتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومآہ کہ تو نے ضبط کے درس کو بھی بھلا دیاآہ کہ تو نے قلب سے نام صفا مٹا دیاآہ کہ دوستوں کو بھی تو نے عدو بنا دیاتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومتیرے مشیر بے عمل تیرے وزیر بے عملتیرے غریب بے عمل تیرے امیر بے عملتیرے سفیر بے عمل تیرے کبیر بے عملتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قوماف کہ قدم قدم پہ ہے تیرا شریک اہرمناف کہ تجھے نصیب ہیں فرقہ پرست راہزناف کہ تجھے عزیز ہیں چرب زبان و بد سخنتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قوماف کہ جہالتوں پہ بھی عقل کا ہے گماں تجھےاف کہ ابھی پسند ہے جہل کی داستاں تجھےاف کہ ہے فرقہ دوستی دیتی ابھی اماں تجھےتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومظلم کیے ہیں تو نے جو ظلم کے شاہدوں سے پوچھقتل کیے ہیں کس قدر اپنے مجاہدوں سے پوچھپیتے ہیں روز کتنی مے جھوٹ کے زاہدوں سے پوچھتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومدرس مہاتما کا بھی تجھ پر کوئی اثر نہیںقول مہاتما پہ بھی آج تری نظر نہیںکون ہے اس کا جانشیں اس کی تجھے خبر نہیںتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومتجھ کو بتائے کون آج اصل میں راہبر ہے کونتجھ کو بتائے کون آج بندۂ معتبر ہے کونتجھ کو بتائے کون آج پیر جواں نظر ہے کونتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومدیکھ نہ چشم شوق سے پتھروں کے تو طور توقدر جواہر حسیں دیکھ بہ چشم غور توورنہ ہزار ذلتیں تیرے لیے ہیں اور توتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قوم
شراب خانہ ہے بزم ہستیہر ایک ہے محو عیش و مستیمآل بینی و مے پرستیارے یہ ذلت ارے یہ پستیشعار رندانہ کر پئے جااگر کوئی تجھ کو ٹوکتا ہےشراب پینے سے روکتا ہےسمجھ اسے ہوش میں نہیں ہےخرد کے آغوش میں نہیں ہےتو اس سے جھگڑا نہ کر پئے جاخیال روز حساب کیساثواب کیسا عذاب کیسابہشت و دوزخ کے یہ فسانےخدا کی باتیں خدا ہی جانےفضول سوچا نہ کر پئے جانہیں جہاں میں مدام رہناتو کس لیے تشنہ کام رہنااٹھا اٹھا ہاں اٹھا سبو کوتمام دنیا کی ہاؤ ہو کوغریق پیمانہ کر پئے جاکسی سے تکرار کیا ضرورتفضول اصرار کیا ضرورتکوئی پئے تو اسے پلا دےاگر نہ مانے تو مسکرا دےملال اصلا نہ کر پئے جاتجھے سمجھتے ہیں اہل دنیاخراب خستہ ذلیل رسوانہیں عیاں ان پہ حال تیراکوئی نہیں ہم خیال تیراکسی کی پروا نہ کر پئے جایہ تجھ پر آوازے کسنے والےتمام ہیں میرے دیکھے بھالےنہیں مذاق ان کو مے کشی کایہ خون پیتے ہیں آدمی کاتو ان کا شکوا نہ کر پئے جا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books