aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "piston"
کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہےکئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیںبنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظجن پر اب کوئی معنی نہیں اگتےبہت سی اصطلاحیں ہیں
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
آج کے ناماورآج کے غم کے نامآج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفازرد پتوں کا بنزرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہےدرد کی انجمن جو مرا دیس ہےکلرکوں کی افسردہ جانوں کے نامکرم خوردہ دلوں اور زبانوں کے نامپوسٹ مینوں کے نامتانگے والوں کا نامریل بانوں کے نامکارخانوں کے بھوکے جیالوں کے نامبادشاہ جہاں والئ ماسوا، نائب اللہ فی الارضدہقاں کے نامجس کے ڈھوروں کو ظالم ہنکا لے گئےجس کی بیٹی کو ڈاکو اٹھا لے گئےہاتھ بھر کھیت سے ایک انگشت پٹوار نے کاٹ لی ہےدوسری مالیے کے بہانے سے سرکار نے کاٹ لی ہےجس کی پگ زور والوں کے پاؤں تلےدھجیاں ہو گئی ہےان دکھی ماؤں کے نامرات میں جن کے بچے بلکتے ہیں اورنیند کی مار کھائے ہوئے بازوؤں میں سنبھلتے نہیںدکھ بتاتے نہیںمنتوں زاریوں سے بہلتے نہیں
بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاںسامنے ٹال کی نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدےگڑگڑاتی ہوئی پان کی پیکوں میں وہ داد وہ واہ واچند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردےایک بکری کے ممیانے کی آوازاور دھندلائی ہوئی شام کے بے نور اندھیرے سائےایسے دیواروں سے منہ جوڑ کے چلتے ہیں یہاںچوڑی والان کے کٹرے کی بڑی بی جیسےاپنی بجھتی ہوئی آنکھوں سے دروازے ٹٹولے
تم نہ آئے تھے تو ہر اک چیز وہی تھی کہ جو ہےآسماں حد نظر راہ گزر راہ گزر شیشۂ مے شیشۂ مےاور اب شیشۂ مے راہ گزر رنگ فلکرنگ ہے دل کا مرے خون جگر ہونے تکچمپئی رنگ کبھی راحت دیدار کا رنگسرمئی رنگ کہ ہے ساعت بیزار کا رنگزرد پتوں کا خس و خار کا رنگسرخ پھولوں کا دہکتے ہوئے گلزار کا رنگزہر کا رنگ لہو رنگ شب تار کا رنگآسماں راہ گزر شیشۂ مےکوئی بھیگا ہوا دامن کوئی دکھتی ہوئی رگکوئی ہر لحظہ بدلتا ہوا آئینہ ہے
چلو چھوڑومحبت جھوٹ ہےعہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کاطلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہےخلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہےخمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش!غبار ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہچلو چھوڑوکہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہچاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گامجھے احساس ہی کب تھاکہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گیچلو چھوڑووہ سارے خواب کچی بھربھری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھےوہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گےتمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں مرا لیکنتمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جرم کرتی تھیںچلو چھوڑوسفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سےچلو چھوڑومرا ہونا نہ ہونا اک برابر ہےتم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دوتم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دومرے خوابوں کو مرنے دونئی تصویر دیکھوپھر نیا مکتوب لکھوپھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑومرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھومری یادوں سے کچے رابطے توڑوچلو چھوڑومحبت جھوٹ ہےعہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
فرش پر لیٹ گئی ہے تو کبھی روٹھ کے مجھ سےاور کبھی فرش سے مجھ کو بھی اٹھایا ہے منا کرتاش کے پتوں پہ لڑتی ہے کبھی کھیل میں مجھ سےاور کبھی لڑتی بھی ایسے ہے کہ بس کھیل رہی ہےاور آغوش میں ننھے کو
رکی رکی سی صفیں ملگجی گھٹاؤں کیاتار پر ہے سر صحن رقص پیپل کاوہ کچھ نہیں ہے اب اک جنبش خفی کے سواخود اپنی کیفیت نیلگوں میں ہر لحظہیہ شام ڈوبتی جاتی ہے چھپتی جاتی ہےحجاب وقت سرے سے ہے بے حس و حرکترکی رکی دل فطرت کی دھڑکنیں یک لختیہ رنگ شام کہ گردش ہی آسماں میں نہیںبس ایک وقفۂ تاریک، لمحۂ شہلاسما میں جنبش مبہم سی کچھ ہوئی فوراًتلی گھٹا کے تلے بھیگے بھیگے پتوں سےہری ہری کئی چنگاریاں سی پھوٹ پڑیںکہ جیسے کھلتی جھپکتی ہوں بے شمار آنکھیںعجب یہ آنکھ مچولی تھی نور و ظلمت کیسہانی نرم لویں دیتے ان گنت جگنوگھنی سیاہ خنک پتیوں کے جھرمٹ سےمثال چادر شب تاب جگمگانے لگےکہ تھرتھراتے ہوئے آنسوؤں سے ساغر شامچھلک چھلک پڑے جیسے بغیر سان گمانبطون شام میں ان زندہ قمقموں کی دمککسی کی سوئی ہوئی یاد کو جگاتی تھیوہ بے پناہ گھٹا وہ بھری بھری برساتوہ سین دیکھ کے آنکھیں مری بھر آتی تھیںمری حیات نے دیکھی ہیں بیس برساتیںمرے جنم ہی کے دن مر گئی تھی ماں میریوہ ماں کہ شکل بھی جس ماں کی میں نہ دیکھ سکاجو آنکھ بھر کے مجھے دیکھ بھی سکی نہ وہ ماںمیں وہ پسر ہوں جو سمجھا نہیں کہ ماں کیا ہےمجھے کھلائیوں اور دائیوں نے پالا تھاوہ مجھ سے کہتی تھیں جب گھر کے آتی تھی برساتجب آسمان میں ہر سو گھٹائیں چھاتی تھیںبوقت شام جب اڑتے تھے ہر طرف جگنودیئے دکھاتے ہیں یہ بھولی بھٹکی روحوں کومزہ بھی آتا تھا مجھ کو کچھ ان کی باتوں میںمیں ان کی باتوں میں رہ رہ کے کھو بھی جاتا تھاپر اس کے ساتھ ہی دل میں کسک سی ہوتی تھیکبھی کبھی یہ کسک ہوک بن کے اٹھتی تھییتیم دل کو مرے یہ خیال ہوتا تھا!یہ شام مجھ کو بنا دیتی کاش اک جگنوتو ماں کی بھٹکی ہوئی روح کو دکھاتا راہکہاں کہاں وہ بچاری بھٹک رہی ہوگیکہاں کہاں مری خاطر بھٹک رہی ہوگییہ سوچ کر مری حالت عجیب ہو جاتیپلک کی اوٹ میں جگنو چمکنے لگتے تھےکبھی کبھی تو مری ہچکیاں سی بندھ جاتیںکہ ماں کے پاس کسی طرح میں پہنچ جاؤںاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں اپنے کھلونے دکھاؤں اپنی کتابکہوں کہ پڑھ کے سنا تو مری کتاب مجھےپھر اس کے بعد دکھاؤں اسے میں وہ کاپیکہ ٹیڑھی میڑھی لکیریں بنی تھیں کچھ جس میںیہ حرف تھے جنہیں میں نے لکھا تھا پہلے پہلاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں پھر اسے آنگن میں وہ گلاب کی بیلسنا ہے جس کو اسی نے کبھی لگایا تھایہ جب کہ بات ہے جب میری عمر ہی کیا تھینظر سے گزری تھیں کل چار پانچ برساتیں
لیکن میں یہاں پھر آؤں گابچوں کے دہن سے بولوں گاچڑیوں کی زباں سے گاؤں گاجب بیج ہنسیں گے دھرتی میںاور کونپلیں اپنی انگلی سےمٹی کی تہوں کو چھیڑیں گیمیں پتی پتی کلی کلیاپنی آنکھیں پھر کھولوں گاسر سبز ہتھیلی پر لے کرشبنم کے قطرے تولوں گامیں رنگ حنا آہنگ غزلانداز سخن بن جاؤں گارخسار عروس نو کی طرحہر آنچل سے چھن جاؤں گاجاڑوں کی ہوائیں دامن میںجب فصل خزاں کو لائیں گیرہ رو کے جواں قدموں کے تلےسوکھے ہوئے پتوں سے میرےہنسنے کی صدائیں آئیں گیدھرتی کی سنہری سب ندیاںآکاش کی نیلی سب جھیلیںہستی سے مری بھر جائیں گیاور سارا زمانہ دیکھے گاہر قصہ مرا افسانہ ہےہر عاشق ہے سردارؔ یہاںہر معشوقہ سلطانہؔ ہے
چیر کے سال میں دو بار زمیں کا سینہدفن ہو جاتا ہوںگدگداتے ہیں جو سورج کے سنہرے ناخنپھر نکل آتا ہوںاب نکلتا ہوں تو اتنا کہ بٹورے جو کوئی دامن میںدامن پھٹ جائےگھر کے جس کونے میں لے جا کے کوئی رکھ دے مجھےبھوک وہاں سے ہٹ جائےپھر مجھے پیستے ہیں، گوندھتے ہیں، سینکتے ہیںگوندھنے سینکنے میں شکل بدل جاتی ہےاور ہو جاتی ہے مشکل پہچانپھر بھی رہتا ہوں کسانوہی خستہ، بد حالقرض کے پنجۂ خونیں میں نڈھالاس درانتی کے طفیلکچھ ہے ماضی سے غنیمت مرا حالحال سے ہوگا حسیں استقبالاٹھتے سورج کو ذرا دیکھو توہو گیا سارا افق لالوں لال
جاگو سونے والو جاگووقت کے کھونے والو جاگوباغ میں چڑیاں بول رہی ہیںکلیاں آنکھیں کھول رہی ہیںپھول خوشی سے جھوم رہے ہیںپتوں کا منہ چوم رہے ہیںجاگ اٹھے دریا اور نہریںجاگ اٹھیں موجیں اور لہریںناؤ چلانے والے جاگےپار لگانے والے جاگےساری دنیا جاگ رہی ہےکام کی جانب بھاگ رہی ہےلکھنے پڑھنے والو جاگوپھولنے بڑھنے والو جاگومنہ دھو دھا کر ناشتہ کھاؤبستہ لے کر مدرسے جاؤصبح کا سونا خوب نہیں ہےاچھا یہ اسلوب نہیں ہےجاگو سونے والو جاگووقت کے کھونے والو جاگو
تم کو پا لینے کی دھن میںدنیا اوڑھیرنگ برنگے کپڑے پہنےپیشانی پر سورج باندھاآنگن بھر میں دھوپ بچھائیدیواروں پر سبزہ ڈالاپھولوں پتوں سے اپنی چوکھٹ رنگوائیموسم آئےموسم بیتےسورج نکلا دھوپ کھلیپھر دھوپ چڑھی پھر اور چڑھیپھر شام ہوئیپھر گہری کالی رات ہوئی
وہ کیسی عورتیں تھیںجو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر چولہا جلاتی تھیںجو سل پر سرخ مرچیں پیس کر سالن پکاتی تھیںسحر سے شام تک مصروف لیکن مسکراتی تھیںبھری دوپہر میں سر اپنا جو ڈھک کر ملنے آتی تھیںجو پنکھے ہاتھ کے جھلتی تھیں اور بس پان کھاتی تھیںجو دروازے پہ رک کر دیر تک رسمیں نبھاتی تھیںپلنگوں پر نفاست سے دری چادر بچھاتی تھیںبصد اصرار مہمانوں کو سرہانے بٹھاتی تھیںاگر گرمی زیادہ ہو تو روح افزا پلاتی تھیںجو اپنی بیٹیوں کو سوئیٹر بننا سکھاتی تھیںسلائی کی مشینوں پر کڑے روزے بتاتی تھیںبڑی پلیٹوں میں جو افطار کے حصے بناتی تھیںجو کلمے کاڑھ کر لکڑی کے فریموں میں سجاتی تھیںدعائیں پھونک کر بچوں کو بستر پر سلاتی تھیںاور اپنی جا نمازیں موڑ کر تکیہ لگاتی تھیںکوئی سائل جو دستک دے اسے کھانا کھلاتی تھیںپڑوسن مانگ لے کچھ با خوشی دیتی دلاتی تھیںجو رشتوں کو برتنے کے کئی نسخے بتاتی تھیںمحلے میں کوئی مر جائے تو آنسو بہاتی تھیںکوئی بیمار پڑ جائے تو اس کے پاس جاتی تھیںکوئی تہوار ہو تو خوب مل جل کر مناتی تھیںوہ کیسی عورتیں تھیںمیں جب گھر اپنے جاتی ہوں تو فرصت کے زمانوں میںانہیں ہی ڈھونڈھتی پھرتی ہوں گلیوں اور مکانوں میںکسی میلاد میں جزدان میں تسبیح دانوں میںکسی بر آمدے کے طاق پر باورچی خانوں میںمگر اپنا زمانہ ساتھ لے کر کھو گئی ہیں وہکسی اک قبر میں ساری کی ساری سو گئی ہیں وہ
زندگی کے پیڑ سےایک پتا اور گر کرڈھیر میں گم ہو گیا ہےڈھیر ان پتوں کا جو پہلے گرے تھےہنس رہا ہےزندگی کا پیڑ خوش ہےجیسے اس کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے
وہی نرم لہجہجو اتنا ملائم ہے جیسےدھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی ہوشفق نرم کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہوکس قدر رنگ و آہنگ کا کس قدر خوب صورت سفروہی نرم لہجہکبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گاتو ایسا لگےجیسے ریشم کے جھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہووہی نرم لہجہکسی شوخ لمحے میں اس کی ہنسی بن کے بکھرےتو ایسا لگےجیسے قوس قزح نے کہیں پاس ہی اپنی پازیب چھنکائی ہےہنسی کو وہ رم جھمکہ جیسے فضا میں بنفشی چمکدار بوندوں کے گھنگھرو چھنکنے لگے ہوںکہ پھراس کی آواز کا لمس پا کےہواؤں کے ہاتھوں میں ان دیکھے کنگن کھنکنے لگے ہوںوہی نرم لہجہ مجھے چھیڑنے پر جب آئےتو ایسا لگے گاجیسے ساون کی چنچل ہواسبز پتوں کے جھانجھن پہنسرخ پھولوں کی پائل بجاتی ہوئیمیرے رخسار کوگاہے گاہے شرارے سے چھونے لگےمیں جو دیکھوں پلٹ کے تو وہبھاگ جائے مگردور پیڑوں میں چھپ کر ہنسےاور پھر ننھے بچوں کی مانند خوش ہو کے تالی بجانے لگےوہی نرم لہجہکہ جس نے مرے زخم جاں پہ ہمیشہ شگفتہ گلابوں کی شبنم رکھی ہےبہاروں کے پہلے پرندے کی مانند ہےجو سدا آنے والے نئے سکھ کے موسم کا قاصد بنا ہےاسی نرم لہجے نے پھر مجھ کو آواز دی ہے
مجھ پر یہ خوف اب چھایا ہےمیں کس سے ملنے جاؤں گامیں کس کو پاس بلاؤں گاآندھی ہے، گرم ہوا ہے، آگ برستی ہےکچھ دیر ہوئیاک صورت، شبنم سی صورتاس تپتی راہ سے گزری تھیدو بچے پیڑ کے پتوں میں چھپ کر بیٹھے تھےہنستے شور مچاتے تھےاک دوست پرانابرسوں بعد ملا مجھ کواس جلتے دن کیصبح کچھ ایسی روشن تھیجب باد صبا وارفتہ روخوشبوؤں، نغموں، ننھی منی باتوں کاانداز لیے آنگن میں چلیمیں زندہ ہوںیہ سوچ کے خوش ہو جاتا ہوںوہ تھوڑی دیر تو میرے پاس سے گزری تھیوہ میرے دل میں اتری تھیاس بے محرم سے موسم میںشاید وہ کل بھی آئے گیشاید وہ کل بھی میری راہ سے گزرے گی
(۳)نئے زمانے میں اگر اداس خود کو پاؤں گایہ شام یاد کر کے اپنے غم کو بھول جاؤں گاعیادت حبیب سے وہ آج زندگی ملیخوشی بھی چونک چوک اٹھی غم کی آنکھ کھل گئیاگرچہ ڈاکٹر نے مجھ کو موت سے بچا لیاپر اس کے بعد اس نگاہ نے مجھے جلا لیانگاہ یار تجھ سے اپنی منزلیں میں پاؤں گاتجھے جو بھول جاؤں گا تو راہ بھول جاؤں گا(۴)قریب تر میں ہو چلا ہوں دکھ کی کائنات سےمیں اجنبی نہیں رہا حیات سے ممات سےوہ دکھ سہے کہ مجھ پہ کھل گیا ہے درد کائناتہے اپنے آنسوؤں سے مجھ پہ آئینہ غم حیاتیہ بے قصور جان دار درد جھیلتے ہوئےیہ خاک و خوں کے پتلے اپنی جاں پہ کھیلتے ہوئےوہ زیست کی کراہ جس سے بے قرار ہے فضاوہ زندگی کی آہ جس سے کانپ اٹھتی ہے فضاکفن ہے آنسوؤں کا دکھ کی ماری کائنات پرحیات کیا انہیں حقیقتوں سے ہونا بے خبرجو آنکھ جاگتی رہی ہے آدمی کی موت پروہ ابر رنگ رنگ کو بھی دیکھتی ہے سادہ ترسکھا گیا دکھ مرا پرانی پیر جاننانگاہ یار تھی جہاں بھی آج میری رہنمایہی نہیں کہ مجھ کو آج زندگی نئی ملیحقیقت حیات مجھ پہ سو طرح سے کھل گئیگواہ ہے یہ شام اور نگاہ یار ہے گواہخیال موت کو میں اپنے دل میں اب نہ دوں گا راہجیوں گا ہاں جیوں گا اے نگاہ آشنائے یارسدا سہاگ زندگی ہے اور جہاں سدا بہار(۵)ابھی تو کتنے ناشنیدہ نغمۂ حیات ہیںابھی نہاں دلوں سے کتنے راز کائنات ہیںابھی تو زندگی کے نا چشیدہ رس ہیں سیکڑوںابھی تو ہاتھ میں ہم اہل غم کے جس ہیں سیکڑوںابھی وہ لے رہی ہیں میری شاعری میں کروٹیںابھی چمکنے والی ہے چھپی ہوئی حقیقتیںابھی تو بحر و بر پہ سو رہی ہیں میری وہ صدائیںسمیٹ لوں انہیں تو پھر وہ کائنات کو جگائیںابھی تو روح بن کے ذرے ذرے میں سماؤں گاابھی تو صبح بن کے میں افق پہ تھرتھراؤں گاابھی تو میری شاعری حقیقتیں لٹائے گیابھی مری صدائے درد اک جہاں پہ چھائے گیابھی تو آدمی اسیر دام ہے غلام ہےابھی تو زندگی صد انقلاب کا پیام ہےابھی تمام زخم و داغ ہے تمدن جہاںابھی رخ بشر پہ ہیں بہمیت کی جھائیاںابھی مشیتوں پہ فتح پا نہیں سکا بشرابھی مقدروں کو بس میں لا نہیں سکا بشرابھی تو اس دکھی جہاں میں موت ہی کا دور ہےابھی تو جس کو زندگی کہیں وہ چیز اور ہےابھی تو خون تھوکتی ہے زندگی بہار میںابھی تو رونے کی صدا ہے نغمۂ ستار میںابھی تو اڑتی ہیں رخ بہار پر ہوائیاںابھی تو دیدنی ہیں ہر چمن کی بے فضائیاںابھی فضائے دہر لے گی کروٹوں پہ کروٹیںابھی تو سوتی ہیں ہواؤں کی وہ سنسناہٹیںکہ جس کو سنتے ہی حکومتوں کے رنگ رخ اڑیںچپیٹیں جن کی سرکشوں کی گردنیں مروڑ دیںابھی تو سینۂ بشر میں سوتے ہیں وہ زلزلےکہ جن کے جاگتے ہی موت کا بھی دل دہل اٹھےابھی تو بطن غیب میں ہے اس سوال کا جوابخدائے خیر و شر بھی لا نہیں سکا تھا جس کی تابابھی تو گود میں ہیں دیوتاؤں کی وہ ماہ و سالجو دیں گے بڑھ کے برق طور سے حیات کو جلالابھی رگ جہاں میں زندگی مچلنے والی ہےابھی حیات کی نئی شراب ڈھلنے والی ہےابھی چھری ستم کی ڈوب کر اچھلنے والی ہےابھی تو حسرت اک جہان کی نکلنے والی ہےابھی گھن گرج سنائی دے گی انقلاب کیابھی تو گوش بر صدا ہے بزم آفتاب کیابھی تو پونجی واد کو جہان سے مٹانا ہےابھی تو سامراجوں کو سزائے موت پانا ہےابھی تو دانت پیستی ہے موت شہریاروں کیابھی تو خوں اتر رہا ہے آنکھوں میں ستاروں کیابھی تو اشتراکیت کے جھنڈے گڑنے والے ہیںابھی تو جڑ سے کشت و خوں کے نظم اکھڑنے والے ہیںابھی کسان و کامگار راج ہونے والا ہےابھی بہت جہاں میں کام کاج ہونے والا ہےمگر ابھی تو زندگی مصیبتوں کا نام ہےابھی تو نیند موت کی مرے لئے حرام ہےیہ سب پیام اک نگاہ میں وہ آنکھ دے گئیبہ یک نظر کہاں کہاں مجھے وہ آنکھ لے گئی
آسماں بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہےکچھ مکدر سا جبین ماہ کا آئینہ ہےچاندنی پھیکی ہے اس نظارۂ خاموش میںصبح صادق سو رہی ہے رات کی آغوش میںکس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے خامشیبربط قدرت کی دھیمی سی نوا ہے خامشیباطن ہر ذرۂ عالم سراپا درد ہےاور خاموشی لب ہستی پہ آہ سرد ہےآہ جولاں گاہ عالمگیر یعنی وہ حصاردوش پر اپنے اٹھائے سیکڑوں صدیوں کا بارزندگی سے تھا کبھی معمور اب سنسان ہےیہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستان ہےاپنے سکان کہن کی خاک کا دل دادہ ہےکوہ کے سر پر مثال پاسباں استادہ ہےابر کے روزن سے وہ بالائے بام آسماںناظر عالم ہے نجم سبز فام آسماںخاک بازی وسعت دنیا کا ہے منظر اسےداستاں ناکامئ انساں کی ہے ازبر اسےہے ازل سے یہ مسافر سوئے منزل جا رہاآسماں سے انقلابوں کا تماشا دیکھتاگو سکوں ممکن نہیں عالم میں اختر کے لیےفاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے لیےرنگ و آب زندگی سے گل بدامن ہے زمیںسیکڑوں خوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمیںخواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزل حسرت فزادیدۂ عبرت خراج اشک گلگوں کر اداہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردوں پایہ ہےآہ اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ ہےمقبروں کی شان حیرت آفریں ہے اس قدرجنبش مژگاں سے ہے چشم تماشا کو حذرکیفیت ایسی ہے ناکامی کی اس تصویر میںجو اتر سکتی نہیں آئینۂ تحریر میںسوتے ہیں خاموش آبادی کے ہنگاموں سے دورمضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبورقبر کی ظلمت میں ہے ان آفتابوں کی چمکجن کے دروازوں پہ رہتا ہے جبیں گستر فلککیا یہی ہے ان شہنشاہوں کی عظمت کا مآلجن کی تدبیر جہانبانی سے ڈرتا تھا زوالرعب فغفوری ہو دنیا میں کہ شان قیصریٹل نہیں سکتی غنیم موت کی یورش کبھیبادشاہوں کی بھی کشت عمر کا حاصل ہے گورجادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گورشورش بزم طرب کیا عود کی تقریر کیادردمندان جہاں کا نالۂ شب گیر کیاعرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر کیاخون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیااب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیںسینۂ ویراں میں جان رفتہ آ سکتی نہیںروح مشت خاک میں زحمت کش بیداد ہےکوچہ گرد نے ہوا جس دم نفس فریاد ہےزندگی انساں کی ہے مانند مرغ خوش نواشاخ پر بیٹھا کوئی دم چہچہایا اڑ گیاآہ کیا آئے ریاض دہر میں ہم کیا گئےزندگی کی شاخ سے پھوٹے کھلے مرجھا گئےموت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہےاس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر ہےسلسلہ ہستی کا ہے اک بحر نا پیدا کناراور اس دریائے بے پایاں کی موجیں ہیں مزاراے ہوس خوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتباریہ شرارے کا تبسم یہ خس آتش سوارچاند جو صورت گر ہستی کا اک اعجاز ہےپہنے سیمابی قبا محو خرام ناز ہےچرخ بے انجم کی دہشت ناک وسعت میں مگربیکسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقت سحراک ذرا سا ابر کا ٹکڑا ہے جو مہتاب تھاآخری آنسو ٹپک جانے میں ہو جس کی فنازندگی اقوام کی بھی ہے یوں ہی بے اعتباررنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہاراس زیاں خانے میں کوئی ملت گردوں وقاررہ نہیں سکتی ابد تک بار دوش روزگاراس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خوگر جہاںدیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاںایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرارذوق جدت سے ہے ترکیب مزاج روزگارہے نگین دہر کی زینت ہمیشہ نام نومادر گیتی رہی آبستن اقوام نوہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزرچشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے تاجورمصر و بابل مٹ گئے باقی نشاں تک بھی نہیںدفتر ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیںآ دبایا مہر ایراں کو اجل کی شام نےعظمت یونان و روما لوٹ لی ایام نےآہ مسلم بھی زمانے سے یوں ہی رخصت ہواآسماں سے ابر آزاری اٹھا برسا گیاہے رگ گل صبح کے اشکوں سے موتی کی لڑیکوئی سورج کی کرن شبنم میں ہے الجھی ہوئیسینۂ دریا شعاعوں کے لیے گہوارہ ہےکس قدر پیارا لب جو مہر کا نظارہ ہےمحو زینت ہے صنوبر جوئبار آئینہ ہےغنچۂ گل کے لیے باد بہار آئینہ ہےنعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے میںچشم انساں سے نہاں پتوں کے عزلت خانے میںاور بلبل مطرب رنگیں نوائے گلستاںجس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے گلستاںعشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی تصویر ہےخامۂ قدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہےباغ میں خاموش جلسے گلستاں زادوں کے ہیںوادی کہسار میں نعرے شباں زادوں کے ہیںزندگی سے یہ پرانا خاک داں معمور ہےموت میں بھی زندگانی کی تڑپ مستور ہےپتیاں پھولوں کی گرتی ہیں خزاں میں اس طرحدست طفل خفتہ سے رنگیں کھلونے جس طرحاس نشاط آباد میں گو عیش بے اندازہ ہےایک غم یعنی غم ملت ہمیشہ تازہ ہےدل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی نہیںاپنے شاہوں کو یہ امت بھولنے والی نہیںاشک باری کے بہانے ہیں یہ اجڑے بام و درگریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشم تردہر کو دیتے ہیں موتی دیدۂ گریاں کے ہمآخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہمہیں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش میںبرق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میںوادئ گل خاک صحرا کو بنا سکتا ہے یہخواب سے امید دہقاں کو جگا سکتا ہے یہہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہورہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور
ہوا میں درختوں کا وہ جھومناوہ پتوں کا پھولوں کا منہ چومناہمارا وطن دل سے پیارا وطن
عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزریچونا گھولتے چھالیاں کاٹتے کتھ پگھلاتے گزریسگریٹ کی خالی ڈبیوں کے محل سجاتے گزریکتنے شرابی مشتریوں سے نین ملاتے گزریچند کسیلی پتوں کی گتھی سلجھاتے گزری
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books