aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "piyaa"
کہانی کہنے والا اک کہانی کی کہانی ہےپیا پے یہ گدازش یہ گماں اور یہ گلے کیسے
تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھامر مر کر یہ زہر پیا ہے
وہ زہر کہ امرت تھاجی بھر کے پیا ہم نے
میں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیا
میں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعت
ایک اک زہر کو ہنس ہنس کے پیا ہے میں نےایک اک زخم کو چن چن کے اٹھا لایا ہوں
علم سولی پہ چڑھا تب کہیں تخمینہ بنازہر صدیوں نے پیا تب کہیں نوشینہ بنا
نا تربت نا کتبہ کوئی نا ہڈی نا ماسپھر بھی پاگل نیناں کو تھی پیا ملن کی آس
سینوں سے لگ رہی ہیں جو ہیں پیا کی پیاریچھاتی پھٹے ہے ان کی جو ہیں برہ کی ماری
گھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسی
کسی کی نظر میں محبت کے دوہےسکھی ری یہ جیون پیا بن نہ سوہے
سوم رس میں نے پیارات دن رقص کیا
لگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میںپیا شعور کا جب جام آتشیں میں نے
بول کہ تیرے پھل کھائے ہیںبول کہ تیرا دودھ پیا ہے
ہاں جام اٹھاؤ کہ بیاد لب شیریںیہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہے
روشنیوں کا لمس پیاخوشبو کے ہر رنگ کو چھو کر دیکھا
اور حاصل وہی درد سراس نے زنداں میں لیکن پیا تھا جو زہر
زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نےشمع جلتی ہے پر اک رات میں جل جاتی ہے
اپنے بھائی کے ہاتھوں پیاجو شمالی مجاہد تھا
کیوں مری تلخ نوائی سے خفا ہوتے ہوزہر ہی مجھ کو ملا زہر پیا ہے میں نے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books