aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "piyaa"
سنو زریونؔ تم تو عین اعیان حقیقت ہونظر سے دور منظر کا سر و سامان ثروت ہوہماری عمر کا قصہ حساب اندوز آنی ہےزمانی زد میں ظن کی اک گمان لازمانی ہےگماں یہ ہے کہ باقی ہے بقا ہر آن فانی ہےکہانی سننے والے جو بھی ہیں وہ خود کہانی ہیںکہانی کہنے والا اک کہانی کی کہانی ہےپیا پے یہ گدازش یہ گماں اور یہ گلے کیسےصلہ سوزی تو میرا فن ہے پھر اس کے صلے کیسے
تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھامر مر کر یہ زہر پیا ہےچپ رہنا آسان نہیں تھابرسوں دل کا خون کیا ہےجو کچھ گزری جیسی گزریتجھ کو کب الزام دیا ہےاپنے حال پہ خود رویا ہوںخود ہی اپنا چاک سیا ہےکتنی جانکاہی سے میں نےتجھ کو دل سے محو کیا ہےسناٹے کی جھیل میں تو نےپھر کیوں پتھر پھینک دیا ہے
جو جسم کا ایندھن تھاگلنار کیا ہم نےوہ زہر کہ امرت تھاجی بھر کے پیا ہم نےسو زخم ابھر آئےجب دل کو سیا ہم نےکیا کیا نہ محبت کیکیا کیا نہ جیا ہم نےلو کوچ کیا گھر سےلو جوگ لیا ہم نےجو کچھ تھا دیا ہم نےاور دل سے کہا ہم نےرکنا نہیں درویشایوں ہے کہ سفر اپناتھا خواب نہ افسانہآنکھوں میں ابھی تک ہےفردا کا پری خانہصد شکر سلامت ہےپندار فقیرانہاس شہر خموشی میںپھر نعرۂ مستانہاے ہمت مردانہصد خارہ و یک تیشہاے عشق جنوں پیشہاے عشق جنوں پیشہ
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
میں کہ خود اپنی ہی آواز کے شعلوں کا اسیرمیں کہ خود اپنی ہی زنجیر کا زندانی ہوںکون سمجھے گا جہاں میں مرے زخموں کا حسابکس کو خوش آئے گا اس دہر میں روحوں کا عذابکون آ کر مرے مٹنے کا تماشا دیکھےکس کو فرصت کہ اجڑتی ہوئی دنیا دیکھےکون بھڑکی ہوئی اس آگ کو اپنائے گاجو بھی آئے گا مرے ساتھ ہی جل جائے گاوہ گھڑی کون تھی جب مجھ کو ملا تھا بن باسایک جھونکا بھی ہوا کا نہ وطن سے آیانے کوئی نکہت گل اور نہ کوئی موج نسیمپھر کوئی ڈھونڈنے مجھ کو نہ چمن سے آیامیں وہ اک لعل ہوں جو بک گیا بازاروں میںپھر کوئی پوچھنے مجھ کو نہ یمن سے آیایاد کرتے ہوئے اک یوسف گم گشتہ کوکچھ دنوں روئی تو ہوگی مرے گھر کی دیوارکچھ دنوں گاؤں کی گلیوں میں اداسی ہوگیکچھ دنوں کھل نہ سکے ہوں گے ترے ہار سنگھارکچھ دنوں کے لیے سنسان سا لگتا ہوگاآم کے باغ میں بے چین پھری ہوگی بہارمیں نے اک پیڑ پہ جو نام لکھا تھا اپناکچھ دنوں زخم کے مانند وہ تازہ ہوگامیرے سب دوست اسے دیکھ کے کہتے ہوں گےجانے کس دیس میں بیچارہ بھٹکتا ہوگاعمر بھر کون کسے یاد کیا کرتا ہےایک اک کر کے مجھے سب نے بھلایا ہوگاہائے ان کو بھی خبر کیا کہ وہ اک زخم نصیبزندگی کے لیے نکلا تھا جو راہی بن کرآج تک پا نہ سکا چشمۂ آب حیواںاس کو سورج بھی ملے ہیں تو سیاہی بن کرگھر سے لایا تھا جو کچھ طبع رواں ذہن رساساتھ اس کے رہے اسباب تباہی بن کرمیرا یہ جرم کہ میں صاحب ادراک و شعورمیرا یہ عیب کہ اک شاعر و فن کار ہوں میںمجھ کو یہ ضد ہے کہ میں سر نہ جھکاؤں گا کبھیمجھ کو اصرار کہ جینے کا سزا وار ہوں میںمجھ کو یہ فخر کہ میں حق و صداقت کا امیںمجھ کو یہ زعم خود آگاہ ہوں خوددار ہوں میںایک اک موڑ پہ آلام و مصائب کے پہاڑایک اک گام پہ آفات سے ٹکرایا ہوںایک اک زہر کو ہنس ہنس کے پیا ہے میں نےایک اک زخم کو چن چن کے اٹھا لایا ہوںایک اک لمحے کی زنجیر سے میں الجھا ہوںایک اک سانس پہ خود آپ سے شرمایا ہوںیوں تو کہنے کی نہیں بات مگر کہتا ہوںپیار کا نام کتابوں میں لکھا دیکھا ہےجب کبھی ہاتھ بڑھایا ہے کسی کی جانبفاصلہ اور بھی کچھ بڑھتا ہوا دیکھا ہےبوند بھر دے نہ سکا کوئی محبت کی شرابیوں تو مے خانہ کا مے خانہ لٹا دیکھا ہے
علم سولی پہ چڑھا تب کہیں تخمینہ بنازہر صدیوں نے پیا تب کہیں نوشینہ بنا
جو خوش ہیں وہ خوشی میں کاٹے ہیں رات ساریجو غم میں ہیں انہوں پر گزرے ہے رات بھاریسینوں سے لگ رہی ہیں جو ہیں پیا کی پیاریچھاتی پھٹے ہے ان کی جو ہیں برہ کی ماریکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
کل واشنگٹن شہر کی ہم نے سیر بہت کی یارگونج رہی تھی سب دنیا میں جس کی جے جے کارملکوں ملکوں ہم گھومے تھے بنجاروں کی مثللیکن اس کی سج دھج سچ مچ دل داروں کی مثلروشنیوں کے رنگ بہیں یوں رستہ نظر نہ آئےمن کی آنکھوں والا بھی یاں اندھا ہو ہو جائےاونچے بام چراغاں رستے روپ بھرے بازارجاگتی آنکھوں سے دیکھا ہے خوابوں کا سنسارایک سفید عمارت جس کی نگر نگر میں دھوماندر دنیا بھر کی کالک باہر سے معصومیہی سفید عمارت جس میں بہت بڑی سرکاریہیں کریں سوداگر چھوٹی قوموں کا بیوپاریہیں پہ جادو گر بیٹھا جب کہیں کی ڈور ہلائےہر بستی ناگا ساکی ہیروشیما بن جائےاسی عمارت سے کچھ دور ہی اک کالی دیوارلوگوں کا میلہ ایسا لگا تھا جیسے کوئی تیوہاراس کالی دیوار پہ کندہ دیکھے ہزاروں نامان ناموں کے بیچ لکھا تھا شہدائے وتنامآس پاس تو جمع ہوا تھا خلقت کا انبوہسب کی آنکھوں میں سناٹا چہروں پر اندوہبیکل بہنیں گھائل مائیں اور دکھی بیوائیںساجن تم کس دیس سدھارے سوچیں محبوبائیںاپنے پیاروں دل داروں کا اوجھل مکھڑا ڈھونڈیںاس کالی دیوار پہ ان کے نام کا ٹکڑا ڈھونڈیںدلوں میں دکھ آنکھوں میں شبنم ہاتھوں میں پھول اٹھائےاس ناموں کے قبرستان کا بھید کوئی کیا پائےنا تربت نا کتبہ کوئی نا ہڈی نا ماسپھر بھی پاگل نیناں کو تھی پیا ملن کی آسکہیں کہیں اس کالی سل پر کوئی سفید گلابیوں بے تاب پڑا تھا جیسے اندھی آنکھ کا خوابکانٹا بن کر سبھی کے دل میں کھٹکے ایک سوالکس کارن مٹی میں ملائے ہیروں جیسے لالہوچی من کے دیس میں ہم نے کیا کیا ستم نہ ڈھائےاس کے جیالے تو آزادی کا سورج لے آئےلیکن اتنے چاند گنوا کر ہم نے بھلا کیا پایاہم بد قسمت ایسے جن کو دھوپ ملی نا سایامکھ موتی دے کر حاصل کی یہ کالی دیواریہ کالی دیوار جو ہے بس اک خالی دیواریہ کالی دیوار جو ہے ناموں کا قبرستانواشنگٹن کے شہر میں دفن ہیں کس کس کے ارمان
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
فضاؤں میں ہے صبح کا رنگ طاریگئی ہے ابھی گرلز کالج کی لاریگئی ہے ابھی گونجتی گنگناتیزمانے کی رفتار کا راگ گاتیلچکتی ہوئی سی چھلکتی ہوئی سیبہکتی ہوئی سی مہکتی ہوئی سیوہ سڑکوں پہ پھولوں کی دھاری سی بنتیادھر سے ادھر سے حسینوں کو چنتیجھلکتے وہ شیشوں میں شاداب چہرےوہ کلیاں سی کھلتی ہوئی منہ اندھیرےوہ ماتھے پہ ساڑی کے رنگیں کنارےسحر سے نکلتی شفق کے اشارےکسی کی ادا سے عیاں خوش مذاقیکسی کی نگاہوں میں کچھ نیند باقیکسی کی نظر میں محبت کے دوہےسکھی ری یہ جیون پیا بن نہ سوہےیہ کھڑکی کا رنگین شیشہ گرائےوہ شیشے سے رنگین چہرا ملائےیہ چلتی زمیں پہ نگاہیں جماتیوہ ہونٹوں میں اپنے قلم کو دباتییہ کھڑکی سے اک ہاتھ باہر نکالےوہ زانو پہ گرتی کتابیں سنبھالےکسی کو وہ ہر بار تیوری سی چڑھتیدکانوں کے تختے ادھورے سے پڑھتیکوئی اک طرف کو سمٹتی ہوئی سیکنارے کو ساڑی کے بٹتی ہوئی سیوہ لاری میں گونجے ہوئے زمزمے سےدبی مسکراہٹ سبک قہقہے سےوہ لہجوں میں چاندی کھنکتی ہوئی سیوہ نظروں سے کلیاں چٹکتی ہوئی سیسروں سے وہ آنچل ڈھلکتے ہوئے سےوہ شانوں سے ساغر چھلکتے ہوئے سےجوانی نگاہوں میں بہکی ہوئی سیمحبت تخیل میں بہکی ہوئی سیوہ آپس کی چھیڑیں وہ جھوٹے فسانےکوئی ان کی باتوں کو کیسے نہ مانےفسانہ بھی ان کا ترانہ بھی ان کاجوانی بھی ان کی زمانہ بھی ان کا
سوم رس میں نے پیارات دن رقص کیاناچتے ناچتے تلوے مرے خوں دینے لگےمرے اعضا کی تھکنبن گئی کانپتے ہونٹوں پہ بھجنہڈیاں میری چٹخنے لگیں ایندھن کی طرحمنتر ہونٹوں سے ٹپکنے لگے روغن کی طرح''اگنی ماتا مری اگنی ماتاسوکھی لکڑی کے یہ بھاری کندےجو تری بھینٹ کو لے آیا ہوںان کو سویکار کر اور ایسے دھدھککہ مچلتے شعلے کھینچ لیں جوش میںسورج کی سنہری زلفیںآگ میں آگ ملےجو امر کر دے مجھےایسا کوئی راگ ملے''
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سےبھلایا قصۂ پیمان اولیں میں نےلگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میںپیا شعور کا جب جام آتشیں میں نےرہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کودکھایا اوج خیال فلک نشیں میں نےملا مزاج تغیر پسند کچھ ایساکیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نےنکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھیکبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نےکبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچاچھپایا نور ازل زیر آستیں میں نےکبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایاکیا فلک کو سفر چھوڑ کر زمیں میں نےکبھی میں غار حرا میں چھپا رہا برسوںدیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نےسنایا ہند میں آ کر سرود ربانیپسند کی کبھی یوناں کی سرزمیں میں نےدیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنیبسایا خطۂ جاپان و ملک چیں میں نےبنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالمخلاف معنی تعلیم اہل دیں میں نےلہو سے لال کیا سیکڑوں زمینوں کوجہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نےسمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کیاسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نےڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریںسکھایا مسئلہ گردش زمیں میں نےکشش کا راز ہویدا کیا زمانے پرلگا کے آئینہ عقل دوربیں میں نےکیا اسیر شعاعوں کو برق مضطر کوبنا دی غیرت جنت یہ سرزمیں میں نےمگر خبر نہ ملی آہ راز ہستی کیکیا خرد سے جہاں کو تہ نگیں میں نےہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخرتو پایا خانۂ دل میں اسے مکیں میں نے
بول! اری او دھرتی بول!راج سنگھاسن ڈانواڈولبادل بجلی رین اندھیاریدکھ کی ماری پرجا ساریبوڑھے بچے سب دکھیا ہیںدکھیا نر ہیں دکھیا ناریبستی بستی لوٹ مچی ہےسب بنیے ہیں سب بیوپاریبول! اری او دھرتی بول!راج سنگھاسن ڈانواڈولکلجگ میں جگ کے رکھوالےچاندی والے سونے والےدیسی ہوں یا پردیسی ہوںنیلے پیلے گورے کالےمکھی بھنگے بھن بھن کرتےڈھونڈے ہیں مکڑی کے جالےبول! اری او دھرتی بول!راج سنگھاسن ڈانواڈولکیا افرنگی کیا تاتاریآنکھ بچی اور برچھی ماریکب تک جنتا کی بے چینیکب تک جنتا کی بے زاریکب تک سرمایہ کے دھندےکب تک یہ سرمایہ داریبول! اری او دھرتی بول!راج سنگھاسن ڈانواڈولنامی اور مشہور نہیں ہملیکن کیا مزدور نہیں ہمدھوکا اور مزدوروں کو دیںایسے تو مجبور نہیں ہممنزل اپنے پاؤں کے نیچےمنزل سے اب دور نہیں ہمبول! اری او دھرتی بول!راج سنگھاسن ڈانواڈولبول کہ تیری خدمت کی ہےبول کہ تیرا کام کیا ہےبول کہ تیرے پھل کھائے ہیںبول کہ تیرا دودھ پیا ہےبول کہ ہم نے حشر اٹھایابول کہ ہم سے حشر اٹھا ہےبول کہ ہم سے جاگی دنیابول کہ ہم سے جاگی دھرتیبول! اری او دھرتی بول!راج سنگھاسن ڈانواڈول
بیزار فضا درپئے آزار صبا ہےیوں ہے کہ ہر اک ہمدم دیرینہ خفا ہےہاں بادہ کشو آیا ہے اب رنگ پہ موسماب سیر کے قابل روش آب و ہوا ہےامڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برساتچھائی ہوئی ہر دانگ ملامت کی گھٹا ہےوہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحیہر کاسۂ مے زہر ہلاہل سے سوا ہےہاں جام اٹھاؤ کہ بیاد لب شیریںیہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہےاس جذبۂ دل کی نہ سزا ہے نہ جزا ہےمقصود رہ شوق وفا ہے نہ جفا ہےاحساس غم دل جو غم دل کا صلہ ہےاس حسن کا احساس ہے جو تیری عطا ہےہر صبح گلستاں ہے ترا روئے بہاریںہر پھول تری یاد کا نقش کف پا ہےہر بھیگی ہوئی رات تری زلف کی شبنمڈھلتا ہوا سورج ترے ہونٹوں کی فضا ہےہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تکہر حرف تمنا ترے قدموں کی صدا ہےتعزیر سیاست ہے نہ غیروں کی خطا ہےوہ ظلم جو ہم نے دل وحشی پہ کیا ہےزندان رہ یار میں پابند ہوئے ہمزنجیر بکف ہے نہ کوئی بند بپا ہے''مجبوری و دعویٔ گرفتارئ الفتدست تۂ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے''
ہاتھ میں اس کے کیا تھا جو دیتا ہمیںصرف اک کیل اس کیل کا اک نشاںنشۂ مے کوئی چیز ہےاک گھڑی دو گھڑی ایک راتاور حاصل وہی درد سراس نے زنداں میں لیکن پیا تھا جو زہراٹھ کے سینے سے بیٹھا نہ اس کا دھواں
تتلی معصومانہ حیرت سے سرشارسیہ شاخوں کے حلقے سے نکلیصدیوں کے جکڑے ہوئے ریشمی پر پھیلائے اور اڑنے لگیکھلی فضا کا ذائقہ چکھانرم ہوا کا گیت سناان دیکھے کہساروں کی قامت ناپیروشنیوں کا لمس پیاخوشبو کے ہر رنگ کو چھو کر دیکھالیکن رنگ ہوا اور خوشبو کا وجدان ادھورا تھاکہ رقص کا موسم ٹھہر گیارت بدلیاور سورج کی کرنوں کا تاج پگھلنے لگاچاند کے ہاتھ دعا کے حرف ہی بھول گئےہوا کے لب برفیلے سموں میں نیلے پڑ کر اپنی صدائیں کھو بیٹھےپتوں کی بانہوں کے سر بے رنگ ہوئےاور تنہا رہ گئے پھولوں کے ہاتھبرف کی لہر کے ہاتھوں تتلی کو لوٹ آنے کا پیغام گیابھنورے شبنم کی زنجیریں لے کر دوڑےاور بے چین پروں میں ان چکھی پروازوں کی آشفتہ پیاس جلا دیاپنے کالے ناخونوں سےتتلی کے پر نوچ کے بولےاحمق لڑکیگھر واپس آ جاؤناٹک ختم ہواخواتین کا عالمی سال
1یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیںزندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نےشمع جلتی ہے پر اک رات میں جل جاتی ہےیاں تو ایک عمر اسی طرح سے جلتے گزریکون سی خاک ہے یہ جانے کہاں کا ہے خمیراک نئے سانچے میں ہر روز ہی ڈھلتے گزریکس طرح میں نے گزاری ہیں یہ غم کی گھڑیاںکاش میں ایسی کہانی کو سنا بھی سکتاطعنہ زن ہیں جو مرے حال پہ ارباب نشاطان کو اک بار میں اے کاش رلا بھی سکتامیں کہ شاعر ہوں میں پیغام بر فطرت ہوںمیری تخئیل میں ہے ایک جہان بیداردسترس میں مری نظارۂ گلہائے چمنمیرے ادراک میں ہیں کن فیکوں کے اسرارمرے اشعار میں ہے قلب حزیں کی دھڑکنمیری نظموں میں مری روح کی دل دوز پکارپھر بھی رہ رہ کے کھٹکتی ہے مرے دل میں یہ باتکہ مرے پاس تو الفاظ کا اک پردہ ہےصرف الفاظ سے تصویر نہیں بن سکتیصرف احساس میں حالات کی تفسیر کہاںصرف فریاد میں زخموں کی وہ زنجیر کہاںایسی زنجیر کہ ایک ایک کڑی میں جس کیکتنی کھوئی ہوئی خوشیوں کے مناظر پنہاںکتنی بھولی ہوئی یادوں کے پر اسرار کھنڈرکتنے اجڑے ہوئے لوٹے ہوئے سنسان نگرکتنے آتے ہوئے جاتے ہوئے چہروں کے نقوشکتنے بنتے ہوئے مٹتے ہوئے لمحات کا رازکتنی الجھی ہوئی راہوں کے نشیب اور فراز2کیا کہوں مجھ کو کہاں لائی مری عمر رواںآنکھ کھولی تو ہر اک سمت اندھیروں کا سماںرینگتی اونگھتی مغموم سی اک راہ گزارگرد آلام میں کھویا ہوا منزل کا نشاںگیسوئے شام سے لپٹی ہوئی غم کی زنجیرسینۂ شب سے نکلتی ہوئی فریاد و فغاںٹھنڈی ٹھنڈی سی ہواؤں میں وہ غربت کی تھکندر و دیوار پہ تاریک سے سائے لرزاںکتنی کھوئی ہوئی بیمار و فسردہ آنکھیںٹمٹماتے سے دیے چار طرف نوحہ کناںمضمحل چہرے مصائب کی گراں باری سےدل مجروح سے اٹھتا ہوا غم ناک دھواںیہی تاریکیٔ غم تو مرا گہوارہ ہےمیں اسی کوکھ میں تھا نور سحر کے مانندہر طرف سوگ میں ڈوبا ہوا میرا ماحولمیرا اجڑا ہوا گھر میرؔ کے گھر کے ماننداک طرف عظمت اسلاف کا ماتھے پہ غروراور اک سمت وہ افلاس کے پھیلے ہوئے جالبھوک کی آگ میں جھلسے ہوئے سارے ارماںقرض کے بوجھ سے جینے کی امنگیں پامالوقت کی دھند میں لپٹے ہوئے کچھ پیار کے گیتمہر و اخلاص زمانے کی جفاؤں سے نڈھالبھائی بھائی کی محبت میں نرالے سے شکوکنگہ غیر میں جس طرح انوکھے سے سوال''ایک ہنگامے پہ موقوف تھی گھر کی رونق''مفلسی ساتھ لیے آئی تھی اک جنگ و جدالفاقہ مستی میں بکھرتے ہوئے سارے رشتےتنگ دستی کے سبب ساری فضائیں بے حالاک جہنم کی طرح تھا یہ مرا گہوارہاس جہنم میں میرے باپ نے دم توڑ دیاٹوٹ کر رہ گئے بچپن کے سہانے سپنےمجھ سے منہ پھیر لیا جیسے مری شوخی نےمیرے ہنستے ہوئے چہرے پہ اداسی چھائیجیسے اک رات بھیانک مرے سر پر آئیراہیں دشوار مگر راہنما کوئی نہ تھاسامنے وسعت افلاک خدا کوئی نہ تھامیرے اجداد کی میراث یہ ویران سا گھرجس کو گھیرے ہوئے ہر سمت تباہی کے بھنورجس کی چھت گرتی ہوئی ٹوٹا ہوا دروازہہر طرف جیسے بکھرتا ہوا اک شیرازہنہ کہیں اطلس و کمخواب نہ دیبا و حریرہر طرف منہ کو بسورے ہوئے جیسے تقدیرمجھ کو اس گھر سے محبت تو بھلا کیا ہوتییاں اگر دل میں نہ جینے کی تمنا ہوتییہ سمجھ کر کہ یہی ہے مری قسمت کا لکھااس کی دیوار کے سائے میں لپٹا رہتالیکن اس دل کی خلش نے مجھے بیدار کیامجھ کو حالات سے آمادۂ پیکار کیابے کسی رخت سفر بن کر مرے ساتھ چلییاد آئی تھی مجھے گاؤں کی ایک ایک گلیلہلہاتی ہوئی فصلیں وہ مرے آم کے باغوہ مکانوں میں لرزتے ہوئے دھندلے سے چراغدور تک پانی میں پھیلے ہوئے وہ دھان کے کھیتاور تالاب کنارے وہ چمکتی ہوئی ریتمیرے ہم عمر وہ ساتھی وہ مرے ہمجولیمیرے اسکول کے وہ دوست مری وہ ٹولیایک بار ان کی نگاہوں نے مجھے دیکھا تھاجیسے اک بار مرے دل نے بھی کچھ سوچا تھا''میں نے جب وادئ غربت میں قدم رکھا تھادور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو''
باپ کا نام زر تاج گلعمر بتیس برسوہ مجاہد شہادت کا طالب راہ حق کا مسافر ہوااور جام شہادت بھی اس نےاپنے بھائی کے ہاتھوں پیاجو شمالی مجاہد تھااور پنج وقتہ نمازی بھی تھامسئلہ اس شہادت کا پیچیدہ ہےاس کو بہتر یہی ہے یہیں چھوڑ دیںاب بہرحال بابا تو جنت میں ہےاس کے ہاتھوں میں جام طہوراس کی بانہوں میں حور و قصورمیری تقدیر میں بم دھماکے دھواںپگھلتی ہوئی یہ زمینبکھرتا ہوا آسماںبعد از مرگ وہ زندہ ہےزندگی مجھ سے شرمندہ ہے
کیوں مری تلخ نوائی سے خفا ہوتے ہوزہر ہی مجھ کو ملا زہر پیا ہے میں نےکوئی اس دشت جنوں میں مری وحشت دیکھےاپنے ہی چاک گریباں کو سیا ہے میں نے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books