aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "putlaa"
سہانی نمود جہاں کی گھڑی تھیتبسم فشاں زندگی کی کلی تھیکہیں مہر کو تاج زر مل رہا تھاعطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھیسیہ پیرہن شام کو دے رہے تھےستاروں کو تعلیم تابندگی تھیکہیں شاخ ہستی کو لگتے تھے پتےکہیں زندگی کی کلی پھوٹتی تھیفرشتے سکھاتے تھے شبنم کو روناہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھیعطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کوخودی تشنہ کام مے بے خودی تھیاٹھی اول اول گھٹا کالی کالیکوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھیزمیں کو تھا دعویٰ کہ میں آسماں ہوںمکاں کہہ رہا تھا کہ میں لا مکاں ہوںغرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیاراکہ نظارگی ہو سراپا نظاراملک آزماتے تھے پرواز اپنیجبینوں سے نور ازل آشکارافرشتہ تھا اک عشق تھا نام جس کاکہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارافرشتہ کہ پتلا تھا بے تابیوں کاملک کا ملک اور پارے کا پاراپئے سیر فردوس کو جا رہا تھاقضا سے ملا راہ میں وہ قضا رایہ پوچھا ترا نام کیا کام کیا ہےنہیں آنکھ کو دید تیری گواراہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہاجل ہوں مرا کام ہے آشکارااڑاتی ہوں میں رخت ہستی کے پرزےبجھاتی ہوں میں زندگی کا شرارامری آنکھ میں جادوئے نیستی ہےپیام فنا ہے اسی کا اشارامگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسیوہ آتش ہے میں سامنے اس کے پاراشرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میںوہ ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تاراٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسووہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گواراسنی عشق نے گفتگو جب قضا کیہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکاراگری اس تبسم کی بجلی اجل پراندھیرے کا ہو نور میں کیا گزارابقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہقضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ
اور پھر سب کو اک جا ملایا گیاگوندھ کر ایک پتلا بنایا گیا
عندلیبوں کو ملی آہ و بکا کی تعلیماور پروانوں کو دی سوز وفا کی تعلیمجب ہر اک چیز کو قدرت نے عطا کی تعلیمآئی حصے میں ترے ذوق فنا کی تعلیمنرم و نازک تجھے اعضا دیئے جلنے کے لیےدل دیا آگ کے شعلوں پہ پگھلنے کے لیےرنگ تصویر کے پردے میں جو چمکا تیراخود بہ خود لوٹ گیا جلوۂ رعنا تیراڈھال کر کالبد نور میں پتلا تیراید قدرت نے بنایا جو سراپا تیرابھر دیا کوٹ کے سوز غم شوہر دل میںرکھ دیا چیر کے اک شعلۂ مضطر دل میںتو وہ تھی شمع کہ پروانہ بنایا تجھ کوتو وہ لیلیٰ تھی کہ دیوانہ بنایا تجھ کورونق خلوت شاہانہ بنایا تجھ کونازش ہمت مردانہ بنایا تجھ کوناز آیا ترے حصے میں ادا بھی آئیجاں فروشی بھی، محبت بھی، وفا بھی آئیآئی دنیا میں جو تو حسن میں یکتا بن کرچمن دہر میں پھولی گل رعنا بن کررہی ماں باپ کی آنکھوں کا جو تارا بن کردل شوہر میں رہی خال سویدا بن کرحسن خدمت سے شگفتہ دل شوہر رکھاکہ قدم جادۂ طاعت سے نہ باہر رکھاتیری فطرت میں مروت بھی تھی غم خواری بھیتیری صورت میں ادا بھی طرح داری بھیجلوۂ حسن میں شامل تھی نکو کاری بھیدرد آیا ترے حصے میں، تو خودداری بھیآگ پر بھی نہ تجھے آہ مچلتے دیکھاتپش حسن کو پہلو نہ بدلتے دیکھاتو وہ عصمت کی تھی او آئینہ سیما تصویرحسن سیرت سے تھی تیری متجلا تصویرلاکھ تصویروں سے تھی اک تری زیبا تصویرتجھ کو قدرت نے بنایا تھا سراپا تصویرنور ہی نور ترے جلوۂ مستور میں تھاانجم ناز کا جھرمٹ رخ پر نور میں تھالب میں اعجاز حیا چشم فسوں ساز میں تھیکہ قیامت کی ادا تیرے ہر انداز میں تھیشکل پھرتی جو تری دیدۂ غماز میں تھیبرق بے تاب تری جلوہ گاہ ناز میں تھییہ وہ بجلی تھی قیامت کی تڑپ تھی جس میںشعلۂ نار عقوبت کی تڑپ تھی جس میںیہ وہ بجلی تھی جو تیغ شرر افشاں ہو کرکوند اٹھی قلعہ چتورؔ میں جولاں ہو کریہ وہ بجلی تھی جو سوز غم حرماں ہو کرخاک سی لوٹ گئی تیری پشیماں ہو کریہ وہ بجلی تھی، تجھے جس کے اثر نے پھونکارفتہ رفتہ تپش سوز جگر نے پھونکاآہ و عشوہ و انداز و ادا کی دیویآہ او ہند کے ناموس وفا کی دیویآہ او پرتو انوار صفا کی دیویاو زیارت کدۂ شرم و حیا کی دیویتیری تقدیس کا قائل ہے زمانہ اب تکتیری عفت کا زباں پر ہے فسانہ اب تکآفریں ہے تری جاں بازی و ہمت کے لیےآفریں ہے تری عفت تری عصمت کے لیےکیا مٹائے گا زمانہ تری شہرت کے لیےکہ چلی آتی ہے اک خلق زیارت کے لیےنقش اب تک تری عظمت کا ہے بیٹھا دل میںتو وہ دیوی ہے، ترا لگتا ہے میلہ دل میں
جس قدر دنیا میں مخلوقات ہےسب سے اشرف آدمی کی ذات ہےاس کی پیدائش میں ہے الفت کا رازاس کی ہستی پر ہے خود خالق کو نازاس کی خاطر کل جہاں پیدا ہوایہ زمیں یہ آسماں پیدا ہواعقل کا جوہر اسے بخشا گیاعلم کا زیور اسے بخشا گیااس کے سر میں ہے نہاں ایسا دماغجس میں روشن ہے لیاقت کا چراغسوچ کر ہر کام کر سکتا ہے یہشیر کو بھی رام کر سکتا ہے یہیہ صفائی سے چٹانیں توڑ دےاپنی دانائی سے دریا موڑ دےمن چلا ہے اس کی ہمت ہے بلندڈال سکتا ہے ستاروں پر کمنداس کو خطروں کی نہیں پروا ذراآگ میں کودا یہ سولی پر چڑھااس کے ہر انداز میں اعجاز ہےعرش تک اس نور کی پرواز ہےاس کی باتوں میں عجب تاثیر ہےخاک کا پتلا نہیں اکسیر ہےیہ اگر نیکی کے زینے پر چڑھےایک دن سارے فرشتوں سے بڑھےاور اگر عصیاں کی دلدل میں پھنسےاس کا درجہ کم ہو حیوانات سےیہ کبھی روئی سے بڑھ کر نرم ہےیہ کبھی سورج سے بڑھ کر گرم ہےایک حالت پر نہیں اس کا مزاجہر زمانے میں بدلتا ہے رواجاور تھا پہلے یہ اب کچھ اور ہےآئے دن اس کا نرالا طور ہےاس نے بے حد روپ بدلے آج تکاس کی تدبیروں سے حیراں ہے فلکڈاکٹر تاجر پروفیسر وکیلان کا ہونا ہے ترقی کی دلیلاس کے پہلو میں وہ دل موجود ہےجو بھڑکنے میں نرا بارود ہےریل گاڑی ریڈیو موٹر جہازاس کی ایجادوں کا قصہ ہے درازدست کاری میں بڑا مشاق ہےجدتوں کا ہر گھڑی مشتاق ہےکھول آنکھیں جنگ کی رفتار دیکھدیکھ اس کے خوفناک اوزار دیکھیہ کہیں حاکم کہیں محکوم ہےیہ کہیں ظالم کہیں مظلوم ہےآدمی جب غیر کے آگے جھکاآدمیت سے بھٹکتا ہی گیاآدمی ملنا بہت دشوار ہےخود خدا کو آدمی درکار ہےپیارے بچو آدمی بن کر رہوہر کسی کے ساتھ ہمدردی کروسچ اگر پوچھو تو بس وہ مرد ہےجس کے دل میں دوسروں کا درد ہےفیضؔ پہنچاتا نہیں جو آدمیاس کو اپنی ذات سے ہے دشمنیاس کو اپنی ذات سے ہے دشمنی
کبھی جب لفظ آزادی کا سچا ترجماں ہوگاتو پھر یہ ہند خوابوں کا مرے ہندوستاں ہوگاابھر آئے گا خودداری کا جذبہ ملک والوں کافقط ایثار ہوگا مدعا ان خوش خیالوں کانہ ہوگی چور بازاری نہ عیاری نہ مکارینہ یہ باقی رہے گی رشوتوں کی گرم بازاریحکومت کا جو ڈھانچہ ہے بدل جائے گا یہ یکسرکہ اخراجات ہیں جو آج کل ہو جائیں گے کمترحکومت میں سبھی اہل ہنر کے قدرداں ہوں گےجو جاہل ہیں وسائل سے نہ اپنے کامراں ہوں گےنہ اتنے ٹیکس ہی ہوں گے کہ جن سے جان ہو دوبھرخوشی سے ٹیکس سب دیں گے بچے گا اس قدر کھا کرمرے ہندوستاں کے کھیت جب دیکھو ہرے ہوں گےاناج اتنا مرے کھلیان غلے سے بھرے ہوں گےمویشی اس قدر ہوں گے بہیں گی دودھ کی نہریںمسرت کے سمندر میں اٹھیں گی ہر طرف لہریںمشینوں کے لئے محتاج ہوں گے ہم نہ غیروں کےضرورت کا ہر اک ساماں بنے گا ملک میں اپنےسہولت برق و ٹیلیفون کی ہوگی دیہاتوں میںسڑک ہر گاؤں تک بن جائے گی پکی دیہاتوں میںنکل آئیں گے کافی اس زمیں سے تیل کے چشمےنہ ہم محتاج سونے کے رہیں گے اور نہ لوہے کےنہ کوئی بے پڑھا لکھا نہ کوئی بے ہنر ہوگانہ اوروں کے لئے بیکار کوئی درد سر ہوگاہمارے ملک کو اک مرکز تعلیم پائیں گےیہاں تعلیم لینے دوسرے ملکوں سے آئیں گےجو بوڑھے ہوں گے اور محتاج انہیں سرکار پالے گییتیموں اور بیواؤں کو سینے سے لگا لے گیحکومت اور پبلک کے بھلے کردار اگر ہوں گےتو موسم اور دریا بھی رہیں گے ٹھیک ہی اپنےہمارے دم کا لوہا اہل قوت مان جائیں گےجو ہیں کمزور ہر صورت میں حامی ہم کو پائیں گےغرض یہ ہے وہ خوابوں کا مرے ہندوستاں ہوگانہ اک چہرے پہ جس میں فکر و وحشت کا نشاں ہوگانہ ہوگی بھوک کی لعنت نہ بیکاری نہ بیمارینہ ہوگی بے ایمانی اور نہ عیاری نہ غداریشجاعت اور جواں مردی کا پتلا ہوگا ہر انساںمحبت اور خدمت ہوگا ہر انسان کا ایماںشفاؔ ممکن ہے ایسے دن نہ میری زیست میں آئیںمیں وہ پودا لگاؤں گا کہ نسلیں جس کا پھل کھائیں
بنا ہے آدمی رحم و کرم کا پتلا کیوںہے اس صفت سے اسے متصف کیا کس نےدرندگی ہی سےگر انتساب ہو اس کاکہاں سے آئے گا الزام کوئی فطرت پر
تھکا ہارا ازل کی وسعتوں میں خاک کا پتلاہزاروں من کی تاریکی تلے تھا ساکت و جامدہر اک ذی روح کی نظروں کا مرکز، موجب حیرتچمکتے نوریوں کی شوکت بیتاب کا شاہد
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسفکی دکان پر میں نے دیکھاتو تیری نگاہوں میں وہ تابناکیتھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوںجہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!یہ وہ دور تھا جس میں میں نےکبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانبپلٹ کر نہ دیکھاوہ کوزے مرے دست چابک کے پتلےگل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںوہ سر گوشیوں میں یہ کہتےحسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟وہ ہم سے خود اپنے عمل سےخدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرےتغاروں میں مٹیکبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میںسنگ بستہ پڑی تھیصراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداںمری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارےشکستہ پڑے تھےمیں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانوکسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کےگل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاجہاں زاد نو سال پہلےتو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھیکہ میں نے حسن کوزہ گر نےتری قاف کی سی افق تاب آنکھوںمیں دیکھی ہے وہ تابناکیکہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کارہگزر بن گئے تھےجہاں زاد بغداد کی خواب گوں راتوہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیںکسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیےایک ہی رات وہ کہربا تھیکہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجوداس کی جاں اس کا پیکرمگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلاحسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
عقائد پر قیامت آئے گی ترمیم ملت سےنیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے
یہ آئے دن کے ہنگامےیہ جب دیکھو سفر کرنایہاں جانا وہاں جانااسے ملنا اسے ملناہمارے سارے لمحےایسے لگتے ہیںکہ جیسے ٹرین کے چلنے سے پہلےریلوے اسٹیشن پرجلدی جلدی اپنے ڈبے ڈھونڈتےکوئی مسافر ہوںجنہیں کب سانس بھی لینے کی مہلت ہےکبھی لگتا ہےتم کو مجھ سے مجھ کو تم سے ملنے کاخیال آئےکہاں اتنی بھی فرصت ہےمگر جب سنگ دل دنیا میرا دل توڑتی ہے توکوئی امید چلتے چلتےجب منہ موڑتی ہے توکبھی کوئی خوشی کا پھولجب اس دل میں کھلتا ہےکبھی جب مجھ کو اپنے ذہن سےکوئی خیال انعام ملتا ہےکبھی جب اک تمنا پوری ہونے سےیہ دل خالی سا ہوتا ہےکبھی جب درد آ کے پلکوں پہ موتی پروتا ہےتو یہ احساس ہوتا ہےخوشی ہو غم ہو حیرت ہوکوئی جذبہ ہواس میں جب کہیں اک موڑ آئے تووہاں پل بھر کوساری دنیا پیچھے چھوٹ جاتی ہےوہاں پل بھر کواس کٹھ پتلی جیسی زندگی کیڈوری ٹوٹ جاتی ہےمجھے اس موڑ پربس اک تمہاری ہی ضرورت ہےمگر یہ زندگی کی خوب صورت اک حقیقت ہےکہ میری راہ میں جب ایسا کوئی موڑ آیا ہےتو ہر اس موڑ پر میں نےتمہیں ہمراہ پایا ہے
(۳)نئے زمانے میں اگر اداس خود کو پاؤں گایہ شام یاد کر کے اپنے غم کو بھول جاؤں گاعیادت حبیب سے وہ آج زندگی ملیخوشی بھی چونک چوک اٹھی غم کی آنکھ کھل گئیاگرچہ ڈاکٹر نے مجھ کو موت سے بچا لیاپر اس کے بعد اس نگاہ نے مجھے جلا لیانگاہ یار تجھ سے اپنی منزلیں میں پاؤں گاتجھے جو بھول جاؤں گا تو راہ بھول جاؤں گا(۴)قریب تر میں ہو چلا ہوں دکھ کی کائنات سےمیں اجنبی نہیں رہا حیات سے ممات سےوہ دکھ سہے کہ مجھ پہ کھل گیا ہے درد کائناتہے اپنے آنسوؤں سے مجھ پہ آئینہ غم حیاتیہ بے قصور جان دار درد جھیلتے ہوئےیہ خاک و خوں کے پتلے اپنی جاں پہ کھیلتے ہوئےوہ زیست کی کراہ جس سے بے قرار ہے فضاوہ زندگی کی آہ جس سے کانپ اٹھتی ہے فضاکفن ہے آنسوؤں کا دکھ کی ماری کائنات پرحیات کیا انہیں حقیقتوں سے ہونا بے خبرجو آنکھ جاگتی رہی ہے آدمی کی موت پروہ ابر رنگ رنگ کو بھی دیکھتی ہے سادہ ترسکھا گیا دکھ مرا پرانی پیر جاننانگاہ یار تھی جہاں بھی آج میری رہنمایہی نہیں کہ مجھ کو آج زندگی نئی ملیحقیقت حیات مجھ پہ سو طرح سے کھل گئیگواہ ہے یہ شام اور نگاہ یار ہے گواہخیال موت کو میں اپنے دل میں اب نہ دوں گا راہجیوں گا ہاں جیوں گا اے نگاہ آشنائے یارسدا سہاگ زندگی ہے اور جہاں سدا بہار(۵)ابھی تو کتنے ناشنیدہ نغمۂ حیات ہیںابھی نہاں دلوں سے کتنے راز کائنات ہیںابھی تو زندگی کے نا چشیدہ رس ہیں سیکڑوںابھی تو ہاتھ میں ہم اہل غم کے جس ہیں سیکڑوںابھی وہ لے رہی ہیں میری شاعری میں کروٹیںابھی چمکنے والی ہے چھپی ہوئی حقیقتیںابھی تو بحر و بر پہ سو رہی ہیں میری وہ صدائیںسمیٹ لوں انہیں تو پھر وہ کائنات کو جگائیںابھی تو روح بن کے ذرے ذرے میں سماؤں گاابھی تو صبح بن کے میں افق پہ تھرتھراؤں گاابھی تو میری شاعری حقیقتیں لٹائے گیابھی مری صدائے درد اک جہاں پہ چھائے گیابھی تو آدمی اسیر دام ہے غلام ہےابھی تو زندگی صد انقلاب کا پیام ہےابھی تمام زخم و داغ ہے تمدن جہاںابھی رخ بشر پہ ہیں بہمیت کی جھائیاںابھی مشیتوں پہ فتح پا نہیں سکا بشرابھی مقدروں کو بس میں لا نہیں سکا بشرابھی تو اس دکھی جہاں میں موت ہی کا دور ہےابھی تو جس کو زندگی کہیں وہ چیز اور ہےابھی تو خون تھوکتی ہے زندگی بہار میںابھی تو رونے کی صدا ہے نغمۂ ستار میںابھی تو اڑتی ہیں رخ بہار پر ہوائیاںابھی تو دیدنی ہیں ہر چمن کی بے فضائیاںابھی فضائے دہر لے گی کروٹوں پہ کروٹیںابھی تو سوتی ہیں ہواؤں کی وہ سنسناہٹیںکہ جس کو سنتے ہی حکومتوں کے رنگ رخ اڑیںچپیٹیں جن کی سرکشوں کی گردنیں مروڑ دیںابھی تو سینۂ بشر میں سوتے ہیں وہ زلزلےکہ جن کے جاگتے ہی موت کا بھی دل دہل اٹھےابھی تو بطن غیب میں ہے اس سوال کا جوابخدائے خیر و شر بھی لا نہیں سکا تھا جس کی تابابھی تو گود میں ہیں دیوتاؤں کی وہ ماہ و سالجو دیں گے بڑھ کے برق طور سے حیات کو جلالابھی رگ جہاں میں زندگی مچلنے والی ہےابھی حیات کی نئی شراب ڈھلنے والی ہےابھی چھری ستم کی ڈوب کر اچھلنے والی ہےابھی تو حسرت اک جہان کی نکلنے والی ہےابھی گھن گرج سنائی دے گی انقلاب کیابھی تو گوش بر صدا ہے بزم آفتاب کیابھی تو پونجی واد کو جہان سے مٹانا ہےابھی تو سامراجوں کو سزائے موت پانا ہےابھی تو دانت پیستی ہے موت شہریاروں کیابھی تو خوں اتر رہا ہے آنکھوں میں ستاروں کیابھی تو اشتراکیت کے جھنڈے گڑنے والے ہیںابھی تو جڑ سے کشت و خوں کے نظم اکھڑنے والے ہیںابھی کسان و کامگار راج ہونے والا ہےابھی بہت جہاں میں کام کاج ہونے والا ہےمگر ابھی تو زندگی مصیبتوں کا نام ہےابھی تو نیند موت کی مرے لئے حرام ہےیہ سب پیام اک نگاہ میں وہ آنکھ دے گئیبہ یک نظر کہاں کہاں مجھے وہ آنکھ لے گئی
گرمی کی تپش بجھانے والیسردی کا پیام لانے والیقدرت کے عجائبات کی کاںعارف کے لیے کتاب عرفاںوہ شاخ و درخت کی جوانیوہ مور و ملخ کی زندگانیوہ سارے برس کی جان برساتوہ کون خدا کی شان برساتآئی ہے بہت دعاؤں کے بعدوہ سیکڑوں التجاؤں کے بعدوہ آئی تو آئی جان میں جاںسب تھے کوئی دن کے ورنہ مہماںگرمی سے تڑپ رہے تھے جان داراور دھوپ میں تپ رہے تھے کہساربھوبل سے سوا تھا ریگ صحرااور کھول رہا تھا آب دریاسانڈے تھے بلوں میں منہ چھپائےاور ہانپ رہے تھے چارپائےتھیں لومڑیاں زباں نکالےاور لو سے ہرن ہوئے تھے کالےچیتوں کو نہ تھی شکار کی سدھہرنوں کو نہ تھی قطار کی سدھتھے شیر پڑے کچھار میں سستگھڑیال تھے رود بار میں سستڈھوروں کا ہوا تھا حال پتلابیلوں نے دیا تھا ڈال کندھابھینسوں کے لہو نہ تھا بدن میںاور دودھ نہ تھا گئو کے تھن میںگھوڑوں کا چھٹا تھا گھاس دانہتھا پیاس کا ان پہ تازیانہگرمی کا لگا ہوا تھا بھبکااور انس نکل رہا تھا سب کاطوفان تھے آندھیوں کے برپااٹھتا تھا بگولے پر بگولاآرے تھے بدن پہ لو کے چلتےشعلے تھے زمین سے نکلتےتھی آگ کا دے رہی ہوا کامتھا آگ کا نام مفت بد نامرستوں میں سوار اور پیدلسب دھوپ کے ہاتھ سے تھے بے کلگھوڑوں کے نہ آگے اٹھتے تھے پاؤںملتی تھی کہیں جو روکھ کی چھاؤںتھی سب کی نگاہ سوئے افلاکپانی کی جگہ برستی تھی خاک
سو اب ہمجو صدیوں کی لمبی مسافت سے لوٹے ہیںتو اپنے رنجور کوزوں میں جھوجھا ہوا ہےیہ تیرا قصور اور نہ میری خطا ہےکوئی کوزہ گر تو ہمارا بھی ہوگاسو یہ اس کی حکمتکہ اس نے ہمیں چاک پر ڈھالتے وقتلمحوں کا پھیر اس نزاکت سے رکھاکہ ہم اپنی اپنی جگہ صرف ششدر کھڑے تھےکئی دست چابک کے بے جان پتلےمرے اور ترے درمیاں سج گئے تھےسو یہ اس کی حکمتمگر وقت اس درجہ سفاک کیوں ہےیہ مشاطہ زندگی اتنی چالاک کیوں ہےمرے اور ترے درمیاں نو برس جس نے لا کر بچھائےیہ نو سال کس طور میں نے بتائےکہ ساحل سے کشتی تک آتے ہوئےجیسے تختے کے ہم راہ دل ڈگمگائےوہی نو برس جو مرے اور ترے درمیاںوقت کی کرچیاں ہیںزمانہ بھی کیسی عجب کہکشاں ہےیہ دنیائے سیارگاں ہے کہ جس میں ہزاروں کواکبمسلسل کسی چاک پر گھومتے ہیںیہ اجسام کے گرد اجسام کا رقص ہی زندگی ہے مری جاںمری جان تو چاک کے ساتھ مٹی کے رشتے کو پہچانتا تھاحسن تو نے مٹی کے بے جان پتلوں سےتخلیق کے جاں گسل مرحلوں میںسدا گفتگو سو طرح گفتگو کیذہانت کے پتلے محبت کے خالق فقط یہ بتا دےکہ تیرے عناصر کے اجزائے ترکیب میں واہمہ کیسے آیاحسن تو وہاں جھونپڑے میںاکیلا گلے مل کے رویا تھا کس سےلبیب اور تو اور میں اور حقیقت میں کوئی نہیں تھاطرح واہمہ میرے لب میرے گیسو سے لپٹا رہا تھالبیب ایک سایا جسے تو نے روگ اپنی جاں کا بنایایہ سایا کہیں گر حقیقت بھی ہوتاتو آخر کو تو اس حقیقت سے کیوں بے خبر تھاکہ ہر جسم کے ساتھ اک آفتاب اور مہتاب لازمیہ تثلیث قائم ہے قائم رہے گی
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
دیوالی کے دیپ جلے ہیںیار سے ملنے یار چلے ہیںچاروں جانب دھوم دھڑاکاچھوٹے راکٹ اور پٹاخہگھر میں پھلجھڑیاں چھوٹےمن ہی من میں لڈو پھوٹےدیپ جلے ہیں گھر آنگن میںاجیارا ہو جائے من میںاپنوں کی تو بات الگ ہےآج تو سارے غیر بھلے ہیںدیوالی کے دیپ جلے ہیںرام کی جے جے کار ہوئی ہےراون کی جو ہار ہوئی ہےسچے کا ہر بول ہے بالاجھوٹے کا منہ ہوگا کالاسچائی کا ڈنکا باجےسچ کے سر پر صحرا ساجےجھوٹ کی لنکا خاک بنا کےرام اجودھیا لوٹ چلے ہیںدیوالی کے دیپ جلے ہیںہندو مسلم سکھ عیسائیمل کر کھائیں یار مٹھائیبھول کے شکوے اور گلے سبہنستے گاتے آج ملے سبکہنے کو ہر دھرم جدا ہےلیکن سب کا ایک خدا ہےاک ماٹی کے پتلے حیدرؔاس سانچے میں خوب ڈھلے ہیںدیوالی کے دیپ جلے ہیں
پھول کی خوشبو ہنستی آئیمیرے بسیرے کو مہکانےمیں خوشبو میں خوشبو مجھ میںاس کو میں جانوں مجھ کو وہ جانےمجھ سے چھو کر مجھ میں بس کراس کی بہاریں اس کے زمانےلاکھوں پھولوں کی مہکاریںرکھتے ہیں گلشن ویرانےمجھ سے الگ ہیں مجھ سے جدا ہیںمیں بیگانہ وہ بیگانےان کو بکھیرا ان کو اڑایادست خزاں نے موج صبا نےبھولا بھٹکا ناداں قطرہآنکھوں کی پتلی کو سجانےآنسو بن کر دوڑا آیامیری پلکیں اس کے ٹھکانےاس کا تھرکنا، اس کا تڑپنامیرے قصے میرے فسانےاس کی ہستی میری ہستیاس کے موتی میرے خزانےباقی سارے گوہر پارےخاک کے ذرے ریت کے دانےپربت کی اونچی چوٹی سےدامن پھیلایا جو گھٹا نےٹھنڈی ہوا کے ٹھنڈے جھونکےبے خود آوارہ مستانےاپنی ٹھنڈک لے کر آئےمیری آگ میں گھل مل جانےان کی ہستی کا پیراہنمیری سانس کے تانے بانےان کے جھکولے میری امنگیںان کی نوائیں میرے ترانےباقی سارے طوفانوں کوجذب کیا پہنائے فضا نےفطرت کی یہ گونا گونیگلشن بن وادی ویرانےکانٹے کلیاں نور اندھیراانجمنیں شمعیں پروانےلاکھوں شاطر لاکھوں مہرےپھیلے ہیں شطرنج کے خانےجانتا ہوں میں یہ سب کیا ہیںصہبا سے خالی پیمانےبھوکی مٹی کو سونپے ہیںدنیا نے اپنے نذرانےجس نے میرا دامن تھاماآیا جو مجھ میں بس جانےمیرے طوفانوں میں بہنےمیری موجوں میں لہرانےمیرے سوز دل کی لو سےاپنے من کی جوت جگانےزیست کی پہنائی میں پھیلےموت کی گیرائی کو نہ جانےاس کا بربط میرے نغمےاس کے گیسو میرے شانےمیری نظریں اس کی دنیامیری سانسیں اس کے زمانے
سومناتی رفعتیں بھارت کی تہذیب قدیمپاٹلی پترا کی شہرت مگدھ کی شان عظیم
ہمیں بچھڑے توکتنےدنمہینےسالگزرے ہیںمگر یہ چوٹگہری ہےمگر یہ زخمتازے ہیںیہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتامیری جاناںاگر میں ساتھدو پنچھی بھی بیٹھے دیکھتا ہوں تومیرے ماضی کا ہر منظرمیری آنکھوں کے ڈوروں میںابھرتا ہےتڑپتا ہےمیری آنکھوں کی پتلی ڈوب جاتی ہےیہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتامیری جاناںوہ سارے لوگجن کی وجہ سےہم لوگ بچھڑے تھےمکمل زندگی کر کےوہ سب قبر میں سوئے ہیںتمہارا دکھ مرے سینہ میں لیکناب بھی زندہ ہےجواں ہوتا ہی جاتا ہےیہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتامری جاناںاب اتنی مدتوں میںتم بھی شایدبھول بیٹھی ہومرے سب دوست رشتہ دارلاکھوں میل آگے ہیںسفر میں زندگی کےمگر میں رہ گیا کردارتنہااس کہانی میںیہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتامری جاناں
دل کے قصوں کا مقدر ہے پریشاں حالیپئے ترتیب سہاروں کا تعاقب چھوڑوسوچ کے بخت میں اظہار کا لمحہ کب تھادل ناکام سرابوں کا تعاقب چھوڑوصبح دم پھر وہی پتلی کا تماشا ہوگاجاگتی رات کے خوابوں کا تعاقب چھوڑو
رات کی کالی بارش نےچہروں کی وردیکیچڑ سے بھر دی ہےمیرے سینے کے پنجرے میںخون کا گردش کرنے والا لٹونفرت کے پودوں کے اوپرگھوم رہا ہےتم نے ایسے کانٹےمیری شریانوں میں بوئے ہیںایسی دوپہروں کی زردیمیرے گالوں پہ لیپی ہےکہ میں بستر کی شکنوں میںاپنی آنکھیں بو کر روتا ہوںپہلی بار جب غم کی پتلی قاش کوچہرے سے نوچا تھاجب غربت کے اوراقہوا میں اڑتے تھےجب خالی معدے کی تصویر بنا کراس میں چیزیں رکھتا تھاپھٹے ہوئے کپڑوں میں جبتصویر چھپا کر رکھتا تھامیری شہوتکنوار پنے کی دہلیزوں پراپنا خطبہ لکھتی تھیبیس برس ان گلیوں کی دیواروں سےٹکرا ٹکرا کرمیرے کندھے ریت کے پشتے بن کرڈھیتے جاتے ہیںمیں جو تیری رانوں کے جنگل میںکالے پھول کو توڑنے نکلا تھااب دیکھ رہا ہوںدل کی کوری مٹی میںتیرے جسم کی پتلی شاخیں اگی ہوئی تھیںاور اک آوارہ سناٹاچھتوں پر بھاری قدموں سےبڑی آہستگی کے ساتھ چلتا ہےتو وہ چپکے سے میرے پاس آتی ہےاور اپنے دھیمے لہجے میںوہ ساری داستانیں کہہ سناتی ہےجنہیں سن کر میں دھیمی آنچ پرپہروں سلگتا ہوںکسی گرجے کے ویراں لان میںجب جنوریاپنے سنہری گیسوؤں کو کھول کرکوئی پرانا گیت گاتی ہےتو وہ اک ان چھوئی نن کی طرحپتھر کے بینچوں پرمرے کاندھے پر سر رکھےمرے چہرے پہ اپنی انگلیوں میںکبھی جب شام روتی ہےسیہ کافی کے پیالوں سےلپکتی بھاپ میںپھر آندھی کی آمد سے ایسی گرد ہوئیایسا حبس مری سانسوں میں پھیلاتیرے جسم کی کشتی میںمیں اپنے کپڑے بھول آیاپر تم نے آدھی رات کو ایسی چٹکی لینیند کی ڈھولکگھٹنوں کی ضربوں سے چکناچور ہوئیاب منہ سے شیرہ بہتا ہےان زخموں کاجن کے ٹانکے اندر ہی اندر ٹوٹے ہیںبجلی کی تاروں کے اوپرکوے قطار میں بیٹھے ہیںبارش کے پانی میں جن کےعسکری بازو ہلتے ہیںرانوں کی یہ نیلی وریدیںجن میں دعا کا نقشی کوزہالٹ گیا ہےمیں نے ان گلیوں میںاپنے مرنے کی افواہ سنی ہےخوش الحان موذن کیآواز سے چڑیاں اڑتی ہیںاے رستوں کی رادھاتیرے وصل کی خاطرجسم کے نجی حصے دھو کرلوٹ کے پھر میں آیا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books