aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qaadir"
اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیاتحق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذاتمیں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہےہر دم متغیر تھے خرد کے نظریاتمحرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سےبینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتاتآج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابتمیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافاتہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندےتو خالق اعصار و نگارندۂ آناتاک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوںحل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالاتجب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچےکانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ باتگفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتاجب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالاتوہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبودوہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماواتمشرق کے خداوند سفیدان فرنگیمغرب کے خداوند درخشندہ فلزاتیورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہےحق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلماترعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میںگرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عماراتظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہےسود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجاتیہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومتپیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساواتبیکاری و عریانی و مے خواری و افلاسکیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحاتوہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محرومحد اس کے کمالات کی ہے برق و بخاراتہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومتاحساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتآثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخرتدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا ماتمے خانہ کی بنیاد میں آیا ہے تزلزلبیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خراباتچہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شامیا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کراماتتو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میںہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقاتکب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہدنیا ہے تری منتظر روز مکافات
خدائے عز و جل کی نعمتوں کا معترف ہوں میںمجھے اقرار ہے اس نے زمیں کو ایسے پھیلایاکہ جیسے بستر کم خواب ہو دیبا و مخمل ہومجھے اقرار ہے یہ خیمۂ افلاک کا سایہاسی کی بخششیں ہیں اس نے سورج چاند تاروں کوفضاؤں میں سنوارا اک حد فاصل مقرر کیچٹانیں چیر کر دریا نکالے خاک اسفل سےمری تخلیق کی مجھ کو جہاں کی پاسبانی دیسمندر موتیوں مونگوں سے کانیں لعل و گوہر سےہوائیں مست کن خوشبوؤں سے معمور کر دی ہیںوہ حاکم قادر مطلق ہے یکتا اور دانا ہےاندھیرے کو اجالے سے جدا کرتا ہے خود کو میںاگر پہچانتا ہوں اس کی رحمت اور سخاوت ہےاسی نے خسروی دی ہے لئیموں کو مجھے نکبتاسی نے یاوہ گویوں کو مرا خازن بنایا ہےتونگر ہرزہ کاروں کو کیا دریوزہ گر مجھ کومگر جب جب کسی کے سامنے دامن پسارا ہےیہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو
یہ شاخسار کے جھولوں میں پینگ پڑتے ہوئےیہ لاکھوں پتیوں کا ناچنا یہ رقص نباتیہ بے خودئ مسرت یہ والہانہ رقصیہ تال سم یہ چھما چھم کہ کان بجتے ہیںہوا کے دوش پہ کچھ اودی اودی شکلوں کینشے میں چور سی پرچھائیاں تھرکتی ہوئیافق پہ ڈوبتے دن کی جھپکتی ہیں آنکھیںخموش سوز دروں سے سلگ رہی ہے یہ شام!مرے مکان کے آگے ہے ایک چوڑا صحن وسیعکبھی وہ ہنستا نظر آتا ہے کبھی وہ اداساسی کے بیچ میں ہے ایک پیڑ پیپل کاسنا ہے میں نے بزرگوں سے یہ کہ عمر اس کیجو کچھ نہ ہوگی تو ہوگی قریب چھیانوے سالچھڑی تھی ہند میں جب پہلی جنگ آزادیجسے دبانے کے بعد اس کو غدر کہنے لگےیہ اہل ہند بھی ہوتے ہیں کس قدر معصوموہ دار و گیر وہ آزادیٔ وطن کی جنگوطن سے تھی کہ غنیم وطن سے غداریبپھر گئے تھے ہمارے وطن کے پیر و جواںدیار ہند میں رن پڑ گیا تھا چار طرفاسی زمانے میں کہتے ہیں میرے دادا نےجب ارض ہند سنچی خون سے ''سپوتوں'' کےمیان صحن لگایا تھا لا کے اک پوداجو آب و آتش و خاک و ہوا سے پلتا ہواخود اپنے قد سے بہ جوش نمو نکلتا ہوافسون روح بناتی رگوں میں چلتا ہوانگاہ شوق کے سانچوں میں روز ڈھلتا ہواسنا ہے راویوں سے دیدنی تھی اس کی اٹھانہر اک کے دیکھتے ہی دیکھتے چڑھا پروانوہی ہے آج یہ چھتنار پیڑ پیپل کاوہ ٹہنیوں کے کمنڈل لئے جٹادھاریزمانہ دیکھے ہوئے ہے یہ پیڑ بچپن سےرہی ہے اس کے لئے داخلی کشش مجھ میںرہا ہوں دیکھتا چپ چاپ دیر تک اس کومیں کھو گیا ہوں کئی بار اس نظارے میںوہ اس کی گہری جڑیں تھیں کہ زندگی کی جڑیں؟پس سکون شجر کوئی دل دھڑکتا تھامیں دیکھتا تھا اسے ہستیٔ بشر کی طرحکبھی اداس کبھی شادماں کبھی گمبھیرفضا کا سرمئی رنگ اور ہو چلا گہراگھلا گھلا سا فلک ہے دھواں دھواں سی ہے شامہے جھٹپٹا کہ کوئی اژدہا ہے مائل خوابسکوت شام میں درماندگی کا عالم ہےرکی رکی سی کسی سوچ میں ہے موج صبا
آتا ہے یاد مجھ کو بچپن کا وہ زمانہرہتا تھا ساتھ میرے خوشیوں کا جب خزانہہر روز گھر میں ملتے عمدہ لذیذ کھانےبے محنت و مشقت حاصل تھا آب و دانہبچوں کے ساتھ رہنا خوشیوں کے گیت گانادل میں نہ تھی کدورت تھا سب سے دوستانہمہندی کے پتے لانا اور پیس کر لگاناپھر سرخ ہاتھ اپنے ہر ایک کو دکھاناآواز ڈگڈگی کی جوں ہی سنائی دیتیاس کی طرف لپکنا بچوں کا والہانہہر سال پیارے ابو لاتے تھے ایک بکراچارہ اسے کھلانا میدان میں گھماناوہ دور جا چکا ہے آتا نہیں پلٹ کربچپن کا وہ زمانہ لگتا ہے اک فسانہدادی کو میں نے اک دن یہ مشورہ دیا تھاچہرے کی جھریوں کو آسان ہے مٹاناچہرے پہ آپ کے ہیں جو بے شمار شکنیںآیا مری سمجھ میں ان سے نجات پاناکپڑے کی ساری شکنیں مٹتی ہیں استری سےآسان سا عمل ہے یہ استری چلانااک گرم استری کو چہرے پہ آپ پھیریںعمدہ ہے میرا نسخہ ہے شرط آزمانااک روز والدہ سے جا کر کہا کچن میںاب چھوڑیئے گا امی یہ روٹیاں پکانااک پیڑ روٹیوں کا دالان میں لگائیںاس پیڑ کو کہیں گے روٹی کا کارخانہشاخوں سے تازہ تازہ پھر روٹیاں ملیں گیتوڑیں گے روٹیاں ہم کھائیں گے گھر میں کھاناکیسی عجیب باتیں آتی تھیں میرے لب پرآج ان کو کہہ رہا ہوں باتیں ہیں احمقانہوہ پیاری پیاری باتیں اب یاد آ رہی ہیںبچپن کا وہ زمانہ کیا خواب تھا سہانا
رہيلہ کس قدر ظالم، جفا جو، کينہ پرور تھانکاليں شاہ تيموري کي آنکھيں نوک خنجر سےديا اہل حرم کو رقص کا فرماں ستم گر نےيہ انداز ستم کچھ کم نہ تھا آثار محشر سےبھلا تعميل اس فرمان غيرت کش کي ممکن تھي!شہنشاہي حرم کي نازنينان سمن بر سےبنايا آہ! سامان طرب بيدرد نے ان کونہاں تھا حسن جن کا چشم مہر و ماہ و اختر سےلرزتے تھے دل نازک، قدم مجبور جنبش تھےرواں دريائے خوں ، شہزاديوں کے ديدئہ تر سےيونہي کچھ دير تک محو نظر آنکھيں رہيں اس کيکيا گھبرا کے پھر آزاد سر کو بار مغفر سےکمر سے ، اٹھ کے تيغ جاں ستاں ، آتش فشاں کھوليسبق آموز تاباني ہوں انجم جس کے جوہر سےرکھا خنجر کو آگے اور پھر کچھ سوچ کر ليٹاتقاضا کر رہي تھي نيند گويا چشم احمر سےبجھائے خواب کے پاني نے اخگر اس کي آنکھوں کےنظر شرما گئي ظالم کي درد انگيز منظر سےپھر اٹھا اور تيموري حرم سے يوں لگا کہنےشکايت چاہيے تم کو نہ کچھ اپنے مقدر سےمرا مسند پہ سو جانا بناوٹ تھي، تکلف تھاکہ غفلت دور سے شان صف آرايان لشکر سےيہ مقصد تھا مرا اس سے ، کوئي تيمور کي بيٹيمجھے غافل سمجھ کر مار ڈالے ميرے خنجر سےمگر يہ راز آخر کھل گيا سارے زمانے پرحميت نام ہے جس کا، گئي تيمور کے گھر سے
کل رات نہ جانے کیوں کیسےایک عجیب سی خواہش ہونے لگیوہ شہر جو ہم سے چھوٹا ہےاسی شہر کی خواہش ہونے لگیوہ شہر جو ہم سے چھوٹا ہےاب اس کا نظارہ کیسا ہےکس سے پوچھوں کیسے پوچھوںہر جان سے پیارا کیسا ہےکیا اب بھی ہمارے ہمجولیبے کار پڑے ہیں گاؤں میںکیا اب بھی بیڑیاں لٹکی ہیںان دوڑنے والے پاؤں میںکیا اب بھی پپیہا گاتا ہےاس بوڑھے نیم کی گولی پرکیا اب بھی موسم سرما میںپھولوں کی نمائش ہوتی ہےکیا اب بھی پتنگیں اڑتی ہیںپاون چھٹ کے تہواروں میںکیا اب بھی لوگ نہاتے ہیںساون کی پیاری پھواروں میںکیا اب بھی لوگ نکلتے ہیںویسے ہی عید کے موقع پرکیا اب بھی اپنے محلے میںمہمان نوازی ہوتی ہےکیا دن تھے وہ جو بیت گئےکیا میرے سارے میت گئےاے کاش کوئی لڑتا ہم سےتم ہار گئے ہم جیت گئےوہ اپنا بچپن کدھر گیاوہ اپنی جوانی کہاں گئیوہ شام جو پھر آئی ہی نہیںوہ صبح سہانی کہاں گئیکل رات گئی سب بات گئییعنی ساری سوغات گئیبن موسم کے جو آئی تھیمجھے رلا کے وہ برسات گئیجب میں اس سے پوچھا تھااب شہر ہمارا کیسا ہےکیا دھوپ میں بارش ہوتی ہےکیاری خواہش ہوتی ہےوہ ہنستے ہنستے رونے لگیاور دھوپ میں بارش ہونے لگی
اٹھ کہ ظلمت ہوئي پيدا افق خاور پربزم ميں شعلہ نوائي سے اجالا کر ديںايک فرياد ہے مانند سپند اپني بساطاسي ہنگامے سے محفل تہ و بالا کر ديںاہل محفل کو دکھا ديں اثر صيقل عشقسنگ امروز کو آئينہ فردا کر ديںجلوہ يوسف گم گشتہ دکھا کر ان کوتپش آمادہ تر از خون زليخا کر ديںاس چمن کو سبق آئين نمو کا دے کرقطرہ شبنم بے مايہ کو دريا کر ديںرخت جاں بت کدہء چيں سے اٹھا ليں اپناسب کو محو رخ سعدي و سليمي کر ديںديکھ! يثرب ميں ہوا ناقہ ليلي بيکارقيس کو آرزوئے نو سے شناسا کر ديںبادہ ديرينہ ہو اور گرم ہو ايسا کہ گدازجگر شيشہ و پيمانہ و مينا کر ديںگرم رکھتا تھا ہميں سردي مغرب ميں جو داغچير کر سينہ اسے وقف تماشا کر ديںشمع کي طرح جييں بزم گہ عالم ميںخود جليں ، ديدہ اغيار کو بينا کر ديں''ہر چہ در دل گذرد وقف زباں دارد شمعسوختن نيست خيالے کہ نہاں دارد شمع''
یہ سوچتا ہوں جوخدا کبھی دیدار بخشے گااور اپنے فضل سے دے گا اجازت مانگنے کی کچھتو نہ دستار و قبا نہ جبہ و خرقہنہ دولت نہ محل نہ سر پہ تاج مانگوں گانہ عہدہ و منصب نہ کوئی جاہ و جلالنہ علم و آگہی نہ مسند نہ اقتدار مانگوں گافراوانی غم سے نجات نہ فارغ البالینہ صحت نہ شفا نہ اچھی موت مانگوں گانہ تکمیل آرزو کی دعا نہ نفس مطمئنہ کینہ عمر خضر نہ شہرت نہ خواب کی تعبیر مانگوں گانہ دشمنوں کے ضرر سے نہ شر سے دوستوں کےنہ کبر سنی نہ ضعف نہ لاچاری سے پناہ مانگوں گانہ دنیا جہان کی خوشیاں نہ شان و شوکت ہینہ خوش نصیبی نہ دل کا چین نہ سکون روح مانگوں گانہ خوش گوار راتیں نہ طول شباب نہ نیند نہ آغوش محبوبنہ سامان عیش و طرب نہ حور و قصور مانگوں گانہ رسوائی سے بچنے کی نہ عزت آبرو کی خواہش ہےنہ شہرت و مقبولیت نہ اچھی امیج مانگوں گانہ قرض کے بوجھ نہ خوف نہ دہشت سےنہ کسی کے جبر سے نہ ظلم سے حفاظت کی دعا مانگوں گااب آپ سوچتے ہوں گےکہ یہ باؤلا یہ دیوانہ یہ پاگل شخصنہ جانے آخر خدا سے کیا مانگے گاسو مرے ہمدم مرے دوستو مرے یاروذرا قریب آؤ آؤ بتاؤں راز تمہیں دکھی دل کامیں خدائے قادر مطلق رحیم و اکرم سےجنون مذہبی کے خاتمے اور امن کی فضا مانگوں گا
قادر مطلق ہے تو ان کو دوبارہ ایج دےان شہیدوں کو تو دنیا ہی میں واپس بھیج دے
خداؤں کی طرح قادرہمارے باپ بوڑھے ہی نہ ہوںاور اپسراؤں اور پریوں سیحسیں محبوب مائیں
یہ عقیدہ ہندوؤں کا ہے نہایت ہی قدیمجب کبھی مذہب کی حالت ہوتی ہے زار و سقیمقادر مطلق جو ہے دانائے اسرار و کریمبھیجتا ہے رہنمائی کے لیے اپنا ندیم
جھلک تو دیکھو ہمارے گھر کی یہاں ہیں نانی یہاں ہیں تائیہمارے ماں باپ اور چچا ہیں یہاں ہیں بہنیں یہاں ہیں بھائیہمارا گھر ہے حسین گلشن خوشی کی کلیاں کھلی ہوئی ہیںوفا کی خوشبو بسی ہوئی ہے ہوئی نہ ہوگی یہاں لڑائیہمارے ابو کی دیکھو عظمت ہر ایک کرتا ہے ان کی عزتنظر میں ان کی ہیں سب برابر انہیں سے ملتی ہے رہنمائیکما رہے ہیں حلال روزی بنا دیا ہے ہمیں نمازیانہیں سے گھر میں ہے خیروبرکت کسی کی کرتے نہیں برائیہماری امی ہیں نیک سیرت ہمیں ملی ہے انہیں سے راحتسدا کچن میں ہے کام ان کا پکا رہی ہیں چکن فرائیلبوں پہ ان کے سدا تبسم زبان ان کی ہے خوب شیریںنہیں ہے کاموں سے ان کو فرصت کبھی صفائی کبھی سلائیہمیں ہے ان سے دلی محبت انہیں کے قدموں تلے ہے جنتبڑی محبت سے پرورش کی ہے ان کی فطرت میں پارسائیعجیب شے ہیں چچا ہمارے نہیں کسی کی سمجھ میں آئےلیے ہیں پیالے میں مرغ چھولے اسی میں ڈالی ہے رس ملائیجو موڈ ہو تو سنائیں نامہ ٹھمک ٹھمک کر بجائیں طبلہگئے وہ اک روز چھت کے اوپر وہاں چچا نے پتنگ اڑائیمدد وہ امی کی کر رہے ہیں توے پہ چمچہ چلا رہے ہیںسویرے اٹھ کر چچا ہمارے گلی کی کرتے ہیں خود صفائیوہ سیر کرنے گئے ہیں باہر پہن کے بنیان اور لنگوٹیبڑی سی پگڑی ہے سر کے اوپر لٹک رہی ہے گلے سے ٹائیبڑی ہیں سب سے ہماری نانی سناتی ہیں وہ ہمیں کہانیزباں پہ ذکر خدا ہے جاری ٹھکانا ان کا ہے چارپائیڈکارتی ہیں ہماری تائی ہمیشہ پیتی ہیں وہ دوائیبڑا سا تکیہ ہے سر کے نیچے بدن کے اوپر ہے اک رضائیبڑی بہن کا ہے نام رضیہ وہ ناولوں کی بہت ہے رسیاکشیدہ کاری میں ہے مہارت مزے سے کھاتی ہے وہ مٹھائیبہن ثریا نے لایا گڈا بہن رقیہ نے لائی گڑیاسہیلیوں کو بلا کے شادی خوشی سے دالان میں رچائیہمارا انور ہے دس برس کا مصوری سے اسے ہے رغبتبنا کے تصویر جب دکھائی تو بھائی بہنوں سے داد پائیہے سب سے چھوٹا میاں منور مگر ہے تعلیم سے محبتدوات لے کر وہ لکھ رہا تھا گرا دی کپڑوں پہ روشنائیذرا سا اپنا بھی حال کہہ دوں میں ایک کالج میں پڑھ رہا ہوںکتاب سے میری دوستی ہے کبھی نہ چھوڑوں گا میں پڑھائی
زمینمری نظروں میں اے مریخ تیرا درجہ اعلیٰ ہےبلندی پر تو رہتا ہے تری قسمت بھی بالا ہےمریخبلندی اور پستی کا کبھی دھوکا نہیں کھائیںزمیں اوپر دکھائی دے اگر مریخ پر آئیںزمینتجھے مانا ہے دیوتا جنگ کا نادان لوگوں نےتباہی کا دیا الزام تجھ کو روم والوں نےتجھے بھارت کے دانشور سدا منحوس کہتے ہیںتجھے کہتے رہے منگل کبھی جلاد کہتے ہیںبتا اے سرخ سیارے ترے حالات کیسے ہیںترے تالاب کیسے ہیں ترے باغات کیسے ہیںترے پاکیزہ دامن میں مناظر کیسے کیسے ہیںتری آغوش کے اندر نوادر کیسے کیسے ہیںمریخنہیں مریخ پر جھیلیں نہ چشمہ ہی ابلتا ہےسمندر ہے نہ دریا ہے نہ کوئی موتی ملتا ہےنہ بلبل کے ترانے ہیں نہ کوئی گل مہکتا ہےپرندہ بھی نہیں کوئی خوشی سے جو چہکتا ہےیہاں جگنو نہیں کوئی جو ظلمت میں چمکتا ہےنہ ہیرا اور نیلم ہے ہمیشہ جو دمکتا ہےہوا کا کوئی جھونکا ہے نہ سبزہ لہلہاتا ہےنہ بطخوں کی قطاریں ہیں نہ طائر چہچہاتا ہےنسیم صبح چلتی ہے نہ بادل اور پانی ہےنہ گلشن ہے یہاں کوئی نہ موجوں کی روانی ہےمرے قطبین کو دیکھو وہاں یخ بستہ پانی ہےیہی پانی یہاں پر زندگانی کی نشانی ہےزمیں کے لوگ کہتے ہیں کہ نہروں کی روانی ہےحقیقت میں نہیں ایسا فقط جھوٹی کہانی ہےیہاں صورت نظر آتی ہے آبشاروں کینظر آتی ہے کثرت ہر طرف سنگلاخ غاروں کییہاں ہے گہرا سناٹا خموشی کی حکومت ہےفضا بھی خشک ہے میری نہیں کوئی رطوبت ہےزمینشریک بزم ہو مسٹر عطارد تم بھی کچھ بولوزباں پر لگ گیا تالا تو اس محفل میں تم کھولوعطاردپڑوسی ہوں میں سورج کا نمونہ ہوں جہنم کایہاں شدت کی گرمی ہے تو ممکن ہی نہیں جینازمینمرے نزدیک ہو زہرہ بہت رخشندہ سیارہیہاں سب لوگ کہتے ہیں کہ تم ہو صبح کا تارہزہرہمنور میرا چہرہ ہے میں گرمی کا مارا ہوںزمیں ہے مجھ کو پیاری میں زمیں والوں کا پیارا ہوںزمینعظیم الشان جثہ ہے ہماری منتری تم ہوجسے زیبا ہے سرداری وہ بے شک مشتری تم ہومشتریبڑا ہے جسم میرا اور زینت کچھ نہیں مجھ میںبڑا سا گول گپا ہوں صباحت کچھ نہیں مجھ میںزمینہماری انجمن میں اے زحل تم ہی نرالے ہوتمہارے گرد حلقہ ہے انوکھی شکل والے ہوزحلگلے میں طوق ہے میرے مری صورت نرالی ہےاگر نزدیک سے دیکھیں تو یہ شے تیز آندھی ہےنظر آتا ہے جو حلقہ وہ ہیں چھوٹے بڑے پتھرلگاتے ہیں بڑی تعداد میں چاروں طرف چکرزمینمرے دو بھائی ہیں آگے تمہارا حال کیسا ہےوہاں ہے کیفیت کیسی وہاں ماحول کیسا ہےیورینسیہاں شدت کی سردی ہے لہٰذا میں بھی ٹھنڈا ہوںذرا میری طرف دیکھو بڑا سا گولا گنڈا ہوںنیپچونمجھے نیپچون کہتے ہیں اسی کنبے کا ہوں ممبربہت دوری ہے سورج سے لگاتا ہوں بڑا چکرمریخمیں پہنچا اس نتیجے پر زمیں پر خوش نمائی ہےخدا نے پھول اور پودوں سے یہ دنیا سجائی ہےزمیں پر زندگی ہے حسن ہے اور دل ربائی ہےمجھے الفت زمیں سے ہے وہی دل میں سمائی ہےوہاں آباد ہیں انساں وہاں شان خدائی ہےہماری کہکشاں میں ایسی قسمت کس نے پائی ہے
یوں ہی ای میل سے آ جاتے ہیں سادہ سے خطوطسادگی اتنی کہ خوشبو نہ وے رنگ لئےہاں وہی رنگ جو تیرے لب و رخسار کا ہےاب تو کاغذ پہ کوئی نقش ابھرتا ہی نہیںہاں وہی نقش تیرے مہندی لگے ہاتھوں کااب کسی حرف سے آتی نہیں خوشبو تیریکیسے الفاظ ہیں یہ جو تیری سانسوں کی مہکبن سمیٹے ہوئے چپ چاپ چلے آتے ہیںاتنی چپ چاپ کہ آہٹ بھی نہیں مل پاتیکم سے کم دیکھیے آواز دیا کرتا تھااور اب ہم یہاں لوگوں کیا کرتے ہیںخط کے پہلو میں اب آتا ہی نہیں زلف کا بالاب تو محسوس نہیں ہوتی زبان تسلیماب تو اسکرین پہ آداب لیا کرتے ہیںاب فقط ڈھونڈھ کے رہ جاتے ہیں صورت تیریاب تو بس تو ہی سمجھتا ہے ضرورت میریاے نئے دور یہ ای میل مبارک ہو تجھےیہ ترقی کا نیا طور مبارک ہو تجھےدل سلگتا ہے مگر دیکھ دھواں بھی تو نہیںہونٹ رکھوں تو کہاں پیروں کے نشاں بھی تو نہیںدل کے بہلانے کو ان باکس میں گھوم آتا ہوںعین ممکن ہے تیرا میل کوئی آیا ہوگرچہ آیا بھی تو معلوم ہے کیا لائے گااک تسلی تیرا پیغام کوئی لایا ہوجان کر زہر بھی ہم زہر پئے دیتے ہیںجانے کیوں پیج کو ریفریش کئے دیتے ہیںمیل کھلتے ہی میرا سارا بھرم ٹوٹ گیادیکھیے کیا تو ہمیشہ کہ لئے چھوٹ گیاتشنگی پھر سے وہی پھر سے وہی بے چینیہونٹ رکھوں تو کہاں پر کہ نشاں بھی تو نہیں
شیخ عبد القادر جیلانیدنیا انہیں اس نام سے جانی
تو سلطان صاحب سریر آمدیعلیٰ کل شئ قدیر آمدی
تساہل کی چادر لپیٹے ہوئے قصہ خوانی اک شام تھیہم وہاں اپنی دن بھر کی اس جان لیوا تھکن سےنبرد آزماخوب قہووں پہ قہوے کے پیالے لنڈھاتے رہےاور اپنے بلند بانگ دعووں سے اور قہقہوں سےکہیں گھونسلوں میں چھپے تھک کے سوئے ہوئےنیم جاں طائروں کو جگاتے رہےاور گزرے زمانے کے پیروں فقیروں کی کوئی نہ کئی کرامت سناتے رہے(کس طرح صاحبان کرامات برزخ تو برزخشر انگیز زندوں کی روحیں بلانے پہ قادرسبھی کو بد اعمالیوں سے بچاتے رہے)پر جو یہ سب نہیں مانتے تھےوہ نسوار کی تیز بو میں بسےاینٹ گارے کے اک نیم پختہ تھڑے پربر افروختہ ہو کے انکار میں سر ہلاتے رہےہاں مگر وہ کہ جن کے لبوں پرچرس اور گانجے کی اودی سی تہہمستقل جم گئی تھیفقط مسکراتے رہےاور سنگت میں موجود جو ''بچہ خوش'' تھےوہ ہر آتے جاتے طرحدار کم عمر لڑکے کوآنکھوں ہی آنکھوں میں پاتے رہےپھر سب آپس میں مل کرکراچی سے کندوز تک پیشہ کرتی ہوئی کسبیوںہیجڑوں اور لونڈوں کےپر کیف قصے سناتے رہےگدگداتے رہےدل لبھاتے رہے
یہ سچ ہے ذات و صفات تو ہےقدیر موت و حیات تو ہےکہ خالق کائنات تو ہے
التجا کرتا ہوںاس قادر مطلق کے حضورگیند شب میں مہ و نجم سجائے جس نےشہر دل میں نہ سہی چاند ستارے لیکناس کی دیواروں کے حصے میں دریچہ دے دےلالہ و گل کی ضرورت نہیں اس گلشن کوہو سکے گر تو کوئی پھول سا چہرہ دے دےجسم بخشے ہیں تمناؤں کو جب پتھر کےدست امید میں ساغر نہ دےتیشہ دے دے
شہنائی بجاتا ہوا اک ننھا سا مچھرپہنچا کسی میدان میں نالے سے نکل کرمیدان میں کچھ دیر بھٹکتا رہا مچھرکچھ کام نہیں تھا تو مٹکتا رہا مچھرموصوف نے اک بیل کو بیٹھا ہوا پایاتب دل میں سواری کا ذرا شوق سمایاآرام سے وہ بیٹھ گیا سینگ کے اوپرپھر اپنے خیالات میں گم ہو گیا مچھردو گھنٹے گزر جانے پہ موصوف نے سوچااس بیل کو بے جرم و خطا میں نے دبوچایہ بیل پچک جائے گا سوچا نہیں میں نےاب کچلا گیا پیسا گیا میرے بدن سےیہ دبتا رہا سرمہ بنا ٹوٹی قیامتلیکن کوئی شکوہ نہ کیا واہ شرافت
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books