aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qaanuun"
سرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد
خداوندا! جلیل واماں معتبر! دانا واماں بینا منصف واماں اکبر!مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی كا کوئی قانون نافذ کر!
تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تم
تری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میںاسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھا
میرے قانوں بھی نئے میری شریعت بھی نئیاب فقیہان حرم دست صنم چومیں گے
بھوک کے قانون میں ایمان داری جرم ہےاور بے ایمانیوں پر شرمساری جرم ہے
کہ کون یہ شور کر رہا ہےہماری نیندیں اچاٹ کر دیں
تیرا پرچم سر افلاک اڑایا کس نےتیرے قانون کو سینے سے لگایا کس نے
تم کو کوئی بھی قانونقید کر نہیں سکتا
قانون بنائے جاتے ہیں، زنجیریں ڈھالی جاتی ہیںپھر بھی آغاز کی شوخی میں انجام دکھائی دیتا ہے
تفریق کا قانون تو صدیوں پرانا ہےوراثت بانٹنے والوں نے جو بھی فیصلہ لکھا
ماروی کی کالی آنکھوں میںنہ جانے کون سا جادو تھا ان ظالم دوپہروں میں
زندگی انساں کی کر دیتا ہے جب انساں حرامجب اسے قانون فطرت کا عطا ہوتا ہے نام
ہم اسی چور کے خطرے سے پریشان بھی ہیںکون سمجھے گا کہ اس سطح خوش آواز کے بعد
حاکم ہیں ایسے دیش کا قانون توڑ دیںرشوت ملے تو قتل کے مجرم بھی چھوڑ دیں
نہ دونوں جائیں برابر ہاریہی ٹکراؤ کا ہے قانون
حاصل جو تعلیم کروں میںسب میں اسے تقسیم کروں میں
کہ جن میں قانون پاؤں دھرنے سے کپکپائےکنواری چیخیں
یہ قانون و عدالت کو بھی اب آنکھیں دکھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہے
تیرا چہرہ ارغوانی تیرا دل بے آب و رنگزندگی کیا ہے تری قانون سے فطرت کے جنگ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books