aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ranj"
بے درد! ذرا انصاف تو کر اس عمر میں اور مغموم ہے وہپھولوں کی طرح نازک ہے ابھی تاروں کی طرح معصوم ہے وہیہ حسن ستم! یہ رنج غضب! مجبور ہوں میں مظلوم ہے وہ
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنم ہزار ہےبہار پر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیاادھر تو لوٹ ادھر تو آارے یہ دیکھتا ہے کیااٹھا سبو سبو اٹھاسبو اٹھا پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے ادھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواںخیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوںعبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی ادھر کوئی ادھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصہ مختصرتمہارا نقطۂ نظردرست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوںیہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئے بار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںادھر سے مہربانیاںادھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانہیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیںنہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوںنہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم قیاس گمنظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرب فزا، الم ربااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیاپلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
تو کیا مجھے تم جلا ہی لو گی گلے سے اپنے لگا ہی لو گیجو پھول جوڑے سے گر پڑا ہے تڑپ کے اس کو اٹھا ہی لو گیبھڑکتے شعلوں، کڑکتی بجلی سے میرا خرمن بچا ہی لو گیگھنیری زلفوں کی چھاؤں میں مسکرا کے مجھ کو چھپا ہی لو گیکہ آج تک آزما رہی ہویہ خواب کیسا دکھا رہی ہونہیں محبت کی کوئی قیمت جو کوئی قیمت ادا کرو گیوفا کی فرصت نہ دے گی دنیا ہزار عزم وفا کرو گیمجھے بہلنے دو رنج و غم سے سہارے کب تک دیا کرو گیجنوں کو اتنا نہ گدگداؤ، پکڑ لوں دامن تو کیا کرو گیقریب بڑھتی ہی آ رہی ہویہ خواب کیسا دکھا رہی ہو
گزر گئے کئی موسم کئی رتیں بدلیںاداس تم بھی ہو یارو اداس ہم بھی ہیںفقط تمہیں کو نہیں رنج چاک دامانیکہ سچ کہیں تو دریدہ لباس ہم بھی ہیں
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسفکی دکان پر میں نے دیکھاتو تیری نگاہوں میں وہ تابناکیتھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوںجہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!یہ وہ دور تھا جس میں میں نےکبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانبپلٹ کر نہ دیکھاوہ کوزے مرے دست چابک کے پتلےگل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںوہ سر گوشیوں میں یہ کہتےحسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟وہ ہم سے خود اپنے عمل سےخدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرےتغاروں میں مٹیکبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میںسنگ بستہ پڑی تھیصراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداںمری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارےشکستہ پڑے تھےمیں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانوکسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کےگل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاجہاں زاد نو سال پہلےتو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھیکہ میں نے حسن کوزہ گر نےتری قاف کی سی افق تاب آنکھوںمیں دیکھی ہے وہ تابناکیکہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کارہگزر بن گئے تھےجہاں زاد بغداد کی خواب گوں راتوہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیںکسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیےایک ہی رات وہ کہربا تھیکہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجوداس کی جاں اس کا پیکرمگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلاحسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تموہ شوخیاں وہ تبسم وہ قہقہے نہ رہےہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تمچھپا چھپا کے خموشی میں اپنی بے چینیخود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تممیری امید اگر مٹ گئی تو مٹنے دوامید کیا ہے بس اک پیش و پس ہے کچھ بھی نہیںمری حیات کی غمگینیوں کا غم نہ کروغم حیات غم یک نفس ہے کچھ بھی نہیںتم اپنے حسن کی رعنائیوں پہ رحم کرووفا فریب ہے طول ہوس ہے کچھ بھی نہیںمجھے تمہارے تغافل سے کیوں شکایت ہومری فنا مرے احساس کا تقاضا ہےمیں جانتا ہوں کہ دنیا کا خوف ہے تم کومجھے خبر ہے یہ دنیا عجیب دنیا ہےیہاں حیات کے پردے میں موت پلتی ہےشکست ساز کی آواز روح نغمہ ہےمجھے تمہاری جدائی کا کوئی رنج نہیںمرے خیال کی دنیا میں میرے پاس ہو تمیہ تم نے ٹھیک کہا ہے تمہیں ملا نہ کروںمگر مجھے یہ بتا دو کہ کیوں اداس ہو تمخفا نہ ہونا مری جرأت تخاطب پرتمہیں خبر ہے مری زندگی کی آس ہو تممرا تو کچھ بھی نہیں ہے میں رو کے جی لوں گامگر خدا کے لیے تم اسیر غم نہ رہوہوا ہی کیا جو زمانے نے تم کو چھین لیایہاں پہ کون ہوا ہے کسی کا سوچو تومجھے قسم ہے مری دکھ بھری جوانی کیمیں خوش ہوں میری محبت کے پھول ٹھکرا دومیں اپنی روح کی ہر اک خوشی مٹا لوں گامگر تمہاری مسرت مٹا نہیں سکتامیں خود کو موت کے ہاتھوں میں سونپ سکتا ہوںمگر یہ بار مصائب اٹھا نہیں سکتاتمہارے غم کے سوا اور بھی تو غم ہیں مجھےنجات جن سے میں اک لحظہ پا نہیں سکتایہ اونچے اونچے مکانوں کی ڈیوڑھیوں کے تلےہر ایک گام پہ بھوکے بھکاریوں کی صداہر ایک گھر میں ہے افلاس اور بھوک کا شورہر ایک سمت یہ انسانیت کی آہ و بکایہ کارخانوں میں لوہے کا شور و غل جس میںہے دفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہیہ شاہراہوں پہ رنگین ساڑیوں کی جھلکیہ جھونپڑوں میں غریبوں کے بے کفن لاشےیہ مال روڈ پہ کاروں کی ریل پیل کا شوریہ پٹریوں پہ غریبوں کے زرد رو بچےگلی گلی میں یہ بکتے ہوئے جواں چہرےحسین آنکھوں میں افسردگی سی چھائی ہوئییہ جنگ اور یہ میرے وطن کے شوخ جواںخریدی جاتی ہیں اٹھتی جوانیاں جن کییہ بات بات پہ قانون و ضابطے کی گرفتیہ ذلتیں یہ غلامی یہ دور مجبورییہ غم بہت ہیں مری زندگی مٹانے کواداس رہ کے مرے دل کو اور رنج نہ دو
ہر راہ میں ٹپکا ہےخوں نابہ بہم جو تھارستوں میں لٹایا ہےوہ بیش کہ کم جو تھانے رنج شکست دلنے جان کا اندیشہ۔کچھ اہل ریا بھی توہم راہ ہمارے تھےرہرو تھے کہ رہزن تھےجو روپ بھی دھارے تھے کچھ سہل طلب بھی تھےوہ بھی ہمیں پیارے تھےاپنے تھے کہ بیگانےہم خوش تھے کہ سارے تھے
یہ آنسوشاید بہت دنوں سےوہیں چھپا تھاجنہوں نے اس کو جنم دیا تھاوہ رنج تو مصلحت کے ہاتھوںنہ جانے کب قتل ہو گئے تھےتو کرتا پھر کس پہ ناز آنسوکہ ہو گیا بے جواز آنسویتیم آنسو یسیر آنسونہ معتبر تھانہ راستوں سے ہی با خبر تھاتو چلتے چلتےوہ تھم گیا تھاٹھٹھک گیا تھاجھجھک گیا تھا
تمہارا دور تھا گھر میں بہار ہنستی تھیابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہےتمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہاتمہارے بعد کا موسم بڑا بھیانک ہے
سوچتا ہوں کہ ابھی رنج سے آزاد ہے وہواقف درد نہیں خوگر آلام نہیںسحر عیش میں اس کی اثر شام نہیںزندگی اس کے لیے زہر بھرا جام نہیں
اے دل ان آنکھوں پر نہ جاجن میں وفور رنج سےکچھ دیر کو تیرے لیےآنسو اگر لہرا گئےیہ چند لمحوں کی چمکجو تجھ کو پاگل کر گئیان جگنوؤں کے نور سےچمکی ہے کب وہ زندگیجس کے مقدر میں رہیصبح طلب سے تیرگی
اک اور گھر بھی تھا مراجس میں میں رہتا تھا کبھیاک اور کنبہ تھا مرابچوں بڑوں کے درمیاںاک اور ہستی تھی مریکچھ رنج تھے کچھ خواب تھےموجود ہیں جو آج بھیوہ گھر جو تھی بستی مرییہ گھر جو ہے بستی مریاس میں بھی تھی ہستی مریاس میں بھی ہے ہستی مریاور میں ہوں جیسے کوئی شےدو بستیوں میں اجنبی
اک ذرا سوچنے دواس خیاباں میںجو اس لحظہ بیاباں بھی نہیںکون سی شاخ میں پھول آئے تھے سب سے پہلےکون بے رنگ ہوئی رنج و تعب سے پہلےاور اب سے پہلےکس گھڑی کون سے موسم میں یہاںخون کا قحط پڑاگل کی شہ رگ پہ کڑاوقت پڑاسوچنے دوسوچنے دواک ذرا سوچنے دویہ بھرا شہر جو اب وادئ ویراں بھی نہیںاس میں کس وقت کہاںآگ لگی تھی پہلےاس کے صف بستہ دریچوں میں سے کس میں اولزہ ہوئی سرخ شعاعوں کی کماںکس جگہ جوت جگی تھی پہلےسوچنے دوہم سے اس دیس کا تم نام و نشاں پوچھتے ہوجس کی تاریخ نہ جغرافیہ اب یاد آئےاور یاد آئے تو محبوب گزشتہ یاد آئےروبرو آنے سے جی گھبرائےہاں مگر جیسے کوئیایسے محبوب یا محبوبہ کا دل رکھنے کوآ نکلتا ہے کبھی رات بتانے کے لیےہم اب اس عمر کو آ پہنچے ہیں جب ہم بھی یونہیدل سے مل آتے ہیں بس رسم نبھانے کے لیےدل کی کیا پوچھتے ہوسوچنے دو
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نامراہ وفا کی منزل اول ہوئی تماممنظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظامدامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلاماظہار بے کسی سے ستم ہوگا اور بھیدیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھیدل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہالخاموش ماں کے پاس گیا صورت خیالدیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حالسکتا سا ہو گیا ہے یہ ہے شدت ملالتن میں لہو کا نام نہیں زرد رنگ ہےگویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہےکیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ بے گناہنور نظر یہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہجنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہلی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہچہرہ کا رنگ حالت دل کھولنے لگاہر موئے تن زباں کی طرح بولنے لگاآخر اسیر یاس کا قفل دہن کھلاافسانۂ شدائد رنج و محن کھلااک دفتر مظالم چرخ کہن کھلاوا تھا دہان زخم کہ باب سخن کھلادرد دل غریب جو صرف بیاں ہواخون جگر کا رنگ سخن سے عیاں ہوارو کر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاںمیں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاںسب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواںلیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاںکس طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوںجوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوںدنیا کا ہو گیا ہے یہ کیسا لہو سپیداندھا کیے ہوئے ہے زر و مال کی امیدانجام کیا ہو کوئی نہیں جانتا یہ بھیدسوچے بشر تو جسم ہو لرزاں مثال بیدلکھی ہے کیا حیات ابد ان کے واسطےپھیلا رہے ہیں جال یہ کس دن کے واسطےلیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنمہوتے نہ میری جان کو سامان یہ بہمڈستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت و حشمتم میرے لال تھے مجھے کس سلطنت سے کممیں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت و تاج کوتم ہی نہیں تو آگ لگا دوں گی راج کوکن کن ریاضتوں سے گزارے ہیں ماہ و سالدیکھی تمہاری شکل جب اے میرے نونہالپورا ہوا جو بیاہ کا ارمان تھا کمالآفت یہ آئی مجھ پہ ہوئے جب سفید بالچھٹتی ہوں ان سے جوگ لیا جن کے واسطےکیا سب کیا تھا میں نے اسی دن کے واسطےایسے بھی نامراد بہت آئیں گے نظرگھر جن کے بے چراغ رہے آہ عمر بھررہتا مرا بھی نخل تمنا جو بے ثمریہ جائے صبر تھی کہ دعا میں نہیں اثرلیکن یہاں تو بن کے مقدر بگڑ گیاپھل پھول لا کے باغ تمنا اجڑ گیاسرزد ہوئے تھے مجھ سے خدا جانے کیا گناہمنجدھار میں جو یوں مری کشتی ہوئی تباہآتی نظر نہیں کوئی امن و اماں کی راہاب یاں سے کوچ ہو تو عدم میں ملے پناہتقصیر میری خالق عالم بہل کرےآسان مجھ غریب کی مشکل اجل کرےسن کر زباں سے ماں کی یہ فریاد درد خیزاس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغ تیزعالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریزلیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریزسوچا یہی کہ جان سے بیکس گزر نہ جائےناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائےپھر عرض کی یہ مادر ناشاد کے حضورمایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے کیوں وفورصدمہ یہ شاق عالم پیری میں ہے ضرورلیکن نہ دل سے کیجیے صبر و قرار دورشاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کیکچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کییہ جعل یہ فریب یہ سازش یہ شور و شرہونا جو ہے سب اس کے بہانے ہیں سر بسراسباب ظاہری میں نہ ان پر کرو نظرکیا جانے کیا ہے پردۂ قدرت میں جلوہ گرخاص اس کی مصلحت کوئی پہچانتا نہیںمنظور کیا اسے ہے کوئی جانتا نہیںراحت ہو یا کہ رنج خوشی ہو کہ انتشارواجب ہر ایک رنگ میں ہے شکر کرد گارتم ہی نہیں ہو کشتہ نیرنگ روزگارماتم کدے میں دہر کے لاکھوں ہیں سوگوارسختی سہی نہیں کہ اٹھائی کڑی نہیںدنیا میں کیا کسی پہ مصیبت پڑی نہیں
روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہےدل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز محبت کیا ہےوہ مجھے بھول گئی اس کی شکایت کیا ہےرنج تو یہ ہے کہ رو رو کے بھلایا ہوگا
میں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی جب پاس تو نہیں ہوتیخود کو کتنا اداس پاتا ہوںگم سے اپنے حواس پاتا ہوںجانے کیا دھن سمائی رہتی ہےاک خموشی سی چھائی رہتی ہےدل سے بھی گفتگو نہیں ہوتیمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی رہ رہ کے میرے کانوں میںگونجتی ہے تری حسیں آوازجیسے نادیدہ کوئی بجتا سازہر صدا ناگوار ہوتی ہےان سکوت آشنا ترانوں میںمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی شب کی طویل خلوت میںتیرے اوقات سوچتا ہوں میںتیری ہر بات سوچتا ہوں میںکون سے پھول تجھ کو بھاتے ہیںرنگ کیا کیا پسند آتے ہیںکھو سا جاتا ہوں تیری جنت میںمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی احساس سے نجات نہیںسوچتا ہوں تو رنج ہوتا ہےدل کو جیسے کوئی ڈبوتا ہےجس کو اتنا سراہتا ہوں میںجس کو اس درجہ چاہتا ہوں میںاس میں تیری سی کوئی بات نہیںمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی شب کی طویل خلوت میںتیرے اوقات سوچتا ہوں میںتیری ہر بات سوچتا ہوں میںکون سے پھول تجھ کو بھاتے ہیںرنگ کیا کیا پسند آتے ہیںکھو سا جاتا ہوں تیری جنت میںمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی احساس سے نجات نہیںسوچتا ہوں تو رنج ہوتا ہےدل کو جیسے کوئی ڈبوتا ہےجس کو اتنا سراہتا ہوں میںجس کو اس درجہ چاہتا ہوں میںاس میں تیری سی کوئی بات نہیںمیں تجھے چاہتا نہیں لیکن
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
اپنی قسمت میں ازل سے ہی ستم رکھا تھارنج رکھا تھا محن رکھا تھا غم رکھا تھاکس کو پرواہ تھا اور کس میں یہ دم رکھا تھاہم نے جب وادئ غربت میں قدم رکھا تھا
عجیب قصہ ہےجب یہ دنیا سمجھ رہی تھیتم اپنی دنیا میں جی رہی ہومیں اپنی دنیا میں جی رہا ہوںتو ہم نے ساری نگاہوں سے دورایک دنیا بسائی تھیجو کہ میری بھی تھیتمہاری بھی تھیجہاں فضاؤں میںدونوں کے خواب جاگتے تھےجہاں ہواؤں میںدونوں کی سرگوشیاں گھلی تھیںجہاں کے پھولوں میںدونوں کی آرزو کے سب رنگکھل رہے تھےجہاں پہ دونوں کی جرأتوں کےہزار چشمے ابل رہے تھےنہ وسوسے تھے نہ رنج و غم تھےسکون کا گہرا اک سمندر تھااور ہم تھے
خواب تھے اک دن اوج زمیں سے کاہکشاں کو چھو لیں گےکھلیں گے گل رنگ شفق سے قوس قزح میں جھولیں گےباد بہاری بن کے چلیں گے سرسوں بن کر پھولیں گےخوشیوں کے رنگیں جھرمٹ میں رنج و محن سب بھولیں گےداغ گل و غنچہ کے بدلے مہکی ہوئی خوشبو لیں گےملی خلش پر زخم جگر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books