aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rashk-e-nuur"
بہار آئی کہ کوئی جھومتا مستانہ آتا ہےگھٹا آتی ہے یا اڑتا ہوا مے خانہ آتا ہےگریباں چاک دامن ٹکڑے ٹکڑے طوق گردن میںسر محشر ترا کس شان سے دیوانہ آتا ہےعجب حیرت فزا نظارہ ہے دربار قاتل کالئے سر ہاتھ میں ہر اک پئے نذرانہ آتا ہےکبھی اے نورؔ بت خانے کو کعبے میں نہاں دیکھاکبھی کعبے میں پوشیدہ نظر بت خانہ آتا ہے
وہ پردہ روئے پر انوار سے اٹھا نہ سکےہم اپنے سوئے ہوئے بخت کو جگا نہ سکےتڑپ تڑپ کے تو بسمل نے جان تک دے دیوہ آب تیغ کے دو گھونٹ بھی پلا نہ سکےہماری ان کی محبت رہی اسی صورتادھر بڑھا نہ سکے ہم ادھر گھٹا نہ سکےہزار ولولے موجود تھے طبیعت میںمگر جب ان سے ملی آنکھ بھی ملا نہ سکےنظر ملاتے ہی ساقی نے کر دیا بے خودپلائی ایسی کہ پھر ہوش میں ہم آ نہ سکےنہ پوچھ قصۂ بے چارگیٔ عشق نہ پوچھیہ راز وہ ہے کسی کو جو ہم بتا نہ سکےجناب نورؔ ہمیں تو مٹا دیا لیکنہمارے نقش محبت کو وہ مٹا نہ سکے
ہندو مسلم بھید مٹاسب سے اپنی یاری رکھچاہے اپنی جان گنواآن وطن کی پیاری رکھدشمن سے بھی یاری رکھایسی بھی دل داری رکھمایوسی سے مت گھبراکوشش اپنی جاری رکھپہلے دینی فرض نبھاپیچھے دنیا داری رکھدور سفر پر جانا ہےچلنے کی تیاری رکھکھوٹے سکے مت اپناآنکھوں میں بیداری رکھٹھونک بجا کر سب کو دیکھاتنی تو ہشیاری رکھتیرے کام یہ آئیں گیباتیں دھیان میں ساری رکھچاہے جتنے دیپ جلاایک گلی اندھیاری رکھنورؔ غزل کے پھول کھلامشق سخن کو جاری رکھلفظوں کو گل ریز بنانظم و غزل معیاری رکھ
میں کیا چاہتا ہوں میں کیا چاہتا ہوںہر اک چیز کو بھولنا چاہتا ہوںمری چاہ کو دیکھ کیا چاہتا ہوںقسم چاہتا ہوں جفا چاہتا ہوںمحبت میں تیری مٹا چاہتا ہوںفنا ہو کے لطف بقا چاہتا ہوںوہی پیاری پیاری ادائیں تمہاریمیں اک بار پھر دیکھنا چاہتا ہوںمدد المدد بے خودیٔ محبتمیں اپنے تئیں ڈھونڈھنا چاہتا ہوںتری چاہ کا چاہ کہتے ہیں جس کواسی چاہ میں ڈوبنا چاہتا ہوںمجھے نورؔ ہے درد دل کی تمنامگر درد بھی لا دوا چاہتا ہوں
غریبوں کی دنیا ہے عزت سے خالیغریبوں کی دنیا ہے زینت سے خالیہر اک عظمت و شان و شوکت سے خالییہ دنیا ہے نور مسرت سے خالیغریبوں کی دنیا میں راحت نہ ڈھونڈھوغریبوں کی دنیا میں راحت نہیں ہے
حال دل دل نواز کیا جانےناز والا نیاز کیا جانےپوچھ رندوں سے راز سر بستہصوفیٔ پاکباز کیا جانےکس کو کہتے ہیں دیر کیا ہے حرمعاشقی امتیاز کیا جانےذرے ذرے پہ سجدہ ریزی ہےتیرا وحشی نماز کیا جانےمے پرستی میں کیفیت کیا ہےزاہد حق نواز کیا جانےجو حقیقت سے روشناس ہو نورؔوہ طلسم مجاز کیا جانے
دل ہی میں درد دل رہے لب پر فغاں نہ ہوراز نہاں کا اور کوئی رازداں نہ ہواک جام میں جو جلوۂ کون و مکاں نہ ہوزاہد مرید حضرت پیر مغاں نہ ہویہ کیا کہا کہ راز محبت عیاں نہ ہوممکن نہیں کہ آگ لگے اور دھواں نہ ہودار و مدار تیرے ہی لطف و کرم پہ ہےتو مہرباں نہ ہو تو کوئی مہرباں نہ ہوانسان وہ کرے جو ملک بھی نہ کر سکیںفکر معاش نورؔ اگر درمیاں نہ ہو
میں ایک لمحہ ہوں خامشی کامیں ایک لمحہ ہوں زندگی کامیں ایک لمحہبس ایک لمحہکھڑا ہوں تنہانہ جانے کب سےجمال ہستی کا نور بن کرکمال ہستی کا نور لے کر
جنم سے موت کا وقفہ وجود کا پرتوہزاروں خواب جگائے ہوئے تصور میںعجیب کرب سے لبریز اپنی ذات لیےبھٹک رہا ہے خلا میںازل سے ایسے ہیبغیر معنی و مقصد بلا کا شور لیےنحیف پیکر ہستی خزاں رسیدہ ہےمری حیات کا مقصد اگر چنیدہ ہےرہا وہ کس لیے مخفیعجب تماشا ہےحصول زیست سے کیوں نورؔ نا شناسا ہےبقا کی راہ یہاں دور تک ندارد ہےہر ایک لمحہ یہاں موت سے عبارت ہےمرے وجود کا احساس کیا شرارت ہے
سوچ رہا ہوں جنگ سے پہلے، جھلسی سی اس بستی میںکیسا کیسا گھر کا مالک، کیسا کیسا مہماں تھاسب گلیوں میں ترنجن تھے اور ہر ترنجن میں سکھیاں تھیںسب کے جی میں آنے والی کل کا شوق فراواں تھامیلوں ٹھیلوں باجوں گاجوں باراتوں کی دھومیں تھیںآج کوئی دیکھے تو سمجھے، یہ تو سدا بیاباں تھاچاروں جانب ٹھنڈے چولھے، اجڑے اجڑے آنگن ہیںورنہ ہر گھر میں تھے کمرے، ہر کمرے میں ساماں تھااجلی اور پر نور شبیہیں روز نماز کو آتی تھیںمسجد کے ان طاقوں میں بھی کیا کیا دیا فروزاں تھااجڑی منڈی، لاغر کتے، ٹوٹے کھمبے خالی کھیتکیا اس نہر کے پل کے آگے ایسا شہر خموشاں تھا
دیوالیرگھبر کی پاک یاد کا عنواں لیے ہوئےظلمت کے گھر میں جلوۂ تاباں لیے ہوئےتاریکیوں میں نور کا ساماں لیے ہوئےآئی ہے اپنے ساتھ چراغاں لیے ہوئےاللہ رے یہ تاب یہ تنویر یہ جمالخورشید کی نظر بھی ہے جمنی یہاں محالطاری ہے زاہدوں پہ بھی عالم سرور کااب کس لیے خیال ہو حور و قصور کاعالم تو دیکھیے شب یلدا پہ نور کاجلتے ہیں یہ چراغ کہ جلوہ ہے طور کامنظر بہشت کا ہے یہ شب ہے شب براتتنویر آفتاب کا پرتو ہے آج راتوہ رام جو کہ کامل صدق و صفا رہاوہ رام جو کہ سالک راہ ہدیٰ رہاوہ رام جو کہ آئینۂ حق نما رہاوہ رام جو کہ قاطع جور و جفا رہایہ رات یادگار ہے اس نیک ذات کیاس پیکر خلوص کی والا صفات کیچودہ برس کے بعد جو آیا وطن میں رامہر لب تھا وقف نغمہ تو ہر دل تھا شاد کامتھی رشک نور صبح بنارس اودھ کی شاماہل اجودھیا کی زباں پر تھا یہ کلامہم بے بسوں کا قافلہ سالار آ گیابن باسیوں کی فوج کا سردار آ گیا
جہاں کی زمیں رشک چرخ کہن ہےجہاں شوخیاں ہیں ادا ہے پھبن ہے
سر زمین پدمنی گہوارۂ پرتاپی بھیمرشک فردوس زمانہ دیکھنے آیا ہوں میں
صبر آزما ہے غمزۂ ترکان لکھنؤرشک زنان مصر کنیزان لکھنؤ
ایک بحر بیکراں کی جھلملاتی سطح پرضو فگن افسانہ ہائے رنگ و نور
عجیب کوچۂ رشک جناں تھا دہلی کابہشت کہتے ہیں جس کو مکاں تھا دہلی کا
تمہاری چشم توجہ کے منتظر ہیں ابھیجلو میں نغمہ و رنگ و بہار و نور لئےحیات گرم تگ و دو ہے میں نہیں تو کیا
یہ سلوٹ جو کرتے میں کچھ پڑ گئی ہیںکہ رشک لب عاشقاں جن کو کہیےیوں اٹھکھیلیاں جسم سے تیرے کرتیںکہ بے جان کپڑے میں جان آ گئی ہےنہ پوچھو حسد مجھ کو کتنی ہے ان سے
رشک صد خورشید تھا ہر ذرۂ دہلی سنامارتا چشمک صفا پر تھا غبار لکھنؤ
اے قطب مینار اے بھارت کی عظمت کے نشاںہر گھڑی سایہ فگن رہتا ہے تجھ پر آسماںتیرے ہر اک سنگ میں پنہاں ہے تیری داستاںدیدۂ حیرت سے تکتے ہیں تجھے اہل جہاںسر بلندی پر تری ہم ہندیوں کو ناز ہےتو ہماری خوش نما تاریخ کا غماز ہےتیرا مسکن ارض دلی رشک حسن کوہ قافچاند سورج روز تیرے گرد کرتے ہیں طوافساری دنیا کو ہے تیری عظمتوں کا اعترافتجھ سے ہوتا ہے ہماری قومیت کا انکشافتیری صناعی زمانے کے لئے پر پیچ ہےآج بھی پیرس کا ٹاور تیرے آگے ہیچ ہےتو ہماری شان و شوکت کا ہے تابندہ گواہتجھ سے روشن ہے ہمارے علم و فن کی شاہراہتجھ پہ پڑتے ہی چمک اٹھتی ہے حیرت سے نگاہتو ہمارا پاسباں ہے تو ہمارا خیر خواہترجمان وقت ہے تو رہنمائے فن ہے توہاں لباس سنگ میں اک پیکر آہن ہے تو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books