aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rishta"
نہ مدتوں جدا رہےنہ ساتھ صبح و شام ہونہ رشتۂ وفا پہ ضدنہ یہ کہ اذن عام ہو
زندگی سے ڈرتے ہو؟!زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!زندگی سے ڈرتے ہو؟آدمی سے ڈرتے ہو؟آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیںآدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہےاس سے تم نہیں ڈرتے!حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہآدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہاس سے تم نہیں ڈرتے''ان کہی'' سے ڈرتے ہوجو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہواس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو
یہ کڑواہٹ کی باتیں ہیں مٹھاس ان کی نہ پوچھو تمنم لب کو ترستی ہیں سو پیاس ان کی نہ پوچھو تمیہ اک دو جرعوں کی اک چہل ہے اور چہل میں کیا ہےعوام الناس سے پوچھو بھلا الکحل میں کیا ہےیہ طعن و طنز کی ہرزہ سرائی ہو نہیں سکتیکہ میری جان میرے دل سے رشتہ کھو نہیں سکتی
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہےیہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہےیہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہےاک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامنان کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکناتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہےدل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئیاس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئیآس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہےتم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہکہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے
اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہےمہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویراآنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمناور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیراممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہوگلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیراشاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شایداب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرااک بَیر، نہ اک مہر، نہ اک ربط نہ رشتہتیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہخودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہیہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےصنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہکیا ہے تو نے متاع غرور کا سودافریب سود و زیاں لا الہ الا اللہیہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوندبتان وھم و گماں لا الہ الا اللہخرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنارینہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہیہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابندبہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہاگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میںمجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
جو تارے جھلمل کرتے ہیںکیا ان کی چچی تائی نہیںہوگا کوئی رشتہ سورج سےیہ بات ہمیں بتلائی نہیںیہ چندا کیسا ماما ہےجب امی کا وہ بھائی نہیں
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیںنہ کوئی خون کا رشتہ نہ کوئی ساتھ صدیوں کامگر احساس اپنوں سا وہ انجانے دلاتے ہیںوہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیںخفا جب زندگی ہو تو وہ آ کے تھام لیتے ہیںرلا دیتی ہے جب دنیا تو آ کر مسکراتے ہیںوہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیںاکیلے راستے پہ جب میں کھو جاؤں تو ملتے ہیںسفر مشکل ہو کتنا بھی مگر وہ ساتھ جاتے ہیںوہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیںنظر کے پاس ہوں نہ ہوں مگر پھر بھی تسلی ہےوہی مہمان خوابوں کے جو دل کے پاس رہتے ہیںوہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیںمجھے مسرور کرتے ہیں وہ لمحے آج بھی عرفانؔکہ جن میں دوستوں کے ساتھ کے پل یاد آتے ہیںوہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیں
فسوں کارہ نگارا نو بہارا آرزو آرابھلا لمحوں کا میری اور تمہاری خواب پرورآرزو مندی کی سرشاری سے کیا رشتہہماری باہمی یادوں کی دل داری سے کیا رشتہمجھے تم اپنی بانہوں میں جکڑ لو اور میں تم کویہاں اب تیسرا کوئی نہیں یعنی محبت بھی
میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہےوہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیںلکھا گیا ہے بہت لطف وصل و درد فراقمگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیںیہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصالیہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہم دم مہ و سالاس عشق خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے''گزر گیا ہے زمانہ گلے لگائے ہوئے''
خوش گوار موسم میںان گنت تماشائیاپنی اپنی ٹیموں کوداد دینے آتے ہیںاپنے اپنے پیاروں کاحوصلہ بڑھاتے ہیںمیں الگ تھلگ سب سےبارہویں کھلاڑی کوہوٹ کرتا رہتا ہوںبارہواں کھلاڑی بھیکیا عجب کھلاڑی ہےکھیل ہوتا رہتا ہےشور مچتا رہتا ہےداد پڑتی رہتی ہےاور وہ الگ سب سےانتظار کرتا ہےایک ایسی ساعت کاایک ایسے لمحے کاجس میں سانحہ ہو جائےپھر وہ کھیلنے نکلےتالیوں کے جھرمٹ میںایک جملۂ خوش کنایک نعرۂ تحسیناس کے نام پر ہو جائےسب کھلاڑیوں کے ساتھوہ بھی معتبر ہو جائےپر یہ کم ہی ہوتا ہےپھر بھی لوگ کہتے ہیںکھیل سے کھلاڑی کاعمر بھر کا رشتہ ہے
اس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیںجس سے اک اور ملاقات کی صورت نکلےاب نہ ہیجان و جنوں کا نہ حکایات کا وقتاب نہ تجدید وفا کا نہ شکایات کا وقتلٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظاب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوحہ کہیےآج تک تم سے رگ جاں کے کئی رشتے تھےکل سے جو ہوگا اسے کون سا رشتہ کہیے
میں نے تو اک بار بنا تھا ایک ہی رشتہلیکن اس کی ساری گرہیںصاف نظر آتی ہیں میرے یار جلاہے!
یوںہی دیکھوں جو راکھی کو تو یہ رنگین ڈورا ہےجو دیکھوں غور سے اس کو تو ہے زنجیر لوہے کیجو بڑھ کر قید کر لیتی ہے آفت اپنے بھائی کیمصیبت کی حقیقت کیامصیبت آ نہیں سکتیمصیبت کانپ جاتی ہےجو راکھی دیکھ لیتی ہےکسی بھائی کے ہاتھ میںراکھی کے دھاگے میںبہن نے پیار باندھا ہےاتہاس میں راکھی ہے رشتہ بھائی بہنوں کاحوالہ اس میں پوشیدہ ہے صدیوں کے رشتوں کابندھا ہے پیار اس میں بہن کااور اس کے پرکھوں کاراکھینبھانا لاج راکھی کی مرے بھیابہن کا مان رکھ لینابندھا کر ہاتھ میں راکھی بہن سےہر کوئی بھائیبہن کے سکھ کے واسطےتیار ہو جاتا ہے مرنے کومگر بھیاتمہاری زندگی توبہن کو دل سے پیاری ہےسلامت تم رہوبھگوان سے بنتی ہماری ہےجو چاہو نیگ تم دیناتو مجھ کو یہ وچن دے دونہ اٹھے پھر کوئی دیوار نفرت کیبہن بھائی کے آنگن میںنہیں بیوپار کچھ اس میںیہ اک ویہوار ہے بھیانہیں ہے کچا یہ ڈوراترا اعتبار ہے بھیا
اک دنتم نے مجھ سے کہا تھادھوپ کڑی ہےاپنا سایہ ساتھ ہی رکھناوقت کے ترکش میں جو تیر تھے کھل کر برسے ہیںزرد ہوا کے پتھریلے جھونکوں سےجسم کا پنچھی گھایل ہےدھوپ کا جنگل پیاس کا دریاایسے میں آنسو کی اک اک بوند کوانساں ترسے ہیںتم نے مجھ سے کہا تھاسمے کی بہتی ندی میںلمحے کی پہچان بھی رکھنامیرے دل میں جھانک کے دیکھودیکھو ساتوں رنگ کا پھول کھلا ہےوہ لمحہ جو میرا تھا وہ میرا ہےوقت کے پیکاں بے شک تن پر آن لگےدیکھو اس لمحے سے کتنا گہرا رشتہ ہے
ہوئے یثرب کی سمت جب راہیسید ابطحیٰ کے ہم راہیرشتے الفت کے سارے توڑ چلےاور بالکل وطن کو چھوڑ چلےگو وطن سے چلے تھے ہو کے خفاپر وطن میں تھا سب کا جی اٹکادل لگی کے بہت ملے سامانپر نہ بھولے وطن کے ریگستاندل میں آٹھوں پہر کھٹکتے تھےسنگریزے زمین بطحا کےگھر جفاؤں سے جن کی چھوٹا تھادل سے رشتہ نہ ان کا ٹوٹا تھا
عقل نے ایک دن یہ دل سے کہابھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میںہوں زمیں پر گزر فلک پہ مرادیکھ تو کس قدر رسا ہوں میںکام دنیا میں رہبری ہے مرامثل خضر خجستہ پا ہوں میںہوں مفسر کتاب ہستی کیمظہر شان کبریا ہوں میںبوند اک خون کی ہے تو لیکنغیرت لعل بے بہا ہوں میںدل نے سن کر کہا یہ سب سچ ہےپر مجھے بھی تو دیکھ کیا ہوں میںراز ہستی کو تو سمجھتی ہےاور آنکھوں سے دیکھتا ہوں میںہے تجھے واسطہ مظاہر سےاور باطن سے آشنا ہوں میںعلم تجھ سے تو معرفت مجھ سےتو خدا جو خدا نما ہوں میںعلم کی انتہا ہے بیتابیاس مرض کی مگر دوا ہوں میںشمع تو محفل صداقت کیحسن کی بزم کا دیا ہوں میںتو زمان و مکاں سے رشتہ بپاطائر سدرہ آشنا ہوں میںکس بلندی پہ ہے مقام مراعرش رب جلیل کا ہوں میں
تم مری زندگی میں آئی ہومیرا اک پاؤں جب رکاب میں ہےدل کی دھڑکن ہے ڈوبنے کے قریبسانس ہر لحظہ پیچ و تاب میں ہےٹوٹتے بے خروش تاروں کیآخری کپکپی رباب میں ہےکوئی منزل نہ جادۂ منزلراستہ گم کسی سراب میں ہےتم کو چاہا کیا خیالوں میںتم کو پایا بھی جیسے خواب میں ہےتم مری زندگی میں آئی ہومیرا اک پاؤں جب رکاب میں ہے
جس کی آواز کانوں میں صبح صبح چڑیوں کی طرح چہکتی تھیجس کی موجودگی سے فضاؤں میں خوشبو سی مہکتی تھیوہ میری پہلی محبت تھیجس کی آنکھیں دیکھ متأثر ہو جاتے تھے ہرننقاب سے جس کا چہرہ ایسے جھلکتا تھا جیسے سورج کی پہلی کرنجس کا مسکرانا تھا کہ جیسے وادیوں میں سحر کا آناکسی پھول کی طرح جس پہ تتلیاں منڈرایا کرتی تھیںوہ چاند سے آئی تھی شاید رات میں ستاروں سے باتیں کیا کرتی تھیجو دن کا پہلا پیغام بھی تھی اور رات کا آخری سلام بھیصبح با خیر سے لے کر شب بخیر تک جو میرا تکیہ کلام تھیوہ میری پہلی محبت تھیخاموشی میں چھپائے جذبات جو سمجھ لیتی تھیبن ظاہر کئے تمام احساسات جو پرکھ لیتی تھیمیرے لئے جو ہر کہانی ہر ایک قصے میں تھیہر ایک شاعری ہر ایک غزل کے حصے میں تھیجو ہر نظم میں تھی اور ہر موسیقی میں بھیدل دار بھی تھی جو اور دنیا دار بھیشان و شوکت کی اس دنیا میں مجھ غریب کی چاہت کی طلب گار تھیوہ میری پہلی محبت تھیجو ماضی تھی مگر میرا مستقبل نہ بن پائیمیرے ساتھ ہر حال میں راضی تھی مگر زندگی میں شامل نہ ہو پائیپیار کی راہ میں جو میری ہم سفر تھیجس کے جانے کے بعد میری زندگی صفر تھیکچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں اور کچھ دل کےمگر روح کا رشتہ صرف جس شخص سے تھاوہ میری پہلی محبت تھیمیرے تخیل میں جو اک تصویر بن کے رہ گئیجو دل میں میرے بس کے تقدیر میں کسی اور کی ہو گئیجو ہم راز بھی تھی اور میری زندگی کا سب سے بڑا راز بھیجس کے جانے کے مدتوں بعد بھی اس کے واپس آنے کی ایک آس تھیوہ میری پہلی محبت تھیوہ میری پہلی محبت تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books