aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ruKH-e-munavvar"
ادھر رانی کی شرطیں ہیں کرے گا جو بھی پوری یہتو رانی تب ہی جائے گیلو اس کی شرط بھی سن لو کہکنیز خاص کو لے کر ہی رانی آپ کی ہوگیکرے گی کمرے کا رخ جب کنیز خاص ہم راہ ہوسیاہ ہو چاہے گوری ہو مگر وہ ساتھ میں جائےعجب ہے کھیل کیرم کا
کیا شے ہے کیا کہوں رخ خندان صبح عیدگویا بہار پر ہے گلستان صبح عید
ذرا ہمارے یہ شام و سحر سنور جائیںتو ہم بھی زلف و رخ مہوشاں کی بات کریں
یقیں ہےلہو یہ تمہارارخ میرؔ و غالبؔ کا غازہ بنے گاجبین وطن پریہ چمکے گا سیندور بن کر
ہر لالۂ کہسار ہے شکل گل راحتداغ اس کے ہیں یا خال رخ حور مسرتکیا سبزۂ خوش رنگ ہے سرمایہ عشرتدل کے لیے ٹھنڈک ہے جگر کے لیے فرحت
دنیا کو حقیقت کے اجالوں سے سجائیںگوشوں میں سمو دیں رخ تنویر محبتاحساس کے ہونٹوں پہ رکھیں ساعت نغمہہر عکس کو مل جائے سراپے کی رفاقت
راہ دیکھی نہیں اور دور ہے منزل میریکوئی ساقی نہیں میں ہوں مری تنہائی ہےدیکھنی ہے مجھے حیرانی سے تاروں کی نگاہدور ان سے بھی کہیں دور مجھے جانا ہےاس بلندی پہ اڑے جاتا ہے تو سن میراکہکشاں گرد سی دیتی ہے دکھائی مجھ کورفعت گوش سے سنتا ہوا مبہم سا شرارمیری منزل ہے کہا یہ کبھی سوچا ہی نہیںاس کی فرصت ہی کسے دل میں مگر رہتا ہےدرد وہ درد کہ ہے جس سے کمنا بیتاجانے کچھ راہ مرے ساتھ ہوا تھا لیکنرہ گیا دور کہیں ہار کے ہمت اپنیزہرہ کہنے لگی اے بزم فلک کے قاصدزرد رو پہلی ہی منزل میں ہوا تو کیوں کرجب کہ وہ خاکئی بے مایہ بڑھے جاتا ہےپست ہر ایک بلندی کو کٹے جاتا ہےبھڑکے اک آہ کہا چاند نے یوں زہرہ سےاے نگار رخ زیبائے بہار افلاکمیں بھی حیران ہوں اس ہمت عالی پہ کہیںحسن سلمیٰ کے تصور کا یہ اعجازؔ نہ ہویہ جواں حوصلگی پردہ در راز نہ ہو
گھر اے دل بے قرار زنداں سے کم نہیں قید کون کاٹےحسین سرما کا چاند دیوانہ وار کو بلا رہا ہےفسون مہتاب کی قسم ہے پھر آج شب کچھ نہ لکھ سکوں گاپھر آج گھر میں نہ رہ سکوں گاکہ اک جنوں سا ہے مجھ پہ طاریمناظر کوہ و کنج جشن شب منور منا رہے ہیںبلا رہے ہیں مجھے مرے واسطے قیامت اٹھا رہے ہیں
دور مہتاب کے سائے میں ضیا پاش رہےرخ پر نور پہ آویزاں چمکتے تارےچاندنی رات میں ندی کے کنارے کاکلمیرے سینے پہ لرزتے ہوئے شب گوں دھارے
قصر توحید کا اک برج منور تو ہےگلشن حق کے لئے بوئے گل تر تو ہے
انساں الٹ رہا ہے رخ زیست سے نقابمذہب کے اہتمام فسوں پروری کی خیر
(1)تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقیٔ گلفاموہ عکس رخ یار سے لہکے ہوئے ایاموہ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعتوہ دل سا دھڑکتا ہوا امید کا ہنگام
دور نوبت ہوئی پھرنے لگے بے زار قدمزرد فاقوں کے ستائے ہوئے پہرے والےاہل زنداں کے غضب ناک خروشاں نالےجن کی باہوں میں پھرا کرتے ہیں باہیں ڈالے
بھوک تیرے رخ رنگیں کے فسانوں کے عوضچند اشیائے ضرورت کی تمنائی ہے
پرانے دل میں نئی دھڑکنوں کی آہٹ ہورخ و نگاہ سفید آئنوں کے ساتھ آئے
مجھے بھی آج مع ارغواں کی حاجت ہےسرک رہے ہیں رخ کائنات سے پردے
فضا میں گرم بگولوں کا رقص جاری ہےافق پہ خون کی مینا چھلک رہی ہے ابھیکہاں کا مہر منور کہاں کی تنویریںکہ بام و در پہ سیاہی جھلک رہی ہے ابھی
راہ نورد شوق کو رہ میں کیسے کیسے یار ملےابر بہاراں عکس نگاراں خال رخ دلدار ملےکچھ بالکل مٹی کے مادھو کچھ خنجر کی دھار ملےکچھ منجدھار میں کچھ ساحل پر کچھ دریا کے پار ملےہم سب سے ہر حال میں لیکن یوں ہی ہاتھ پسار ملےصرف ان کی خوبی پہ نظر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
رخ اردو پہ تری فکر کا اک غازہ ہےدل زمیں کا ہے تو آفاق کا آوازہ ہے
ترجمان جذبۂ اقدس تری فکر رساتو رخ راز حقیقت سے اٹھاتا ہے نقابمحرم سر دروں ہے کس قدر تیری نگاہگل کے پیراہن میں آتی ہے تجھے بوئے تراببخشتا ہے تو زمانے کو شعور زندگیاور زمانے کو ہے تیری زندگی سے اجتناب
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books