aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ruq.e"
وہ سارا علم تو ملتا رہے گا آئندہ بھیمگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سوکھے پھول اورمہکے ہوئے رقعےکتابیں مانگنے گرنے اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھےان کا کیا ہوگاوہ شاید اب نہیں ہوں گے!
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
دعا دعا وہ چہرہحیا حیا وہ آنکھیںصبا صبا وہ زلفیںچلے لہو گردش میںرہے آنکھ میں دل میںبسے مرے خوابوں میںجلے اکیلے پن میںملے ہر اک محفل میںدعا دعا وہ چہرہکبھی کسی چلمن کے پیچھےکبھی درخت کے نیچےکبھی وہ ہاتھ پکڑتےکبھی ہوا سے ڈرتےکبھی وہ بارش اندرکبھی وہ موج سمندرکبھی وہ سورج ڈھلتےکبھی وہ چاند نکلتےکبھی خیال کی رو میںکبھی چراغ کی لو میںدعا دعا وہ چہرہکبھی بال سکھائے آنگن میںکبھی مانگ نکالے درپن میںکبھی چلے پون کے پاؤں میںکبھی ہنسے دھوپ میں چھاؤں میںکبھی پاگل پاگل نینوں میںکبھی چھاگل چھاگل سینوں میںکبھی پھولوں پھول وہ تھالی میںکبھی دیوں بھری دیوالی میںکبھی سجا ہوا آئینے میںکبھی دعا بنا وہ زینے میںکبھی اپنے آپ سے جنگوں میںکبھی جیون موج ترنگوں میںکبھی نغمہ نور فضاؤں میںکبھی مولا حضور دعاؤں میںکبھی رکے ہوئے کسی لمحے میںکبھی دکھے ہوئے کسی چہرے میںوہی چہرہ بولتا رہتا ہوںوہی آنکھیں سوچتا رہتا ہوںوہی زلفیں دیکھتا رہتا ہوںدعا دعا وہ چہرہحیا حیا وہ آنکھیںصبا صبا وہ زلفیں
پھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےاور مٹتے ہوئے مدھم سے نقوشدور ماضی کی خلاؤں میں نظر آتے ہیںجیسے چھوڑی ہوئی منزل کا نشاںجیسے کچھ دور سے آتی ہوئی آواز جرسکون سہمے ہوئے مایوس دیوں کو دیکھےپھر بھی یہ مجھ کو خیال آتا ہےکتنی نوخیز امیدوں کو سہارے نہ ملےکتنی ڈوبی ہوئی کشتی کو کنارے نہ ملےزلف لہرائی پہ ساون کی گھٹا بن نہ سکیصبح ہنستی رہی بجھتے رہے کتنے چہرےچوڑیاں ٹوٹ گئیں مانگ کے سیندور اجڑےگود ویران ہوئینغمے تخلیق ہوئے ہونٹ سلےکتنے فن پاروں کے انبار لگےشاہراہوں پہ جلانے کے لئےآشیانے کا تصور ہی ابھی آیا تھابجلیاں کوند گئیںہیروشیما چیخ اٹھاکتنا پر ہول سماںکتنی بھیانک تاریخیہ مہ و سال کے پھیلے ہوئے جالپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےروز و شب جیسے اندھیرے میں لٹیروں کے گروہاپنی تاریک کمیں گاہوں میں چھپ کر بیٹھیںاور داماندہ سارا ہی کوئیاجنبی راہوں سے ڈرتا ہوا گھبرایا ہوااپنی کوئی ہوئی منزل کی طرف جاتا ہواور لٹیرے اسے تنہا پا کراس کے سینے کا لہو لے لیں امیدوں کے دیے بجھ جائیںکون لیکن دل انساں کی تپش چھین سکےپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےکتنی باریک ہے یہ صبح کی پہلی کرنکون جانے کہ نئی دام بھی کیا لائے گیکان میں آج بھی مانوس صدا آتی ہےوہی ڈالر کا طلسموہی تہذیب و تمدن کے پرانے دعوےوہی پسماندہ ممالک کی ترقی کا فریبوہی تاریخ سیاست کے پرانے شاطرایٹمی جنگ کا اعلان کیا کرتے ہیںکون لیکن دل انساں کی تپش چھین سکےارتقا آہن و فولاد سے کس طرح رکےٹوٹ جائیں گے مہ و سال کے پھیلے ہوئے جالپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آتا ہےجاؤ تاریک مکانوں میں چراغاں کر دوآج زنجیر کی اک اور کڑی ٹوٹ گئیآج دنیا کے عواماپنے سینے سے لگائے ہوئے اپنی تاریخاپنے ہاتھوں میں نئے عہد کا فرمان لئےاک نئی راہ پہ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیںروز و شب جیسے اندھیرے میں لٹیروں کے گروہہاتھ باندھے ہوئے قدموں پہ جبینیں رکھ دیںپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےجاؤ تاریک مکانوں میں چراغاں کر دو
یاد ایک جنگل ہےاداسی جہاں ڈھونڈتی ہےباہر نکلنے کا کوئی راستہراستہ مل جانے کی خوشی ہے یاداور نہ ملنے کا آنسورکے ہوئے آنسوؤں کا خزانہ ہے یادیا تمہارے بغیر گزرتے ہوئےلمحوں کا ڈھیریاد ایک ڈھیر ہےسوکھے ہوئے پتوں کابرف کا یا ریت کامیں نہیں جانتاایک بچہ مجھے بتاتا ہےاور اپنے پستول میں پانی بھر کےڈھیر پر ڈالتا رہتا ہے
گھر کے آنگن میں دیکھنا تمکتنی وحشت بھری پڑی ہےسامنے اک گھڑی ہے دیکھوجس پہ دو بج کے دس منٹ ہیںتیرے جاتے ہی ایک پل میںوہ سارے لمحے ٹھہر گئے تھےجو کہ اب تک رکے ہوئے ہیں
آگے بات بڑھائیں کیسے بات بنے تو بات بڑھےاب تک رنگ اکہرا تھا گر کوئی بڑھا تو ہاتھ بڑھےہونی کی تو ریت یہی ہے چھوٹے دن کی رات بڑھےاب تو جو بھی بڑھنا چاہے اپنے ساتھ ہی ساتھ بڑھےآگے پیچھے دوڑ دوڑ کر اک آگے اک پیچھے ہےپیچھے والا کیسے بڑھے جب آگے والا بھی دوڑےدونوں چوٹ برابر کی ہیں یہ دونوں سے کون کہےہار اور جیت اسی میں ہے اب کون رکے اور کون بڑھے
وہ جگنوؤں کے دیس میں کھلی کھلی سی چاندنیوہ چاندنی کے بھیس میں رکے رکے سے مہر و ماہوہ منظروں پہ کھل رہا تھا اس کا حسن جاوداںقدم قدم پہ ہو رہے تھے اس پہ آ کے مہرباں
ہوا کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کرجدائیوں کے سفر پہ نکلے تھے تممگر کیوںرکے ہوئے ہویقین خفتہ گمان پختہ کے پانیوں پرجہاں پہ اول محبتوں کے کنول کھلے تھےابھی وہیں ہو!جدائیوں کے سفر پہ جا کر بھی اب تلک تمگئے نہیں ہو!چلے بھی جاؤچلے بھی جاؤکہ گمشدہ ذات کے خزینے کی کنجیاں ڈھونڈنی ہیں میں نےسکوت صوت و صدا کے پردے میں طرز گفتار سیکھنی ہےنکل کے موجودہ وقت کے بے دریچہ بے در حویلیوں سےمجھے ملاقات سوچنی ہےبہت سی بے نام غیر محدود ساعتوں کی سہیلیوں سے
آج سرحد پہ خاموش توپوں کے ہونٹوں پہپپڑی کی تہ بھی چٹخ کر گری ہےہر اک روز صبح سویرے سے تاریکیوں کی تہوں تکاکیلا ہی چلتا ہے سورجاداسی سے ہر آنکھ کو اپنی جانب توجہ کی خاطربلاتا ہے لیکننگاہیں ملانے کا ہر حوصلہہر بدن میںفقط سسکیوں کی طرح جاگتا ہےاب فقط آبرو کا دھواں کہر بن کے رکا ہےبس اب بلبلوں کے ترنم میں بھینوحۂ زندگی کے ستم خیز طوفان ہیںاب فقط میرے اپنے چہیتوں کی لاشوں کے انبار ہیںاب تو خر بھی یہاں ہنہناتے نہیںجنگ بندی نہیں سرحدیں بھی نہیںاے مری مجھ سے روٹھی ہوئیمیرے پدما کی اے زندہ تر سر زمیںمیری آنکھوں ترے آسمانوںتری اور مری سرحدوں کے وہ سب فاصلےجو مگر قربتوں کے سوا کچھ نہ تھےآج کیوں آنکھ میں اشک بن کے رکے ہیںبھلا کیوں مجھےتیری قربت کے سایوں کو دھندلاھٹوں میں بدلتے ہوئےدیکھنے کے لئے زندہ رہنا پڑا ہے
عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشیہر ایک شے ہے بے یقیں ہر ایک چیز عارضییہ کارواں رکے کہاں کہ منزلیں ہیں بے نشاںچھپے ہوئے ہیں راستے یہاں وہاں دھواں دھواںخطر ہیں کتنے راہ میں سفر ہے کتنا اجنبیعجیب ہے یہ زندگییہ گال زرد زرد سے اٹے ہوئے ہیں گرد سےستم رسیدہ دل یہاں تڑپ رہے ہیں درد سےیہ صورتیں کہ جن پہ ہے ستم کی داستاں لکھیعجیب ہے یہ زندگیہیں بہتری کے واسطے تو یہ ستم قبول ہیںچنیں گے پھول جان کر جو راہ میں ببول ہیںخوشی سے غم سہیں گے ہم جو غم کے بعد ہے خوشیعجیب ہے یہ زندگی
تم جو آتے ہوتو کچھ بھی نہیں رہتا موجودتم چلے جاتے ہواور بولنے لگتے ہیں تمامادھ کھلے پھولسماعت پہ جمی چاپ ہوا بند مکانگفتگو کرنے کے آسن میں رکے سب اجساممردہ لمحات کا اک ڈھیر پہاڑابر کی قاش اٹھی موج کا ساکت اندامبرف لب پلکوں پہ ٹانکے ہوئے موتی آنسواور سلے کانوں میں آواز کی سوئیاں بے جانیک بیک بولنے لگتے ہیں تمامزندگی بننے میں ہو جاتی ہے پھر سے مصروفوقت ہو جاتا ہے پھر خاک بہ سر بے آرامایک پنچھی جسے اڑتے چلے جانا ہے خدا جانے کہاںاور میں تنکوں کے بکھرے ہوئے بستر کی طرحمنتظر لوٹ کے تم آؤ کسی روز یہاںپھر ہوں اک بار معطلیہ زمیں اور زماں
میں مر چکا ہوںاور مجھے پتہ بھی نہیںاب کیا کرو گے تمنہلاؤ گے مجھےاور پوچھو گے بھی نہیںمیں نہانا چاہتا ہوں یا نہیںیہ بھی نہیں دیکھو گےپانی گرم ہے یا نہیںبھول جاؤ گے کہ اچھا نہیں لگتامجھے ٹھنڈا پانینہانے کے لیے نہ پینے کے لیےپھر لباس تبدیل کرو گے میرااور یہ بھی نہیں پوچھو گےکیا پہننا چاہتا ہوںکون سا رنگ پتلون قمیض یا کچھ اورمجھ سے پوچھے بغیرتم وہ سب کچھ کرو گےجو میں نے اپنے ساتھ کبھی نہیں ہونے دیاایک دو بار نہیں سیکڑوں بارمیں نے خود کو انتہائی بے بس محسوس کیا ہےلعنت ہو مجھ پرموت ہے بے بسی کی انتہایہ بات مجھ پر کب کھلی ہےمیرے جسم سے جلد از جلدجان چھڑا کےتم لوٹو گےیا شاید وہیں سے چلے جاؤ گےشاید کچھ دیر باتیں کرو گےمیرے بارے میں کمکاروبار کے بارے میںکسی میٹنگ کے بارے میںیا اسپورٹس کے بارے میںیا کسی اداکارہ کے نئے اسکینڈل کے بارے میںشاید کچھ کھاؤ گے یا شاید کچھ پیو گےاور ایک ایک کر کے رخصت ہو جاؤ گےدروازے پر رکے بغیریہ دیکھے بغیرکہ میں تمہیں رخصت کرنے آ رہا ہوںشکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں میں تمہاراتمام مصروفیت کے باوجوداتنا وقت نکالنے پر
رہ وقار پہ بیٹھے تھے آئنے لے کرجنہیں ثبات پہ کوئی بھی اختیار نہ تھاتھما کے ہاتھ میں غم کے براق دل کی عناںنکل گئے نہ رکے روح کی حدوں سے ادھرفلک کے کہنہ دریچے سلام کرتے رہے
یہ مجھ میں کون ہےکہ جب بھی گردش لہو نےمیرے جسم کی حرارتیںہر اک رگ حیات میں اتار دیںتو اس کی خود کلامیوں نےنیند کی سیاہ چادریں سمیٹ لیںسماعتوں کی رہ گزر میںاس کی گفتگو کے قافلے رکےتو دشت زندگی پہابر کا غلاف آ گیاسکوت زندگی میں جیسے انقلاب آ گیامیں اس سے پوچھتا رہاکہ کب تلک یہ مرگ و زیست کی مصیبتیںفراق و وصل کی صعوبتیںمرے وجود پر رہیں گی خیمہ زنمگر مرے سوال پریا میری عرض حال پرنزول حرف آگہی نہ ہو سکاوہ مجھ میں اصل ذات کی طرح رہا مگر کبھییہ منکشف نہ ہو سکاکہ اس خیام ذات میں مرے سوا یہ کون ہےاک اجنبی سا آشنایہ مجھ میں کون ہے
عجیب ہے یہ سلسلہیہ سلسلہ عجیب ہےہوا چلے تو کھیتیوں میں دھوم چہچہوں کی ہےہوا رکے تو مردنی ہےمردنی کی راکھ کا نزول ہےکہاں ہے تو کہاں ہے توکہاں نہیں ہے تو بتاابھی تھا تیرے گرتے اڑتے آنچلوں کا سلسلہاور اب افق پر دور تکگئے دنوں کی دھول ہےگئے دنوں کی دھول کا یہ سلسلہ فضول ہےمیں رو سکوںتو کیا یہ گدلی کائنات دھل سکے گیمیرے آنسوؤں کے جھاگ سےمیں مسکرا سکوںتو کیا سفر کی خستگی کو بھول کر یہ کارواں نجوم کےبرس پڑیں گے موتیے کے پھول بن کےاس مہیب کاسۂ حیات میںنہ تو سنے نہ میں کہوںنہ میرے انگ انگ سے صدا اٹھےیوں ہی میں آنسوؤں کو قہقہوں کواپنے دل میں دفن کر کےگملبوں پہ سل دھرےترے نگر میں پا پیادہ پا برہنہشام کے فشار تک رواں رہوںمگر کبھیتری نظر کے آستاں کوپار تک نہ کر سکوںکہ تو ازل سے تا ابدہزار صد ہزار آنکھ والے وقتکی نقیب ہےیہ سلسلہ عجیب ہےیہ سلسلہ عجیب ہے
شام ڈھلیہوا چلیدیپ جلےکام رکےچاند ہنسارنگ جمارات بڑھیاوس پڑیپھول ہنسےپیار لیےآ ہی گئیچھا ہی گئیسپنوں بھرینیند پری
پھول پتے اور جھاڑیاںگزرتے وقت کو روک لیتے ہیںپگڈنڈیاںگلیاںپرانے مکانآوازیں دینے لگتے ہیںدھوپ چاندنی اور اندھیراپر نئے دوستوں کی طرح باتیں کرتے ہیںآبائی قبرستانوں کی ہواان لڑکیوں کی پیامبر بن جاتی ہےجن سے لوگ ہمیشہ کے لیے محبت کرتے ہیںبات کیے بغیرچہروں اور ناموں میں فرق کرنے کی خواہشآنکھ کی پتلی پر جم جاتی ہےاور خوشبو ذائقے رنگرگوں میں سرایت کر جاتے ہیںرکے ہوئے وقت کی طاقتپلٹ کر دیکھنے کے دردناک عمل کو خوبصورت بنا دیتی ہےاور زندگی کوموت پر غالب کرتی ہے
دکھتے ہوئے سینوں کی خوشبو کے ہاتھوں میںان جلتے خوابوں کے لہراتے کوڑے ہیںجنہیں وہ اک گہنائے چاند کی ننگی کمر پہ برساتی رہتی ہےتیرگی بڑھتی جاتی ہےاور ہمارا چاند ابھی تک ایسی کہنہ سال حویلی کا قیدی ہےجسے ہوا اور بادل نے تعمیر کیا ہےجس کی گیلی دیواروں پر منڈھی ہوئی بیلوں میںایسی کھوپڑیاں کھلتی ہیںجن کی آنکھوں کے خالی حلقوں میں ماضی حال اور مستقبل کےگڈمڈ رنگوں کے بے نور دھندلکے جمے ہوئے ہیںتم ہی بتاؤ جب شاخوں سےفاختئی نیلے پھولوں کی بجائےکھوپڑیاں پھوٹیںصبح بہار کا سورج ان سے آنکھ ملا کر کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟اسی لیے تو اس ویران حویلی کے آنگن میں خزاں کے نغمےزندہ انسانوں کے نوحے بن کر گونجتے ہیںنم آلود فضا کے نادیدہ سینے پرصبر کی سل کی طرح رکے ہوئے برفیلے سورجشام کی اکھڑی ہوئی چوکھٹ پراپنے سر گھٹنوں میں چھپا کر سوچتے ہیںکبھی تو صدیوں کی آوارگیوں کا بوجھ اٹھائے کوئی مسافراسم رہائی کو زیر لب دہراتے ہوئےاس بے رنگ حویلی کے دروازے پروہ دستک دینے آئے گاکھل کر بارش برسے گی اور چاند رہا ہو جائے گا
کوئی بھی سڑک کوئی بھی موڑکسی بھی سمت کسی بھی اورمیں جہاں بھی جاؤں مجھ سے قدم سے قدم ملا رہا ہےپر جانے کیوںیہ مجھ سے جیتنے کے لیے نہیں دوڑتا کہمیں جب رکوں یہ رکتا ہےمیں جب چلوں یا چلتا ہےگاڑی رفتار پکڑے چاند بھی رفتار پکڑتا ہےگاڑی ریڈ لائٹ پر رکے چاند بھی رکتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books