aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saakit"
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوںکہ چلتی گاڑی سے پیڑ دیکھوتو ایسا لگتا ہےدوسری سمت جا رہے ہیںمگر حقیقت میںپیڑ اپنی جگہ کھڑے ہیںتو کیا یہ ممکن ہےساری صدیاںقطار اندر قطار اپنی جگہ کھڑی ہوںیہ وقت ساکت ہواور ہم ہی گزر رہے ہوںاس ایک لمحے میںسارے لمحےتمام صدیاں چھپی ہوئی ہوںنہ کوئی آئندہنہ گزشتہجو ہو چکا ہےجو ہو رہا ہےجو ہونے والا ہےہو رہا ہےمیں سوچتا ہوںکہ کیا یہ ممکن ہےسچ یہ ہوکہ سفر میں ہم ہیںگزرتے ہم ہیںجسے سمجھتے ہیں ہمگزرتا ہےوہ تھما ہےگزرتا ہے یا تھما ہوا ہےاکائی ہے یا بٹا ہوا ہےہے منجمدیا پگھل رہا ہےکسے خبر ہےکسے پتا ہےیہ وقت کیا ہے
وہ پیڑ جن کے تلے ہم پناہ لیتے تھےکھڑے ہیں آج بھی ساکت کسی امیں کی طرح
میں اپنے بند کمرے میں پڑا ہوںاور اک دیوار پر نظریں جمائےمناظر کے عجوبے دیکھتا ہوںاسی دیوار میں کوئی خلا ہےمجھے جو غار جیسا لگ رہا ہےوہاں مکڑی نے جال بن لیا ہےاور اب اپنے ہی جال میں پھنسی ہےوہیں پر ایک مردہ چھپکلی ہےکئی صدیوں سے جو ساکت پڑی ہےاب اس پر کائی جمتی جا رہی ہےاور اس میں ایک جنگل دکھ رہا ہےدرختوں سے پرندے گر رہے ہیںکلہاڑی شاخ پر لٹکی ہوئی ہےلکڑہارے پہ گیدڑ ہنس رہےمسلسل تیز بارش ہو رہی ہےکسی پتے سے گر کر ایک قطرہاچانک ایک سمندر بن گیا ہےسمندر ناؤ سے لڑنے لگا ہےمچھیرا مچھلیوں میں گھر گیا ہےاور اب پتوار سینہ سے لگا کروو نیلے آسماں کو دیکھتا ہےجو یک دم زرد پڑتا جا رہا ہےوو کیسے ریت بنتا جا رہا ہےمجھے اب صرف صحرا دکھ رہا ہےاور اس میں دھوم کی چادر بچھی ہےمگر وو ایک جگہ سے پھٹ رہی ہےوہاں پر ایک سایہ ناچتا ہےجہاں بھی پیر دھرتا ہے وہاں پرسنہرے پھول کھلتے جا رہے ہےیے صحرا باغ بنتا جا رہا ہےاور اس میں تتلیاں دکھتی ہیںپروں میں جن کے نیلی روشنی ہےوہ ہر پل تیز ہوتی جا رہی ہےسو میری آنکھ میں چبھنے لگی ہےسو میں نے ہاتھ آنکھوں پر رکھے ہیںاور اب انگلی ہٹا کر دیکھتا ہوںکہ اپنے بند کمرے میں پڑا ہوںاور اک دیوار کے آگے کھڑا ہوں
یہ کتابیں بھی مرا ساتھ نہیں دیتیں آجکیٹسؔ کی نظم ارسطوؔ کے حکیمانہ قولسنگ مرمر کی عمارت کی طرح ساکت ہیںتو ہی کچھ بات کر اے میرے دھڑکتے ہوئے دلتو ہی اک میرا سہارا ہے مرا مونس ہےتو ہی اس سرد اندھیرے میں چراغاں کر دےلکشمی دیوی تو مری بات نہیں سن سکتیںمجھ کو معلوم ہے کیا بیت چکی ہے تجھ پرمیرے چہرے کے سلگتے ہوئے زخموں کو بھی دیکھمیری آنکھوں پہ مری فکر پہ پابندی ہےمیں اسے چاہوں بھی تو یاد نہیں کر سکتاتو اسے کھو کے مچل سکتا ہے رو سکتا ہےاور میں لٹ کے بھی فریاد نہیں کر سکتا
مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ خداؤں کا مقرب وہ خداوند کلامصوت انسانی کی روح جاوداںآسمانوں کی ندائے بیکراںآج ساکت مثل حرف ناتماممرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤآؤ اسرافیل کے اس خواب بے ہنگام پر آنسو بہائیںآرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاسجیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسےریگ ساحل پر چمکتی دھوپ میں چپ چاپاپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہےاس کی دستار اس کے گیسو اس کی ریشکیسے خاک آلودہ ہیںتھے کبھی جن کی تہیں بود و نبودکیسے اس کا صور اس کے لب سے دوراپنی چیخوں اپنی فریادوں میں گمجھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زودمرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ مجسم ہمہمہ تھا وہ مجسم زمزمہوہ ازل سے تا ابد پھیلی ہوئی غیبی صداؤں کا نشاںمرگ اسرافیل سےحلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گرابن آدم زلف در خاک و نزارحضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تارآسمانوں کی صفیر آتی نہیںعالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیںمرگ اسرافیل سےاس جہاں پر بند آوازوں کا رزقمطربوں کا رزق اور سازوں کا رزقاب مغنی کس طرح گائے گا اور گائے گا کیاسننے والوں کے دلوں کے تار چپاب کوئی رقاص کیا تھرکے گا لہرائے گا کیابزم کے فرش و در و دیوار چپاب خطیب شہر فرمائے گا کیامسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپفکر کا صیاد اپنا دام پھیلائے گا کیاطائران منزل و کہسار چپمرگ اسرافیل ہےگوش شنوا کی لب گویا کی موتچشم بینا کی دل دانا کی موتتھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہواہل دل کی اہل دل سے گفتگواہل دل جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلواب تنا تا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گماب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گمیہ ہمارا آخری ملجا بھی گممرگ اسرافیل سےاس جہاں کا وقت جیسے سو گیا پتھرا گیاجیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیاایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیںایسا سناٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیںمرگ اسرافیل سےدیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھیزباں بندی کے خوابجس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہواس خداوندی کے خواب
میری تخئیل کی جھنکار کو ساکت پا کر!چوڑیاں تیری کلائی میں کھنک اٹھتی تھیںاف مری تشنہ لبی تشنہ لبی تشنہ لبی!کچی کلیاں ترے ہونٹوں کی مہک اٹھتی تھیں
فطرت نئے جذبات کے در کھول رہی ہےمیزان جوانی میں اسے تول رہی ہےلب ساکت و صامت ہیں نظر بول رہی ہے
1بچھی ہوئی ہے بساط کب سےزمانہ شاطر ہے اور ہماس بساط کے زشت و خوب خانوں میںدست نادیدہ کے اشاروں پہ چل رہے ہیںبچھی ہوئی ہے بساط ازل سےبچھی ہوئی ہے بساط جس کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا ہےبساط ایسا خلا ہے جو وسعت تصور سے ماورا ہےکرشمۂ کائنات کیا ہےبساط پر آتے جاتے مہروں کا سلسلہ ہےبساط ساکت ہے وقت مطلق
مرے دوستوں میں بہت اشتراکی ہیںجو ہر محبت میں مایوس ہو کریوں ہی اک نئے دورۂ شادمانی کی حسرت میںکرتے ہیں دل جوئی اک دوسرے کیاور اب ایسی باتوں پہ میںزیر لب بھی کبھی مسکراتا نہیں ہوںاور اس شام جشن عروسی میںحسن و مے و رقص و نغمہ کے طوفان بہتے رہے تھےفرنگی شرابیں تو عنقا تھیںلیکن مے ناب قزوین و خلار شیراز کے دور پیہم سےرنگیں لباسوں سےخوشبو کی بے باک لہروں سےبے ساختہ قہقہوں ہمہموں سےمزامیر کے زیر و بم سےوہ ہنگامہ برپا تھامحسوس ہوتا تھاتہران کی آخری شب یہی ہے!اچانک کہا مرسدہ نے:''تمہارا وہ ساتھی کہاں ہے؟ابھی ایک صوفے پہ دیکھا تھا میں نےاسے سر بہ زانو!''تو ہم کچھ پریشان سے ہو گئےاور کمرہ بہ کمرہ اسے ڈھونڈنے مل کے نکلے!لو اک گوشۂ نیم روشن میںوہ اشتراکی زمیں پر پڑا تھااسے ہم بلایا کیے اور جھنجھوڑا کیےوہ تو ساکت تھا جامد تھا!روسی ادیبوں کی سر چشمہ گاہوں کی اس کو خبر ہو گئی تھی
رات کافی ہو چکی ہے نیند میں بچے ہیں دھتآپ یوں ساکت ہوئے بیٹھے ہیں جیسے کوئی بت
مرے بیڈروم میں زیرو کے بلب کی۔۔۔لہو رنگ روشنی سہمی ہوئی ہےلحاف اوڑھے بدن ٹوٹے پڑے ہیںسرہانے جاگتے ہیں نرم بوسےدہکتی ہیں خمار آلود آنکھیںمہکتی ہیں، اکھڑتی گرم سانسیںمگر سانسوں میں دل اٹکے ہوئے ہیںلہو رنگ روشنی سہمی ہوئی ہےمیں کچی نیند سے جاگا ہوا ہوںوہ کچی عمر کی ٹوٹی ہوئی ہے
ہم کتنا روئے تھے جب اک دن سوچا تھا ہم مر جائیں گےاور ہم سے ہر نعمت کی لذت کا احساس جدا ہو جائے گاچھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے شہد کی مکھی کی بھن بھنچڑیوں کی چوں چوں کوؤں کا ایک اک تنکا چننانیم کی سب سے اونچی شاخ پہ جا کر رکھ دینا اور گھونسلہ بنناسڑکیں کوٹنے والے انجن کی چھک چھک بچوں کا دھول اڑاناآدھے ننگے مزدوروں کو پیاز سے روٹی کھاتے دیکھے جانایہ سب لا یعنی بیکار مشاغل بیٹھے بیٹھے ایک دم چھن جائیں گےہم کتنا روئے تھے جب پہلی بار یہ خطرہ اندر جاگا تھااس گردش کرنے والی دھرتی سے رشتہ ٹوٹے گا ہم جامد ہو جائیں گےلیکن کب سے لب ساکت ہیں دل کی ہنگامہ آرائی کیبرسوں سے آواز نہیں آئی اور اس مرگ مسلسل پران کم مایہ آنکھوں سے اک قطرہ آنسو بھی تو نہیں ٹپکا
تمہیں کب یاد ہوگاٹوٹتے کمزور لمحوں کے یہ بندھن کس قدر مضبوط ہوتے ہیںکہ اب میں ہر برس جولائی کی انیسویں تپتی جھلستی دوپہر میںخواب جگنو اور ستارے اپنی آنکھوں پر رکھے محسوس کرتا ہوںتمہیں چھوتا ہوں پلکوں سےہوا میں انگلیاں بھر کرتمہارے کان سے سرگوشیاں کرتے ہوئے بالوں کواک تمہید دیتا ہوںنگاہ خواب آلودہ کے بوسوں سےتمہارے جسم کی ساری صفوں پر لفظ رکھتا ہوںتمہیں بھرتا ہوں بانہوں میںتمہاری یاد رفتہ سے وہی لمحہ اٹھا کر وقت کو ساکت بناتا ہوںتو پھر وہ موڑ آتا ہےجہاں اوہام الہامی نظر آتے ہیںاور اک نظم کی تخلیق ہوتی ہے
تم جو آتے ہوتو کچھ بھی نہیں رہتا موجودتم چلے جاتے ہواور بولنے لگتے ہیں تمامادھ کھلے پھولسماعت پہ جمی چاپ ہوا بند مکانگفتگو کرنے کے آسن میں رکے سب اجساممردہ لمحات کا اک ڈھیر پہاڑابر کی قاش اٹھی موج کا ساکت اندامبرف لب پلکوں پہ ٹانکے ہوئے موتی آنسواور سلے کانوں میں آواز کی سوئیاں بے جانیک بیک بولنے لگتے ہیں تمامزندگی بننے میں ہو جاتی ہے پھر سے مصروفوقت ہو جاتا ہے پھر خاک بہ سر بے آرامایک پنچھی جسے اڑتے چلے جانا ہے خدا جانے کہاںاور میں تنکوں کے بکھرے ہوئے بستر کی طرحمنتظر لوٹ کے تم آؤ کسی روز یہاںپھر ہوں اک بار معطلیہ زمیں اور زماں
وحشت کی اماوس میں تمہاری یاد چھپی ہےاور تمہاری یاد میں بہت سارے خوفبالکل اچانکبغیر کسی وجہ کےسینے میں دھڑدھڑاتے دل کوساکت و جامد کرنے والے خوفیہ وہ ایسے ویسے اچھے برےمارنے والے توڑنے والے خوفبھیانک قسم کے خوفعجیب قسم کے خوفکینچلی بدلنے والے خوفاور پتا نہیں کیسے کیسے خوفتم نے سنا نہیںمیں تم سے محبت کر کے بہت سے خوفوں میں گھر گئی ہوںمیں تھک گئی ہوں
سر چشمۂ اخلاق وفا کیش و وفا کوشاے مشرق اشراق صفا ابر خطا پوشیوں تیرے دل صاف میں اشراق محبتجس طرح کہ لو صبح کو دے در نیا گوشمیں کون ہوں اک دل ہوں جسے ضبط نے ماراکر دے گی فنا مجھ کو مری کوشش خاموشوہ دل ہوں عبارت جو ہے نظم ابدی سےاک خون کا نقطہ ہوں میں پر معنی و پرجوشجبریل مرے ساتھ رہے روز ازل سےمیخانۂ عرفاں میں شب و روز قدح نوشکچھ منہ سے نکل جائیں نہ سمجھی ہوئی باتیںرہنے دو مجھے مجلس مے میں یونہی مدہوشسرسبز ہوں ظاہر میں مگر اے دل خوں گرمجس طرح حنا میں ہے نہاں آتش خاموشدل پر یہ ستم کیوں نہ ہو ہم جنس پہ تاثیرکعبہ اسی غم میں نظر آتا ہے سیہ پوشایوب نہیں ہوں کوئی معصوم نہیں ہوںتا چند مظالم پہ رہوں ساکت و خموشہیں جتنے اقارب وہ اقارب سے ہیں بد تراحباب ہیں وہ خود غرض و زود فراموشدل صاف نہیں سب ہیں سخن ساز و سخن چیںیہ مہر تو ہے زہر اگر نیش میں ہو نوشکہتے ہیں جسے دوست وہ اس دور میں عنقاسمجھے ہیں جسے مہر وہ اس عہد میں روپوشکس دور میں آئے ہیں ہم اے مجلس ساقیجب رند خرابات نشیں ہو گئے مدہوشدل کیا مری آنکھوں کا ہے ٹوٹا ہوا سوتاطوفان اٹھا دیں گے یہی چشمۂ خس پوشٹھوکر سے جلاتا ہوں مضامین کہن کوہے فتنۂ محشر مری اتری ہوئی پاپوشہم سنگ جواہر کبھی پتھر نہیں ہوتاہر چند تراشے کوئی صناع صفا کوشگو مجھ کو خدا داد طبیعت نے سنوارامجرم ہوں اگر ہوں کبھی احسان فراموشترکش میں مرے تیر بہت کم ہیں مگر ہیںایسے کہ اڑا دیں قدر انداز کے جو ہوشپندار خودی ہے عزیز ان کو تو ہمیں کیاہم عشق کے بندے ہیں وفا کیش و وفا کوش
خاک پر اک بوند لپکیبوند جم کر لوتھڑااس لوتھڑے میں ہڈیاںپھر ہڈیوں پر ماس آیاماس جس پر نقش ابھرےنقش کو جنبش ملیاور خامشی کی کوکھ خالی ہو گئیچیخ پہلی گفتگو تھیتھم گئی تو اس سے پھوٹا قہقہہجب تھک کے ٹوٹا قہقہہتب آخری آواز سسکیجنبشیں ساکت ہوئیںاور قبر کی خاموشیوں میںنقش پگھلے ماس اتراہڈیاں عریاں ہوئیں اور منہدملوتھڑا گل سڑ کے پھر سے بوند تھااور بوند دھرتی کھا گئیہائے میرے ابتلا کی انتہا ابتدا تک آ گئی
امن کی چادر میںبارود اور مہلک ہتھیاروں کی گٹھڑی باندھ کےدنیا بھر میں بھیجنے والے بے حس لوگواپنی سازش گاہ سے باہر جھانک کے دیکھوچہرے پر جانی پہچانی بے مقصد سی کچھ تحریریںتھکے ہوئے پیروں میں بھاگتے رستوں کی ساکت زنجیریںجیسے آزادی کے گھر میں قید ہوں دو ننگی تصویریںخشک لبوں پر پیاس بھری تلخی کے سارے ذائقے لکھےخالی پیٹ کو آنکھوں کی دہلیز پہ رکھےسامنے ایک سڑک کے موڑ پہدو زندہ سائے روتے ہیںچہرے مہرے رنگ اور نسل میںبالکل تم جیسے ہوتے ہیںمیلے جسم پر اندر کا احوال سجائےہاتھوں کو کشکول بنائےآنے جانے والوں سے کہتے رہتے ہیںبابا کوئی کام کرا لواور اس کے بدلے میں ہم کوروٹی لا دوبھوک مٹا دو
منظر پس منظرخاموش ہوتا ہےپیڑ ساکت کھڑے رہتے ہیںپتے ہلتے ہیںپر نہ اڑتے ہیںکہیں دور سے ریل کی سیٹیاں ابھرتی ہیںاور نزدیک کے ریس کورس سےبھاگتے تیزابی گھوڑوں کی ٹاپوں سے زیادہنو دولتیے گدھوں کی چیخ و پکار سےکان پھٹنے لگتے ہیںہر کہیں کانوں کوروئی میسر نہیں آتی ہےکم از کمآنکھیں موند لو(یہ تمہارے بس میں ہے)اندھیارے میں آوازیں زائل ہو جائیں گیذہن کے کالے پردے پرکوئی تصویر نہیں ابھرے گیکانوں میںکوئی آواز نہیں آئے گیگونگے بہرے اندھے ہو جاؤشاعری مت کرواور اندھیارے میں دور تلک دیکھتے جاؤدیر تلکبے صبح و شامبے جسم و جانآکاش آسماندیکھتے جاؤشاید اسی لمحہیا کل پرسوںیا صدیاں گزر جانے کے بعدزمین اڑ جانےآسمان بکھر جانے کے بعدہر شے کے مر جانے کے بعددھول سمٹ جائے گیدھند مٹے گیاندھیارے میں چاروں جانبآئینہ ابھرے گاکانوں میں نقرئی گھنٹیوں کے مدھم نغموںکی شرابوں کا نشہ گونجے گاچاروں سمت سنہری سفید موتیسا چمکتا چہرا ابھرے گاچاروں جانب سر سگندھ کی مالائیںلہرائیں گینت نویلی صدا کی دوشیزہشاعری کی پالکی پر سوار آئے گیمجھ کودور بدیس لے جائے گی
لمحے ساکت ہو گئے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books