aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sadqa-e-jaarii"
ہے مسلمانوں پر واجب صدقۂ عیدالفطرپا کے روزی خوش ہیں غربا یہ نہال عید ہے
صدقۂ فطر ادا بھی کرنامحتاجوں کے دامن بھرنا
اٹھا وہ خاک سرنگا پٹم سے مرد جریبدیسیوں کی حکومت تھی لرزہ بر اندام
کتنے مردان جری کتنے جوانان غیورکتنے صاحب عقل کتنے مالک فہم و شعور
صبح خیرات کے آنگن میں غریبی ہوگیپھر وہی صدقۂ جاں اب کے برس پائیں گےاور ہر دست مخیر میں چمکتے سکےملگجے جسموں کی حالت پہ ترس کھائیں گےغم کے تپتے ہوئے صحرا پہ خوشی کے بادلبے ارادہ ہی سر راہ برس جائیں گے
سر زمین ہند کا یہ بازوئے شمشیر زنجس کے مردان جری ہیں شعلہ بار و صف شکن
لوگ اپنے اندازوں کی جوتیاںمیرے احساس کے دروازے پہ اتارتے ہیںاور کفر کی مسجد میں ننگے پاؤں چلے آتے ہیںمیں اپنی ذات میں اتنی متعصب ہوں کہلہجوں کو ان کے مسلک سے پہچانتی ہوںاور کسی با مروت خانقاہ میںمجبوری کا سجدہ نہیں کرتیکوئی غلیظ مسکراہٹ میری آنکھوں کو چھونا چاہے تومیں ہونٹوں پہ تھوک دیتی ہوںلیکن صدقۂ جاریہ کا سرخ رومال انگلی پہ نہیں باندھ سکتی
اے وطن کے سجیلے جوانومیرے نغمے تمہارے لیے ہیںسرفروشی ہے ایماں تمہاراجرأتوں کے پرستار تم ہوجو حفاظت کرے سرحدوں کیوہ فلک بوس دیوار تم ہواے شجاعت کے زندہ نشانومیرے نغمے تمہارے لیے ہیںبیویوں ماؤں بہنوں کی نظریںتم کو دیکھیں تو یوں جگمگائیںجیسے خاموشیوں کی زباں سےدے رہی ہوں وہ تم کو دعائیںقوم کے اے جری پاسبانومیرے نغمے تمہارے لیے ہیںتم پہ جو کچھ لکھا شاعروں نےان میں شامل ہے آواز میریاڑ کے پہنچو گے تم جس افق پرساتھ جائے گی آواز میریچاند تاروں کے اے راز دانومیرے نغمے تمہارے لیے ہیں
سال ہا سال کی اس صورت حالات کے بعدایک انسان اٹھا ایسا کہ جس نے بڑھ کرعزم و ہمت کا شجاعت کا چلن عام کیااور برسوں کی غلامی کے شکنجوں میں کسےراہ گم کردہ بھٹکتے ہوئے انسانوں کولفظ آزادیٔ جمہور سے آگاہ کیااک نئے دور درخشندہ کا پیغام دیاقافلے بڑھتے رہے بڑھتے رہے بڑھتے رہےسورج آزادئ انساں کے یوں ہی چڑھتے رہےہم کہ واقف تھے روایات سلف سے اپنیڈٹ گئے نظم وطن کی خاطرعزم و ہمت سے شجاعت سے نیا کام لیااور قاعد کے اصولوں کا چلن عام کیاآج ہم پھر وہی مردان جری ہیں کہ جو تھے
بارے آئی نجات کی باریکھل گیا عقدۂ گرفتاریہم کو منصب ملا رہائی کاقید کو جائیداد بیکاریپاؤں کو چھوڑ بھاگے مار دو سرسر کو پشتارۂ گرانباریکوچ ٹھہرا مقام غربت سےاب وطن چلنے کی ہے تیاریرخصت اے دوستان زندانیالوداع اے غم گرفتاریالرحیل اے مشقت ہر زورالفراق اے ہجوم ناچاریدال فے عین اے کتابت قیدگاف میم اے حساب سرکاریدال چاول سے کہہ دو رخصت ہوںپانی میں ڈوبے یہ نمک کھاریمچھلیوں سے کہو کہ ہٹ کے سڑیںگھاس کھودے یہاں کی ترکاریچینی برہما ملائی مدراسیاہل آشام جنگلی تاتاریاپنے دیدار سے معاف کریںاپنی باتوں سے دیں سبکساریکالے پانی سے ہوتے ہیں رخصتاشک شادی ہیں آنکھوں سے جاریبیٹھتے ہیں جہاز دوری پراٹھتے ہیں لنگر گرانباریکرم اے خضر المدد اے نوحرحم اے فضل حضرت باریالسلام اے خروش بحر محیطالسفر اے سفینۂ جاریزاد راہ سفر توکل ہےرہنمائی کو اس کی غفاریہے ارادہ کہ فکر شعر کریںتاکہ ہو دور رنج بیکاریبسکہ برسوں رہا ہوں زنداں میںبھولی قصر سخن کی معماری
اس بار بخش دے مرے مولیٰ صداؔ کو توقید حصار ذات کی پھر سے سزا نہ دے
صداؔ لوح چھن جائے ٹوٹے قلم بھیلگے جو کبھی علت خود ستائی
جیتے جی دکھا مجھ کو سدا راہ صداقتموت آنے پہ موقعۂ شہادت مجھے دے دے
کیا کیا اے سدا تو نے بتا آ کر زمانے میںگزاری زندگی ساری فقط پینے پلانے میں
نہیں ممکن مٹانا مجھ کو مثل نقش پا یاروخلاؤں میں رہوں گا گونجتا بن کر صدا یارو
اے مرے مولیٰ اگر ان کا بھی ہے تو ہی خدااس قدر کیوں حال سے میرے ہے حال ان کا جدابول یہ کس کو پکاریں کس کو آخر دیں صداکون ہے ان کا مسیحا کون ہے ان کا خدا
راز قدرت ہمیں سمجھایا ہے اک گل نے صداؔگل نئے کھلتے رہیں اس لئے جھر جاتا ہے گل
رحمت بھرا سفینہرمضان کا مہینہ
نیند آنی ہو تو آ جاتی ہے
خیالات میں سخت ہے انتشارتخیل پریشاں قلم بے قرارجہاں خون آلود و خوں رنگ ہےوطن پر پڑا سایۂ رنج ہےگل و لالہ ہیں مستعد بے تکاںرفیقوں نے رکھی ہتھیلی پہ جاںہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنخلوص آج پامال ہے اور تباہاصول آج دریوزہ خواہ پناہگرفتار آزار دنیا ہے آجمحبت پریشان و رسوا ہے آجاصول محبت کے ہم ترجماںخلوص و محبت کے ہم پاسباںدوانوں کو مطلق نہیں ہے قرارصداقت سے بیتاب دل پائیدارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنوطن ہے یہ نانک کا فرماں پذیرتھا گوتم اسی کارواں کا امیرمحبت نے رتبہ دیا ہے بلندمحبت نے سب کو کیا ارجمندہے غیرت کا طوفان چھایا ہواہے بچوں میں بھی جوش آیا ہواارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار ہیں جاں نثارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطننہ دی دشمنوں کو کبھی اس نے راہہمالہ ہے رفعت سے عالم پناہہمالہ کی دلچسپ ہے داستاںیہ عظمت نشاں سب کا ہے پاسباںزمانے پہ یہ بات ہے آشکاراما اس کی ہے دختر نامدارہمالہ کی عظمت کی ہم کو قسمہمالہ کی رفعت کی ہم کو قسمحفاظت ہمالہ کی اب فرض ہےہمالہ کا ہم پر بڑا قرض ہےیہ کہتے ہیں سب مل کے خورد و کلاںکہ غیرت کا اس وقت ہے امتحاںہوا روئے شنکر ہے غصے سے لالدکھائے گا اب رقص تانڈو جلالارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار سب جاں نثارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنمحافظ ہیں ہم امن کے لا کلامزمانے کو دیتے ہیں بدھ کا پیامصبا اپنے گلشن سے جاتی ہے جبمٹاتی ہے دنیا کے رنج و تعبرسیلی ہے صبح اور رسیلی ہے شامنہاں ان میں ہے زندگی کا پیامروایت کا محفوظ کر کے وقارہمیں لوٹنا ہے خوشی کی بہارذرا دیکھئے گا رفیقوں کی آنہے رکھی جنہوں نے ہتھیلی پہ جانہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنہے عزت کا جرأت کا اب امتحاںکہیں جھک نہ جائے وطن کا نشاںفریبوں سے کوئی پنپتا نہیںکبھی جھوٹ کا میوہ پکتا نہیںصداقت کا ہے بول بالا سدانہیں کام آتے دروغ افترافضا ہے چمن کی ہمیں سازگارہے پابندہ تر اس زمیں کی بہارہر اک لب پہ ہے بس یہیں اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنحیا اور مروت ہے جو پر رہیںہوئی ہیں وہ آنکھیں بہت خشمگیںبڑھے ہیں وطن کی طرف بد قماشکلیجہ زمیں کا ہوا پاش پاشپہاڑوں پہ ہے برف غصے سے لالفضائیں ہوئیں گرم آتش مثالہیں جہلم میں آنے کو طغیانیاںہر اک موج پر ہے غضب کا سماںمحبت کی دنیا کو دل میں لیےبہار جوانی سے پیماں کیےوطن کی حفاظت کو تیار ہیںمحبت کے بادہ سے سرشار ہیںحفاظت ہے فرض اپنے ارمان کیہمیں آج پروا نہیں جان کیہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن۲آؤ بڑھو میدان میں شیروں دشمن پر یلغار کریںقبر بنے میدان میں اس کی ایسا اس پر وار کریںزنگ نہ لگنے پائے اپنے بھارت کی آزادی کوآؤ زیر دام کریں صیادوں کی صیادی کولوح دل پر نقش کرو ہر حال میں زندہ رہنا ہےملک کی خدمت کے رستے میں جو دکھ آئے سہنا ہےیہ سیلاب سرخ نہیں ہے ظلم و ستم کی آندھی ہےاس سیلاب کو روکیں گے ہم ہمت ہم نے باندھی ہےشیروں کی اولاد ہو تم ان ویروں کی سنتان ہو تممرد مجاہد مرد جری ہو یودھا ہو بلوان ہو تمسانچی مدورا امرتسر اجمیر کی عظمت تم سے ہےصبح بنارس شام اودھ کی اصل و حقیقت تم سے ہےتاج اجنتا اور ایلورا کے واحد فن کار ہو تمخوش سیرت خوش صورت خوش مورت خوش کردار ہو تمبھیلائی چترنجن تم سے بھاکڑ اننگل تم سے ہےدامودر کی شان ہے تم سے عظمت چنبل تم سے ہےتم نے بسائے شہر نرالے جنگل تم سے منگل ہیںتم نے نکالی نہریں اتنی صحرا تم سے جل تھل ہیںتم نے اتنی ہمت سے دریاؤں کے رخ موڑ دیےتم نے کھودیں سرنگیں اتنی دور کے رشتے جوڑ دیےتم کشمیر کی ارض حسیں کے نظاروں میں پلتے ہوکہساروں کو پھاندتے ہو تم دریاؤں پہ چلتے ہوتم میسور میں ورندا بن کے باغ سجانے والے ہواوٹی شملہ دارجلنگ سے شہر بسانے والے ہوتاتیا ٹوپے لکشمی بائی ٹیپو کی اولاد ہو تمجنگ کے فن میں قابل ہو تم ماہر ہو استاد ہو تمہندو مسلم سکھ عیسائی جینی بودھ اور پارسیدہقاں تاجر اور ملازم سادھو سنت اور سیاسیلے کے وطن کا جھنڈا آؤ دشمن پر یلغار کریںقبر بنے رن بھوم میں اس کی ایسا اس پر وار کریں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books