aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "salaa"
لڑکپن کی رفیق اے ہم نوائے نغمۂ طفلیہماری گیارہ سالہ زندگی کی دل نشیں وادیہمارے ذہن کی تخئیل کی احساس کی ساتھیہمارے ذوق کی رہبر ہماری عقل کی ہادی
ناگہاں آج مرے تار نظر سے کٹ کرٹکڑے ٹکڑے ہوئے آفاق پہ خورشید و قمراب کسی سمت اندھیرا نہ اجالا ہوگابجھ گئی دل کی طرح راہ وفا میرے بعددوستو قافلۂ درد کا اب کیا ہوگااب کوئی اور کرے پرورش گلشن غمدوستو ختم ہوئی دیدۂ تر کی شبنمتھم گیا شور جنوں ختم ہوئی بارش سنگخاک رہ آج لیے ہے لب دلدار کا رنگکوئے جاناں میں کھلا میرے لہو کا پرچمدیکھیے دیتے ہیں کس کس کو صدا میرے بعد'کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق''ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد'
(1)ناگہاں شور ہوالو شب تار غلامی کی سحر آ پہنچیانگلیاں جاگ اٹھیںبربط و طاؤس نے انگڑائی لیاور مطرب کی ہتھیلی سے شعاعیں پھوٹیںکھل گئے ساز میں نغموں کے مہکتے ہوئے پھوللوگ چلائے کہ فریاد کے دن بیت گئےراہزن ہار گئےراہرو جیت گئےقافلے دور تھے منزل سے بہت دور مگرخود فریبی کی گھنی چھاؤں میں دم لینے لگےچن لیا راہ کے ریزوں کو خذف ریزوں کواور سمجھ بیٹھے کہ بس لعل و جواہر ہیں یہیراہزن ہنسنے لگے چھپ کے کمیں گاہوں میںہم نشیں یہ تھا فرنگی کی فراست کا طلسمرہبر قوم کی ناکارہ قیادت کا فریبہم نے آزردگئی شوق کو منزل جانااپنی ہی گرد سر راہ کو محمل جاناگردش حلقۂ گرداب کو ساحل جانااب جدھر دیکھو ادھر موت ہی منڈلاتی ہےدر و دیوار سے رونے کی صدا آتی ہےخواب زخمی ہیں امنگوں کے کلیجے چھلنیمیرے دامن میں ہیں زخموں کے دہکتے ہوئے پھولخون میں لتھڑے ہوئے پھولمیں جنہیں کوچہ و بازار سے چن لایا ہوںقوم کے راہبرو راہزنواپنے ایوان حکومت میں سجا لو ان کواپنے گلدان سیاست میں لگا لو ان کواپنی صد سالہ تمناؤں کا حاصل ہے یہیموج پایاب کا ساحل ہے یہیتم نے فردوس کے بدلے میں جہنم لے کرکہہ دیا ہم سے گلستاں میں بہار آئی ہےچند سکوں کے عوض چند ملوں کی خاطرتم نے ناموس شہیدان وطن بیچ دیاباغباں بن کے اٹھے اور چمن بیچ دیا(2)کون آزاد ہوا؟کس کے ماتھے سے سیاہی چھوٹیمیرے سینے میں ابھی درد ہے محکومی کامادر ہند کے چہرے پہ اداسی ہے وہی
چھوڑ دے مطرب بس اب للہ پیچھا چھوڑ دےکام کا یہ وقت ہے کچھ کام کرنے دے مجھےتیری تانوں میں ہے ظالم کس قیامت کا اثربجلیاں سی گر رہی ہیں خرمن ادراک پریہ خیال آتا ہے رہ رہ کر دل بے تاب میںبہہ نہ جاؤں پھر ترے نغمات کے سیلاب میںچھوڑ کر آیا ہوں کس مشکل سے میں جام و سبو!آہ کس دل سے کیا ہے میں نے خون آرزوپھر شبستان طرب کی راہ دکھلاتا ہے تومجھ کو کرنا چاہتا ہے پھر خراب رنگ و بومیں نے مانا وجد میں دنیا کو لا سکتا ہے تومیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تومیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تومیں نے مانا تیری موسیقی ہے اتنی پر اثرجھوم اٹھتے ہیں فرشتے تک ترے نغمات پرہاں یہ سچ ہے زمزمے تیرے مچاتے ہیں وہ دھومجھوم جاتے ہیں مناظر، رقص کرتے ہیں نجومتیرے ہی نغمے سے وابستہ نشاط زندگیتیرے ہی نغمے سے کیف و انبساط زندگیتیری صوت سرمدی باغ تصوف کی بہارتیرے ہی نغموں سے بے خود عابد شب زندہ داربلبلیں نغمہ سرا ہیں تیری ہی تقلید میںتیرے ہی نغموں سے دھومیں محفل ناہید میںمجھ کو تیرے سحر موسیقی سے کب انکار ہےمجھ کو تیرے لحن داؤدی سے کب انکار ہےبزم ہستی کا مگر کیا رنگ ہے یہ بھی تو دیکھہر زباں پر اب صلائے جنگ ہے یہ بھی تو دیکھفرش گیتی سے سکوں اب مائل پرواز ہےابر کے پردوں میں ساز جنگ کی آواز ہےپھینک دے اے دوست اب بھی پھینک دے اپنا رباباٹھنے ہی والا ہے کوئی دم میں شور انقلابآ رہے ہیں جنگ کے بادل وہ منڈلاتے ہوئےآگ دامن میں چھپائے خون برساتے ہوئےکوہ و صحرا میں زمیں سے خون ابلے گا ابھیرنگ کے بدلے گلوں سے خون ٹپکے گا ابھیبڑھ رہے ہیں دیکھ وہ مزدور دراتے ہوئےاک جنوں انگیز لے میں جانے کیا گاتے ہوئےسرکشی کی تند آندھی دم بہ دم چڑھتی ہوئیہر طرف یلغار کرتی ہر طرف بڑھتی ہوئیبھوک کے مارے ہوئے انساں کی فریادوں کے ساتھفاقہ مستوں کے جلو میں خانہ بربادوں کے ساتھختم ہو جائے گا یہ سرمایہ داری کا نظامرنگ لانے کو ہے مزدوروں کا جوش انتقامگر پڑیں گے خوف سے ایوان عشرت کے ستوںخون بن جائے گی شیشوں میں شراب لالہ گوںخون کی بو لے کے جنگل سے ہوائیں آئیں گیخوں ہی خوں ہوگا نگاہیں جس طرف بھی جائیں گیجھونپڑوں میں خوں، محل میں خوں، شبستانوں میں خوںدشت میں خوں، وادیوں میں خوں، بیابانوں میں خوںپر سکوں صحرا میں خوں، بیتاب دریاؤں میں خوںدیر میں خوں، مسجد میں خوں، کلیساؤں میں خوںخون کے دریا نظر آئیں گے ہر میدان میںڈوب جائیں گی چٹانیں خون کے طوفان میںخون کی رنگینیوں میں ڈوب جائے گی بہارریگ صحرا پر نظر آئیں گے لاکھوں لالہ زارخون سے رنگیں فضائے بوستاں ہو جائے گینرگس مخمور چشم خوں فشاں ہو جائے گیکوہساروں کی طرف سے ''سرخ آندھی'' آئے گیجا بجا آبادیوں میں آگ سی لگ جائے گیتوڑ کر بیڑی نکل آئیں گے زنداں سے اسیربھول جائیں گے عبادت خانقاہوں میں فقیرحشر در آغوش ہو جائے گی دنیا کی فضادوڑتا ہوگا ہر اک جانب فرشتہ موت کاسرخ ہوں گے خون کے چھینٹوں سے بام و در تمامغرق ہوں گے آتشیں ملبوس میں منظر تماماس طرح لے گا زمانہ جنگ کا خونیں سبقآسماں پر خاک ہوگی، فرق پر رنگ شفقاور اس رنگ شفق میں باہزاراں آب و تاب!جگمگائے گا وطن کی حریت کا آفتاب
خدا حشر میں ہو مددگار میراکہ دیکھی ہیں میں نے مسز سالا مانکا کی آنکھیںمسز سالا مانکا کی آنکھیںکہ جن کے افق ہیں جنوبی سمندر کی نیلی رسائی سے آگےجنوبی سمندر کی نیلی رسائیکہ جس کے جزیرے ہجوم سحر سے درخشاںدرخشاں جزیروں میں زرتاب و عناب و قرمز پرندوں کی جولاں گہیںایسے پھیلی ہوئی جیسے جنت کے داماںپرندے ازل اور ابد کے مہ و سال میں بال افشاں!خدا حشر میں ہو مددگار میراکہ میں نے لیے ہیں مسز سالا مانکا کے ہونٹوں کے بوسےوہ بوسے کہ جن کی حلاوت کے چشمےشمالی زمینوں کے زرتاب و عناب و قرمز درختوںکے مدہوش باغوں سے آگےجہاں زندگی کے رسیدہ شگوفوں کے سینوںسے خوابوں کے رم دیدہ زنبور لیتے ہیں رس اور پیتے ہیں وہکہ جس کے نشے کی جلا سےزمانوں کی نادیدہ محراب کے دو کناروں کے نیچےہیں یک بارگی گونج اٹھتے خلا و ملا کے جلاجلجلاجل کے نغمے بہم ایسے پیوست ہوتے ہیں جیسےمسز سالا مانکا کے لب میرے لب سے!
مصاحب شاہ سے کہو کہفقیہہ اعظم بھی آج تصدیق کر گئے ہیںکہ فصل پھر سے گناہ گاروں کی پک گئی ہےحضور کی جنبش نظر کےتمام جلاد منتظر ہیںکہ کون سی حد جناب جاری کریںتو تعمیل بندگی ہوکہاں پہ سر اور کہاں پہ دستار اتارنا احسن العمل ہےکہاں پہ ہاتھوں کہاں زبانوں کو قطع کیجئےکہاں پہ دروازہ رزق کا بند کرنا ہوگاکہاں پہ آسائشوں کی بھوکوں کو مار دیجےکہاں بٹے گی لعان کی چھوٹاور کہاں پررجم کے احکام جاری ہوں گےکہاں پہ نو سالہ بچیاں چہل سالہ مردوں کے ساتھسنگین میں پرونے کا حکم ہوگاکہاں پہ اقبالی ملزموں کوکسی طرح شک کا فائدہ ہو
مسلماں قرض لے کر عید کا ساماں خریدیں گےجو دانا ہیں وہ بیچیں گے جو ہیں ناداں خریدیں گےجو سیاں شوق سے کھائیں وہ سویاں خریدیں گےمرکب سود کا سودا بہ نقد جاں خریدیں گےمسلمانوں کے سر پر جب مہ شوال آتا ہےتو ان کی اقتصادیات میں بھونچال آتا ہےبہم دست و گریباں سیلز مین اور ان کے گاہک ہیںوہ غل برپا ہے جیسے نغمہ زن جوہڑ میں مینڈک ہیںمزاجاً روزہ دار شام بارود اور گندھک ہیںاور ان میں نظم اور ضبط اور روا داری یہاں تک ہیںکہ شدت بھوک کی اور پیاس کی ایسے مٹاتے ہیںبہ زعم روزہ ابنائے وطن کو کاٹ کھاتے ہیںجو مجھ ایسے ہیں رند ان کو بھی زعم پارسائی ہےاور اس مضمون کی اک دعوت افطار آئی ہےکہ اک چالیس سالہ طفل کی روزہ کشائی ہےفرشتے اس پہ حیراں دم بخود ساری خدائی ہےخداوند دوعالم سے وہ یہ بیوپار کرتے ہیںجو رکھا ہی نہیں روزہ اسے افطار کرتے ہیںمیاں بیوی چلے بازار کو بہر خریداریمٹھائی پھل سویاں عطر جوتے گوشت ترکاریجو شے بیوی نے لی وہ دوش پر شوہر کے دے ماریوہ بے چارہ تو خچر ہے برائے بار برداریبزور قرض دوکانوں پہ اتنا فضل باری ہےکہ اس گھمسان میں انسان پر انسان طاری ہےلیا بیوی نے شوہر کے لئے جوتا جو ارزاں ہےوہ امریکی مدد کی طرح اس کے سر پہ احساں ہےکہ اس سے فائدہ پہنچے گا اس کو جس کی دوکاں ہےاور اس شوہر کا جوتا خود اسی کے سر پہ رقصاں ہےیہ صورت دیکھ کر کہتے ہیں اکثر دل میں بن بیاہے''دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے''جو سلنے کو دیئے کپڑے وہ ہیں سب حبس بیجا میںکہ درزی چھپ گیا جب اطلس و کمخواب و دیبا میںتو ریڈی میڈ کپڑوں کی دکانیں جھانکتا تھا میںفلک پر قیمتیں لٹکی ہوئی تھیں شاخ طوبیٰ میںمبارک ماہ کے اندر ہمیں سے نفع خوری ہےنہیں ہوتا ہے باطل جس سے روزہ یہ وہ چوری ہےیہ سویاں جو بل کھاتی ہوئی معدے میں جائیں گیسیاسی گتھیوں کو اور الجھانا سکھائیں گیہماری آنے والی نسل کے لیڈر بنائیں گیجو لیڈر بن چکے ہیں ایبڈو ان کو کرائیں گی''قد و گیسو میں قیس و کوہ کن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے''مہینے بھر کے روزوں بعد حق نے دن یہ دکھلایاعلی الاعلان کھایا دوستوں کے ساتھ جو پایایہ پہلے ڈر تھا ہم کو جھانک کر دیکھے نہ ہمسایہبجز خوف خدا دن میں بظاہر کچھ نہ تھا کھایاحسینوں مہ وشوں کو اب سر بازار دیکھیں گےگئے وہ دن کہ کہتے تھے پس از افطار دیکھیں گے
پھر وہی ماحول وہی شور شرابہوہی کچھ نئے پرانے چہروں کا بول بالاپھر سے سج گئی تبدیلیوں کی منڈیاںپر اصل میں کچھ نہیں بدلنے والاپھر چیختے پھر رہے بد حواس چہرہپھر رچے جانیں لگیں ہیں سڈینتر گہرےپھر سے گونجنے لگیں ہیں فضاؤں میں نعرےپچھلگو بن گئے ہیں کچھ بھوک کے مارےپھر سے یہ بتائی جانے لگی بدلاؤ کی باتیںپھر سے کرسی قبضانے کو ہونے لگیں ہیں گھاتیںپھر سے آ گیا ہے چناؤ کا موسم پانچ سالہپر اصل میں کچھ نہیں بدلنے والاکچھ آ جائیں گے چہرہ نئے پرانےبن کے رہنما لگ جائیں گے دیش کو کھانےپھر شروع ہوگا عام آدمی کی تقدیر سے کھیلپھر بھیجا جائے گا کچھ ہارے ہوؤں کو جیلپھر سے نیایے کا ڈھونگ رچایا جائے گاآدمی کو روٹی کے وعدے سے بہلایا جائے گاپھر سے ہوگا لوٹ کھسوٹ کا ننگا ناچپھر جھوٹھ کو بتایا جائے گا سانچمجھے جلائے گی میرے اندر کی آنچاور ٹوٹتے سپنے چبھیں گے بن کے کانچپھر سے زندگی بننے لگے گی مکڑ جالامیں جانتا ہوں کہ کچھ نہیں بدلنے والا
کال اور قحط کی سیجوں کو سجاتی نہیں میںخون مزدور کا گلیوں میں بہاتی نہیں میںگولیاں اہل محبت پہ چلاتی نہیں میںپنچ سالہ کوئی سکیم بناتی نہیں میں
بنا ہے کوٹ یہ نیلام کی دکاں کے لیےصلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیےبڑا بزرگ ہے یہ آزمودہ کار ہے یہکسی مرے ہوئے گورے کی یادگار ہے یہنہ دیکھ کہنیوں پہ اس کی خستہ سامانیپہن چکے ہیں اسے ترک اور ایرانیبڑا بزرگ ہے یہ گو قلیل قیمت ہےمیاں بزرگوں کا سایہ بڑا غنیمت ہےجو قدردان ہیں وہ جانتے ہیں قیمت کوکہ آفتاب چرا لے گیا ہے رنگت کویہ کوٹ کوٹوں کی دنیا کا باوا آدم ہےاگرچہ ہے وہ نگہ جو نگاہ سے کم ہےگزشتہ صدیوں کی تاریخ کا ورق ہے یہ کوٹخریدو اس کو کہ عبرت کا اک سبق ہے یہ کوٹ
وہ جواں ہو کے اگر شعلۂ جوالہ بنیوہ جواں ہو کے اگر آتش صد سالہ بنیخود ہی سوچو کہ ستم گاروں پہ کیا گزرے گی
خوئے آزاد جس نے پائی ہےاس کے قبضے میں کل خدائی ہےان سے میں بھی یہ بات کہتا ہوںجن کی تقدیر میں برائی ہےاپنے ماضی پہ ڈال لو نظریںکس قدر کس نے کی بھلائی ہےبات آئی زباں پہ کہتا ہوںیہ تو بندوں ہی کی خدائی ہےروک کر گلا کر رہے ہیں بلیکقحط کی ہر طرف دہائی ہےکتنے ٹھیکے میں اب کی بار بچےکتنی رشوت کی دولت آئی ہےاپنے اپنوں کو پوچھتا ہے ہر اکاہل طاقت ہی کی بن آئی ہےگر منسٹر ہے آپ کا سالاتو کلکٹر بنا جمائی ہےہے جو انجینئر سفارش سےپھر تو ٹھیکے میں اس کا بھائی ہےخوف ہے کس کا راج ہے اپنااپنا ہی سارا آنہ پائی ہےروزی اور روزگار ہیں ان کےہم غریبوں کا حق گدائی ہےان کا ذریعہ ہے یہ کمانے کادیکھنے ہی کی پارسائی ہےکس سے جا کر کنولؔ کرے فریادہائے باپو تری دہائی ہےآج پھر سے اگست آیا ہےسب کے گھر میں خوشی ہی چھائی ہےسال آئندہ کے کمانے کوتم نے سکیم کیا بنائی ہے
اصنام امارت کا پرستار ہے عالمسرمایۂ غفلت کا خریدار ہے عالمکٹتی ہیں سدا صدق مقالوں کی زبانیںحق گو کے لئے عرصہ گہ دار ہے عالمدرویش خدا نان شبینہ کو ہے محتاجگو نعمت و اکرام کا بازار ہے عالمشاداب ہے دن رات غریبوں کے لہو سےارباب زر و سیم کا گلزار ہے عالمخود زاہد صد سالہ گرفتار ہے جس میںوہ حلقۂ تزویر و فسوں زار ہے عالمہر گام پہ ہے شعبدہ نفس کا پھندارقاصۂ اوہام کا دربار ہے عالمدل خضر کا ہے نغمۂ بے معنی پہ رقصاںتہذیب کے پازیب کا جھنکار ہے عالماس قحبۂ بازاری سے رکھو نہ توقعاحسان فراموش و زیاں کار ہے عالمسر رکھتا ہے آوارہ مزاجوں کے قدم پریہ حق میں وفاداروں کے تلوار ہے عالمشاعر کے نہیں سینہ میں گنجائش تکیہمانا کہ بہت دل کش و پرکار ہے عالماس عہد پر آشوب میں ببیاکؔ نہ پوچھوکس درجہ جفا کش و ستم گار ہے عالم
وہ امام الہند وہ مرد خدا رخصت ہواجنگ آزادی کا اپنی پیشوا رخصت ہوارہنماؤں کا ہمارے رہنما رخصت ہوادل پہ کرتی تھی اثر جس کی صدا رخصت ہوا
سیہ مستی کی دیتا ہوں صلا رندان مشرق کوخمستان عرب کے نشہ میں ہو کر میں چور آیا
مجھ سا تنہا نہیں دنیا میں خدایا کوئیمیں نہ اپنا ہوں کسی کا بھی نہ میرا کوئیکیا ملا مجھ کو چہل سالہ رفاقت کرکےاب کسی پر نہ کرے آہ بھروسا کوئیتابش ہجر نے دل کی یہ بنا دی صورتجیسے ہو دھوپ میں تپتا ہوا صحرا کوئیآتش شوق کی اٹھتی ہیں کچھ ایسی لہریںجس طرح آگ کا بھڑکا ہوا دریا کوئیایک وہ دن تھا کہ روتوں کو ہنسا دیتا تھااب تو روتا ہوں جو دیکھا کہیں ہنستا کوئیمیں ہوں نیرنگی عالم کی مجسم تصویرمجھ سے بہتر نہیں عبرت کا تماشا کوئیمیں وہ قطرہ ہوں سمندر سے جو محروم رہامجھ کو کیا موج میں آیا کرے دریا کوئیبے رخی آہ یہ کیسی ہے کہ اس عالم میںملے لاکھوں نہ ہوا ایک بھی اپنا کوئی
تجھ کو بتایا بھی تھا کہ محبتننھے بچوں کی ہنسی سے بہت مختلف ہے مگرتو نے ندی میں موجود مچھلیوں سےپانی کی عظمت کے قصے سنے اورمحبت کرنے کی ٹھان لیکاش تب تمہیں علم ہوتاالو کو آبادیوں سے نفرت کیوں ہوئیخدا نے ہمیں محبت کی دیوی سےبچانے کے لئے پرندوں کو خط دے کرہماری طرف بھیجا مگرانہیں ان تیر اندازوں نے مار ڈالا جو ابھیجنگ ہار کر اپنے گاؤں لوٹ رہے تھےندی کنارے بیٹھے دو پریمی اک دوسرے کوچومتے تو رہے مگر اک دوسرے کو بتا نہ سکےکہ محبت کس پرندے کا نام ہےزمین پر خدا کے مقرر کردہفرشتوں نے محبت کرنے کا سوچا تو انہیںسمندروں میں ضم کر دیا گیامحبت کہنے کو لفظ ہے مگرجسے تم نہ سمجھے وہ احساس تھاکئی صدیوں سے محبت کا سفر کرتامیں آج اسی جگہ ہوں جہاں سے چلا تھاکئی برس سے میرے گھر کے دروازےتیری دستک کے لیے ترس رہے ہیںاور ان کو بھی کسی کی یاد کی دیمکاندر سے کھائے جا رہی ہےمیری جاں ہجر میں انتظارکوئی آساں بات تو نہیںتیرے جانے کو آجپانچ برس مکمل ہونے کو ہیںمگر تیری چوڑیوں کی کھنک آج تکمیرے کانوں میں گونج رہی ہےتیری ہجرت کے بعد مجھے احساس ہواکہ بارش کی آواز میں بھی اک موسیقی ہےجسے سن کر لوگوں نے محبت کرنا سیکھامیں نے چاہا تھا کہ ہمارے درمیاں اک آخری ملاقات ہوتی جہاں ہملفظوں کی جگہ اک دوسرے کی خاموشی کو سمجھتےمگر اس ملاقات میں آٹھویں بر اعظم سے آئےکچھ انجان لوگ رکاوٹ بنےجو یونانی خداؤں کی ناجائز اولاد تھےتم نہیں جانتی تمہاری ہجرت کے بعدکتنے چراغوں نے زہر کے پیالے نوش کیےکتنے پرندوں نے گاؤں چھوڑ دیاکتنے پہاڑوں کو ندیوں نے اپنی آغوش میں لے لیاکتنی تتلیوں نے اپنے رنگ خدا کے کینوس کو تحفہ کر دئےتو کسی نے تیری آواز سننے کے لیےشہروں کے شور کو چھوڑ کرجنگلوں میں بسیرا کر لیاتیری ہجرت کے بعد میں نے خدا سےبغاوت کا سوچا تو خیال آیاکہ تو بھی اسی کی تخلیق ہےمیں نے ویران شاہراہوں پہ رینگتی خاموشی میںتیری ہجرت کا دکھ دیکھامیں نے بیس ہزار سال پرانے کھنڈرات کیدیوار پر تیرا نام لکھا ہوا پڑھا تو محسوس ہواتو تو گزشتہ صدیوں سے لوگوں کا ارماں رہامیں نے سو سالہ پرانے برگد کے پیڑ سےتیری محبت کے قصے سنے تو پتا چلاکہ خلا باز چاند پر زندگی کیتلاش میں کیوں ہیںمیں نے پرانے شاعروں کی نظموں میںتیری ہجرت کا دکھ محسوس کیامیں نے درگاہوں کے باہر بیٹھے فقیروں کے چہروں پرتیری ہجرت کا غم دیکھا ہےکتنے درخت تیری طلب کی منت کے دھاگوں سے بھر گئےاور زمیں نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیازلزلوں سے بوسیدہ گھروں کے ملبوں سےملنے والے خطوط میںمیں نے تیرے لیے محبت بھرے جملے دیکھےمیں نے یونانی خداؤں کی کتابوں میں تیرے قصے پڑھےتو محسوس ہوا تیری محبت کی داستاں میںمیرا کردار ایک ٹشو پیپر سے زیادہ نہ تھاچنانچہ میں نے اپنی بینائی الو کو تحفہ کیاپنی لاچار محبت کو وینٹیلیٹر پر چھوڑااور جنگل کا رخ کر لیا
میں اک محقق بھی رہا ہوںہفت سالہ دورۂ تحقیق کاحاصل یہی ہےسر بہ زانو دم بخود ہوںآخرش صادق ہدایتخودکشی سے چاہتا کیا تھا
ہر اک امنگ کی تتلی نے جیسے جوگ لیا ہےہر اک امید کے جگنو نے تن پہ راکھ ملی ہےہزار سالہ مسافت خیال و وہم و گماں کیاور اس کے بعد بھی پنہاں شعاع لم یزلی ہےجو آس تیرہ گپھاؤں میں جنگلوں میں تھی رہبروہ جگمگاتی ہوئی نگریوں میں روٹھ چلی ہےیہ مامتا ہے کہ شعلوں میں کوئی پھول کی پتیحیات ہے کہ ابھاگن یہ کوئی کوکھ جلی ہےیہ کائنات ہے کتنی عظیم کتنی کشادہمگر ہمارے تصور کے تنگنا میں ڈھلی ہےنہ جانے کب سے خیالوں میں اپنے محو کھڑی ہےوہ اک سکھی جو نزاکت میں موتیا کی کلی ہے
اک آواز ابھرتی آ رہی ہےدودھیا سی روشنی اکپردۂ بینائی سے ہو کر گزرتی گزرتی جا رہی ہےسلب ہوتی جا رہی ہےقوت انکار بھیاقرار بھیکچھ ہو رہا ہے یا کہوں کچھ ہےنہیں معلوم کیا ہے اور کیوں کچھ ہےاک انبوہ فراواںجوق اندر جوق سب افراداقرا کی طرف جاتے ہوئےاور میں ادھر غار حرا کیچہل سالہ خامشی میںمحو ہوتا جا رہا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books