aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sar-e-muu"
قمریاں میٹھے سروں کے ساز لے کر آ گئیںبلبلیں مل جل کے آزادی کے گن گانے لگیںگل سے اپنی نسبت دیرینہ کی کھا کر قسماہل دل کو عشق کے انداز سمجھانے لگیں
جی میں آتی ہے کہ کمرے میں بلا لیں اس کوچاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکارات اس کو بھی نگل جائے گی بولو بولوبام پر اور نہ آئے گا کسی کا چہرا
مجھے رانی کی شرطوں پر بڑا ہی پیار آیا ہےکھلاڑی تو نہیں رانی مگر رانی تو ہے آخرہما فتح و نصرت کااور اکثر کامرانی کااسی کے سر پہ جاتا ہےکہ جس کے پاس رانی ہے
پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنتا ہوا سائباںاونچے اونچے مناروں کے سر پہ رواںدیکھ پہنچا ہے آخر کہاں سے کہاںجھانکتا صورت خیل آوارگاںغرفہ غرفہ بہر کاخ و کو شہر میں
اپنا بھی وہ دوست تھا ہم بھی پاس اس کے بیٹھ آتے ہیںادھر ادھر کے قصے کہہ کے جی اس کا بہلاتے ہیںاکھڑی اکھڑی بات کرے ہے بھول کے اگلا یاراناکون ہو تم کس کام سے آئے؟ ہم نے نہ تم کا پہچاناجانے یہ کس نے چوٹ لگائی جانے یہ کس کو پیار کرےتمہی کہو ہم کس کو ڈھونڈیں آہیں کھینچے نام نہ لےپیت میں ایسے جان سے یارو کتنے لوگ گزرتے ہیںپیت میں ناحق مر نہیں جاتے پیت تو سارے کرتے ہیںاے متوالو ناقوں والو! نگری نگری جاتے ہوکہیں جو اس کی جان کا بیری مل جائے یہ بات کہوچاک گریباں اک دوانہ پھرتا ہے حیراں حیراںپتھر سے سر پھوڑ مرے گا دیوانے کو صبر کہاںتم چاہو تو بستی چھوڑے تم چاہو تو دشت بسائےاے متوالو ناقوں والو ورنہ اک دن یہ ہوگاتم لوگوں سے آتے جاتے پوچھیں گے انشاؔ کا پتا
ہم اہل وفا رنجور سہی، مجبور نہیںاور شہر وفا سے دشت جنوں کچھ دور نہیںہم خوش نہ سہی، پر تیرے سر کا وبال گیا
مری جاندشت سلوک میںمجھے جس مقام پہ چھوڑ کریہ سفال رابطہ توڑ کرذرا آگ لینے گئے تھے تممیں رکا ہوا ہوں اسی جگہسر مو بھی آگے بڑھا نہیںمری جانمجھ پہ یہ بار ہیںمرے آئنے کا غبار ہیںیہ تمہارے ریشمی تار ہیںیہ تمہاری سوزن سیم ہےیہ مری وہ سادہ گلیم ہےکوئی پھول جس پہ کڑھا نہیںمری جانتم سے نہیں گلہیہ نصیب کا ہے معاملہمرے وقت ہی میں لکھا نہ تھاکہ تمہارے خرکۂ خاص کاکوئی رنگ دل پہ چڑھا نہیں
کس رعونت سے وہ لیتا ہے غریبوں کا سلامایسا سکمار ہے کچھ اتنا ہے نازک اندامہاتھ اٹھانا تو کجا جنبش ابرو بھی نہیںپاس اخلاق و شرافت کا سر مو بھی نہیںکتنا فرعون ہے کیسا مغرور
من بھی سوناآنگن بھی سوناآنگن سوناسونا سب سنسار پڑاسونی اب یہ سیج پڑی ہےکب تو آ کر پریم براجےاندھیارے نینن میں چھائےدوارے دوارے ڈھونڈھ کے آئےپھر بھی تیرا ٹھور نہ جاناکٹھن بڑا ہے تجھ کو پانا
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
لب بیاباں، بوسے بے جاںکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟جسم کی یہ کار گاہیںجن کا ہیزم آپ بن جاتے ہیں ہم!نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ہمسائےکہ جیسے دزد شب گرداں کوئی!شام سے تھے حسرتوں کے بندۂ بے دام ہمپی رہے تھے جام پر ہر جام ہمیہ سمجھ کر جرعۂ پنہاں کوئیشاید آخر ابتدائے راز کا ایما بنے!مطلب آساں حرف بے معنیتبسم کے حسابی زاویےمتن کے سب حاشیےجن سے عیش خام کے نقش ریا بنتے رہے!اور آخر بعد جسموں میں سر مو بھی نہ تھاجب دلوں کے درمیاں حائل تھے سنگیں فاصلےقرب چشم و گوش سے ہم کون سی الجھن کو سلجھاتے رہے!کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟شام کو جب اپنی غم گاہوں سے دزدانہ نکل آتے ہیں ہم؟یا زوال عمر کا دیو سبک پا رو بہ رویا انا کے دست و پا کو وسعتوں کی آرزوکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟
سر پر نخوت ارباب زماں توڑوں گاشور نالہ سے در ارض و سماں توڑوں گاظلم پرور روش اہل جہاں توڑوں گاعشرت آباد امارت کا مکاں توڑوں گا
تمنا کے ژولیدہ تارستاروں سے اترے ہوئے راہگیرکہ ہے نور ہی نور جن کا خمیرتمنا سے واقف نہیں نہ ان پر عیاںتمنا کے تاروں کی ژولیدگی ہی کا رازتمنا ہمارے جہاں کی جہان فنا کی متاع عزیزمگر یہ ستاروں سے اترے ہوئے لوگسر رشتہ ناگزیر ابد میں اسیر
جس تصور سے چراغاں ہے سر جادۂ زیستاس تصور کی ہزیمت کا گنہ گار بنوں
ایک گوری سے بھی ملنا ہے سر ساحل عشقایک خاتون کو اردو بھی پڑھانا ہے مجھے
جہاں زاد میں آج تیری گلی میںیہاں رات کی سرد گوں تیرگی میںترے در کے آگے کھڑا ہوںسر و مو پریشاںدریچے سے وہ قاف کی سی طلسمی نگاہیںمجھے آج پھر جھانکتی ہیںزمانہ، جہاں زاد وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام و سبواور فانوس و گلداںکے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساںمیں انساں ہوں لیکنیہ نو سال جو غم کے قالب میں گزرے!حسن کوزہ گر آج اک تودۂ خاک ہے جسممیں نم کا اثر تک نہیں ہےجہاں زاد بازار میں صبح عطار یوسفکی دکان پر تیری آنکھیںپھر اک بار کچھ کہہ گئی ہیںان آنکھوں کی تابندہ شوخیسے اٹھی ہے پھر تودۂ خاک میں نم کی ہلکی سی لرزشیہی شاید اس خاک کو گل بنا دے!
حدیث بادہ و ساقی نہیں تو کس مصرفخرام ابر سر کوہسار کا موسم
اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزریتنہا پس زنداں کبھی رسوا سر بازارگرجے ہیں بہت شیخ سر گوشۂ منبرکڑکے ہیں بہت اہل حکم بر سر دربار
سر رہ گزر مری داستاں کا یہ پیڑ ابشب منجمد شب بے زباںسے لپٹ کے سوئے گا صبح تکیہ وہ پیڑ ہےجسے سینچتا تھا میں خون سےدل منحرف کی ادائے حیلۂ نور سےاسے پھینکتا تھا میں بوٹیاںکبھی جسم کی کبھی ذہن کیکبھی روح کیمری آرزو مری آبرومرے نخل حرف نوا کبھیتری ایک جنبش لب مجھےمجھے زندگی سے عزیز تھیمری داستاں کا یہ پیڑ ابشب منجمد شب بے زباںسے لپٹ کے سوئے گا صبح تکجوں ہی آفتاب نوید نوسر گوش موج صدائے گل میں ڈھلا کبھیمیں دل و جگر کی متاع شیشہ گداز کودر واژگوں سے کروں گا پھراسی داستاں پہ نثار جسکا میں نخل سایہ طراز ہوںمرے زخم دلتری محفلوں ترے ہمہموں ترے قہقہوںکا میں ساز ہوں ترا راز ہوں
میں نے عصمت کے صنم خانوں کو مسمار کیااپنی بہنوں کو سپرد سر بازار کیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books