aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shaam-e-aish"
آؤ گھر میں سبزی اگاؤپھر سب مل کر مزے سے کھاؤپہلے جھٹ پٹ کیاری کھودوپھر یہ ساری سبزی بو دوکدو کریلا اروی آلوبیگن ٹنڈا اور شفتالومولی گاجر شلجم توریلال ہری اور گوری گوریدھنیہ مرچیں لہسن ادرکہریالی ہے آنکھ کی ٹھنڈکادھر بھی کیاری کھودو رینااس میں بونا ہے پودیناجاؤ لوٹا لاؤ رانیکیاری کو دینا ہے پانیلوکی بوئی کھیرا بویامیتھی پالک بھنڈی سویادیکھو تو کیا خوب مزہ ہےسارا آنگن ہرا بھرا ہےاس سے صحت دولت برکتمہنگائی میں ہے یہ رحمتجب بھی شام یہ سبزی کھاؤپہلے محلے بٹواؤ
آؤ کھیلیں آنکھ مچولی آؤ کھیلیں آنکھ مچولیچھوڑیں گلی ڈنڈا گولی آؤ کھیلیں آنکھ مچولیآؤ کھیلیں آنکھ مچولیپہلے اکڑ بکڑ کر کے ہم اک چور بنائیںکھڑا ہو وہ دیوار سے لگ کر آنکھیں بند کرائیںپھر چھپ جائیں ادھر ادھر ہم دیکھ کے کونا کھولیآؤ کھیلیں آنکھ مچولیگنتی گن کر چور پکارے آ جاؤں میں آؤںادھر ادھر پھر تاکے جھانکے دبے دبے سے پاؤںاتنے ہی میں جھانسہ دے کر ہم نے راہ ٹٹولیآؤ کھیلیں آنکھ مچولیلپکے لپکے دوڑے بھاگے چور کے ہاتھ نہ آئےسب نے دھپا چھو دی بھیا اب کیا ہو پچھتائےچور بنو پھر شام دوبارہ ایک تو بازی ہو لیآؤ کھیلیں آنکھ مچولی
ٹکڑے ہوتا ہے جگر دہلی کے صدمے سن کے عیشؔاور دل پھٹتا ہے سن کر حال زار لکھنؤ
بجھا دولہو کے سمندر کے اس پارآئنہ خانوں میں اب جھلملاتے ہوئے قمقموں کو بجھا دوکہ دل جن سے روشن تھا اب ان چراغوں کی لو بجھ چکی ہےمٹا دومنقش در و بام کے جگمگاتےچمکتے ہوئے سب بتوں کو مٹا دوکہ اب لوح دل سے ہر اک نقش حرف غلط کی طرح مٹ چکا ہےاٹھا دولہو کے جزیرے میںبپھری ہوئی موت کے زرد پنجوں سے پردہ اٹھا دوکہ اب اس جزیرے میںلاشوں کے انبار بکھرے پڑے ہیںفضا میں ہر اک سمتجلتے ہوئے خون کی بو رچی ہےوہ آنکھیں جو اپنے بدن کی طرح صاف شفاف تھیںاب ان درختوں پہ بیٹھے ہوئے چیل کوؤں گدھوں کی غذا بن چکی ہیںیہ سولہ دسمبر کی بجھتی ہوئی شام ہےاور میںاس لہو کے جزیرے میں جلتا ہوا آخری آدمی ہوں
مجھے تیرے تصور سے خوشی محسوس ہوتی ہےدل مردہ میں بھی کچھ زندگی محسوس ہوتی ہےیہ تاروں کی چمک میں ہے نہ پھولوں ہی کی خوشبو میںتری تصویر میں جو دل کشی محسوس ہوتی ہےتجھے میں آج تک مصروف درس و وعظ پاتا ہوںتری ہستی مکمل آگہی محسوس ہوتی ہےیہ کیا ممکن نہیں تو آ کے خود اب اس کا درماں کرفضائے دہر میں کچھ برہمی محسوس ہوتی ہےاجالا سا اجالا ہے تری شمع ہدایت کاشب تیرہ میں بھی اک روشنی محسوس ہوتی ہےمیں آؤں بھی تو کیا منہ لے کے آؤں سامنے تیرےخود اپنے آپ سے شرمندگی محسوس ہوتی ہےتخیل میں ترے نزدیک جب میں خود کو پاتا ہوںمجھے اس وقت اک طرفہ خوشی محسوس ہوتی ہےتو ہی جانے کہاں لے آئی مجھ کو آرزو تیرییہ منزل اب سراپا بے خودی محسوس ہوتی ہےکنولؔ جس وقت کھو جاتا ہوں میں اس کے تصور میںمجھے تو زندگی ہی زندگی محسوس ہوتی ہے
پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنتا ہوا سائباںاونچے اونچے مناروں کے سر پہ رواںدیکھ پہنچا ہے آخر کہاں سے کہاںجھانکتا صورت خیل آوارگاںغرفہ غرفہ بہر کاخ و کو شہر میں
رات کے پر کیف سناٹے میں بنسی کی صداچاندنی کے سیم گوں شانے پہ لہراتی ہوئیگونجتی بڑھتی لرزتی کوہساروں کے قریبپھیلتی میداں میں پگڈنڈی پہ بل کھاتی ہوئیآ رہی ہے اس طرح جیسے کسی کی یاد آئےنیند میں ڈوبی ہوئی پلکوں کو اکساتی ہوئی
لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تماور جو دل میں آئے سو کہیو!یوں ہی ماحول کی گرانی ہے''دن خزاں کے ذرا اداس سے ہیں'کتنے بوجھل ہیں شام کے سائےان کی بابت خموش ہی رہیونام ان کا نہ درمیاں آئےنام ان کا نہ درمیاں آئےان کی بابت خموش ہی رہیو'کتنے بوجھل ہیں شام کے سائے''دن خزاں کے ذرا اداس سے ہیں''یونہی ماحول کی گرانی ہے'اور جو دل میں آئے سو کہیو!
کس سے اس درد جدائی کی شکایت کہیےیاں تو سینے میں نیستاں کا نیستاں ہوگاکس سے اس دل کے اجڑنے کی حکایت کہیےسننے والا بھی جو حیراں نہیں، حیراں ہوگاایسی باتوں سے نہ کچھ بات بنے گی اپنیسونی آنکھوں میں نراشا کا گھلے گا کاجلخالی سپنوں سے نہ اوقات بنے گی اپنییہ شب ماہ بھی کٹ جائے گی بے کل بے کل
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبیقرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہے
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیجاں گداز تنہائیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبے قرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہےصد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھاآج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہئےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لئے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتی ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پنہائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآرزو کی گیرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
دل پیت کی آگ میں جلتا ہے ہاں جلتا ہے اسے جلنے دواس آگ سے تم تو دور رہو ٹھنڈی نہ کرو پنکھا نہ جھلوہر محفل میں ہم دونوں کی کیا کیا نہیں باتیں ہوتی ہیںان باتوں کا مفہوم ہے کیا تم کیا سمجھو تم کیا جانودل چل کے لبوں تک آ نہ سکا لب کھل نہ سکے غم جا نہ سکااپنا تو بس اتنا قصہ تھا تم اپنی سناؤ اپنی کہووہ شام کہاں وہ رات کہاں وہ وقت کہاں وہ بات کہاںجب مرتے تھے مرنے نہ دیا اب جیتے ہیں اب جینے دو
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
ملبوس پہ کرنوں کی تمازتہے دام نظر کااور صبح شب عیش کو گیسو کا مہکتا ہوا جھونکامرہون سحر کاہوتا ہی نہیں ہے
مری نوائے پریشاں درون گنبد عیشبھٹک رہی ہے کسی دل کی آرزو بن کرکبھی یہ بربط و چنگ و رباب کی صورتمچل رہی ہے خنک انگلیوں کی جنبش میںکبھی جراحت پیکاں سے مضطرب ہو کرتمام تیروں کو ترکش سے کھینچ لاتی ہےکبھی گمان کی صورت کبھی یقیں کی طرحسمائی جاتی ہے شفاف آبگینوں میںسلگ رہی ہے جو شمع مشام جاں بن کرطراز گل کی جواں مشک بیز راتوں میںیہ چاندنی کی قبا اوڑھ کر بھٹکتی ہوئیسلگتے تاروں کی مے گوں صراحیاں لے کریہ شبنمی سی فضا اوس کھائے غنچہ و گلیہ پھوٹتی ہوئی کرنیں یہ دھوپ یہ کہساریہ بڑھتے گھٹتے سے سائے یہ ہاتھ اٹھائے ہوئےدعائیں مانگتے پیکر ہیں یا کہ ہیں اشجارمری نوائے پریشاں سے مضطرب کیوں ہیں
اے شب تار کے نگہبانوشمع عہد زیاں کے پروانو
محفل عیش نہ سامان طرب مانگا ہےچاندنی رات نہ گھنگھور گھٹا مانگی ہے
فردوس حسن و عشق ہے دامان لکھنؤآنکھوں میں بس رہے ہیں غزالان لکھنؤ
شراب عیش پلاتا تھا چرخ مینائیقبول کرتے تھے اس در پہ سب جبیں سائی
عید کا دن اک پیام عیش کی تمہید ہےجس کو ہو دیدار اے شاہدؔ اسی کی عید ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books