aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shuja"
ایک تہذیب مشترک کا امیںفکر و فن کی لطافتوں کا شعور
اک صدی بعد کھلا ہم پہ تفکر تیراآنکھ پیچیدہ خیالوں کی تہوں تک پہنچی
شجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراک
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
ابلیسیہ عناصر کا پرانا کھیل یہ دنیائے دوں
خواب و تعبیر کے گم شدہ سلسلےبار بار اب ستانے لگے ہیں تمہیں
تلوار کا دھنی تھا شجاعت میں فرد تھاپاکیزگی میں جوش محبت میں فرد تھا
تو دمکتے ہوئے عارض کی شعاعیں لے کرگل شدہ شمعیں جلانے کو چلی آئی ہے
ابليسيہ عناصر کا پرانا کھيل، يہ دنيائے دوں
اداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امید
سامنا صبر و شجاعت سے کروں گا میں بھیکھنچ کے مجھ تک جو کبھی تیغ جفا آئے گی
مری تاریکیوں میںگمشدہ صدیوں کے گرد آلود نا آسودہ خوابوں کے
شعاع مہر نے یوں ان کو چوم چوم لیاندی کے بیچ کمدنی کے پھول کھل اٹھے
(1)سورج نے ديا اپني شعاعوں کو يہ پيغام
دل کے ایواں میں لیے گل شدہ شمعوں کی قطارنور خورشید سے سہمے ہوئے اکتائے ہوئے
تجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیا
شعاع مہر کی ضیا سے تھے جگر جگر بدنقمر جمال جن کے عکس روشنی کے باب تھے
اے شعاع ارض مشرق تیری عفت کا شعارکج کرے گا ملک و ملت کی کلاہ افتخار
پھر اپنے فردوس گم شدہ کی تلاش میں رہ سپار ہوں میںہوا ہوں بے دار کانپ کر اک مہیب خوابوں کے سلسلے سے
چاندنی ظلمت سیال میں ڈھل جائے گیرات کی مانگ سنوارے گی شعاع امید
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books