aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "subha-e-sad"
مسلم سے تنفر اور کفار سے یارانہآخر یہ قلا بازی کیوں کھا گئے مولانالکشمی کی محبت نے دل موہ لیا اتنامنہ موڑ کے کعبے سے پہنچے سوئے بت خانہاسلام تعجب سے انگشت بدنداں ہےمرگھٹ میں جلے شمع توحید کا پروانہتھالی میں سیاست کی بینگن کی طرح لنڈھکےاور اس کو سمجھتے ہیں اک چال حریفانہپبلک کے پھنسانے کو سب جال کے پھندے تھےیہ دیش یہ عمامہ اور سبحۂ صد دانہ
صد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھا
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیجاں گداز تنہائیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبے قرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہےصد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھاآج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہئےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لئے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتی ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پنہائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآرزو کی گیرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
دل کی نہ پوچھو کیا کچھ چاہے دل کا تو پھیلا ہے دامنگیت سے گال غزل سی آنکھیں ساعد سیمیں برگ دہنجوڑے کے انہیں پھولوں کو دیکھو کل کی سی ان میں باس کہاںایک اک تارا کر کے ڈوبی ماتھے کی طناز افشاںسہنے کا دکھ سہ نہ سکے ہم کہنے کی باتیں کہہ نہ سکےپاس ترے کبھی آ نہ سکے ہم دور بھی تجھ سے رہ نہ سکےکس سے کہے اب روح کی بپتا کس کو سنائے من کی باتدور کی راہ بھٹکتا راہی جیون رات گھنیری راتہونٹوں کی پیاس بجھانی ہے اب ترے جی کو یہ بات لگے نہ لگےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے؟ تیرے لیے نہیں اپنے لیے
کیفیؔ و منورؔ سے کئی اہل زباں کاخمخانۂ سر مستئ اشعار ہے دلی
ورنہ غالبؔ کی زباں میں مرے ہمدم مرے دوستدام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
خون دل میں ہے نہاں شعلۂ صد رنگ بہاراس گلستاں میں ہیں اس راز کے محرم کتنے
یا غرور صبح صد امید ہےیا غم شام بتاں ہے زندگی
اے وطن پاک وطن روح روان احراراے کہ ذروں میں ترے بوئے چمن رنگ بہاراے کہ خوابیدہ تری خاک میں شاہانہ وقاراے کہ ہر خار ترا رو کش صد روئے نگارریزے الماس کے تیرے خس و خاشاک میں ہیںہڈیاں اپنے بزرگوں کی تری خاک میں ہیں
پو پھٹی صبح نو نکھر آئی
یہ زباں کے ساتھ ہے تہذیب بھیقابل صد ناز ہے اردو زباں
تھا خس و خاشاک دہلی غیرت صد لالہ زاررشک صد گلزار تھا ایک ایک خار لکھنؤ
کچھ امامان صد مکر و فنان کی سانسوں میں افعی کی پھنکار تھیان کے سینے میں نفرت کا کالا دھواںاک کمیں گاہ سےپھینک کر اپنی نوک زباںخون نور سحر پی گئے
چلے بہ جیب دریدہ، بہ دامن صد چاککہ جیسے جنس دل و جاں گنوا کے آئے ہیںتمام نقد سیادت لٹا کے آئے ہیں
نہ نعرہ انقلاب نو کا نہ غیبی ندا یاروفقط ہوں اک دل صد چاک سے نکلی صدا یارو
جم گئی ہیں اشعۂ صد آفتابگردنوں کے پیچ و خم میں گھل گیا ہے ماہتاب
یہ شب و روز جوانی یہ مہ و سال رواںروح کیوں جسم کے آگے سپر انداختہ ہے
سچ بتا تو بھی ہے کیا اے کشتۂ صد حرص و آزراز دان کاکل شب رنگ و چشم نیم باز
وفا بھی جس پہ ہے نازاں وہ بے وفا تم ہوجو کھو گئی ہے مرے دل کی وہ صدا تم ہوبہت قریب ہو تم پھر بھی مجھ سے کتنی دورحجاب جسم ابھی ہے حجاب روح ابھیابھی تو منزل صد مہر و ماہ باقی ہےحجاب فاصلہ ہائے نگاہ باقی ہےوصال یار ابھی تک ہے آرزو کا فریب
دل صد چاک کو اب تیری ضرورت ہی نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books