aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sunaa.e.n"
آؤ کہ مرگ سوز محبت منائیں ہمآؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہمخوش ہوں فراق قامت و رخسار یار سےسرو و گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہمویرانی حیات کو ویران تر کریںلے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہمپھر اوٹ لے کے دامن ابر بہار کیدل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہمسلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوالواں جائیں یا نہ جائیں نہ جائیں کہ جائیں ہمپھر دل کو پاس ضبط کی تلقین کر چکیںاور امتحان ضبط سے پھر جی چرائیں ہمآؤ کہ آج ختم ہوئی داستان عشقاب ختم عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
چلو ہم عید منائیں کہ جشن کا دن ہےخوشی کے گیت سنائیں کہ جشن کا دن ہےرخوں پہ پھول کھلائیں کہ جشن کا دن ہےدلوں میں پریت جگائیں کہ جشن کا دن ہے
آؤ بچو تم کو بتائیںآنکھوں دیکھا حال سنائیںہم نے اس دنیا میں رہ کرکیسا کیسا دیکھا منظرگرمی دیکھی سردی دیکھیتیزی دیکھی نرمی دیکھیبادل دیکھا پانی دیکھادریا کی طغیانی دیکھاکیلا دیکھا آم بھی دیکھاپستہ اور بادام بھی دیکھارنگ برنگے پھول بھی دیکھےہرے گلابی نیلے پیلےعمر کی صبح شام بھی دیکھاتکلیف و آرام بھی دیکھامزدوروں کی محنت دیکھیان کی قدر و قیمت دیکھیبے کاروں کا رونا دیکھاوقت کو اپنے کھونا دیکھااور نہ پوچھو کیا کیا دیکھاچلتا پھرتا پیسہ دیکھاپیسہ ہے اک ایسی طاقتجس میں ہے دنیا کی عظمتجاہل کو بھی عاقل کو بھیناقص کو بھی کامل کو بھیپیسے کا دم بھرتے دیکھاجھوٹ کو بھی سچ کرتے دیکھالیکن دولت سے بھی بڑھ کرہم نے دیکھا ہے وہ گوہرپیسے پر بھی راج ہے جس کاپیسہ بھی محتاج ہے جس کاجس کی ہے دنیا بھی سائلجس کا ہے پیسہ بھی قائلجس نے سب کو شاد کیا ہےپیسے کو ایجاد کیا ہےجس کی بدولت آگے بڑھ کرآدمی پہنچا چاند کے اوپراس گوہر کا نام ہے پیارااس کا سارا کام ہے پیاراعلم اسے کہتے ہیں جہاں میںعظمت جس کی کون و مکاں میںعلم ہے دنیا کی سچائیدور ہوئی ہے اس سے برائی
کل بازار میں بھیا شافیپینے آئے ٹھنڈی کافیاک دو پیکٹ بسکٹ کھائےٹھونس گئے دو درجن ٹافیآلو چھولے کھا کر بولےبرفی ایک کلو ہے کافیامی جی کی بات نہ مانیابو سے کی وعدہ خلافیایسا کھٹکا پیٹ کا مٹکااللہ معافی اللہ معافیگڈو کا بھی حال سنائیںدودھ پئیں نہ انڈے کھائیںپھل ترکاری ایک نہ بھائےغصے میں بس ہونٹ چبائیںدیکھ کے دسترخوان پہ مچھلیپاؤں پٹختے بھاگے جائیںچاول روٹی گوشت کی بوٹیدیکھیں تو نخرے دکھلائیںدن کا ہو یا رات کا کھاناروئیں پیٹیں شور مچائیںدبلے پتلے روکھے سوکھےبات کرو تو لڑنے آئیںاتنے ہلکے پھلکے سے ہیںفین چلے تو اڑ ہی جائیں
سنائیں یا نہ سنائیں حکایت شب غمکہ حرف حرف صحیفہ ہے، اشک اشک قلمکن آنسوؤں سے بتائیں کہ حال کیسا ہےبس اس قدر ہے کہ جیسے ہیں سرفراز ہیں ہمستیزہ کار رہے ہیں جہاں بھی الجھے ہیںشعار راہ زناں سے مسافروں کے قدم
سنائیں تمہیں بات اک رات کیالیکشن کے دن کی سیہ رات تھی
ہو کے سرشار بہت عشق سے گائیں ہولیاک نئے رنگ سے اپنوں کو سنائیں ہولیلے کے آئی ہے عجب مست ادائیں ہولیملک میں آج نئے رخ سے دکھائیں ہولیآج ہر شخص کو دیتی ہے صدائیں ہولیدوستو آؤ چلو ایسی منائیں ہولی
آج ہم سب شاد ہیں اپنا وطن آزاد ہےہم ہیں بلبل جس چمن کے وہ چمن آزاد ہےآج آزادی کا دن ہے آؤ ہم خوشیاں منائیںناچ آزادی کا ناچیں گیت آزادی کے گائیںتھی گھٹا چھائی ہوئی اندھیر کی وہ چھٹ گئیتیغ آزادی سے زنجیر غلامی کٹ گئیآج وہ دن ہے ہوئی تھی دیش کی جنتا کی جیتآج ہی کے دن چلی تھی اس میں آزادی کی ریتآج وہ دن ہے ترانے عیش کے عشرت کے گائیںآج وہ دن ہے کہ تانیں مل کے خوشیوں کی اڑائیںقوم جو آزاد ہے دنیا میں عزت اس کی ہےآن اس کی شان اس کی اور عظمت اس کی ہےدیش کے بچے بھی خوش ہیں کیوں نہ ہو ان کی خوشیکھل گئی ہے پھول بن کر آج ہر دل کی کلیدل لگی ہے چہل ہے اور ہر طرف ہیں قہقہےہیں یہ بلبل اس چمن کے کر رہے ہیں چہچہےدل میں جذبہ ہے جواں ہو کر سبھی آگے بڑھیںعزم ہے یہ جان و دل سے دیس کی خدمت کریںامن و آزادی کا ہم پیغام دنیا کو سنائیںدیس کی اپنے بڑائی اپنے کاموں سے دکھائیںفرض اپنا ہم کریں دل سے ادا اور جان سےہو وفاداری ہماری اپنے ہندوستان سےایک اک بچہ گئی ہو علم کا چرچا بڑھےایک اک بچہ دھنی ہو دیس کی سیوا کرےایک اک بچہ رہے بڑھ چڑھ کے گن اور گیان میںاک سے اک بڑھ کر دکھائے آپ کو وگیان میںآؤ نیرؔ دیس کے بچوں کی جھرمٹ میں تم آؤآؤ آؤ نظم آزادی کی بچوں کو سناؤآؤ سب نعرہ لگائیں زندہ باد ہندوستانآؤ ہم سب مل کے گائیں زندہ باد ہندوستانزندہ باد ہندوستانزندہ باد
چل اے نسیم صحرا روح و روان صحرامیرا پیام لے جا سوئے بتان صحراصحرائی مہوشوں کی خدمت میں جا کے کہنابھولے نہیں تمہیں ہم اے دختران صحراگر بس چلے تو آئیں اور درد دل سنائیںتم کو گلے لگائیں ہم پھر میان صحراتم نجد میں پریشاں شہروں میں ہم ہیں حیراںاللہ کی اماں ہو تم پر بتان صحراتم اس طرح غموں سے بے حال ہو رہی ہوہم اس طرف ہیں مضطر دامن کشان صحراہم پاس آئیں کیوں کر تم کو بلائیں کیوں کریہ دکھ مٹائیں کیوں کر واماندگان صحرابیتاب ہیں الم سے بے خواب رنج و غم سےکیا پوچھتی ہو ہم سے اے دلبران صحراتم یاد کر رہی ہو بیداد کر رہی ہوبرباد کر رہی ہو اے گلرخان صحرایہ کیا کہا کہ تم ہو رنگینیوں کے خوگرغمگیں ہیں تم سے بڑھ کر اے غمکشان صحرایہ رات یہ گھٹائیں یہ شور یہ ہوائیںبچھڑے ہوئے ملیں گے کیوں کر میان صحراشہروں کی زندگی سے ہم تنگ آ چکے ہیںصحرا میں پھر بلا لو اے ساکنان صحرایاد سموم ہو یا سرسر کے تند طوفاںڈرتے نہیں کسی سے دلدادگان صحراآبادیوں میں حاصل آزادیاں نہیں ہیںآ جاؤ تم ہی اڑ کر او طائران صحراصحرا کی وسعتوں میں ہم کو نہ بھول جانااو دختران صحرا او آہوان صحرااے ابر چپ نہ رہنا میرا فسانہ کہنامل جائے گر کہیں وہ سرو روان صحرادشتی کی دھن میں ساقی اک نغمۂ عراقیہاں پھر سنا بیاد گل چہرگان صحراآنکھوں میں بس رہا ہے نقش بتان صحرااو داستاں سرا چھیڑ اک داستان صحرامستانہ جا رہا ہے پھر کاروان صحراہاں جھوم کر حدی خواں اک داستان صحرادیہات کی فضائیں آنکھوں میں پھر رہی ہیںدل میں سما رہی ہے یاد بتان صحرانظروں پہ چھا رہا ہے وہ چاندنی کا منظرصحرا میں کھیلتی تھیں جب حوریان صحراوہ چاندنی کا موسم وہ بے خودی کا عالموہ نور کا سمندر ریگ روان صحراجلوے مہ جواں کے وہ رنگ کارواں کےوہ نغمے سارباں کے رقصاں میان صحراکیوں کر نہ یاد آئیں وہ سیم گوں فضائیںوہ آسمان صحرا ماہ روان صحراوہ کم سنوں کے گانے وہ کھیل وہ ترانےبے فکری کے فسانے ورد زبان صحراکھیتوں میں گھومتے تھے ہر گل کو چومتے تھےمستی میں جھومتے تھے جب میکشان صحراوہ گاؤں وہ فضائیں وہ فصل وہ ہوائیںوہ کھیت وہ گھٹائیں وہ آسمان صحراپھر یاد آ رہی ہیں پھر دل دکھا رہی ہیںمجنوں بنا رہی ہیں لیلیٰ وشان صحراراتوں کو چھپ کے آنا اور شانے کو ہلاناہے یاد وہ جگانا ہم کو میان صحراوہ ان کی شوخ آنکھیں وہ ان کی سادہ نظریںبے خود بنا رہی ہیں دوشیزگان صحراوہ عشق پیشہ ہوں میں جس کے جوان نغمےگاتا ہے چاندنی میں ہر نوجوان صحرااک بدویت کا عاشق صحرائیت سے بے خوداخترؔ بھی اپنی دھن میں ہے اک جوان صحرا
بستی میں اک کنارےدو پیڑ تھے بے چارےکہتے تھے اپنا دکھڑاکس کو سنائیں پیارےانساں نے ہم سے بدلےکس بات کے اتارےہم تو انہیں دکھائیںدل کش حسیں نظارےخود پاس کچھ نہ رکھیںپھل ان کو دے دیں سارےان کے مویشیوں کودیں ہم ہی سبز چارےبارش ہو ہم جو چھوڑیںکچھ بھاپ کے غبارےہو دھوپ چلچلاتیتب ہم بنیں سہارےگرمی میں ہم چلائیںٹھنڈی ہوا کے دھارےگندی ہوا کو چھانیںشاخوں کو ہم پسارےلیکن صلہ یہ پایاان خدمتوں کا پیارےمارے کوئی کلہاڑیکوئی چلائے آرےبچوں کا غول آیاجب بھی تلے ہمارےشاخیں کسی نے توڑیںپتھر کسی نے مارےچاقو سے نام کھوداچھلکے بھی چھیل اتارےہم تو یہاں پہ اگ کرمارے گئے ہیں مارےجنگل میں ہم جو اگتےہوتے مزے ہمارےدن شہری زندگی کےکس دکھ سے ہیں گزارے
نہ تھے شاعر ہی کچھ بڑے غالبدل لگی میں بھی خوب تھے غالبخوب ہنستے ہنساتے رہتے تھےبڑی پر لطف بات کہتے تھےعام ان کو پسند تھے بے حدیعنی رسیا تھے آم کے بے حدخود بھی بازار سے منگاتے تھےدوست بھی آم ان کو بھجواتےپھر بھی آموں سے جی نہ بھرتا تھاآم کا شوق ان کو اتنا تھاان کے قصے تمہیں سنائیں ہمان کی باتوں سے کچھ ہنسائیں ہمایک محفل میں وہ بھی بیٹھے تھےلوگ آموں کا ذکر کرتے تھےآم ایسا ہو آم ویسا ہوپوچھا غالب سے عام کیسا ہوبولے غالب کہ پوچھتے ہو اگرصرف دو خوبیوں پہ رکھیے نظربات پہلی یہ ہے کہ میٹھا ہودوسری بات یہ بہت سا ہوایک دن دوست ان کے گھر آئےآم غالب نے تھے بہت کھائےسامنے گھر کے تھے پڑے چھلکےاس گلی میں سے کچھ گدھے گزرےان گدھوں نے نہ چھلکے وہ کھائےسونگھ کر ان کو بڑھ گئے آگےدوست نے جب یہ ماجرا دیکھاسوچا غالب کو اب ہے سمجھانادوست بولے ہے شے بری سی آمدیکھو کھاتے نہیں گدھے بھی آمہنس کے غالب یہ دوست سے بولےجی ہاں بے شک گدھے نہیں کھاتےبادشہ کر رہے تھے سیر باغخوش تھا آموں سے ان کا قلب و دماغبادشہ کے تھے ساتھ غالب بھیڈالتے تھے نظر وہ للچائیجی میں یہ تھا کہ خوب کھائیں آمبادشہ سے جو آج پائیں عامگھورتے تھے جو غالب آموں کوبادشہ بولے گھورتے کیا ہوبادشہ سے یہ بولے وہ ہنس کرمہر ہوتی ہے دانے دانے پردیکھتا ہوں یوں گھور کر میں آمشاید ان پر لکھا ہو میرا ناممقصد ان کا جو بادشہ پائےپھر بہت آم ان کو بھجوائے
دیوالی کے دیپ جلائیں آ جاؤروشن روشن گیت سنائیں آ جاؤگوشے گوشے میں تزئین و زیبائیصاف کریں ہر دل کی میلی انگنائیفطرت نے بھی مستی میں لی انگڑائیخوشیوں کا سنگیت سنائیں آ جاؤدیوالی کے دیپ جلائیں آ جاؤروشن روشن گیت سنائیں آ جاؤآشاؤں کی منزل پر سب کامن ہونفرت جائے پیار کی جیوتی روشن ہوپریم نگر میں چاہے داؤ پہ جیون ہوبھید بھاؤ پہ تیر چلائیں آ جاؤدیوالی کے دیپ جلائیں آ جاؤروشن روشن گیت سنائیں آ جاؤروشنیوں کے جال بھی کتنے سندر ہیںدیپک مالائیں گھر گھر کا زیور ہیںپھلجھڑیوں جیسے چہروں پر تیور ہیںہر ظلمت کو آج مٹائیں آ جاؤدیوالی کے دیپ جلائیں آ جاؤروشن روشن گیت سنائیں آ جاؤہار چکے ہر بازی اب راون والےلکشمی کی پوجا کرتے ہیں دھن والےاپنی دنیا ہم بے چارے من والےآتش بازی چمکائیں آ جاؤدیوالی کے دیپ جلائیں آ جاؤروشن روشن گیت سنائیں آ جاؤسب کے لیے خوشحالی کا یہ سال رہےہر انساں کی قسمت میں زر مال رہےنہ کوئی اب اس دھرتی پر کنگال رہےہر قسمت پر نور بنائیں آ جاؤدیوالی کے دیپ جلائیں آ جاؤروشن روشن گیت سنائیں آ جاؤ
آؤ سنیں کہانی کوئی نئی پرانینانی سنائیں یا پھر دادی کی ہو زبانیاک راکشس بھی آئے ہو خوب کھینچا تانیایسی لڑائی ہو کہ آ جائے یاد نانیپھر خاتمہ میں آ کر دشمن کا ہار جانالکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا
جھلک تو دیکھو ہمارے گھر کی یہاں ہیں نانی یہاں ہیں تائیہمارے ماں باپ اور چچا ہیں یہاں ہیں بہنیں یہاں ہیں بھائیہمارا گھر ہے حسین گلشن خوشی کی کلیاں کھلی ہوئی ہیںوفا کی خوشبو بسی ہوئی ہے ہوئی نہ ہوگی یہاں لڑائیہمارے ابو کی دیکھو عظمت ہر ایک کرتا ہے ان کی عزتنظر میں ان کی ہیں سب برابر انہیں سے ملتی ہے رہنمائیکما رہے ہیں حلال روزی بنا دیا ہے ہمیں نمازیانہیں سے گھر میں ہے خیروبرکت کسی کی کرتے نہیں برائیہماری امی ہیں نیک سیرت ہمیں ملی ہے انہیں سے راحتسدا کچن میں ہے کام ان کا پکا رہی ہیں چکن فرائیلبوں پہ ان کے سدا تبسم زبان ان کی ہے خوب شیریںنہیں ہے کاموں سے ان کو فرصت کبھی صفائی کبھی سلائیہمیں ہے ان سے دلی محبت انہیں کے قدموں تلے ہے جنتبڑی محبت سے پرورش کی ہے ان کی فطرت میں پارسائیعجیب شے ہیں چچا ہمارے نہیں کسی کی سمجھ میں آئےلیے ہیں پیالے میں مرغ چھولے اسی میں ڈالی ہے رس ملائیجو موڈ ہو تو سنائیں نامہ ٹھمک ٹھمک کر بجائیں طبلہگئے وہ اک روز چھت کے اوپر وہاں چچا نے پتنگ اڑائیمدد وہ امی کی کر رہے ہیں توے پہ چمچہ چلا رہے ہیںسویرے اٹھ کر چچا ہمارے گلی کی کرتے ہیں خود صفائیوہ سیر کرنے گئے ہیں باہر پہن کے بنیان اور لنگوٹیبڑی سی پگڑی ہے سر کے اوپر لٹک رہی ہے گلے سے ٹائیبڑی ہیں سب سے ہماری نانی سناتی ہیں وہ ہمیں کہانیزباں پہ ذکر خدا ہے جاری ٹھکانا ان کا ہے چارپائیڈکارتی ہیں ہماری تائی ہمیشہ پیتی ہیں وہ دوائیبڑا سا تکیہ ہے سر کے نیچے بدن کے اوپر ہے اک رضائیبڑی بہن کا ہے نام رضیہ وہ ناولوں کی بہت ہے رسیاکشیدہ کاری میں ہے مہارت مزے سے کھاتی ہے وہ مٹھائیبہن ثریا نے لایا گڈا بہن رقیہ نے لائی گڑیاسہیلیوں کو بلا کے شادی خوشی سے دالان میں رچائیہمارا انور ہے دس برس کا مصوری سے اسے ہے رغبتبنا کے تصویر جب دکھائی تو بھائی بہنوں سے داد پائیہے سب سے چھوٹا میاں منور مگر ہے تعلیم سے محبتدوات لے کر وہ لکھ رہا تھا گرا دی کپڑوں پہ روشنائیذرا سا اپنا بھی حال کہہ دوں میں ایک کالج میں پڑھ رہا ہوںکتاب سے میری دوستی ہے کبھی نہ چھوڑوں گا میں پڑھائی
آؤ بچو گیت سنائیںگیت سنائیں خوب ہنسائیںاک بڑھیا نے چڑیا پالیننھی منی بھولی بھالیبڑھیا بیٹھی کھیر پکاتیچڑیا اس کو گیت سناتیاک دن بڑھیا بھوکی آئیجلدی جلدی کھیر پکائیمنہ دھو کر وہ کھانے بیٹھیچڑیا گیت سنانے بیٹھیبڑھیا نے سب کچھ کھا ڈالاچڑیا کو بھوکا ہی ٹالاچڑیا جب پنجرے میں آئیبھوک سے اس کو نیند نہ آئیچوں چوں چوں چوں کر کے روئیساری رات اسی میں کھوئیصبح ہوئی اور مرغا بولابڑھیا نے جب پنجرا کھولاپیار سے جب اس نے چمکاراچڑیا نے چونچوں سے مارابڑھیا بھاگی گھر میں آئیمٹھی بھر کر دانا لائیجب بڑھیا نے دانا کھلایاتب چڑیا نے گیت سنایا
سرد کہرے بھری رات میںآؤرات بھر تاپیں الاؤرات بھر سنائیںہم اپنی داستانجس کی عبارت تم نے لکھی تھیالاؤ کی گرمی میںپگھلے گا میرا غمآہستہ آہستہبس تم سے التجا ہےکہ اٹھنا متبھر لینا مجھے اپنی بانہوں میںتاکہ میں اتنا رو سکوںکہ بھیگ جائے تمہارا دامناور تمہاری خاموش آنکھوں سےگر پڑےدو بوند آنسوالاؤ کی آنچ پر
فرض ماما کا کہانی بھی سنائیںخود بھی جاگیں دوسروں کو بھی جگائیں
ہوتا ہوں جب میں تنہا یہ سوچتا ہوں اکثرآبادیاں ہیں اچھی یا جنگلوں کے منظرشاعر ہوں میں مرا ہو مسکن الگ جہاں سےشہروں کے شور و غل سے تاریک آسماں سےسائے میں پیڑ کے میں بستر لگاؤں اپناٹھنڈی ہوا ہو آتی بہتا ہو صاف دریارنگینیاں شفق کی دل کو مرے لبھائیںشمس و قمر جہاں کے قصے نئے سنائیںقدرت کا ہم زباں ہوں اور اس کے بھید پاؤںگہرائیوں میں اس کی گویا اتر میں جاؤں2پر عقل کا ہے کہنا یہ سب غلط ہے ناداںگونگی ہے تیری قدرت منظر ہیں اس کے بے جاںبیکار ہے اگر تو دشت و جبل بسائےبے صرفہ ہے اگر تو ہمدم انہیں بنائےشاعر تجھے ہیں کہتے ہے عشق تیرا جینافطرت ہے پاک تیری ہے قلب طور سیناتو نور سرمدی کی ہے جھلکیاں دکھاتاانساں کو آسماں کی سیریں ہے تو کراتاتیرا قلم جہاں میں ہلچل سی ڈالتا ہےڈوبے ابھارتا ہے گرتے سنبھالتا ہے3پر کیوں تجھے اے شاعر بستی سے ہے کدورتآبادیوں میں پل کر آبادیوں سے نفرتانساں اور اس کی فطرت پرکھی نہیں ہے تو نےعالم اور اس کی وسعت پائی نہیں ہے تو نےماتم کہیں بپا ہے خوشیاں کہیں ہیں ہوتیاقبال ہے کہیں تو قسمت کہیں ہے سوتیجو اک طرف قضا کے طوفان آ رہے ہیںتو اک طرف سحاب رحمت بھی چھا رہے ہیںتیرا ہے رتبہ عالی اس بزم زندگی میںآ آ شریک ہو جا اس رزم زندگی میںآلام کو گھٹا دے آسائشیں بڑھا دےشمع سخن جلا کر سب ظلمتیں ہٹا دےآ کب سے منتظر ہے آدم کا یہ گھراناآباد اس میں ہو جا تیری یہی ہے دنیا
پھولوں کا منہ دھلائے شبنم سے جب سویراپنچھی سنائیں پڑھ کر قرآن اور بھجن کوکلیاں کھلیں چمن میں گل مہکے انجمن میںسورج کی انگلی پکڑے کرنیں چلیں چمن کوتب وقت کا یہ پہیا کتنا لگے ہے سندرسب کھیل وقت کا ہے سب وقت کے ہیں منظر
پھلوں سے لدے جس کے اشجار ہیںمہکتے ہوئے جس کے گلزار ہیںنرالی ہے جس کے گلوں کی پھبنہمارا وطن ہے ہمارا وطنہمارا وطن سب سے پیارا وطنگلاب اور جوہی کی جس میں بہارسمن ہے جہاں ہر چمن کا سنگارکھلے ہیں جہاں نرگس و نسترنہمارا وطن ہے ہمارا وطنہمارا وطن سب سے پیارا وطنہے پورب سے پچھم نرالا جہاںہے اتر کا دولہا ہمالہ جہاںکماری جہاں ہے عروس دکنہمارا وطن ہے ہمارا وطنہمارا وطن سب سے پیارا وطنکہیں گومتی بیاس گوداوریکہیں گھاگھرا نربدا تاپتیکہیں جس میں بہتے ہیں گنگ و جمنہمارا وطن ہے ہمارا وطنہمارا وطن سب سے پیارا وطنہر اک پھل ہر اک پھول ہر رت جہاںہواؤں میں جس کی ہے عنبر نہاںفضائیں ہیں جس کی چمن در چمنہمارا وطن ہے ہمارا وطنہمارا وطن سب سے پیارا وطنپپیہا الاپے جہاں پی کہاںسنائیں عنادل ترانے جہاںہے آموں میں کوئل جہاں نغمہ زنہمارا وطن ہے ہمارا وطنہمارا وطن سب سے پیارا وطناناج اور میووں کی کثرت جہاںہے پانی میں بھی اک حلاوت جہاںجو ہم کو بناتا ہے شیریں سخنہمارا وطن ہے ہمارا وطنہمارا وطن سب سے پیارا وطنکیا جس کی مٹی نے پیدا ہمیںنہ کیوں فخر سے اس کا ہم نام لیںکہیں مل کے سب شیخ اور برہمنہمارا وطن ہے ہمارا وطنہمارا وطن سب سے پیارا وطن
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books