aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sune"
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہےپل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہےمجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئےکچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے گئےوہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوںکل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوںپل دو پل میں کچھ کہہ پایا اتنی ہی سعادت کافی ہےپل دو پل تم نے مجھ کو سنا اتنی ہی عنایت کافی ہےکل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والےمجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والےہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی آج اگتی ہے کل کٹتی ہےجیون وہ مہنگی مدرا ہے جو قطرہ قطرہ بٹتی ہےساگر سے ابھری لہر ہوں میں ساگر میں پھر کھو جاؤں گامٹی کی روح کا سپنا ہوں مٹی میں پھر سو جاؤں گاکل کوئی مجھ کو یاد کرے کیوں کوئی مجھ کو یاد کرےمصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
نشہ چڑھنے لگا ہے اور چڑھنا چاہئے بھی تھاعبث کا نرخ تو اس وقت بڑھنا چاہئے بھی تھاعجب بے ماجرا بے طور بیزارانہ حالت ہےوجود اک وہم ہے اور وہم ہی شاید حقیقت ہےغرض جو حال تھا وہ نفس کے بازار ہی کا تھاہے ''ز'' بازار میں تو درمیاں زریونؔ میں اولتو یہ عبرافنیقی کھیلتے حرفوں سے تھے ہر پلتو یہ زریونؔ جو ہے کیا یہ افلاطون ہے کوئیاماں زریونؔ ہے زریونؔ وہ معجون کیوں ہوتاہیں معجونیں مفید ''ارواح'' کو معجون یوں ہوتاسنو تفریق کیسے ہو بھلا اشخاص و اشیا میںبہت جنجال ہیں پر ہو یہاں تو ''یا'' میں اور ''یا'' میں
جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہےدل غم کو کھا رہا ہے غم دل کو کھا رہا ہےگانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والےدکھتے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہےآزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والےمیں بے زباں ہوں قیدی تو چھوڑ کر دعا لے!
یہ بات عجیب سناتے ہو وہ دنیا سے بے آس ہوئےاک نام سنا اور غش کھایا اک ذکر پہ آپ اداس ہوئےوہ علم میں افلاطون سنے وہ شعر میں تلسی داس ہوئےوہ تیس برس کے ہوتے ہیں وہ بی اے ایم اے پاس ہوئےیہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیںتم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں
ہاں عمر کا ساتھ نبھانے کے تھے عہد بہت پیمان بہتوہ جن پہ بھروسہ کرنے میں کچھ سود نہیں نقصان بہتوہ نار یہ کہہ کر دور ہوئی 'مجبوری ساجن مجبوری'یہ وحشت سے رنجور ہوئے اور رنجوری سی رنجوری؟اس روز ہمیں معلوم ہوا اس شخص کا مشکل سمجھانااس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیواناگو آگ سے چھاتی جلتی تھی گو آنکھ سے دریا بہتا تھاہر ایک سے دکھ نہیں کہتا تھا چپ رہتا تھا غم سہتا تھانادان ہیں وہ جو چھیڑتے ہیں اس عالم میں نادانوں کواس شخص سے ایک جواب ملا سب اپنوں کو بیگانوں کو'کچھ اور کہو تو سنتا ہوں اس باب میں کچھ مت فرمانا'اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانااب آگے کا تحقیق نہیں گو سننے کو ہم سنتے تھےاس نار کی جو جو باتیں تھیں اس نار کے جو جو قصے تھےاک شام جو اس کو بلوایا کچھ سمجھایا بیچارے نےاس رات یہ قصہ پاک کیا کچھ کھا ہی لیا دکھیارے نےکیا بات ہوئی کس طور ہوئی اخبار سے لوگوں نے جانااس بستی کے اک کوچے میں اک انشا نام کا دیوانا
جوان رات کے سینے پہ دودھیا آنچلمچل رہا ہے کسی خواب مرمریں کی طرح
صبح صبح اک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا' دیکھاسرحد کے اس پار سے کچھ مہمان آئے ہیںآنکھوں سے مانوس تھے سارےچہرے سارے سنے سنائےپاؤں دھوئے، ہاتھ دھلائےآنگن میں آسن لگوائےاور تنور پہ مکی کے کچھ موٹے موٹے روٹ پکائےپوٹلی میں مہمان مرےپچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے
یا شکارے میں کسی جھیل پہ جب رات بسر ہواور پانی کے چھپاکوں میں بجا کرتی ہیں ٹلیاںسبکیاں لیتی ہواؤں کے بھی بین سنے ہیں؟
آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!آتی نہیں کہیں سے دل زندہ کی صداسونے پڑے ہیں کوچہ و بازار عشق کےہے شمع انجمن کا نیا حسن جاں گدازشاید نہیں رہے وہ پتنگوں کے ولولےتازہ نہ رہ سکیں گی روایات دشت و دروہ فتنہ سر گئے جنہیں کانٹے عزیز تھے
یہ شاخسار کے جھولوں میں پینگ پڑتے ہوئےیہ لاکھوں پتیوں کا ناچنا یہ رقص نباتیہ بے خودئ مسرت یہ والہانہ رقصیہ تال سم یہ چھما چھم کہ کان بجتے ہیںہوا کے دوش پہ کچھ اودی اودی شکلوں کینشے میں چور سی پرچھائیاں تھرکتی ہوئیافق پہ ڈوبتے دن کی جھپکتی ہیں آنکھیںخموش سوز دروں سے سلگ رہی ہے یہ شام!مرے مکان کے آگے ہے ایک چوڑا صحن وسیعکبھی وہ ہنستا نظر آتا ہے کبھی وہ اداساسی کے بیچ میں ہے ایک پیڑ پیپل کاسنا ہے میں نے بزرگوں سے یہ کہ عمر اس کیجو کچھ نہ ہوگی تو ہوگی قریب چھیانوے سالچھڑی تھی ہند میں جب پہلی جنگ آزادیجسے دبانے کے بعد اس کو غدر کہنے لگےیہ اہل ہند بھی ہوتے ہیں کس قدر معصوموہ دار و گیر وہ آزادیٔ وطن کی جنگوطن سے تھی کہ غنیم وطن سے غداریبپھر گئے تھے ہمارے وطن کے پیر و جواںدیار ہند میں رن پڑ گیا تھا چار طرفاسی زمانے میں کہتے ہیں میرے دادا نےجب ارض ہند سنچی خون سے ''سپوتوں'' کےمیان صحن لگایا تھا لا کے اک پوداجو آب و آتش و خاک و ہوا سے پلتا ہواخود اپنے قد سے بہ جوش نمو نکلتا ہوافسون روح بناتی رگوں میں چلتا ہوانگاہ شوق کے سانچوں میں روز ڈھلتا ہواسنا ہے راویوں سے دیدنی تھی اس کی اٹھانہر اک کے دیکھتے ہی دیکھتے چڑھا پروانوہی ہے آج یہ چھتنار پیڑ پیپل کاوہ ٹہنیوں کے کمنڈل لئے جٹادھاریزمانہ دیکھے ہوئے ہے یہ پیڑ بچپن سےرہی ہے اس کے لئے داخلی کشش مجھ میںرہا ہوں دیکھتا چپ چاپ دیر تک اس کومیں کھو گیا ہوں کئی بار اس نظارے میںوہ اس کی گہری جڑیں تھیں کہ زندگی کی جڑیں؟پس سکون شجر کوئی دل دھڑکتا تھامیں دیکھتا تھا اسے ہستیٔ بشر کی طرحکبھی اداس کبھی شادماں کبھی گمبھیرفضا کا سرمئی رنگ اور ہو چلا گہراگھلا گھلا سا فلک ہے دھواں دھواں سی ہے شامہے جھٹپٹا کہ کوئی اژدہا ہے مائل خوابسکوت شام میں درماندگی کا عالم ہےرکی رکی سی کسی سوچ میں ہے موج صبا
سب کہ سنتے رہوپیار کرتے رہواور کچھ نہ کہو
مدتوں میں اک اندھے کنویں میں اسیرسر پٹکتا رہا گڑگڑاتا رہاروشنی چاہیئے، چاندنی چاہیئے، زندگی چاہیئےروشنی پیار کی، چاندنی یار کی، زندگی دار کیاپنی آواز سنتا رہا رات دندھیرے دھیرے یقیں دل کو آتا رہاسونے سنسار میںبے وفا یار میںدامن دار میںروشنی بھی نہیںچاندنی بھی نہیںزندگی بھی نہیںزندگی ایک راتواہمہ کائناتآدمی بے بساطلوگ کوتاہ قدشہر شہر حسدگاؤں ان سے بھی بدان اندھیروں نے جب پیس ڈالا مجھےپھر اچانک کنویں نے اچھالا مجھےاپنے سینے سے باہر نکالا مجھےسیکڑوں مصر تھے سامنےسیکڑوں اس کے بازار تھےایک بوڑھی زلیخا نہیںجانے کتنے خریدار تھےبڑھتا جاتا تھا یوسف کا موللوگ بکنے کو تیار تھے
کہیں نغمگی میں وہ بین تھےکہ سماعتوں نے سنے نہیںکہیں گونجتے تھے وہ مرثیےکہ انیسؔ نے بھی کہے نہیں
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
ہے امتحاں سر پر کھڑا محنت کرو محنت کروباندھو کمر بیٹھے ہو کیا محنت کرو محنت کروبے شک پڑھائی ہے سوا اور وقت ہے تھوڑا رہاہے ایسی مشکل بات کیا محنت کرو محنت کروشکوے شکایت جو کہ تھے تم نے کہے ہم نے سنےجو کچھ ہوا اچھا ہوا محنت کرو محنت کرومحنت کرو انعام لو انعام پر اکرام لوجو چاہو گے مل جائے گا محنت کرو محنت کروجو بیٹھ جائیں ہار کر کہہ دو انہیں للکار کرہمت کا کوڑا مار کر محنت کرو محنت کروتدبیریں ساری کر چکے باتوں کے دریا بہہ چکےبک بک سے اب کیا فائدہ محنت کرو محنت کرویہ بیج اگر ڈالوگے تم دل سے اسے پا لو گے تمدیکھو گے پھر اس کا مزا محنت کرو محنت کرومحنت جو کی جی توڑ کر ہر شوق سے منہ موڑ کرکر دو گے دم میں فیصلہ محنت کرو محنت کروکھیتی ہو یا سوداگری ہو بھیک ہو یا چاکریسب کا سبق یکساں سنا محنت کرو محنت کروجس دن بڑے تم ہو گئے دنیا کے دھندوں میں پھنسےپڑھنے کی پھر فرصت کجا محنت کرو محنت کروبچپن رہا کس کا بھلا انجام کو سوچو ذرایہ تو کہو کھاؤ گے کیا محنت کرو محنت کرو
سننے کو بھیڑ ہے سر محشر لگی ہوئیتہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئیرندوں کے دم سے آتش مے کے بغیر بھیہے میکدے میں آگ برابر لگی ہوئیآباد کر کے شہر خموشاں ہر ایک سوکس کھوج میں ہے تیغ ستم گر لگی ہوئیآخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمامبازی میان قاتل و خنجر لگی ہوئی''لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوںکس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی''
وہ کیسی تاریک گھڑی تھیجب مجھ کو احساس ہوا تھامیں تنہا ہوںاس دن بھی سیدھا سادہ سورج نکلا تھاشہر میں کوئی شور نہیں تھاگھر میں کوئی اور نہیں تھااماں آٹا گوندھ رہی تھیںابا چارپائی پر بیٹھے اونگھ رہے تھےدھیرے دھیرے دھوپ چڑھی تھیاور اچانک دل میں یہ خواہش ابھری تھیمیں دنیا سے چھٹی لے لوںاپنے کمرے کو اندر سے تالا دے کر کنجی کھو کرزور سے چیخوں، چیختا جاؤںلیکن کوئی نہ سننے پائےچاقو سے ایک ایک رگ و ریشے کو کاٹوںاور بھیانک سچائی کا دریا پھوٹےہر کپڑے کو آگ لگا دوںشعلوں میں ننگے پن کا سناٹا کودےوہ دن تھا اور آج کا دن ہےکمرے کے اندر سے تالا لگا ہوا ہےکنجی گم ہےمیں زوروں سے چیخ رہا ہوںمیرے جسم کا ایک ایک ریشہ کٹا ہوا ہےسب کپڑوں میں آگ لگی ہےباہر سب پہلے جیسا ہےکوئی نہیں جو کمرے کا دروازہ توڑےکوئی نہیں جو اپنا کھیل ذرا سا چھوڑے
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سےبھلایا قصۂ پیمان اولیں میں نےلگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میںپیا شعور کا جب جام آتشیں میں نےرہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کودکھایا اوج خیال فلک نشیں میں نےملا مزاج تغیر پسند کچھ ایساکیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نےنکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھیکبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نےکبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچاچھپایا نور ازل زیر آستیں میں نےکبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایاکیا فلک کو سفر چھوڑ کر زمیں میں نےکبھی میں غار حرا میں چھپا رہا برسوںدیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نےسنایا ہند میں آ کر سرود ربانیپسند کی کبھی یوناں کی سرزمیں میں نےدیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنیبسایا خطۂ جاپان و ملک چیں میں نےبنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالمخلاف معنی تعلیم اہل دیں میں نےلہو سے لال کیا سیکڑوں زمینوں کوجہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نےسمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کیاسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نےڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریںسکھایا مسئلہ گردش زمیں میں نےکشش کا راز ہویدا کیا زمانے پرلگا کے آئینہ عقل دوربیں میں نےکیا اسیر شعاعوں کو برق مضطر کوبنا دی غیرت جنت یہ سرزمیں میں نےمگر خبر نہ ملی آہ راز ہستی کیکیا خرد سے جہاں کو تہ نگیں میں نےہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخرتو پایا خانۂ دل میں اسے مکیں میں نے
پہلے ناؤں گنیش کا، لیجئے سیس نوائےجا سے کارج سدھ ہوں، سدا مہورت لائےبول بچن آنند کے، پریم، پیت اور چاہسن لو یارو، دھیان دھر، مہادیو کا بیاہجوگی جنگم سے سنا، وہ بھی کیا بیاناور کتھا میں جو سنا، اس کا بھی پرمانسننے والے بھی رہیں ہنسی خوشی دن ریناور پڑھیں جو یاد کر، ان کو بھی سکھ چیناور جس نے اس بیاہ کی، مہما کہی بنائےاس کے بھی ہر حال میں، شیو جی رہیں سہائےخوشی رہے دن رات وہ، کبھی نہ ہو دلگیرمہما اس کی بھی رہے جس کا نام نظیرؔ
مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ خداؤں کا مقرب وہ خداوند کلامصوت انسانی کی روح جاوداںآسمانوں کی ندائے بیکراںآج ساکت مثل حرف ناتماممرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤآؤ اسرافیل کے اس خواب بے ہنگام پر آنسو بہائیںآرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاسجیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسےریگ ساحل پر چمکتی دھوپ میں چپ چاپاپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہےاس کی دستار اس کے گیسو اس کی ریشکیسے خاک آلودہ ہیںتھے کبھی جن کی تہیں بود و نبودکیسے اس کا صور اس کے لب سے دوراپنی چیخوں اپنی فریادوں میں گمجھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زودمرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ مجسم ہمہمہ تھا وہ مجسم زمزمہوہ ازل سے تا ابد پھیلی ہوئی غیبی صداؤں کا نشاںمرگ اسرافیل سےحلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گرابن آدم زلف در خاک و نزارحضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تارآسمانوں کی صفیر آتی نہیںعالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیںمرگ اسرافیل سےاس جہاں پر بند آوازوں کا رزقمطربوں کا رزق اور سازوں کا رزقاب مغنی کس طرح گائے گا اور گائے گا کیاسننے والوں کے دلوں کے تار چپاب کوئی رقاص کیا تھرکے گا لہرائے گا کیابزم کے فرش و در و دیوار چپاب خطیب شہر فرمائے گا کیامسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپفکر کا صیاد اپنا دام پھیلائے گا کیاطائران منزل و کہسار چپمرگ اسرافیل ہےگوش شنوا کی لب گویا کی موتچشم بینا کی دل دانا کی موتتھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہواہل دل کی اہل دل سے گفتگواہل دل جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلواب تنا تا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گماب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گمیہ ہمارا آخری ملجا بھی گممرگ اسرافیل سےاس جہاں کا وقت جیسے سو گیا پتھرا گیاجیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیاایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیںایسا سناٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیںمرگ اسرافیل سےدیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھیزباں بندی کے خوابجس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہواس خداوندی کے خواب
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books