aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "taabish-e-gesuu-e-khamdaar"
مشاطگیٔ گیسوئے فن مدتوں ہوئیآرائش عروس سخن مدتوں ہوئیدست صبا فضائے ادب پر رہا محیطتہذیب ساکنان چمن مدتوں ہوئیتزئین بوستان وطن مدتوں ہوئی
سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوںیہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوںہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہےکلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہےجو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہےاس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہےاسلام کے اس بت خانے میں اصنام بھی ہیں اور آذر بھیتہذیب کے اس مے خانے میں شمشیر بھی ہے اور ساغر بھییاں حسن کی برق چمکتی ہے یاں نور کی بارش ہوتی ہےہر آہ یہاں اک نغمہ ہے ہر اشک یہاں اک موتی ہےہر شام ہے شام مصر یہاں ہر شب ہے شب شیراز یہاںہے سارے جہاں کا سوز یہاں اور سارے جہاں کا ساز یہاںیہ دشت جنوں دیوانوں کا یہ بزم وفا پروانوں کییہ شہر طرب رومانوں کا یہ خلد بریں ارمانوں کیفطرت نے سکھائی ہے ہم کو افتاد یہاں پرواز یہاںگائے ہیں وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کا ساز یہاںاس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیںناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیںاس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں اس بزم میں ساغر توڑے ہیںاس بزم میں آنکھ بچھائی ہے اس بزم میں دل تک جوڑے ہیںاس بزم میں نیزے پھینکے ہیں اس بزم میں خنجر چومے ہیںاس بزم میں گر کر تڑپے ہیں اس بزم میں پی کر جھومے ہیںآ آ کے ہزاروں بار یہاں خود آگ بھی ہم نے لگائی ہےپھر سارے جہاں نے دیکھا ہے یہ آگ ہمیں نے بجھائی ہےیاں ہم نے کمندیں ڈالی ہیں یاں ہم نے شب خوں مارے ہیںیاں ہم نے قبائیں نوچی ہیں یاں ہم نے تاج اتارے ہیںہر آہ ہے خود تاثیر یہاں ہر خواب ہے خود تعبیر یہاںتدبیر کے پائے سنگیں پر جھک جاتی ہے تقدیر یہاںذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاںخود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاںاس گل کدۂ پارینہ میں پھر آگ بھڑکنے والی ہےپھر ابر گرجنے والے ہیں پھر برق کڑکنے والی ہےجو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گاہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گاہر سرو و سمن پر برسے گا ہر دشت و دمن پر برسے گاخود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گاہر شہر طرب پر گرجے گا ہر قصر طرب پر کڑکے گایہ ابر ہمیشہ برسا ہے یہ ابر ہمیشہ برسے گا
سب مال نکالو، لے آؤاے بستی والو لے آؤیہ تن کا جھوٹا جادو بھییہ من کی جھوٹی خوشبو بھییہ تال بناتے آنسو بھییہ جال بچھاتے گیسو بھییہ لرزش ڈولتے سینے کیپر سچ نہیں بولتے سینے کییہ ہونٹ بھی، ہم سے کیا چوریکیا سچ مچ جھوٹے ہیں گوری؟ان رمزوں میں ان گھاتوں میںان وعدوں میں ان باتوں میںکچھ کھوٹ حقیقت کا تو نہیں؟کچھ میل صداقت کا تو نہیں؟یہ سارے دھوکے لے آؤیہ پیارے دھوکے لے آؤکیوں رکھو خود سے دور ہمیںجو دام کہو منظور ہمیں
خاکستر دل کو ہے پھر شعلہ بجاں ہوناحیرت کا جہاں ہونا حسرت کا نشاں ہونااے شخص جو تو آکر یوں دل میں سمایا ہےتو درد کہ درماں ہے تو دھوپ کہ سایا ہے؟نیناں ترے جادو ہیں گیسو ترے خوشبو ہیںباتیں کسی جنگل میں بھٹکا ہوا آہو ہیںمقصود وفا سن لے کیا صاف ہے سادہ ہےجینے کی تمنا ہے مرنے کا ارادہ ہے
ہر طرف کترنیں ہیںوہ گڑیا یہیں تھی مگر اب دکھائی نہیں دے رہیاور یہ دھاگے، یقیناً وہ گیسو ہیں جن کے لیے میری راتیں کٹیںروئی دھنکی ہوئی ہےکہیں خون کا کوئی دھبہ نہیںاک طرف اس کی پوشاک ادھڑی پڑی ہےادھر اس کی آنکھیں، کٹے ابروؤں سے الگ،خوف و دہشت میں لتھڑی ہوئیہر طرف کترنیں ہیںبدن ریشہ ریشہ ہےنیچے کا دھڑ چیل کوے اٹھا لے گئےلبوں کا لہو جم گیا ہے(لہو، جو یقیناً کسی اور کا ہے)گلے پر کسی گرگ کے دانت کھینچے ہوئے ہیںوہ گڑیا نہیں ہے مگر ہر طرف کترنیں ہیںمیں آئندہ گڑیا کی خاطر کپاس اور دھاگے نہیں لاؤں گاکترنیں لے کے اپنی کسی اور جانب نکل جاؤں گا
کسی کے بعداپنے ہاتھوں کی بد صورتی میں کھو گئی ہے وہمجھے کہتی ہے تابشؔ! تم نے دیکھا میرے ہاتھوں کوبرے ہیں ناں؟اگر یہ خوب صورت تھے تو ان میں کوئی بوسہ کیوں نہیں ٹھہرا''عجب لڑکی ہےپورے جسم سے کٹ کر فقط ہاتھوں میں زندہ ہےصراحی دار گردن نرم ہونٹوں تیز نظروں سے وہ بد ظن ہےکہ ان اپنوں نے ہی اس کو سر بازار پھینکا تھاکبھی آنکھوں میں ڈوبیاور کبھی بستر پہ سلوٹ کی طرح ابھریعجب لڑکی ہےخود کو ڈھونڈتی ہےاپنے ہاتھوں کی لکیروں میںجہاں وہ تھی نہ ہے، آئندہ بھی شاید نہیں ہوگیوہ جب انگلی گھما کرفیضؔ کی نظمیں سناتی ہےتو اس کے ہاتھ سے پورے بدن کا دکھ جھلکتا ہےوہ ہنستی ہے تو اس کے ہاتھ روتے ہیںعجب لڑکی ہےپورے جسم سے کٹ کر فقط ہاتھوں میں زندہ ہےمجھے کہتی ہے ''تابشؔ! تم نے دیکھا میرے ہاتھوں کوبرے ہیں ناں''؟میں شاید گر چکا ہوں اپنی نظروں سےمیں چھپنا چاہتا ہوں اس کے تھیلے میںجہاں سگریٹ ہیں ماچس ہےجو اس کا حال ماضی اور مستقبل!
نظر میں اک خلش انتظار چھوڑ گیاجگر میں اک تپش درد کار چھوڑ گیا
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
عروس فطرت کے ریشمیں پیرہن کا یہ آتشیں تبسمضیائے خاموش کے سکوت آشنا ترنم میں گھل رہا ہےکہ عقدۂ گیسوئے شب تار کھل رہا ہے
خواہش سایہ گیسوئے پریشاں ہی نہیںجنت عارض و لب کی بھی تمنا نہ کروںاپنی تنہائی کے سنسان در و بام کبھیمیں ترے حسن تصور سے سجایا نہ کروں
جب رکھتے ہو تم ابروئے خم دار وغیرہکیوں باندھے پڑے پھرتے ہو تلوار وغیرہتھے کل تو ہزاروں سر بازار وغیرہاور اب تو نظر آتے ہیں دو چار وغیرہہے بخل کا جن لوگوں کو آزار وغیرہہے راس انہیں شربت دینار وغیرہجس روز سے کپڑے پہ مقرر ہوا راشنڈھونڈے سے بھی ملتی نہیں شلوار وغیرہتھی پھس پھسی تقریر تو لیڈر کی وہ لیکناس پر بھی اسے مل گئے کچھ ہار وغیرہسچ یہ ہے کہ انسان پہ جب وقت ہے پڑتادشمن کو بھی کہہ لیتا ہے سرکار وغیرہجب میں نے غزل ان کو سنائی تو وہ بولےکیوں شعر میں تو لاتا ہے ہر بار وغیرہواعظ کی گل افشانی کا بس ہے یہ خلاصہسو بار چنانچہ ہے تو سو بار وغیرہغیروں کی وہ حالت ہے کہ بس دم ہی نکل جائےننگی نظر آ جائے جو تلوار وغیرہآتے ہی مرے بزم کا ہے رنگ بدلتااٹھ اٹھ کے کھسک جاتے ہیں اغیار وغیرہسر پھوڑنے کو میرا بہت دل تو ہے چاہتالیکن کہیں ملتی نہیں دیوار وغیرہواللہ سمجھ میں مری کچھ بھی نہیں آتاجب پڑھتا ہوں غالب کے میں اشعار وغیرہمدت سے مری ان کی نہیں خط و کتابتہاں بھولے سے چل جاتے ہیں کچھ تار وغیرہتشہیر دواؤں کی ہے اور فلموں کی تعریفان سے ہی بھرے رہتے ہیں اخبار وغیرہعصمتؔ کو نہیں ملتا کبھی لفظ جو موزوںلے آتا ہے اشعار میں بیکار وغیرہ
گلابی دور میںوہ اپنے فن کا شاہزادہ تھافضائے عارض و چشم و لب و گیسو کا شیدائیوہ عریاںنیم عریاں جسم کی قوس قزحان کا تأثران کی بجلیاپنی تصویروں میں بھرتا تھاحسینوں کے دلوں میں وہ تھاخود بھی ان پہ مرتا تھااسے اس دور میںعزت ملیدولت ملی لیکندل رومان پرور میںکوئی شعلہ سا بھی محسوس کرتا تھا!2مصور ہی کے ناطےاس کا ''شش پہلو'' تصورایک شعلہ تھاکہ جس نے فن کا وہ پچھلا تصور خاک کر ڈالاوہ تصویروں میںتجریدی تصور زندگانی کابڑی خوبی سے بھرتا تھادکھائی دینے والا اک نیا سنگیت دیتا تھا3وہ جانب دار تھااور صاف کہتا تھاکہ جب انسانیتتہذیباور عالی ترین قدریںگھری ہوں سخت خطروں میںتو اک فن کار پر بھی یہ بتانا فرض ہوتا ہےکہ وہ کس کی طرف ہےفن کا اس سے کیا تقاضا ہے4''پکاسو'' مر گیایہ سوگ ہے لیکن''پکاسو'' اب بھی زندہ ہےوہ اپنے شاہ کاروں میںاسی انداز سے کھویا ہوا ہےاور کہتا ہے:میں زندہ ہوںدلوں کے درد کوبے چینیوں کواضطرابوںاور آہوں کوکہیں اک ''منزل زندہ'' سے پہلے موت آتی ہے
اے اہل سخن ملک کا بھی آپ پہ حق ہےمانا کہ دل آویز ہیں گیسو و لب یار
تابش خورشید نور ماہ پانی کی جھلکخندۂ قلقل صدا کوئل کی غنچوں کی چٹک
ایک لمحہ بھی اک زمانہ ہےیاد رکھنا کہ بھول جانا ہےلب و رخسار و گیسوئے خم داروہ لچکتی ہوئی باہیں وہ ہم آغوش بدنوہ چھلکتے ہوئے پیمانوں کی محفل وہ ارمنغمہ و رقص فسوں کارئ فنشہر آرائش جنت ہے زمیں پر کہ نہیںیہ نمائش گہ تعمیر و ترقی یہ زمیںزندگی محنت و قدرت کے عجائبیہ مشینیں خود کاردھات کے پرزے جو ہیں فرض شناس و ہشیاراے خدا یہ ترے سیاروں کے رکھوالےایک لمحہ بھی اک زمانہ ہےیاد رکھنا کہ بھول جانا ہےآج موسم بہت سہانا ہےجی کرے ہے کہ جان دے ڈالیںآج موسم بہت سہانا ہےکٹ گئے قاتلوں کے ہات کہیںپائی محکوم نے نجات کہیںبادشاہت زمیں پہ دے ماریچھین لی ہے عنان مختاریہر طرف انقلاب کے آثارہیں کہاں پرچم شہ خوں خواررشک جمشید فخر اسکندرقید محلوں میں یا کہ ملک بدرڈگمگاتا ہے تخت شاہانہشہریاروں کا ختم افسانہان گنت بجلیاں گریں لیکنچار تنکوں کا آشیانہ ہےاے خدائے ابد خدائے ازلتیرے گھر میں پہنچ گئی ہلچل
گل سحر کی نہ گیسوئے شام کی خوشبوفضا فضا میں ہے تیرے کلام کی خوشبو
خواہشوں کے گھنے برگد کے تلے جو کٹ جائےزندگی خواب گہہ نکہت گیسو تو نہیںنغمۂ آرزو سانسوں میں گھلا جاتا ہےحسرتیں کاوش انساں کی جبلت تو نہیںپھر بجھا سا ہے نگاہوں میں چراغ سحریرہ گئے خواب ادھورے مری پلکوں کے تلےاپنے ہی خوں میں رنگی وصل کی بیتاب گھڑیزخم در زخم کئی وقت کے خنجر ٹوٹے
میری تصویر دھنک رنگ نہیں ہو پائیمیرے خوابوں کو تری آنکھ نہیں دیکھ سکیتو ہے خطاط مرے حرف بدن کے بدلےوہ لکیریں بھی بنا فکر کو ظاہر جو کریںگیسو و عارض و لب ہی ترا معیار رہےسنگ مرمر کا بدن ہی ترا شہکار رہےمیں کچھ اس سے بھی سوا ہوں تجھے معلوم نہیںمیں تری دوست ہوں لیکن تری محکوم نہیں
لوگ کہتے ہیں کہ گلشن میں بہار آئی تھیباغباں نے گل خنداں کی قسم کھائی تھیاک نئے دور کے آغاز کا دل کش نغمہگنگنائی تھی زباں وقت کی مبہم دھن میںلوگ کہتے ہیں کہ اک صبح طرب آئی تھیاپنی آغوش میں فردا کا فسوں لائی تھیلوگ کہتے تھے کہ اب مے کدۂ ہستی میںکوئی شاکی نہ رہے گا کسی مستانے سےتشنہ کامی کی شکایت نہ کرے گا کوئییوں بدل جائے گا میخانے کا دستور کہناب تہی جام و سبو کی نہ حکایت ہوگینغمہ زن قسمت ارباب محبت ہوگی
وہ جا رہی ہیں سروں پہ پتھراٹھائے مزدور عورتیں کچھیہ کھردرے ہاتھ میلے پاؤںجمی ہیں ہونٹوں پہ پپڑیاں سیاور پسینے میں ہیں شرابورسلگتی دوپہر میں وہ مل کرایک دیوار چن رہی ہیںحصار سنگیں بنے گا کوئییہ دیکھ کر حال ان کا مجھ کوخیال رہ رہ کے آ رہا ہےکہاں ہیں وہ مرمریں سی باہیںوہ گدگدے ہاتھ نرم و نازکوہ گیسوئے عنبریں و مشکیںوہ تیر مژگاں کمان ابرووہ لعل لب اور وہ روئے زیباوہ نازنیں عورتیں کہاں ہیںوہ مہ جبیں عورتیں کہاں ہیںوہ جن کی تعریف کرتے کرتےادیب و شاعر نہیں ہیں تھکتے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books