aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tabah"
اگر میں سمجھوںکے یہ جو مہرے ہیںصرف لکڑی کے ہیں کھلونےتو جیتنا کیا ہے ہارنا کیانہ یہ ضرورینہ وہ اہم ہےاگر خوشی ہے نہ جیتنے کینہ ہارنے کا ہی کوئی غم ہےتو کھیل کیا ہےمیں سوچتا ہوںجو کھیلنا ہےتو اپنے دل میں یقین کر لوںیہ مہرے سچ مچ کے بادشاہ و وزیرسچ مچ کے ہیں پیادےاور ان کے آگے ہےدشمنوں کی وہ فوجرکھتی ہے جو کہ مجھ کو تباہ کرنے کےسارے منصوبےسب ارادےمگر ایسا جو مان بھی لوںتو سوچتا ہوںیہ کھیل کب ہےیہ جنگ ہے جس کو جیتنا ہےیہ جنگ ہے جس میں سب ہے جائزکوئی یہ کہتا ہے جیسے مجھ سےیہ جنگ بھی ہےیہ کھیل بھی ہےیہ جنگ ہے پر کھلاڑیوں کییہ کھیل ہے جنگ کی طرح کامیں سوچتا ہوںجو کھیل ہےاس میں اس طرح کا اصول کیوں ہےکہ کوئی مہرہ رہے کہ جائےمگر جو ہے بادشاہاس پر کبھی کوئی آنچ بھی نہ آئےوزیر ہی کو ہے بس اجازتکہ جس طرف بھی وہ چاہے جائے
آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیالمدھ بھرا حرف کوئی زہر بھرا حرف کوئیدل نشیں حرف کوئی قہر بھرا حرف کوئیحرف الفت کوئی دل دار نظر ہو جیسےجس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورتاتنا روشن کہ سر موجۂ زر ہو جیسےصحبت یار میں آغاز طرب کی صورتحرف نفرت کوئی شمشیر غضب ہو جیسےتا ابد شہر ستم جس سے تبہ ہو جائیںاتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسےلب پہ لاؤں تو مرے ہونٹ سیہ ہو جائیں
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
تم اس کی یاد بھلا دو کہ بے وفا ہے وہہر ایک دل نہیں ہوتا تمہارے دل کی طرحتم اپنے پیار کو رسوا کرو نہ رو رو کرتمہارا پیار مقدس ہے بائبل کی طرح
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نامراہ وفا کی منزل اول ہوئی تماممنظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظامدامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلاماظہار بے کسی سے ستم ہوگا اور بھیدیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھیدل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہالخاموش ماں کے پاس گیا صورت خیالدیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حالسکتا سا ہو گیا ہے یہ ہے شدت ملالتن میں لہو کا نام نہیں زرد رنگ ہےگویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہےکیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ بے گناہنور نظر یہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہجنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہلی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہچہرہ کا رنگ حالت دل کھولنے لگاہر موئے تن زباں کی طرح بولنے لگاآخر اسیر یاس کا قفل دہن کھلاافسانۂ شدائد رنج و محن کھلااک دفتر مظالم چرخ کہن کھلاوا تھا دہان زخم کہ باب سخن کھلادرد دل غریب جو صرف بیاں ہواخون جگر کا رنگ سخن سے عیاں ہوارو کر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاںمیں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاںسب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواںلیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاںکس طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوںجوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوںدنیا کا ہو گیا ہے یہ کیسا لہو سپیداندھا کیے ہوئے ہے زر و مال کی امیدانجام کیا ہو کوئی نہیں جانتا یہ بھیدسوچے بشر تو جسم ہو لرزاں مثال بیدلکھی ہے کیا حیات ابد ان کے واسطےپھیلا رہے ہیں جال یہ کس دن کے واسطےلیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنمہوتے نہ میری جان کو سامان یہ بہمڈستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت و حشمتم میرے لال تھے مجھے کس سلطنت سے کممیں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت و تاج کوتم ہی نہیں تو آگ لگا دوں گی راج کوکن کن ریاضتوں سے گزارے ہیں ماہ و سالدیکھی تمہاری شکل جب اے میرے نونہالپورا ہوا جو بیاہ کا ارمان تھا کمالآفت یہ آئی مجھ پہ ہوئے جب سفید بالچھٹتی ہوں ان سے جوگ لیا جن کے واسطےکیا سب کیا تھا میں نے اسی دن کے واسطےایسے بھی نامراد بہت آئیں گے نظرگھر جن کے بے چراغ رہے آہ عمر بھررہتا مرا بھی نخل تمنا جو بے ثمریہ جائے صبر تھی کہ دعا میں نہیں اثرلیکن یہاں تو بن کے مقدر بگڑ گیاپھل پھول لا کے باغ تمنا اجڑ گیاسرزد ہوئے تھے مجھ سے خدا جانے کیا گناہمنجدھار میں جو یوں مری کشتی ہوئی تباہآتی نظر نہیں کوئی امن و اماں کی راہاب یاں سے کوچ ہو تو عدم میں ملے پناہتقصیر میری خالق عالم بہل کرےآسان مجھ غریب کی مشکل اجل کرےسن کر زباں سے ماں کی یہ فریاد درد خیزاس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغ تیزعالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریزلیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریزسوچا یہی کہ جان سے بیکس گزر نہ جائےناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائےپھر عرض کی یہ مادر ناشاد کے حضورمایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے کیوں وفورصدمہ یہ شاق عالم پیری میں ہے ضرورلیکن نہ دل سے کیجیے صبر و قرار دورشاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کیکچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کییہ جعل یہ فریب یہ سازش یہ شور و شرہونا جو ہے سب اس کے بہانے ہیں سر بسراسباب ظاہری میں نہ ان پر کرو نظرکیا جانے کیا ہے پردۂ قدرت میں جلوہ گرخاص اس کی مصلحت کوئی پہچانتا نہیںمنظور کیا اسے ہے کوئی جانتا نہیںراحت ہو یا کہ رنج خوشی ہو کہ انتشارواجب ہر ایک رنگ میں ہے شکر کرد گارتم ہی نہیں ہو کشتہ نیرنگ روزگارماتم کدے میں دہر کے لاکھوں ہیں سوگوارسختی سہی نہیں کہ اٹھائی کڑی نہیںدنیا میں کیا کسی پہ مصیبت پڑی نہیں
اور یہ عہد کیا تھا کہ بہ ایں حال تباہاب کبھی پیار بھرے گیت نہیں گاؤں گاکسی چلمن نے پکارا بھی تو بڑھ جاؤں گاکوئی دروازہ کھلا بھی تو پلٹ آؤں گا
گناہ کے تند و تیز شعلوں سے روح میری بھڑک رہی تھیہوس کی سنسان وادیوں میں مری جوانی بھٹک رہی تھیمری جوانی کے دن گزرتے تھے وحشت آلود عشرتوں میںمری جوانی کے مے کدوں میں گناہ کی مے چھلک رہی تھیمرے حریم گناہ میں عشق دیوتا کا گزر نہیں تھامرے فریب وفا کے صحرا میں حور عصمت بھٹک رہی تھیمجھے خس ناتواں کے مانند ذوق عصیاں بہا رہا تھاگناہ کی موج فتنہ ساماں اٹھا اٹھا کر پٹک رہی تھیشباب کے اولیں دنوں میں تباہ و افسردہ ہو چکے تھےمرے گلستاں کے پھول جن سے فضائے طفلی مہک رہی تھیغرض جوانی میں اہرمن کے طرب کا سامان بن گیا میںگنہ کی آلائشوں میں لتھڑا ہوا اک انسان بن گیا میں
نازنینوں کا یہ عالم مادر ہند آہ آہکس کے جور ناروا نے کر دیا تجھ کو تباہ؟
مری نگاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےدل تباہ کو اب بھی تری ضرورت ہےخروش نالہ تڑپتا ہے تیری فرقت میںسکوت آہ کو اب بھی تری ضرورت ہےیہ صبح و شام تری جستجو میں پھرتے ہیںکہ مہر و ماہ کو اب بھی تری ضرورت ہےبہار زلف پریشاں لیے ہے گلشن میںگل و گیاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےزمانہ ڈھونڈ رہا ہے کوئی نیا طوفاںسکون راہ کو اب بھی تری ضرورت ہےوہ ولولے وہ امنگیں وہ جستجو نہ رہیتری سپاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےخرد خموش جنوں بے خروش ہے اب تکدل و نگاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےبیاں ہو غم کا فسانہ دل تپاں سے کہاںیہ بار اٹھے گا مری جان ناتواں سے کہاںملا نہ پھر کہیں لطف کلام تیرے بعدحدیث شوق رہی نا تمام تیرے بعدجو تیرے دست حوادث شکن میں دیکھی تھیوہ تیغ پھر نہ ہوئی بے نیام تیرے بعدبجھی بجھی سی طبیعت ہے بادہ خواروں کیاداس اداس ہیں مینا و جام تیرے بعدبنا ہے حرف شکایت سکوت لالہ و گلبدل گیا ہے چمن کا نظام تیرے بعدادائے حسن کا لطف خرام بے معنیسرود شوق کی لذت حرام تیرے بعدترس گئی ہے سماعت تری صداؤں کوسنا نہ پھر کہیں تیرا پیام تیرے بعدوہ انقلاب کی رو پھر پلٹ گئی افسوسبلند بام ہیں پھر زیر دام تیرے بعدمثال نجم سحر جگمگا کے ڈوب گیاہمیں سفینہ کنارے لگا کے ڈوب گیا
سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہاچرچا ہے جا بجا ترے حال تباہ کاسمجھا ہے تو نے نیچر و تدبیر کو خدادل میں ذرا اثر نہ رہا لا الہ کاہو تجھ سے ترک صوم و صلوٰۃ و زکوٰۃ و حجکچھ ڈر نہیں جناب رسالت پناہ کاشیطان نے دکھا کے جمال عروس دہربندہ بنا دیا ہے تجھے حب جاہ کااس نے دیا جواب کہ مذہب ہو یا رواجراحت میں جو مخل ہو وہ کانٹا ہے راہ کاافسوس ہے کہ آپ ہیں دنیا سے بے خبرکیا جانیے جو رنگ ہے شام و پگاہ کایورپ کا پیش آئے اگر آپ کو سفرگزرے نظر سے حال رعایا و شاہ کاوہ آب و تاب و شوکت ایوان خسرویوہ محکموں کی شان وہ جلوہ سپاہ کاآئے نظر علوم جدیدہ کی روشنیجس سے خجل ہو نور رخ مہر و ماہ کادعوت کسی امیر کے گھر میں ہو آپ کیکمسن مسوں سے ذکر ہو الفت کا چاہ کانوخیز دل فریب گل اندام نازنیںعارض پہ جن کے بار ہو دامن نگاہ کارکئے اگر تو ہنس کے کہے اک بت حسیںسن مولوی یہ بات نہیں ہے گناہ کااس وقت قبلہ جھک کے کروں آپ کو سلامپھر نام بھی حضور جو لیں خانقاہ کاپتلون و کوٹ و بنگلہ و بسکٹ کی دھن بندھےسودا جناب کو بھی ہو ترکی کلاہ کامنبر پہ یوں تو بیٹھ کے گوشے میں اے جنابسب جانتے ہیں وعظ ثواب و گناہ کا
تیرے بھی دل میں ہوک سی اٹھے خدا کرےتو بھی ہماری یاد میں تڑپے خدا کرےمجروح ہو بلا سے ترے حسن کا غرورپر تجھ کو چشم شوق نہ دیکھے خدا کرےکھو جائیں تیرے حسن کی رعنائیاں تمامتیری ادا کسی کو نہ بھائے خدا کرےمیری ہی طرح کشتئ دل ہو تری تباہطوفان اتنے زور کا اٹھے خدا کرےراہوں کے پیچ و خم میں رہے تا حیات گممنزل ترے قریب نہ آئے خدا کرےظلمت ہو تو ہو اور تری رہ گزار ہودنیا میں تیری صبح نہ پھوٹے خدا کرےتجھ پر نشاط و عیش کی راتیں حرام ہوںمر جائیں تیرے ساز کے نغمے خدا کرےآئیں نہ تیرے باغ میں جھونکے نسیم کےتیرا گل شباب نہ مہکے خدا کرےہر لمحہ تیری روح کو اک بے کلی سی ہواور بے کلی میں نیند نہ آئے خدا کرےہو تیرے دل میں میری خلش میری آرزومیرے بغیر چین نہ آئے خدا کرےتو جا رہی ہے بزم طرب میں تو خیر جاپر تیرا جی وہاں بھی نہ بہلے خدا کرےالمختصر ہوں جتنے ستم تجھ پہ ٹوٹ جائیںلیکن یہ ربط زیست نہ ٹوٹے خدا کرےجو کچھ میں کہہ گیا ہوں جنوں میں وہ سب غلطتجھ پر کوئی بھی آنچ نہ آئے خدا کرےتو ہے متاع قلب و نظر بے وفا سہیہے روشنیٔ داغ جگر بے وفا سہی
دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گاتمہارے عشق میں سب کچھ تباہ کر لوں گااگر مجھے نہ ملیں تم تمہارے سر کی قسممیں اپنی ساری جوانی تباہ کر لوں گامجھے جو دیر و حرم میں کہیں جگہ نہ ملیترے خیال ہی کو سجدہ گاہ کر لوں گاجو تم سے کر دیا محروم آسماں نے مجھےمیں اپنی زندگی صرف گناہ کر لوں گارقیب سے بھی ملوں گا تمہارے حکم پہ میںجو اب تلک نہ کیا تھا اب آہ کر لوں گاتمہاری یاد میں میں کاٹ دوں گا حشر سے دنتمہارے ہجر میں راتیں سیاہ کر لوں گاثواب کے لیے ہو جو گنہ وہ عین ثوابخدا کے نام پہ بھی اک گناہ کر لوں گاحریم حضرت سلمیٰ کی سمت جاتا ہوںہوا نہ ضبط تو چپکے سے آہ کر لوں گایہ نو بہار یہ ابرو، ہوا یہ رنگ شرابچلو جو ہو سو ہو اب تو گناہ کر لوں گاکسی حسینہ کے معصوم عشق میں اخترؔجوانی کیا ہے میں سب کچھ تباہ کر لوں گا
میں لاکھ بزدل سہی مگر میں اسی قبیلے کا آدمی ہوں کہ جس کے بیٹوں نےجو کہا اس پہ جان دے دیمیں جانتا تھا مرے قبیلے کی خیمہ گاہیں جلائی جائیں گی اور تماشائیرقص شعلہ فشاں پر اصرار ہی کریں گےمیں جانتا تھا مرا قبیلہ بریدہ اور بے ردا سروں کی گواہیاںلے کے آئے گا پھر بھی لوگ انکار ہی کریں گےسو میں کمین گاہ عافیت میں چلا گیا تھاسو میں اماں گاہ مصلحت میں چلا گیا تھااور اب مجھے میرے شہسواروں کا خون آواز دے رہا ہےتو نذر سر لے کے آ گیا ہوںتباہ ہونے کو ایک گھر لے کے آ گیا ہوںمیں لاکھ بزدل سہی مگر میں اسی قبیلے کا آدمی ہوں!
وہ جہان شوق کی بستیاںوہ شراب عشق کی مستیاںوہ حریم ناز کی رفعتیںوہ سر نیاز کی پستیاںوہ سکوت منظر جوئے آبوہ خموش جلوۂ ماہتابوہ نیاز و ناز کی محفلیںوہ سکوں نوازیٔ اضطرابوہ جوانیوں میں شرارتیںوہ طبیعتوں میں حرارتیںوہ نفس میں زیست کی گرمیاںوہ نوائے دل میں بشارتیںوہ خموشیوں میں حکایتیںوہ دبی زباں سے شکایتیںوہ حجاب جلوۂ آرزووہ حدیث دل کی نزاکتیںوہ خطوط اور وہ گزارشیںوہ مزے مزے کی نگارشیںوہ غرور حسن کی نرمیاںوہ نگاہ لطف کی بارشیںکف نازنیں میں وہ جام مےوہ سرور ساغر پے بہ پےوہ نگاہ مست کی گردشیںوہ نظر فروش ہر ایک شےمری آنکھ اشک فشاں نہ تھیمرے لب پہ آہ و فغاں نہ تھیمرے ولولوں میں شباب تھامجھے کوئی فکر جہاں نہ تھیکبھی لطف اور کبھی ستمکبھی عشرت اور کبھی المکبھی بزم عیش میں قہقہےکبھی جوش گریہ سے چشم نمکبھی مجھ سے تم کو بھی چاہ تھیکبھی مجھ پہ بھی تو نگاہ تھیمرا حال یوں نہ اداس تھامری زیست یوں نہ تباہ تھیوہ زمانہ مجھ کو تو یاد ہےتمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
اے آفتاب حب وطن تو کدھر ہے آجتو ہے کدھر کہ کچھ نہیں آتا نظر ہے آجتجھ بن جہاں ہے آنکھوں میں اندھیر ہو رہااور انتظام دل ہے زبر زیر ہو رہاٹھنڈے ہیں کیوں دلوں میں ترے جوش ہو گئےکیوں سب ترے چراغ ہیں خاموش ہو گئےحب وطن کی جنس کا ہے قحط سال کیوںحیراں ہوں آج کل ہے پڑا اس کا کال کیوںکچھ ہو گیا زمانہ کا الٹا چلن یہاںحب وطن کے بدلے ہے بغض الوطن یہاںبن تیرے ملک ہند کے گھر بے چراغ ہیںجلتے عوض چراغوں کے سینوں میں داغ ہیںکب تک شب سیاہ میں عالم تباہ ہواے آفتاب ادھر بھی کرم کی نگاہ ہوعالم سے تا کہ تیرہ دلی دور ہو تماماور ہند تیرے نور سے معمور ہو مدامالفت سے گرم سب کے دل سرد ہوں بہماور جو کہ ہم وطن ہوں وہ ہمدرد ہوں بہمتا ہو وطن میں اپنے زر و مال کا وفوراور مملکت میں دولت و اقبال کا وفورسب اپنے حاکموں کے لئے جاں نثار ہوںاور گردن حریف پہ خنجر کی دھار ہوںعلم و ہنر سے خلق کو رونق دیا کریںاور انجمن میں بیٹھ کے جلسے کیا کریںلبریز جوش حب وطن سب کے جام ہوںسرشار ذوق و شوق دل خاص و عام ہوں
خیالات میں سخت ہے انتشارتخیل پریشاں قلم بے قرارجہاں خون آلود و خوں رنگ ہےوطن پر پڑا سایۂ رنج ہےگل و لالہ ہیں مستعد بے تکاںرفیقوں نے رکھی ہتھیلی پہ جاںہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنخلوص آج پامال ہے اور تباہاصول آج دریوزہ خواہ پناہگرفتار آزار دنیا ہے آجمحبت پریشان و رسوا ہے آجاصول محبت کے ہم ترجماںخلوص و محبت کے ہم پاسباںدوانوں کو مطلق نہیں ہے قرارصداقت سے بیتاب دل پائیدارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنوطن ہے یہ نانک کا فرماں پذیرتھا گوتم اسی کارواں کا امیرمحبت نے رتبہ دیا ہے بلندمحبت نے سب کو کیا ارجمندہے غیرت کا طوفان چھایا ہواہے بچوں میں بھی جوش آیا ہواارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار ہیں جاں نثارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطننہ دی دشمنوں کو کبھی اس نے راہہمالہ ہے رفعت سے عالم پناہہمالہ کی دلچسپ ہے داستاںیہ عظمت نشاں سب کا ہے پاسباںزمانے پہ یہ بات ہے آشکاراما اس کی ہے دختر نامدارہمالہ کی عظمت کی ہم کو قسمہمالہ کی رفعت کی ہم کو قسمحفاظت ہمالہ کی اب فرض ہےہمالہ کا ہم پر بڑا قرض ہےیہ کہتے ہیں سب مل کے خورد و کلاںکہ غیرت کا اس وقت ہے امتحاںہوا روئے شنکر ہے غصے سے لالدکھائے گا اب رقص تانڈو جلالارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار سب جاں نثارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنمحافظ ہیں ہم امن کے لا کلامزمانے کو دیتے ہیں بدھ کا پیامصبا اپنے گلشن سے جاتی ہے جبمٹاتی ہے دنیا کے رنج و تعبرسیلی ہے صبح اور رسیلی ہے شامنہاں ان میں ہے زندگی کا پیامروایت کا محفوظ کر کے وقارہمیں لوٹنا ہے خوشی کی بہارذرا دیکھئے گا رفیقوں کی آنہے رکھی جنہوں نے ہتھیلی پہ جانہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنہے عزت کا جرأت کا اب امتحاںکہیں جھک نہ جائے وطن کا نشاںفریبوں سے کوئی پنپتا نہیںکبھی جھوٹ کا میوہ پکتا نہیںصداقت کا ہے بول بالا سدانہیں کام آتے دروغ افترافضا ہے چمن کی ہمیں سازگارہے پابندہ تر اس زمیں کی بہارہر اک لب پہ ہے بس یہیں اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنحیا اور مروت ہے جو پر رہیںہوئی ہیں وہ آنکھیں بہت خشمگیںبڑھے ہیں وطن کی طرف بد قماشکلیجہ زمیں کا ہوا پاش پاشپہاڑوں پہ ہے برف غصے سے لالفضائیں ہوئیں گرم آتش مثالہیں جہلم میں آنے کو طغیانیاںہر اک موج پر ہے غضب کا سماںمحبت کی دنیا کو دل میں لیےبہار جوانی سے پیماں کیےوطن کی حفاظت کو تیار ہیںمحبت کے بادہ سے سرشار ہیںحفاظت ہے فرض اپنے ارمان کیہمیں آج پروا نہیں جان کیہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن۲آؤ بڑھو میدان میں شیروں دشمن پر یلغار کریںقبر بنے میدان میں اس کی ایسا اس پر وار کریںزنگ نہ لگنے پائے اپنے بھارت کی آزادی کوآؤ زیر دام کریں صیادوں کی صیادی کولوح دل پر نقش کرو ہر حال میں زندہ رہنا ہےملک کی خدمت کے رستے میں جو دکھ آئے سہنا ہےیہ سیلاب سرخ نہیں ہے ظلم و ستم کی آندھی ہےاس سیلاب کو روکیں گے ہم ہمت ہم نے باندھی ہےشیروں کی اولاد ہو تم ان ویروں کی سنتان ہو تممرد مجاہد مرد جری ہو یودھا ہو بلوان ہو تمسانچی مدورا امرتسر اجمیر کی عظمت تم سے ہےصبح بنارس شام اودھ کی اصل و حقیقت تم سے ہےتاج اجنتا اور ایلورا کے واحد فن کار ہو تمخوش سیرت خوش صورت خوش مورت خوش کردار ہو تمبھیلائی چترنجن تم سے بھاکڑ اننگل تم سے ہےدامودر کی شان ہے تم سے عظمت چنبل تم سے ہےتم نے بسائے شہر نرالے جنگل تم سے منگل ہیںتم نے نکالی نہریں اتنی صحرا تم سے جل تھل ہیںتم نے اتنی ہمت سے دریاؤں کے رخ موڑ دیےتم نے کھودیں سرنگیں اتنی دور کے رشتے جوڑ دیےتم کشمیر کی ارض حسیں کے نظاروں میں پلتے ہوکہساروں کو پھاندتے ہو تم دریاؤں پہ چلتے ہوتم میسور میں ورندا بن کے باغ سجانے والے ہواوٹی شملہ دارجلنگ سے شہر بسانے والے ہوتاتیا ٹوپے لکشمی بائی ٹیپو کی اولاد ہو تمجنگ کے فن میں قابل ہو تم ماہر ہو استاد ہو تمہندو مسلم سکھ عیسائی جینی بودھ اور پارسیدہقاں تاجر اور ملازم سادھو سنت اور سیاسیلے کے وطن کا جھنڈا آؤ دشمن پر یلغار کریںقبر بنے رن بھوم میں اس کی ایسا اس پر وار کریں
بڑا شہر بڑا شہر، بڑا شہر بڑا شہرکسی کے لیے تو باعث طمانیتکسی کے لیے تو سامان مسرتاور کسی کے لیے ہے تو، سراسر قہربڑے شہر کی چاہ میں، جانے کتنے تباہ ہوئےکتنے روٹھے اپنوں سےکتنے چھوٹے ہم وطنوں سے
نظر اٹھاؤ سفیر لیلیٰ برے تماشوں کا شہر دیکھویہ میرا قریہ یہ وحشتوں کا امین قریہتمہیں دکھاؤںیہ صحن مسجد تھا یاں پہ آیت فروش بیٹھے دعائیں خلقت کو بیچتے تھےیہاں عدالت تھی اور قاضی امان دیتے تھے رہزنوں کواور اس جگہ پر وہ خانقاہیں تھیں آب و آتش کی منڈیاں تھیںجہاں پہ امرد پرست بیٹھے صفائے دل کی نمازیں پڑھ کرخیال دنیا سے جاں ہٹاتےسفیر لیلیٰ میں کیا بتاؤں کہ اب تو صدیاں گزر چکی ہیںمگر سنو اے غریب سایہ کہ تم شریفوں کے راز داں ہویہی وہ دن تھے میں بھول جاؤں تو مجھ پہ لعنتیہی وہ دن تھے سفیر لیلیٰ ہماری بستی میں چھ طرف سے فریب اترےدروں سے آگے گھروں کے بیچوں پھر اس سے چولہوں کی ہانڈیوں میںجوان و پیر و زنان قریہ خوشی سے رقصاںتمام رقصاںہجوم طفلاں تھا یا تماشے تھے بوزنوں کےکہ کوئی دیوار و در نہ چھوڑاوہ ان پہ چڑھ کر شریف چہروں کی گردنوں کو پھلانگتے تھےدراز قامت لحیم بونےرضائے باہم سے کولھووں میں جتے ہوئے تھےخراستے تھے وہ زرد غلہ تو اس کے پسنے سے خون بہتا تھا پتھروں سےمگر نہ آنکھیں کہ دیکھ پائیں نہ ان کی ناکیں کہ سونگھتے وہفقط وہ بیلوں کی چکیاں تھیں سروں سے خالیفریب کھاتے تھے خون پیتے تھے اور نیندیں تھیں بجوؤں کیسفیر لیلیٰ یہ داستاں ہے اسی کھنڈر کیاسی کھنڈر کے تماش بینوں فریب خوردوں کی داستاں ہےمگر سنو اجنبی شناساکبھی نہ کہنا کہ میں نے قرنوں کے فاصلوں کو نہیں سمیٹافصیل قریہ کے سر پہ پھینکی گئی کمندیں نہیں اتاریںتمہیں دکھاؤں تباہ بستی کے ایک جانب بلند ٹیلہبلند ٹیلے پہ بیٹھے بیٹھے ہونقوں ساکبھی تو روتا تھا اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر کبھی مسلسل میں اونگھتا تھامیں اونگھتا تھا کہ سانس لے لوںمگر وہ چولہوں پہ ہانڈیوں میں فریب پکتےسیاہ سانپوں کی ایسی کایا کلپ ہوئی تھی کہ میری آنکھوں پہ جم گئے تھےسو یاں پہ بیٹھا میں آنے والے دھوئیں کی تلخی بتا رہا تھاخبر کے آنسو بہا رہا تھامگر میں تنہا سفیر لیلیٰفقط خیالوں کی بادشاہی مری وراثتتمام قریے کا ایک شاعر تمام قریے کا اک لعیں تھایہی سبب ہے سفیر لیلیٰ میں یاں سے نکلا تو کیسے گھٹنوں کے بل اٹھا تھانصیب ہجرت کو دیکھتا تھاسفر کی سختی کو جانتا تھایہ سبز قریوں سے صدیوں پیچھے کی منزلوں کا سفر تھا مجھ کوجو گرد صحرا میں لپٹے خاروں کی تیز نوکوں پہ جلد کرنا تھا اوروہ ایسا سفر نہیں تھا جہاں پہ سائے کا رزق ہوتاجہاں ہواؤں کا لمس ملتافرشتے آواز الااماں میں مرے لیے ہیاجل کی رحمت کو مانگتے تھےیہی وہ لمحے تھے جب شفق کے طویل ٹیلوں پہ چلتے چلتےمیں دل کے زخموں کو ساتھ لے کرسفر کے پربت سے پار اترا
چلو کہ پہلے نفرتوں کیآن بان توڑ دیں یہ وقت کی پکار ہےالگ الگ یہ راستوں پہ رینگتے سے قافلےقدم قدم مسافروں کے ٹوٹتے سے حوصلےیہ رینگتے سے قافلوں کوٹوٹتے سے حوصلوں کواک ڈگر سے جوڑ دیں یہ وقت کی پکار ہےیہ شہر شہر خون کے بہاؤ میں بسا ہوایہ گاؤں گاؤں آپسی تناؤ میں کسا ہوایہ خون کے بہاؤ کییہ آپسی تناؤ کیکلائیاں مروڑ دیں یہ وقت کی پکار ہےگلی گلی ٹٹولتی گھٹائیں لوٹ مار کینگر نگر میں ڈولتی ہوائیں انتشار کییہ لوٹ مار کی گھٹایہ انتشار کی ہواسمندروں میں چھوڑ دیں یہ وقت کی پکار ہےیہ آدمی سے آدمی کی دوریاں یہ کھائیاںیہ اپنے ہاتھ سے تباہ ہو کے پھر دہائیاںیہ دوریاں یہ کھائیاںیہ چیخ یہ دہائیاںہر اک قدم جھنجھوڑ دیں یہ وقت کی پکار ہےیہ سوکھے سوکھے پھول پر بہار کی جوانیاںیہ جھلسے جھلسے رنگ روپ باغ کی نشانیاںجوانیوں کے جام میںنشانیوں کی شام میںرتوں کا خوں نچوڑ دیں یہ وقت کی پکار ہے
خدا کے واسطے نفرت کا کھیل ختم کرویہ دشمنی یہ عداوت کا کھیل بند کروکہ ہوگی جنگ سے دونوں طرف ہی بربادیمریں گے لوگ یقیناً مٹے گی آبادیلہو بہے گا جلیں گے مکان لوگو کےتباہ ہوں گے بس اس سے جہان لوگو کےزمیں پھٹے گی تو پھر آسمان ٹوٹے گایہ ساری دنیا کا ماحول چیکھ اٹھے گالگے گا داغ پھر انسانیت کے دامن پرگریں گے بم کے یہ گولے کسی کے آنگن پریہ جنگ وقت کی تہذیب کو کچل دے گییہ جنگ امن کے پھولوں کو بھی مسل دے گیکی اس سے امن کی تہذیب کی تباہی ہےیہ کیسا ظلم ہے یہ کس کی بد نگاہی ہےنہ ہوگا جنگ سے تم کو کبھی بھی کچھ حاصلپنپ نہ پائے گا صدیوں تلک یہ مستقبلیہ جنگ کچھ نہیں دے گی تباہیوں کے سوانتیجہ کچھ بھی نہ ہوگا برائیوں کے سوا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books