aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "takziib-e-aqdaar-e-saliim"
اپنی اقدار سے تصادم خیزدرد احساس کی نمو خیزی
ہزاروں درس گاہیں داعئ اقدار انساں ہیںسیہ سڑکوں پہ کاریں ہیں فضاؤں میں ہیں طیارے
ماضی کے سب سمیٹے ہے آثار لکھنؤہر دل عزیز صاحب اقدار لکھنؤ
چلو موسم بدلتا ہےسلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤ
کون معیار خیر و شر سمجھائےکون تکذیب جبر و جہل کرے
پس تقریب ملاقات یہاں شام ڈھلےدیر تک پھیلی رہے گی تری شرکت کی مہک
دھکیل آئے ہیں میراث کہنہ خانوں میںتمام مذہب و اقدار بھول آئے ہیں
دل، نظر، ذہن، خیالات، اصول و اقدارسب کے سب اس کی تگ و تاز سے لرزاں ترساں
آواز آئی وہ بزدل ہے جس کیعزیمت کے آثار و اقدار پر
بہت جھوٹا ہے آئینہمگر آئینۂ ایام میں تکذیب آئینہ کی حیثیت بھلا کیا ہے
تہذیب و تمدن کا روایات کا مرکزاقلیم وفا قبلۂ اقدار ہے دلی
شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!
یا خدا دے ہمیں وہ عقل سلیمکہ سمجھ ہم سکیں ہر اک سکیم
کہ یہ محل اب شکست اقدار کا نشاں ہےکہ یہ محل اب شکست افکار کی فغاں ہے
اس کی منظوری ترا قلب سلیمیہ پرندہ اور تو پرواز دوست
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم
ایسا جان لیوا تھا تصادمکوئی بھی شئے ثابت و سالم نہ تھی
اور اب نمود سحر کی خاطر ستم کش انتظار ہوں میںبہار تقدیس جاوداں کی مجھے پھر اک بار آرزو ہے
ثابت و سالم کون پلٹ کر جاتا ہےکس دل سے آئی تھی میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books