aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tarf-e-sukhan"
ہر طرف ہو جذبۂ حب وطن شعلہ فشاںگلخن سوزاں نظر آئے یہاں کا ہر جواںہاتھ میں ہو پرچم آزادیٔ ہندوستاںگا رہی ہوں گیت آزادی کا ہر سو وادیاںپھر یقیں آئے سخنؔ یہ انقلاب ہے زندہ بادہندو و مسلم کا ہاں اب رنگ لایا ہے جہاد
ہے داخل فطرت منعم میں ناداروں کو تڑپاناسر پائے حقارت سے ہر اک بیکس کو ٹھکراناہے فطرت دشمنان دین و ایمان و حقیقت کیوطن سے کر کے غداری ملوکیت سے مل جانادلوں میں تخم ریزی ہو چکی ہے جب کدورت کیبھلا دشوار کیا ہے ایسے نخل تر کا بڑھ جانابنائے حریت کی استواری کی تھی جب ہم نےسر داسؔ و بھگت سنگھ دے دئے تھے قبل نذرانہکوئی کہہ دے حکومت سے نہ الجھے نوجوانوں سےانہیں سکھلا دیا ہے ظلم نے ظالم سے ٹکرانایقیناً انقلاب ہند ہوگا اے سخنؔ ہوگاہمیں زیبا ہے اپنے گھر میں جھنڈا سرخ لہرانا
صنم کدہ وہ محبت کا اس کی دیوی بھیمیں اس کو حسن لکھوں حسن کی کتاب لکھوںکنول تراشوں کہ چہرے کو اک گلاب لکھوںشبیہ فکر لکھوں پیکر خیال لکھوںمتاع شعر لکھوں شعر کا جمال لکھوںسلوک لہجے کا اس کے کہ جیسے امرت رسوہ جاں فریبیٔ اظہار دل نواز سخنجبیں پہ وسعت قلب و نظر کی تحریریںحدیث مہر و وفا کی حسین تفسیریںغرور عشق ان آنکھوں کا احترام کرےوہ آسماں ہے زمیں اس سے کیا کلام کرے
اب یہ احساس دم فکر سخن ہونے لگااپنی ہی نظموں کا بھولا ہوا کردار ہوں میں
ایک آہ نارسا بیگانۂ ذوق سخنجیسے پہلی شام کو مہتاب کی مدھم کرن
میں وفا کا سوداگرلٹ کے دشت و صحرا سےبستیوں میں آیا ہوںخواب ہائے ارماں ہیںیا کچھ اشک کے قطرےزیب طرف مژگاں ہیںجانے کب ڈھلک جائیںتار تار پیراہنہے لہو میں تر لیکنجامہ زیبئ الفتلاج تیرے ہاتھوں ہےاک ہجوم آنکھوں کاچیختے سوالوں کاہر جگہ ہے استادہ
مجھے رنگون سے جب دعوت شعر و سخن آئیطبیعت فاصلے اور وقت کے چکر سے گھبرائیدل برگشتہ کو لیکن یہ میں نے بات سمجھائی''نہیں کچھ سبحہ و زنار کے پھندے میں گیرائی''''وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے''وہاں رنگینئ شعر و سخن کی آزمائش ہے
لالہ و گل کیا چمن بھی تیرے قدموں پر نثاریہ گہر ہائے سخن بھی تیرے قدموں پر نثار
دین ہے تیرے لہو کی ترا فن قبضے میںآج بھی سلطنت شعر و سخن قبضے میں
آج اپنی آخری منزل پہ ہے فکر رساآج آخر عقدۂ ذوق سخن وا ہو گیاکیا خبر تھی ہائے ایسا بھی زمانہ آئے گاایک دن کہنا پڑے گا لخت دل کا مرثیہ
اے عزیز محفل شعر و سخن تجھ کو سلاماے صبائے صبح دم زیب چمن تجھ کو سلامتیری غزلوں کی روانی کو فصاحت کو سلامتیری پرواز تخیل کی نزاکت کو سلامتیری کاوش تیری الفت تیری چاہت کو سلاممحفل اہل قلم کا تیری خدمت کو سلامآبیاری محفل نسواں کی اک عرصے سے کیتیری خدمت نے عطا کی اس چمن کو تازگیاے صباؔ اے خامہ بردار گلستان ادببن تری شرکت کے محفل میں بنی ہے بات کب
اے نکتہ وران سخن آرا و سخن سنجاے نغمہ گران چمنستان معافیمانا کہ دل افروز ہے افسانۂ عذرامانا کہ دل آویز ہے سلمیٰ کی کہانیمانا کہ اگر چھیڑ حسینوں سے چلی جائےکٹ جائے گا اس مشغلے میں عہد جوانیگرمائے گا یہ ہمہمہ افسردہ دلوں کوبڑھ جائے گی دریائے طبیعت کی روانیمانا کہ ہیں آپ اپنے زمانے کے نظیریؔمانا کہ ہر اک آپ میں ہے عرفی ثانیمانا کی حدیث خط و رخسار کے آگےبے کار ہے مشائیوں کی فلسفہ دانیمانا کہ یہی زلف و خط و خال کی رودادہے مایۂ گل کاریٔ ایوان معافیلیکن کبھی اس بات کو بھی آپ نے سوچایہ آپ کی تقویم ہے صدیوں کی پرانیمعشوق نئے بزم نئی رنگ نیا ہےپیدا نئے خامے ہوئے ہیں اور نئے مانیؔمژگاں کی سناں کے عوض اب سنتی ہے محفلکانٹوں کی کتھا برہنہ پائی کی زبانیلذت وہ کہاں لعل لب یار میں ہے آججو دے رہی ہے پیٹ کے بھوکوں کی کہانیبدلا ہے زمانہ تو بدلیے روش اپنیجو قوم ہے بے دار یہ ہے اس کی نشانیاے ہم نفسو یاد رہے خوب یہ تم کوبستی نئی مشرق میں ہمیں کو ہے بسانی
بڑی دیر تک سلسلۂ سخنمری شخصیت میرا انداز فن
تم اہل حرف کہ پندار کے ثناگر تھےوہ آسمان ہنر کے نجوم سامنے ہیںبس اک مصاحب دربار کے اشارے پرگداگران سخن کے ہجوم سامنے ہیں
مرا تعارف تو کچھ نہیں ہےمرا تعارف تو بس وہی ہےجو مجھ سے پہلے عظیم غالبؔ کا میرؔ کا تھاوہ میرؔ جس کو خدائے شعر و سخن کا رتبہ عطا ہوا تھامگر گدا کی طرح مرا تھاعظیم غالبؔ جو مے کی خیرات مانگتا تھا
میں ایک شاعر بے فکر محو فکر سخنمگر پیاز کے نرخوں کے یہ نشیب و فرازمرے معاش پہ ہوتے تو ہیں اثر اندازکہ میں بھی فرد بشر ہوں مجھے بھی جینا ہےمرا وجود مری بود و باش رہن زمن
مشاطگیٔ گیسوئے فن مدتوں ہوئیآرائش عروس سخن مدتوں ہوئیدست صبا فضائے ادب پر رہا محیطتہذیب ساکنان چمن مدتوں ہوئیتزئین بوستان وطن مدتوں ہوئی
ذرا سی بات ہے ایمائے روشنی سمجھواندھیرا ظاہر و باطن کا چاک چاک رہےرہے نہ مصحف ہستی کدورتوں سے غلیظمتاع فعل و سخن لغزشوں سے پاک رہےصفا و صدق ہوں کردار کی کھلی تحریرنہ کوئی وہم ہو باقی نہ کوئی باک رہے
شیدائے بوستاں کو سرو و سمن مبارکرنگیں طبیعتوں کو رنگ سخن مبارک
مرے اہل حرف و سخن سراجو گداگروں میں بدل گئےمرے ہم سفیر تھے حیلہ جوکسی اور سمت نکل گئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books