aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tark"
سمٹی ہوئی اس کے بازوؤں میںتا دیر میں سوچتی رہی تھیکس ابر گریز پا کی خاطرمیں کیسے شجر سے کٹ گئی تھیکس چھاؤں کو ترک کر دیا تھا
آج پھر درد و غم کے دھاگے میںہم پرو کر ترے خیال کے پھولترک الفت کے دشت سے چن کرآشنائی کے ماہ و سال کے پھولتیری دہلیز پر سجا آئےپھر تری یاد پر چڑھا آئےباندھ کر آرزو کے پلے میںہجر کی راکھ اور وصال کے پھول
اور کچھ دیر میں لٹ جائے گا ہر بام پہ چاندعکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گےعرش کے دیدۂ نمناک سے باری باریسب ستارے سر خاشاک برس جائیں گےآس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میںاپنی تنہائی سمیٹے گا، بچھائے گا کوئیبے وفائی کی گھڑی، ترک مدارات کا وقتاس گھڑی اپنے سوا یاد نہ آئے گا کوئیترک دنیا کا سماں ختم ملاقات کا وقتاس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤ گےاس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں رہنے دوکوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دواور ملے گا بھی اس طور کہ پچھتاؤگےاس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤگے
۱دور جا کر قریب ہو جتنےہم سے کب تم قریب تھے اتنےاب نہ آؤ گے تم نہ جاؤ گےوصل ہجراں بہم ہوئے کتنے۲چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کارنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کادولت لب سے پھر اے خسرو شیریں دہناںآج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کاگرمئی رشک سے ہر انجمن گل بدناںتذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کاصحن گلشن میں کبھی اے شہ شمشاد قداںپھر نظر آئے سلیقہ تری رعنائی کاایک بار اور مسیحائے دل دل زدگاںکوئی وعدہ کوئی اقرار مسیحائی کاساز و سامان بہم پہنچا ہے رسوائی کا۳کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گےکب تک چین کی مہلت دو گے کب تک یاد نہ آؤ گےبیتا دید امید کا موسم خاک اڑتی ہے آنکھوں میںکب بھیجو گے درد کا بادل کب برکھا برساؤ گےعہد وفا یا ترک محبت جو چاہو سو آپ کرواپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گےکس نے وصل کا سورج دیکھا کس پر ہجر کی رات ڈھلیگیسوؤں والے کون تھے کیا تھے ان کو کیا جتلاؤ گےفیضؔ دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھیتم اس حسن کے لطف و کرم پر کتنے دن اتراؤ گے
مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہ کریں گےاحرار کبھی ترک روایت نہ کریں گے
ترے پورے بدن پر اک مقدس آگ کا پہرہ ہےجو تیری طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کے ناخن روک لیتا ہےترے ہونٹوں سے نکلے سانس کی خوشبودر و دیوار سے رستہ بنا کر سارے بر اعظموں میں پھیل سکتی ہےتری بانہیں ابد کو جانے والی شاہراہیں ہیںتری دائیں ہتھیلی کی لکیریں دوسری دنیاؤں کے نقشے ہیں جو ان منشیوں کے بس سے باہر ہیںتری آنکھیں نہیں یہ دیوتاؤں کی پنہ گاہیں ہیںجن میں وقت جیسے زہر کا تریاق ہےتری زلفوں کی وسعت اس جہاں کی انتہاؤں سے پرے تک ہےتری گردن کسی جنت کے پاکیزہ درختوں کے تنے کو دیکھ کر ترشی گئی ہےہمارے جسم پر سے تیری پرچھائی گزر جائےتو ممکن ہے کہ ہم اس موت جیسے خوف سے آزاد ہو جائیںہمارے پاس ایسا کیا ہے جو تجھ کو بتا کر ہم تجھے قائل کریںبس اتنا ہے کہ اپنے لفظ برسا کر تری چھتری پہ بارش پھینک دیں گےیا ترے چہرے پہ اپنی نظم کی اک سطر سے چھاؤں کریں گےدھوپ دے دیں گےمگر کیا فائدہ اس کا کہ موسم خود ترے جوتوں کے تسموں سے بندھے ہیںترے ہم راہ چلنے کی کوئی خواہش اگر دل میں کبھی تھی بھیتو ہم نے ترک کر دی ہےہم اس لائق نہیں ہیںہمیں معلوم ہے کہ اگلے وقتوں میں یہ لوگترے پیروں کے سانچوں سے نئی سمتوں کے اندازے لگائیں گے
اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیراے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیراس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھشہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھفکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہیصبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہیسنگ تربت ہے مرا گرویدۂ تقریر دیکھچشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھمدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دیںترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیںوا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباںچھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاںوصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سےدیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سےمحفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑرنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑتو اگر کوئی مدبر ہے تو سن میری صداہے دلیری دست ارباب سیاست کا عصاعرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھےنیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھےبندۂ مومن کا دل بيم و ريا سے پاک ہےقوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہےہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامہ معجز رقمشیشۂ دل ہو اگر تیرا مثال جام جمپاک رکھ اپنی زباں تلمیذ رحمانی ہے توہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبروسونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سےخرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے
سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہاچرچا ہے جا بجا ترے حال تباہ کاسمجھا ہے تو نے نیچر و تدبیر کو خدادل میں ذرا اثر نہ رہا لا الہ کاہو تجھ سے ترک صوم و صلوٰۃ و زکوٰۃ و حجکچھ ڈر نہیں جناب رسالت پناہ کاشیطان نے دکھا کے جمال عروس دہربندہ بنا دیا ہے تجھے حب جاہ کااس نے دیا جواب کہ مذہب ہو یا رواجراحت میں جو مخل ہو وہ کانٹا ہے راہ کاافسوس ہے کہ آپ ہیں دنیا سے بے خبرکیا جانیے جو رنگ ہے شام و پگاہ کایورپ کا پیش آئے اگر آپ کو سفرگزرے نظر سے حال رعایا و شاہ کاوہ آب و تاب و شوکت ایوان خسرویوہ محکموں کی شان وہ جلوہ سپاہ کاآئے نظر علوم جدیدہ کی روشنیجس سے خجل ہو نور رخ مہر و ماہ کادعوت کسی امیر کے گھر میں ہو آپ کیکمسن مسوں سے ذکر ہو الفت کا چاہ کانوخیز دل فریب گل اندام نازنیںعارض پہ جن کے بار ہو دامن نگاہ کارکئے اگر تو ہنس کے کہے اک بت حسیںسن مولوی یہ بات نہیں ہے گناہ کااس وقت قبلہ جھک کے کروں آپ کو سلامپھر نام بھی حضور جو لیں خانقاہ کاپتلون و کوٹ و بنگلہ و بسکٹ کی دھن بندھےسودا جناب کو بھی ہو ترکی کلاہ کامنبر پہ یوں تو بیٹھ کے گوشے میں اے جنابسب جانتے ہیں وعظ ثواب و گناہ کا
کہو ہندوستاں کی جےکہو ہندوستاں کی جےقسم ہے خون سے سینچے ہوئے رنگیں گلستاں کیقسم ہے خون دہقاں کی قسم خون شہیداں کییہ ممکن ہے کہ دنیا کے سمندر خشک ہو جائیںیہ ممکن ہے کہ دریا بہتے بہتے تھک کے سو جائیںجلانا چھوڑ دیں دوزخ کے انگارے یہ ممکن ہےروانی ترک کر دیں برق کے دھارے یہ ممکن ہےزمین پاک اب ناپاکیوں کو ڈھو نہیں سکتیوطن کی شمع آزادی کبھی گل ہو نہیں سکتی
تعلقترک کرنا ہےتعلقترککر لینامگرویسے نہیںجیسےزمانہترککرتا ہےدلوں میںفرقکرتا ہےوفا کوغرق کرتا ہیںتعلقترک کرنا ہےتعلقترک کر لینامگراک مشورہ سن لواسے تم التجا سمجھوتمہیں بس اتناکرنا ہےکہ اسانجام سے پہلےمیرا آغاز دہرا دومجھے پھر مجھ سے ملوا دوتمہیں بس اتناکرنا ہےمحبتکے مہینے کیوہی تاریخ چنی ہےوہیاک وقترکھنا ہےوہیکپڑے پہننے ہیںوہیخوشبو لگانی ہےجو پہلے دن لگائی تھیمحبت کیوہپہلیمسکراہٹساتھ لانی ہےاسی کیفے میں آنا ہےاسی ٹیبل کو چننا ہےوہی کافی منگانی ہےکہ جو اس دن منگائی تھیچمکآنکھوں میںوہ ہی ہوکھنکباتوں میںوہ ہی ہوہتھیلی پراسی انداز میںمہندی رچا لیناکہ جواس دن رچائی تھیسنو جاناںمحبت کامرا پہلالفافہوہ گلابی خطاسے تم ساتھ لے آناتمہاراخطکہ جس کے رنگاب تکہو بہ ہو وہ ہیںاسے میں ساتھ لاؤں گالفافے ہمبدل لیں گےتعلقترک کر لیں گےاسی دنکی طرحکیفے سے جاتے وقتمڑ کر دیکھ پاؤ تویہ تم پر چھوڑتا ہوں میںتعلق توڑتا ہوں میںجہاں سےابتدا کی تھیوہیں پرانتہا کرناتعلقترک کرنا ہےتعلقترککر لینامگرویسے نہیںجیسےزمانہترککرتا ہے
جب دن ڈھل جاتا ہے، سورج دھرتی کی اوٹ میں ہو جاتا ہےاور بھڑوں کے چھتے جیسی بھن بھنبازاروں کی گرمی، افرا تفریموٹر، بس، برقی ریلوں کا ہنگامہ تھم جاتا ہےچائے خانوں ناچ گھروں سے کمسن لڑکےاپنے ہم سن معشوقوں کوجن کی جنسی خواہش وقت سے پہلے جاگ اٹھی ہےلے کر جا چکتے ہیںبڑھتی پھیلتی اونچی ہمالہ جیسی تعمیروں پر خاموشی چھا جاتی ہےتھیٹر تفریح گاہوں میں تالے پڑ جاتے ہیںاور بظاہر دنیا سو جاتی ہےمیں اپنے کمرے میں بیٹھا سوچا کرتا ہوںکتوں کی دم ٹیڑھی کیوں ہوتی ہےیہ چتکبری دنیا جس کا کوئی بھی کردار نہیں ہےکوئی فلسفہ کوئی پائندہ اقدار نہیں، معیار نہیں ہےاس پر اہل دانش ودوان، فلسفیموٹی موٹی ادق کتابیں کیوں لکھا کرتے ہیں؟فرقتؔ کی ماں نے شوہر کے مرنے پر کتنا کہرام مچایا تھالیکن عدت کے دن پورے ہونے سے اک ہفتہ پہلےنیلمؔ کے ماموں کے ساتھ بدایوں جا پہنچی تھیبی بی کی صحنک، کونڈے، فاتحہ خوانیجنگ صفین، جمل اور بدر کے قصوںسیرت نبوی، ترک دنیا اور مولوی صاحب کے حلوے مانڈے میں کیا رشتہ ہے؟
غیر کی ہو کے بھی تم میری محبت چاہواس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں یہ تارے کیسےفرش پر جس کو ابھی تک نہ ملی جائے پناہعرش سے چاند کا ایوان اتارے کیسےجس کی راہوں پہ بھٹکتے ہوئے جگ بیتے ہیںپھر اسی دشت کو بد بخت سدھارے کیسےقافلے آئے گئے گرد اٹھی بیٹھ گئیاب مسافر کو افق پر سے اشارے کیسےجن کی تقدیر میں تھا دامن گلچیں کا مزاروہ شگوفے تو پرائے ہیں ہمارے کیسےپیش کر سکتا ہوں لیکن تجھے بہلانے کوچاندنی رات میں مچلے ہوئے رومان کی یادبید مجنوں کے طلسمات سے پل پل چھنتیآسمانوں کو لپکتی ہوئی اک تان کی یادمیری وارفتگئ شوق کی سن کر رودادتری آنکھوں میں دمکتے ہوئے ارمان کی یاددونوں چہروں پہ شفق دونوں جبینوں پہ عرقدونوں سینوں میں دھڑکتے ہوئے ہیجان کی یادکون ہیں آپ مری زیست کی تنہائی ساتھیپہلی پہچان کی یاد آخری پیمان کی یاد
ہم جنوں ذات ترے حکم پہ نکلے جاناںایسے نکلے ہیں کہ شاید ہی پلٹ کر آئیںدل نے اک خواب جو دیکھا تو پکارا اٹھ کےحکم اترا ہے کہ گھر بار کو تنہا چھوڑیںاپنی وادی سے کسی دشت کو ہجرت پکڑیںاپنے باغات و چمن زار کو تنہا چھوڑیںاس سے پہلے کہ رگ و پے میں سیاہی پھیلےاپنے دربار طرب زار سے باہر نکلیںاس سے پہلے کہ شب زیست کا پہلو بدلےراحتیں ترک کریں اور سفر پر نکلیںاور جب راہ تلاشیں تو سفر میں ایسےکہ قدم درد کے ماروں کے حوالے کر دیںاپنے ہاتھوں کو یتیموں کے سروں پر رکھ دیںاپنی آنکھوں کو بچاروں کے حوالے کر دیںاتنا سننا تھا کہ بس رخت محبت باندھااپنے اندر کی کدورت کے دروں کو توڑااپنی خواہش زدہ عادات پہ تالے ڈالےاپنی خود غرض تمناؤں کو پیچھے چھوڑااور ہم راہ ترے پیار پرندے لے کراپنے ہاتھوں میں تری چاہ کی شمعیں تھامےاپنے ہونٹوں پہ ترے درد کے نغمے لے کراپنے ماتھے پہ ترے شوق کا صحرا باندھےہم جنوں ذات ترے حکم پہ خود سے نکلےایسے نکلے ہیں کہ شاید ہی پلٹ کر آئیں
الہ آباد میں ہر سو ہیں چرچےکہ دلی کا شرابی آ گیا ہےبہ صد آوارگی یا صد تباہیبہ صد خانہ خرابی آ گیا ہےگلابی لاؤ چھلکاؤ لنڈھاؤکہ شیدائے گلابی آ گیا ہےنگاہوں میں خمار بادہ لے کرنگاہوں کا شرابی آ گیا ہےوہ سرکش رہزن ایوان خوباںبہ عزم باریابی آ گیا ہےوہ رسوائے جہاں ناکام دوراںبہ زعم کامیابی آ گیا ہےبتان ناز فرما سے یہ کہہ دوکہ اک ترک شہابی آ گیا ہےنوا سنجان سنگم کو بتا دوحریف فاریابی آ گیا ہےیہاں کے شہر یاروں کو خبر دوکہ مرد انقلابی آ گیا ہے
راج چھوڑا بادشاہت کی امیدیں ترک کیںہو گیا بیتاب دل روح حقیقت کے لئے
لاکھ ضبط خواہش کےبے شمار دعوے ہوںاس کو بھول جانے کےبے پنہ ارادے ہوںاور اس محبت کو ترک کر کے جینے کافیصلہ سنانے کوکتنے لفظ سوچے ہوںدل کو اس کی آہٹ پربرملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہےپھر وفا کے صحرا میںاس کے نرم لہجے اور سوگوار آنکھوں کیخوشبوؤں کو چھونے کیجستجو میں رہنے سےروح تک پگھلنے سےننگے پاؤں چلنے سےکون روک سکتا ہےآنسوؤں کی بارش میںچاہے دل کے ہاتھوں میںہجر کے مسافر کےپاؤں تک بھی چھو آؤجس کو لوٹ جانا ہواس کو دور جانے سےراستہ بدلنے سےدور جا نکلنے سےکون روک سکتا ہے
وہ سانسوں کی تیزی وہ سینے کی دھڑکنوہ دونوں کا چھپ چھپ کے آنسو بہاناوہ تجدید الفت کے سو سو بہانےوہ اک دوسرے سے یوں ہی روٹھ جاناوہ ترک محبت کے الزام دے کرکسی کا کسی کو ہنسی میں رلاناتو ہی مجھ سے کہہ دے میں کیوں بھول جاؤں
چھیڑ اس انداز سے اے مطرب رنگیں نواٹوٹ جائے آج اک اک تار تیرے ساز کا
آج رہ رہ کے تڑپتا ہوں نئی بات ہے کیادل نے کیوں ترک محبت کی قسم کھائی ہےوہ ستم لاکھ کریں ان کا تو شیوہ ہے یہیعشق کی ترک محبت میں بھی رسوائی ہےاب تو جلتے ہوئے جینا ہی پڑے گا اے دل''تو نے خود اپنے کئے کی یہ سزا پائی ہے''
تعلق اس طرح توڑا نہیں کرتےکہ پھر سے جوڑنا دشوار ہو جائےحیات اک زہر میں ڈوبی ہوئی تلوار ہو جائےمحبت اس طرح چھوڑا نہیں کرتےخفا ہونے کی رسمیں ہیںبگڑنے کے طریقے ہیںرواج و رسم ترک دوستی پر سو کتابیں ہیںلکھا ہے جن میںرستہ وضع داری کا یوں ہی چھوڑا نہیں کرتےتعلق اس طرح توڑا نہیں کرتےکبھی بلبل گلوں کی خامشی سے روٹھ جاتی ہےپر اگلے سالسب کچھ بھول کر پھر لوٹ آتی ہےاگر پودوں سے پانی دور ہو جائےتو ہمسایہ درختوں کی جڑوں کے ہاتھپیغامات جاتے ہیںمحبت میں سبھی اک دوسرے کو آزماتے ہیںمگر ایسا نہیں کرتےکہ ہر امید ہر امکان مٹ جائےکہاں تک کھینچنی ہے ڈوریہ اندازہ رکھتے ہیںہمیشہ چار دیواری میں اک دروازہ رکھتے ہیںجدائی مستقل ہو جائےتو یہ زندگی زندان ہو جائےاگر خوشبو ہواؤں سے مراسم منقطع کر لےتو خود میں ڈوب کر بے جان ہو جائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books