aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tho.De"
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیںاک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں
چھوٹا سا اک گاؤں تھا جس میںدیئے تھے کم اور بہت اندھیرابہت شجر تھے تھوڑے گھر تھےجن کو تھا دوری نے گھیرااتنی بڑی تنہائی تھی جس میںجاگتا رہتا تھا دل میرابہت قدیم فراق تھا جس میںایک مقرر حد سے آگےسوچ نہ سکتا تھا دل میراایسی صورت میں پھر دل کودھیان آتا کس خواب میں تیراراز جو حد سے باہر میں تھااپنا آپ دکھاتا کیسےسپنے کی بھی حد تھی آخرسپنا آگے جاتا کیسے
کوئی تو جھولنے میں جھولے کی ڈور چھوڑےیا ساتھیوں میں اپنے پاؤں سے پاؤں جوڑےبادل کھڑے ہیں سر پر برسے ہیں تھوڑے تھوڑےبوندوں میں بھیگتے ہیں لال اور گلابی جوڑےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
بس اسی کرب کے پہلو میں گزارے ہیں پہربس یوں ہی غم کبھی کافی کبھی تھوڑے آئےپھر اچانک کسی لمحے میں جو چٹخے پتےہم وہی شوق کے مارے ہوئے دوڑے آئے
عشق آوارہ مزاجوہ مسافر تو گیانہ کوئی اس کی مہک ہے کہ جو دے اس کا پتہنہ کوئی نقش کف پانہ کوئی اس کا نشاںکوئی تلخی بھی تہہ جام نہ چھوڑی اس نےزندگی باقی ہےایک سنجیدہ ہنسیسوچ سی دل میں بسیتیز آئی ہوئی سانسذہن میں تھوڑے سے وقفے سے کھٹکتی ہوئی پھانساور دکھتا ہوا دلچوٹ تھی جس پہ لگیچوٹ ویسی تو نہیںدرد باقی تو نہیںلاکھ مانے نہ مگرکچھ پشیمان سا دلیوں بدل جانے پرآپ حیران سا دلاس کو کیا اپنا پتہیہ ہے انسان کا دلکوئی پتھر تو نہیںجس پہ مٹتی نہیں پڑ جائے جو اک بار لکیر
کتنے خوب صورت ہوتے ہیں نااور تھوڑے سرپھرے بھی
ایک لمبے ہیں عالم بھی فاضل بھی ہیںسچ تو یہ ہے کہ تھوڑے سے کاہل بھی ہیں
برسوں بعد جب اس کو دیکھا پھول سا چہرہ بدل چکا تھاپیشانی پر فکر کی آیت آنکھیں اب سنجیدہ تھیںہونٹ کنول اب بھی ویسے پر شادابی کچھ کم کم تھیپکے پھلوں کا بوجھ اٹھائے جسم تنا بل کھاتا تھارنگیں پیراہن میں اب بھیخواب کی صورت لگتی تھیجانے کیسی کیسی حکایت دیکھ اسے یاد آتی تھیپہلی دفعہ جب ساتھ تھے بیٹھے کلاس کے اندر ہم دونوںاس کے جسم کے لمس نے مجھ کوپہلے تو بلایا تھا پھر پکا دوست بنایا تھاشام تلک میلے میں کیسے پھرتے رہے تھے ادھر ادھررات گئے ممی نے اس کو کھوٹی کھری سنائی تھیریل کے اندر بیٹھ کے کیسے شرمائے گھبرائے تھےبغیر ٹکٹ کے پہنچ کے گھر پر کتنی موج منائی تھیدوپہر کو ڈھابے میںچائے اور سگریٹ کے ساتھتھوڑے سے رومانی ہو کرکیا کیا باتیں کرتے تھےگھر کے باہر لان بھی ہوگا گیندا اور گل مہر کے پھولکھری کھاٹ نہیں رکھیں گے بیڈ بڑے مہنگے ہوں گےسوٹ مرا ایسا ہوگا تیری ساری ریشم کیبیٹے کا جو نام رکھیں گے ہندو نہ مسلم ہوگابل چکاتے وقت میں اکثر پیسے کم پڑ جاتے تھےدیکھ کے ددو ہنستا تھا پھرجانے کیوں خوش ہوتا تھاکوئی بات نہیں ہے بیٹےکل جب آؤ دے جاناجاتے ہوئے جب سیٹھ نے اس کی کمر میں بازو پہنایادیکھ کے اس کی آنکھیں مجھ کو چھلک پڑی تھیں چپ کے سےسوچ رہا تھا پلٹ کے اب وہپوچھے گی تم کیسے ہویہ ہے آپ کی کافی صاحب اور بھی کچھ چہیے ہوگا
ہم پیدا کرتے ہیںہم گیلی مٹی کو مٹھی میں بھینچا کرتے ہیںتو شکلیں بنتی ہیںہم ان کی چونچیں کھول کے سانسیں پھونکا کرتے ہیںجو مٹی تھے وہ چھو لینے سے طائر ہوتے ہیںہم شاعر ہوتے ہیںکنعان میں رہتے ہیںجب جلوہ کرتے ہیںتو ششدر انگشتوں کو پوریں نشتر دیتی ہیںپھر خون ٹپکتا ہے جو سرد نہیں ہوتااک سہما سا سکتہ ہوتا ہے درد نہیں ہوتایونان کے ڈاکو ہیںہم دیوتاؤں کے محل میں نقب لگایا کرتے ہیںہم آسمان کا نیلا شہ دروازہ توڑتے ہیںہم آگ چراتے ہیںتو اس دنیا کی یخ چوٹی سے برف پگھلتی ہےپھر جمے ہوئے سینے ملتے ہیںسانس ہمکتی ہےاور شریانوں کے منہ کھلتے ہیںخون دھڑکتا ہےجیون راماین میںجب راون استبدادی کاروبار چلاتا ہےہم سیتا لکھتے ہیںجب رتھ کے پہیے جسموں کے پوشاک کچلتے ہیںتو گیتا لکھتے ہیںجب ہونٹوں کے سہمے کپڑوں پر بخیہ ہوتا ہےہم بولا کرتے ہیںجب منڈی سے ایک ایک ترازو غائب ہوتا ہےتو جیون کو میزان پہ رکھ کر تولا کرتے ہیںمزدوری کرتے ہیںہم لفظوں کے جنگل سے لکڑی کاٹا کرتے ہیںہم ارکشی کے ماہر ہیں انبار لگاتے ہیںپھر رندہ پھیرتے ہیں پھر برما دیتے ہیںپھر بدھ ملاتے ہیں پھر چول بٹھاتے ہیںہم تھوڑے تھوڑے ہوتے ہیںاس بھری بھرائی دنیا میں ہم کم کم ہوتے ہیںجب شہر میں جنگل در آئے اور اس کا چلن جنگلائےتو ہم غار سے آتے ہیںجب جنگل شہر کی زد میں ہو اور اس کا سکوں شہرائےتو برگد سے نکلتے ہیںہم تھوڑے تھوڑے ہوتے ہیںہم کم کم ہوتے ہیںہم شاعر ہوتے ہیں
لو شام ہو رہی ہےاور اس نے ہمارے چہرے چوری کرنے شروع کر دئے ہیںتم چھوٹے چور ہومیں چھوٹا چور نہیںسمندر میں اتراتو سمندر نے میرے کپڑوں کا کوئی رنگ نہ چرایاہاں تھوڑے سے میرے سانس ضروراس نے چوری کر لئے تھےمعلوم ہوتا ہے یہ بھی چور ہےتم نے کبھی مٹی میں غوطہ لگایا ہےمٹی چوری کرنا بڑا مشکل کام ہےاگر میں نے مٹی میں غوطہ لگایاتو وہ میرے سارے سانس چوری کر لے گاتو پھر یہ بندہ چور چور نہیں رہے گاراستے میں تو کئی راہیں رنگی ہوئی ہیںاور ان دیکھے نے بعض جگہایک ہی رنگ رنگا ہوا ہےتم غاروں کے رنگ چوری کر سکتے ہوسچ پوچھو تو سب سے بڑا رنگ چور سورج ہےرنگ تک پہنچتے پہنچتے یہ تمہیں کئی رنگ دکھا جائے گادیکھنا آئینے میں ہماری آنکھیں ایک سی تو نہیں لگ رہیںکبھی ہوا کو بھی شیشہ کہتے ہیںدیکھ ہوا تیرے کپڑے بھی پکڑ رہی ہے اور میرے بھیکہیں یہ بھی تو چور نہیںتم چوری کرنے نکلے ہو کہ رنگ ہونےدیکھو سمندر جب پتھر کی سطح پر آتا ہےتو سفید ہو جاتا ہےاور ہوا جب پیڑوں پہ چڑھناچتی ہے تو ہری ہو جاتی ہےآدمی جب روتا ہےاپنے آنسوؤں میں ڈوب جاتا ہےاس وقت تم آدمی کا کوئی رنگ چوری نہیں کر سکتےبتاؤآسمان کا رنگ زمین پہ کیسے اتراتمہیں اتنی باریکیاں بتا دوںتو خود چوری ہو جاؤںچوری کرو پہلے اس پتھر کا رنگ بھیاس کو جتنا توڑتا ہوںایک ہی رنگ کی آواز دیتے ہیں یہ پتھراور رنگ چورہ چورہ ہو جاتے ہیںپانی بھی اپنا رنگ نہیں نکال رہاکہیں یہ بھی روتا ہوا آدمی تو نہیںٹوٹے پھول کی گفتگو بھی خنجر ہو گئی ہےجو پھول شام میں توڑے تھےانہیں رات کے اندھیروں نے کالا کر دیا ہے
باہر ایک آواز ہےتمام آوازوں سے مختلففضا کی مردہ شریانوں میںایک تازہ سچائی بھر دینے والی آوازبے حس مکانوں منڈلاتی ہوئیمیرے دروازے پر دستک دیتی ہوئیکبھی مدھم کبھی تیزایک بے چین دستکمجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہےمجھ تک پہنچانا چاہتی ہےتھوڑے ہی فاصلے پر کھڑے ایک موسم کی باتشاید میری ہی کوئی باتلیکن میں دروازے تک کیسے جاؤںاسے کیسے کھولوںباہر کھڑے موسم کو اندر کیسے لاؤںمیں تو عرصہ ہوااپنے ہاتھ پاؤںبطور ضمانت رکھ چکا ہوںکس جرم میںکس کے پاس رکھ چکا ہوںبالکل بھول چکا ہوں
کھو گئی ہیں کام کے اندر کنواری لڑکیاںساتھ وہ ہم جولیاں بھی آئی ہیں جو مہماںایک نازک انگلیوں سے دیوتے دھوتی ہوئیدوسری دھوئے ہوؤں کو چن کے خوش ہوتی ہوئیاور گڑوا تیسری آفت کی پر کالا لیےبتیاں بٹتی ہے چوتھی روئی کا گالا لیےپانچویں ہر سو دیے ترتیب سے دھرتی چلیاور چھٹی بتی سجا کر تیل سے بھرتی چلییہ جھمکا کر چکا آراستہ جب طاق دورصحن سے زینے پہ دوڑا اور پہنچا بام پراوڑھ کر کملی سواد شام نکلا شرق سےجوں ہی رو کاروں پہ چھایا تھوڑے تھوڑے فرق سےشام کا گیسو کھلی آنکھوں پہ جادو کر گیابجھ گئی شمع شفق نظروں میں کہرا بھر گیاطور کا جلوہ چراغوں میں سمٹ کر رہ گیاآنکھ ملنا تھی کہ نظارہ پلٹ کر رہ گیاروشنی میں ساریوں کے رنگ لہرانے لگےمختلف آنچل ہوا کے رخ پہ بل کھانے لگےیہ دیوالی کے مناظر یہ نگاہیں کامیابیا الٰہی تا قیامت بر نہ آید آفتاب
اللہ میاںپانی برسا دوتپتی گرمی دور بھگا دومیں اک مزدورن کا بچہبھولا بھالا بالکل سچاکتنا کم کم مانگ رہا ہوںاچھا موسم مانگ رہا ہوںاونچے بنگلے اچھے کھانےمیرے گھر چاول کے دانےایک گھڑا اور ایک چٹائیکچھ چمچے اور ایک کڑھائیسوکھے لب اور آنکھیں پانیرت بھیجو تم خوب سہانیہم موسم میں کھونے والےتھوڑے سے خوش ہونے والےبجلی پنکھا کیا جانیں ہمبس اک تم کو پہچانیں ہماللہ میاںبانہیں پھیلا دوبس تھوڑا پانی برسا دو
جب میں پہلی محبت میں تھاان دنوںمیں نے تھوڑا سا خود کو الگ کر کےبٹوے کی پوشیدہ جیبوں میں بھی رکھ لیا
مگر وہ کوئی ماہ رو بھی نہیں تھیسو تھوڑے بہت کھاتے پیتے گھروں سےجو آتے تو بے جوڑ رنڈووں کے رشتے ہی آتےکوئی اتفاقاً جو کم عمر ہوتاتو خواہش بہت کلبلاتیمگر کیا وہ کرتیکہ ایسوں کی تنخواہ بھی کم نکلتیجو ہوتی وہ آدھی تو پہلے ہی بیسی میں ڈلتیسو شادی جو کرتی تو اماں کو کیوں کر کھلاتیوہ چھوٹے کو کیسے پڑھاتییہ سب سوچ کر آپ ہی آپ وہ مسکراتیبڑی خوش لحاظی سے انکار میں سر ہلاتیچھپر کھٹ پہ اماں کے پاؤں دباتیوہیں بیٹھے بیٹھے ہوئے اونگھ جاتی
آئیں گے اک دن پردیس والےاے گاؤں تھوڑے آنسو بچا لے
دریا سے اڑتی ہوااپنی لہروں بھری شال پھیلائےبوڑھا فلک تھوڑے آنسو بہائےسیہ ابر پلکوں کی جھالر اٹھائےچمکتی ہوئی دھوپ آخر میں آئےمطلا بدن کو بچھائےپہاڑوں کے قدموں سےلمبے سمندر کی وسعت بھری سرحدوں تک!
۱ایک تھی چڑیاایک تھا کواایک تھی میناایک تھا طوطاایک تھی بلیایک تھا کتاایک تھی مرغیایک تھا بکراچڑیا کوامینا طوطابلی کتامرغی بکرایہ سب ساتھ رہا کرتے تھےدکھ سکھ ساتھ سہا کرتے تھے۲اچھی چڑیا بھولی بھولیاک دن ان سب سے بولیآؤ چل کر کام کریں کچھکام کریں کچھ نام کریں کچھخالی رہ کر وقت نہ کھوئیںکھیت میں چل کر گیہوں بوئیںجب یہ سب گیہوں پک جائیںتب ہم سب مل جل کر کھائیں۳چڑیا کی جب بات سنی یہکوا بولا میں نہیں بوتامینا بولی میں نہیں بوتیطوطا بولا میں نہیں بوتابلی بولی میں نہیں بوتیکتا بولا میں نہیں بوتامرغی بولی میں نہیں بوتیبکرا بولا میں نہیں بوتاسب نے کہا جب ہم نہیں بوتےچڑیا نے وہ آپ ہی بویا۴تھوڑے دنوں میں وقت وہ آیاکھیت یہ گیہوں کا پھل لایاچڑیا بولی چل کر کاٹیںگیہوں سے گھر اپنا پاٹیںان سب نے جب کام سنا یہکوا بولا مجھ سے نہ ہوگامینا بولی میں نہ کروں گیطوطا بولا مجھ سے نہ ہوگابلی بولی میں نہ کروں گیکتا بولا مجھ سے نہ ہوگامرغی بولی میں نہ کروں گیبکرا بولا مجھ سے نہ ہوگاجب نہ کسی نے کام کیا یہچڑیا نے کھیت آپ ہی کاٹا۵گیہوں گھر میں کاٹ کے ڈالےپھر سب سے یوں بولی چڑیاآؤ یہ ہم چکی میں پیسیںپس کر یہ ہو جائیں گے آٹاچکی اور آٹے کی سن کران میں سے ہر اک گھبرایاسب سے پہلے کوا بولاآٹا یہ مجھ سے نہ پسے گامینا بولی طوطا بولاآٹا یہ مجھ سے نہ پسے گامینا بولی طوطا بولاآٹا یہ ہم سے نہ پسے گابلی بولی کتا بولاآٹا یہ ہم سے نہ پسے گامرغی بولی بکرا بولاآٹا یہ ہم سے نہ پسے گاجب نہ کسی نے پیسا آٹاچڑیا نے وہ آپ ہی پیسا۶سارے گیہوں پیس چکی وہپھر ان سے یوں بولی چڑیاآؤ پکائیں مل کر روٹیکام یہ ہو جائے تو ہے اچھابات یہ سن کر کوا بولامجھ سے نہیں پک سکتی یہ روٹیمینا بولی طوطا بولاہم سے نہیں پک سکتی یہ روٹیبلی بولی کتا بولاہم سے نہیں پک سکتی یہ روٹیمرغی بولی بکرا بولاہم سے نہیں پک سکتی یہ روٹیجب نہ کسی نے کام کیا یہچڑیا نے روٹی بھی پکا لی۷روٹی جب چڑیا نے پکا لیپوچھا کون یہ کھائے گا روٹیکوا بولا میں کھاؤں گاسب روٹی چٹ کر جاؤں گامینا بولی میں کھاؤں گیطوطا بولا میں کھاؤں گابلی بولی میں کھاؤں گیکتا بولا میں کھاؤں گامرغی بولی میں کھاؤں گیبکرا بولا میں کھاؤں گاسب نے کہا ہم کھائیں گے روٹیساری چٹ کر جائیں گے روٹیدل میں وہ نہ ذرا شرمائےجھٹ پٹ روٹی کھانے آئے۸اب تو ان سے چڑیا بولیروٹی یہ تم کو نہ ملے گیکام سے تم سب گھبراتے ہوپھر یہ روٹی کیوں کھاتے ہوپھر یہ روٹی کیوں کھاتے ہوبات یہ سن کر سب گھبرائےسب شرمائے سب پچھتائےچڑیا اور سب اس کے بچےمل کر کھانا کھانے بیٹھےسب نے مل کر کھانا کھایاسب نے مل کر گانا گایاکام کا پھل چڑیا نے پایاکام نے ان کا کام بنایاچاند میں بیٹھی تارا رانیاے لو بچو ختم کہانی
علی محسن کی آنکھیں تو نہیں باتیں نہایت خوب صورت تھیںوہ یاروں کو بتاتا تھاکہ وہ دفتر میں آئی سب نئی انٹرنز کے چکر میں رہتا ہےجو تھوڑے دن کو آتی تھیںقمیصیں جن کی اونچی تھیںیا جن کے چاک نیچے تھےجو بچھوے اور پازیبیں پہنتی تھیںجو خوش ہوں یا نہ ہوںخوش حال لگتی تھیںوہ باتوں کی انی سے جب کسی انٹرن کے دل میںبہت سے نت نئے اور پر مسرت خواب بوتا تھااسے خود بھی ذرا دھیما سا اور مغلوب سا اک عشق ہوتا تھا
بہت سی آواز جمع کر کےایک چیخ بنائی جا سکتی ہےبہت تھوڑے لفظوں سےایک باغی نظم بنائی جا سکتی ہےلیکنزندہ قبرستان میں ایک نظم کا کتبہ کافی نہیںقبریں دم سادھے پڑی ہیںہماری مائیں مردہ بچوں کو جنم دے رہی ہیںلاشیں شناخت کرتے ہوئے ہجوم اپنا چہرہبھول جاتا ہے!ہم زندگی سے صحبت کرنے نکلے تھےاور زندگی نے ہمارے خصیوں سے کینچے بنا لیےہمارے لہو میں چیونٹیاں رینگتی ہیںمگر ہم اپنی مرضی سے کھجلی تک نہیں کر سکتےقطار میں کھڑے کھڑے ہم دوسروں سے مختلف کیسے ہو گئے!!!زندگی میزان ہوتی تو ہم اس کے پلڑے اپنے وجودوں سے بھر دیتےمگر کیا کریں کہ ہم خود اپنی نظروں میں بہت بے وزن تھےہتھیلیوں میں سوراخ ہوں تو آنکھیں کہاں سنبھالیںہم نے صرف چہرے نبھائے رشتے نہیںپیاسی زمینوں میں آنسو کاشت کر کے بھیبوند بھر ہریالی نہیں کھلیہم ساری عمر اپنے خوابوں کے جولاہے بنے رہےاور اپنے بچوں کے لیے ایک سایہ دار پرچم نہ بن سکےہماری مٹی محض مٹی رہیکبھی وطن نہ بن پائی!!!
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books