aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "udhe.D"
سنتے ہو سامعین با تمکیںسنتے ہو حاضرین صدر نشیںجو ہیں دنیا میں قوم کے ہمدردبندۂ قوم ان کے ہیں زن و مردباپ کی ہے دعا یہ بہر پسرقوم کی میں بناؤں اس کو سپرماں خدا سے یہ مانگتی ہے مرادقوم پر سے نثار ہو اولادبھائی آپس میں کرتے ہیں پیماںتو اگر مال دے تو میں دوں جاںاہل ہمت کما کے لاتے ہیںہم وطن فائدے اٹھاتے ہیںکہیں ہوتے ہیں مدرسے جاریدخل اور خرج جن کے ہیں بھاریاور کہیں ہوتے ہیں کلب قائممبحث حکمت اور ادب قائمنت نئے کھلتے ہیں دوا خانےبنتے ہیں سیکڑوں شفا خانےملک میں جو مرض ہیں عالم گیرقوم پر ان کی فرض ہے تدبیرہیں سدا اس ادھیڑ بن میں طبیبکہ کوئی نسخہ ہاتھ آئے عجیبقوم کو پہنچے منفعت جس سےملک میں پھیلیں فائدے جس کےکھپ گئے کتنے بن کے جھاڑوں میںمر گئے سیکڑوں پہاڑوں میںلکھے جب تک جیے سفر نامےچل دیے ہاتھ میں قلم تھامےگو سفر میں اٹھائے رنج کمالکر دیا پر وطن کو اپنے نہالہیں اب ان کے گواہ حب وطندر و دیوار پیرس و لندنکام ہیں سب بشر کے ہم وطنوںتم سے بھی ہو سکے تو مرد بنوچھوڑو افسردگی کو جوش میں آؤبس بہت سوئے اٹھو ہوش میں آؤقافلے تم سے بڑھ گئے کوسوںرہے جاتے ہو سب سے پیچھے کیوںقافلوں سے اگر ملا چاہوملک اور قوم کا بھلا چاہوگر رہا چاہتے ہو عزت سےبھائیوں کو نکالو ذلت سےان کی عزت تمہاری عزت ہےان کی ذلت تمہاری ذلت ہےقوم کا مبتدل ہے جو انساںبے حقیقت ہے گرچہ ہے سلطاںقوم دنیا میں جس کی ہے ممتازہے فقیری میں بھی وہ با اعزازعزت قوم چاہتے ہو اگرجا کے پھیلاؤ ان میں علم و ہنرذات کا فخر اور نسب کا غروراٹھ گئے اب جہاں سے یہ دستوراب نہ سید کا افتخار صحیحنہ برہمن کو شدر پر ترجیحہوئی ترکی تمام خانوں میںکٹ گئی جڑ سے خاندانوں میںقوم کی عزت اب ہنر سے ہےعلم سے یا کہ سیم و زر سے ہےکوئی دن میں وہ دور آئے گابے ہنر بھیک تک نہ پائے گانہ رہیں گے سدا یہی دن راتیاد رکھنا ہماری آج کی باتگر نہیں سنتے قول حالیؔ کاپھر نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا
میری بچی نے مجھ سے کل پوچھابابا یہ آسماں ہے نیلا کیوںمیں نے سوچا پر اس سے کہہ نہ سکایہ سوال اس کے دل میں آیا کیوںکیوں یہ باتیں ہیں اتنی دل آویزہے یہ انداز اتنا پیارا کیوںکیوں ہیں لب پر یہ اتنے سارے سوالہے تبسم یہ پھول جیسا کیوںمیرے دل میں ادھیڑ بن کیا ہےمیں ستاروں سے جا کے الجھا کیوںستم انگیز زندگی دلکشپھر یہ انجام کار مرنا کیوںمیں نے یہ کیا جواب سوچا ہےتم نے ایسا سوال پوچھا کیوں
دیار غریباں سے آیا ہوا اک ادھیڑ عمر چوہاجو بس رزق کی بو کو پہچانتا ہےجو ہر وقت بیمار ہر وقت بیزار چوہیا سے تنگ آ چکا ہےاسے دیکھ لے گا تو جی جائے گاشوق وارفتگی طرز آمادگیاس کو بلی کے نزدیک لے جائے گالمحۂ قرب میںساعت وصل میںاس حسینہ کے ناخن نکل آئیں گےاس ادھیڑ عمر چوہے سے شوخی کریں گےاسے ہانپتا کانپتا ادھ موا چھوڑ کرپھر سے ملبوس مخمل میں چھپ جائیں گے
ایک ایسے سروے کے مطابقجو میرے دوستاپنے دل کو موصول ہونے والیغیر ضروری خبروں کو جمع کر کےمرتب کر رہے ہیںشہر میں کوئی خودکشی نہیں کر رہامحبت میں ناکامی پر فینائل پینے والی لڑکیاںاور نوکری نہ ملنے پربڑے بھائی کے لائسنس یافتہ پستول سےخودکشی کرنے والے لڑکےبہت دن سے نظر نہیں آئےدوپٹے کا پھندا بنا کر مر جانے والیبے اولاد دلہنیںاور طویل بیماری سے تنگ آ کرخود کو جلا کر ہلاک کرنے والےادھیڑ عمر مریضناپید ہو گئے ہیںشہر میں اب جس کو بھی خودکشی کرنی ہواسے بہت زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑتیوہ باہر نکلتا ہےاور تھوڑی دیر کے لیےنشانہ بازوں والی یلو کیب کاانتظار کرتا ہےیا جب اس کی سڑک کے دونوں طرفخوب فائرنگ ہو رہی ہووہ بلا ارادہ بالکنی میں جا کے کھڑا ہو جاتا ہےجب لوگ خودکشی کرنا چاہتے ہیںیقین کیجئےکسی جنسی امتیاز کے بغیررنگ، نسل اور زبان کے فرق کو خاطر میں نہ لاتے ہوئےگولیاں ہر جگہانہیں ڈھونڈھ نکالتی ہیں
ہمیں بتایا گیا ہےسرد قہقہوں کے آہنی جمود سےشمالی مریخ پر نئے ساحل بنائے جائیں گےنسبتاً کم سنجیدہ لڑکیاںہماری محبوبائیں نہیں بن سکتیںالبرٹا کے لینڈسکیپ میںونڈ ملز کے چکراتے سائےٹیولپس کی آنکھوں سے برف ہٹائیں گےعبادت گاہ کی دیواروں پر کندہخدا کے فرمان پر پھول رکھنے کے عوضوہ ہم سے بد ظن نہیں ہوگاڈیفوڈلز کے ہاتھ اکارڈین بجائیں گےجن سے پھوٹتی تھکی ہاری موسیقیتسٹریٹ لائٹ کی بوڑھی روشنی تان کر سو جائے گیواشنگٹن ڈی سی میں چیری کے درختوں پرنئے سال کے خواب اگائے جائیں گےساگانو کے سبز بانسوں سےوائلن کے تار بنائے جائیں گے جن پرریڈ انڈین ماؤں کے سینوں سے پگھلتینیلی بد دعائیں بجائی جائیں گیجواں مرگ حسیناؤں کی گول سسکیاںشکستہ پیانو کی دراڑوں سےمردہ گیتوں کے فنگرپرنٹس ادھیڑ لیں گیزنگ آلود کھڑکی کے میلے شیشوں سےکانپتی انگلیوں کی نقرئی الجھنیںادھوری نظموں کے لاشے کھرچ لیں گیاس سے پہلے کہ ہم خوف زدہ ہوںہم سے پہلے تخلیق کی جانے والیہماری محبوباؤں کے جسمانی ارتقا سےجسم ہونٹوں پر تقسیم کئے جائیں گےبرف زدہ پرندے ہمیں دیکھ پائیں گےہمارے گناہ مقدس ہیںانجان دوشیزہ کی فرمائش پر لکھے گئے ناول کی طرح
جب دنیا میرے دکھ بٹانے آئیمیرے سارے دکھ چرا لیے گئے تھےبھری بہار میں میرے آنسوؤں کے بیج جلائے گئے ہیںآج دیر بعد نئی محبت کو منسوخ کر کےپہلی تنہائی سے لپٹ کر سونا اچھا لگا ہےآئندگاں کی اداسی لپیٹ کرایک پرانی محبت کا پرسا وصول کرتے ہوئے بھیدل نہیں بھراجذبوں کی کتر بیونت اور خالی لفظوں میں دکھوں کے پیوند لگاتےتھک گیا ہوںاسی ادھیڑ بن میںخود کو سینت سینت کر رکھتے ہوئےاپنے پیرہن میںایک خواب تک سستانے کی فرصت نہیںسو نئے دکھ کمانے کی عجلت میںتمہارا سواگت ہے دوست!!!
اسفنج نما جسم پھولے ہوئے ہوں گےمردہ مچھلی گھاس اگل دے گیغیر متوازی اور تعفن زدہ خلیوں کونامیاتی ذرے چبا جائیں گےجن سے دھاتی تھکن کشید کی جائے گیکیا ہم نہیں جانتےہڈیوں اور ناخنوں کے ٹکڑوں سےخدائے زرد رو اپنی آخری جنگ کے واسطےکارتوس اور گن پاؤڈر بنا رہا ہےہم یقیناً بے خبر ہیںخدا کے نتھنوں سے بہتی وحشت کا ارتکازاور مریخی باشندے کی چیخ ہم پر ٹوٹ پڑے گیجینیاتی عدم تغیر کے باوجود پیدائشی معذور بچے کے لئےبوکھلاہٹ اور بد ہیئتی کا محلول پیتی ہوئی بوڑھیاںنحوست کے اولیں دنوں میںبلیک وڈو کی رال سے نیلی رگیں کات رہی ہوں گیبانجھ عورت کا ترانہ ہمارا قومی گیت ہوگابعد از مرگ ہونے والی سختی کا وائرسلمس آلود اعضا کے شگافوں میں کود پڑے گاناکارہ جہاز کے پروپیلر کے مانندیا پھرادھیڑ عمر کسان کی بد دعا میں کھنکتےمذموم اور نعش خوردہ کھیت کے جیسےجسم جن میں شہوت کی مقدار صفر ہے اکڑ جائیں گےاور پھر تڑاخ سے ٹوٹ جائیں گےہم وہ مردار لوگ ہیں جو سمجھتے تھےہمیں سنستھیسیا سے نجات مل گئی تھی
۷میں یہاںاکھڑتی سانسوں میں پیوندلگاتے تھک چکا ہوںپشتینی سیاہ چادرمیرے شانے ادھیڑ رہی ہےایک دن میںاسی چادر میں لپٹااس زمین میں سو جاؤں گاجہاںمجھے جاننے والاکوئی نہیں ہے
میں اپنی سوچوں کے دائروں میںتلاشتا ہوں اسی بشر کوجو دائروں کا مکیں نہیں ہےجسے ہے پابندیوں سے نفرتجو بندشوں کا امیں نہیں ہےجو سامنے ہے مگر نہیں ہےمیں اپنی سوچوں کے زاویوں کوبدلنا چاہوں تو کیسے بدلوںکہ دائرے تو ہیں تین سو ساٹھ ڈگریوں کی فصیل ایسینہیں ہے راہ فرار جس میںمیں اپنا رستہ بدلنا چاہوں تو کیسے بدلوںجہاں سے بھی ابتدا کروں گاوہیں پہ ہی اختتام ہوگامیں دائروں میں بھٹک رہا ہوںتلاشتا ہوں پکارتا ہوں اسی بشر کوجو میرے اندر چھپا ہوا ہےمیں خود بھی ایسا ہی دائرہ ہوںجو اپنے اندر بھٹک رہا ہےمری یہ آنکھیں کچھ ایسے سپنوں کو بن رہی ہیںجو دائروں کی حدود سے ہی نا آشنا ہیںمیں اپنی آنکھوں کے دائروں میں اتر سکوں تووہ لال ڈوری ادھیڑ ڈالوںجو ایسے سپنوں کو بن رہی ہےکہ جن کی تعبیر میں نہیں ہوں
کاش یوں ہوتاکہ وفامن کا فرن چاک کر کےفرار پاتی!بخیے ادھیڑ کراودھم جوت کےمن کو چھوڑ جاتیانتظار تمامکٹ جاتےمن کی آنکھ لگ جاتی!
میں تھا جدید شاعری کرنے کے موڈ میںذہن رسا سے رات تخیل اڑا رہامفہوم شعر ایک طرف کو پڑا رہاآیا مری زباں پہ نہ فعلن نہ فاعلنچھوٹا رہا کوئی کوئی مصرع بڑا رہاتھا اس ادھیڑ بن میں کہ کچھ آئیں شاعراتجن کا قدیم رنگ میں جھنڈا گڑا رہامیں نے کہا کہ کچھ کہو رنگ جدید میںسن کر یہ ان کا روئے سخن فق پڑا رہاپر پھڑپھڑا کے رہ گئیں بے چاری شاعراتپائے خیال اپنی جگہ پر اڑا رہابزم جدید میں نہ گئیں شب کی مرغیاںسورج کو چونچ میں لئے مرغا کھڑا رہا
جب شام چراغاںگزر جاتی ہےتو ادھیڑ عمر عورتیںاور ان کے گوشت خور مردغلیظ لحافوں کیقبروں میں اتر جاتے ہیںازل سے ابد کو ملاتے ہوئےبد رنگ کیڑوں کینذر ہو جاتے ہیں
لیکن وہ نہیں گیااسے معلوم ہوا کہ اس کی ماںبستر مرگ پر پڑی ہےاور شاید چند دنوں کی مہمان ہےلیکن وہ نہیں گیایہ وقت ایسا ہوتا ہےجب مرنے والاپیچھے رہ جانے والوں سےاور زندہ رہ جانے والےآگے جانے والوں سےاپنی اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہیںاور بچے اپنی ماؤں سےدودھ بخشوانے دوڑے چلے آتے ہیںلیکن وہ پھر بھی نہیں گیاوہ عجیب مخمصے میں پڑ گیااگر اس نے دودھ نہیں پیاتو ٹھیک ہےلیکن اگر پیا ہےتو دودھ جوش کیوں نہیں مارتااسے سب یاد آ رہا تھاباپ ہی نے اسے پالا پوسااس کا بچپن اور باپ کی جوانیساتھ ساتھ گزرےاس کی نوخیز عمریاور باپ کی ادھیڑ عمری ایک ساتھ آئےباپ بڑے شوق سےاس کی شادی کے بارے میں سوچ رہا تھاکہ قتل ہو کر راہیٔ ملک عدم ہو گیااور وہ مبہوت اکیلاکھڑے کا کھڑا رہ گیااس کی شادی کاروبار نوکریحتی کہ اس کے بچوں سےاس عورت کاجسے اب وہ ماں سمجھنے لگا تھابس اتنا ہی تعلق رہاجتنا کہ کسی بھی دوسرے شخصکا ہو سکتا ہےیہاں تک کہ آج اس کییہ ماں بھی مر گئیجنازے پر جانا بے کار لگاآج کیوں کس کے لئےکسی نے کان میں کہامرنے والوں سے کیا اختلافوہ تو ان کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیںہاں زندوں سے ممکن ہےمیت کے سرہانے بیٹھاتو روح کے سارے چراغایک ایک کر کے روشن ہو گئےوہ تمام عمر اس عورت کے پیار ہی نہیںاس کی دعاؤں کو بھی ترستا تھااور اب ترستا ہی رہے گایک دم اس کے بدن نے جھرجھری لیاور نفرت کی روحجیسے ہمیشہ کے لئے پرواز کر گئیلوگ قبر کو مٹی دے رہے تھےاس نے بھی چھ دہائیوں سےمٹی میں پکڑیاپنی چاہت کی اگلی پوٹلیآہستگی سے لڑھکا دی
ازل کی بوند سےانتم سراغ کی کھائیذرا سی روشنی دیتی ہےبالکنی سےادھیڑ عمر کی عورت بھی گرنے والی ہےمکاں کے سامنے حصے میںکار رکتی ہےاب آئے ڈاکٹرکیسے ہو
یادوں کے گریبانوں کے رفوپر دل کی گزر کب ہوتی ہےاک بخیہ ادھیڑا ایک سیایوں عمر بسر کب ہوتی ہے
مگر یہ سطریں بڑی عجب ہیںکہیں توازن بگڑ گیا ہےیا کوئی سیون ادھڑ گئی ہے:''فرار ہوں میں کئی دنوں سےجو گھپ اندھیرے کی تیر جیسی سرنگ اک کان سےشروع ہو کے دوسرے کان تک گئی ہے،میں اس نلی میں چھپا ہوا ہوں،تم آ کے تنکے سے مجھ کو باہر نکال لینا
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
اس نے اتنی کتابیں چاٹ ڈالیںکہ اس کی عورت کے پیر کاغذ کی طرح ہو گئےوہ روز کاغذ پہ اپنا چہرہ لکھتا اور گندہ ہوتااس کی عورت جو خاموشی کاڑھے بیٹھی تھیکاغذوں کے بھونکنے پر سارتر کے پاس گئیتم راںؔ بو اور فرائڈؔ سے بھی مل آئے ہو کیاسیفوؔ میری سیفوؔ میرابائیؔ کی طرح مت بولومیں سمجھ گئی اب اس کی آنکھیںکیٹسؔ کی آنکھیں ہوئی جاتی ہیںمیں جو سوہنی کا گھڑا اٹھائے ہوئے تھیاپنا نام لیلیٰ بتا چکی تھیمیں نے کہالیلیٰ مجمع کی باتیں میرے سامنے مت دہرایا کروتنہائی بھی کوئی چیز ہوتی ہےشیکسپئیر کے ڈراموں سے چن چن کر اس نے ٹھمکے لگائےمجھے تنہا دیکھ کرسارتر فرائڈؔ کے کمرے میں چلا گیاوہ اپنی تھیوری سے گر گر پڑتامیں سمجھ گئی اس کی کتاب کتنی ہےلیکن بہر حال سارتر تھااور کل کو مجمع میں بھی ملنا تھامیں نے بھیڑ کی طرف اشارہ کیا تو بولااتنے سارے سارتروں سے مل کر تمہیں کیا کرنا ہےاگر زیادہ ضد کرتی ہو تو اپنے وارث شاہؔہیر سیال کے کمروں میں چلے چلتے ہیںسارتر سے استعارہ ملتے ہیمیں نے ایک تنقیدی نشست رکھیمیں نے آدھا کمرہ بھی بڑی مشکل سے حاصل کیا تھاسو پہلے آدھے فرائڈؔ کو بلایاپھر آدھے راںؔ بو کو بلایاآدھی آدھی بات پوچھنی شروع کیجان ڈنؔ کیا کر رہا ہےسیکنڈ ہینڈ شاعروں سے نجات چاہتا ہےچوروں سے سخت نالاں ہےدانتےؔ اس وقت کہاں ہےوہ جہنم سے بھی فرار ہو چکا ہےاس کو شبہ تھاوہ خواجہ سراؤں سے زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر سکتااپنے پس منظر میںایک کتا مسلسل بھونکنے کے لیے چھوڑ گیا ہےاس کتے کی خصلت کیا ہےبیاترؔچے کی یاد میں بھونک رہا ہےتمہارا تصور کیا کہتا ہےسارتروں کی تصور کے لحاظ سےاب اس کا رخ گوئٹےؔ کے گھر کی طرف ہو گیا ہے
ہیں جن کے تن ملائم میدے کی جیسے لوئیوہ اس ہوا میں خاصی اوڑھے پھرے ہیں لوئیاور جن کی مفلسی نے شرم و حیا ہے کھوئیہے ان کے سر پہ سر کی یا بوریے کی کھوئیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
مجھے نومبر کی دھوپ کی طرح مت چاہوکہ اس میں ڈوبو تو تمازت میں نہا جاؤاور اس سے الگ ہو توٹھنڈک کو پور پور میں اترتا دیکھومجھے ساون کے بادل کی طرح چاہوکہ اس کا سایہ بہت گہرانس نس میں پیاس بجھانے والامگر اس کا وجود پل میں ہواپل میں پانی کا ڈھیرمجھے شام کی شفق کی طرح مت چاہوکہ آسمان کے قرمزی رنگوں کی طرحمیرے گال سرخمگر لمحہ بھر بعدہجر میں نہا کر، رات سی میلی میلیمجھے چلتی ہوا کی طرح مت چاہوکہ جس کے قیام سے دم گھٹتا ہےاور جس کی تیز روی قدم اکھیڑ دیتی ہےمجھے ٹھہرے پانی کی طرح مت چاہوکہ میں اس میں کنول بن کے نہیں رہ سکتی ہوںمجھے بس اتنا چاہوکہ مجھ میں چاہے جانے کی خواہش جاگ اٹھے!
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books