aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ultaa.e"
میں جب اندھا ہو جاؤں گاتب تم میری آنکھیں بن کرتازہ کھلنے والے پھولوںبچوں کے گالوں پر اترے رنگوں اورپرندوں کے بارے میں مجھے بتاناجب میری زباں پرانگاروں کے چھاج الٹائے جائیں گےتب تم ملنے جلنے والوں سےدرختوں سے بادلوں اور ستاروں سےوہ باتیں کرنا جو میں نے برسوں سوچیںجب میرے پاؤں تھک جائیں گےتب تم ان پگڈنڈیوں کی گھاس ہری رکھناجن پر میرے بچپن اور لڑکپن کیدھول ابھی تک اڑتی ہےاور میں جب مر جاؤں توتم میرے ماتھے پر اک بوسہاور سینے پر اک پھول رکھ دیناکیونکہ رونے دھونے والے لوگوں کیاس بھیڑ میں ایک تم ہی ہوں گیجو میرے سکھ کو سمجھ سکو گی
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیوہ مورکھتا وہ گھامڑ پنجس میں ہم نے صدی گنوائیآخر پہنچی دوار توہارےارے بدھائی بہت بدھائیپریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گےسارے الٹے کاج کرو گےاپنا چمن تاراج کرو گےتم بھی بیٹھے کرو گے سوچاپوری ہے ویسی تیاریکون ہے ہندو کون نہیں ہےتم بھی کرو گے فتویٰ جاریہوگا کٹھن یہاں بھی جینادانتوں آ جائے گا پسیناجیسی تیسی کٹا کرے گییہاں بھی سب کی سانس گھٹے گیبھاڑ میں جائے شکشا وکشااب جاہل پن کے گن گاناآگے گڑھا ہے یہ مت دیکھوواپس لاؤ گیا زمانہمشق کرو تم آ جائے گاالٹے پاؤں چلتے جانادھیان نہ دوجا من میں آئےبس پیچھے ہی نظر جماناایک جاپ سا کرتے جاؤبارم بار یہی دہراؤکیسا ویر مہان تھا بھارتکتنا عالی شان تھا بھارتپھر تم لوگ پہنچ جاؤ گےبس پرلوک پہنچ جاؤ گےہم تو ہیں پہلے سے وہاں پرتم بھی سمے نکالتے رہنااب جس نرک میں جاؤ وہاں سےچٹھی وٹھی ڈالتے رہنا
کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریںاکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریںدیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانیسینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریںبھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیںتقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریںآنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کاتخریب نے پرچم کھولا ہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریںکیا ان کو خبر تھی زیر و زبر رکھتے تھے جو روح ملت کوابلیں گے زمیں سے مار سیہ برسیں گی فلک سے شمشیریںکیا ان کو خبر تھی سینوں سے جو خون چرایا کرتے تھےاک روز اسی بے رنگی سے جھلکیں گی ہزاروں تصویریںکیا ان کو خبر تھی ہونٹوں پر جو قفل لگایا کرتے تھےاک روز اسی خاموشی سے ٹپکیں گی دہکتی تقریریںسنبھلو کہ وہ زنداں گونج اٹھا جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئےاٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں
کئی سال گزرےکئی سال بیتےشب و روز کی گردشوں کا تسلسلدل و جان میں سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئےزلزلوں کی طرح ہانپتا ہےچٹختے ہوئے خوابآنکھوں کی نازک رگیں چھیلتے ہیںمگر میں اک سال کی گود میں جاگتی صبح کوبے کراں چاہتوں سے اٹی زندگی کی دعا دے کراب تک وہی جستجو کا سفر کر رہا ہوںگزرتا ہوا سال جیسا بھی گزرامگر سال کے آخری دننہایت کٹھن ہیںمرے ملنے والونئے سال کی مسکراتی ہوئی صبح گر ہاتھ آئےتو ملناکہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں میںیہ بجھتا ہوا دلدھڑکتا تو ہے مسکراتا نہیںدسمبر مجھے راس آتا نہیں
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
کچھ الٹا سیدھا فرض کروںکچھ سیدھا الٹا ہو جائے
علت رشوت کو اس دنیا سے رخصت کیجیےورنہ رشوت کی دھڑلے سے اجازت دیجئے
دل کے ایواں میں لیے گل شدہ شمعوں کی قطارنور خورشید سے سہمے ہوئے اکتائے ہوئےحسن محبوب کے سیال تصور کی طرحاپنی تاریکی کو بھینچے ہوئے لپٹائے ہوئے
ابھی میں نے دہلیز پر پاؤں رکھا ہی تھا کہکسی نے مرے سر پہ پھولوں بھرا تھال الٹا دیامیرے بالوں پہ آنکھوں پہ پلکوں پہ، ہونٹوں پہ،ماتھے پہ، رخسار پرپھول ہی پھول تھےدو بہت مسکراتے ہوئے ہونٹمیرے بدن پر محبت کی گلنار مہروں کو یوں ثبت کرتےچلے جا رہے تھےکہ جیسے ابد تکمری ایک اک پور کا انتساباپنی زیبائی کے نام لے کر رہیں گےمجھے اپنے اندر سمو کر رہیں گے!
دفتر بھولے، بستر بھولے، پینے لگے سرابپل بھر آنکھ لگے، تو آئیں الٹے سیدھے خواب
کوئی مجھ کو دور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دوکوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستئ رائیگاں سےکہ غیروں کی تہذیب کی استواری کی خاطرعبث بن رہا ہے ہمارا لہو مومیائیمیں اس قوم کا فرد ہوں جس کے حصے میں محنت ہی محنت ہے نان شبینہ نہیں ہےاور اس پر بھی یہ قوم دل شاد ہے شوکت باستاں سےاور اب بھی ہے امید فردا کسی ساحر بے نشاں سےمری جاں شب و روز کی اس مشقت سے تنگ آ گیا ہوںمیں اس خشت کوبی سے اکتا گیا ہوںکہاں ہیں وہ دنیا کی تزئین کی آرزوئیںجنہوں نے تجھے مجھ سے وابستہ تر کر دیا تھاتری چھاتیوں کی جوئے شیر کیوں زہر کا اک سمندر نہ بن جائےجسے پی کے سو جائے ننھی سی جاںجو اک چھپکلی بن کے چمٹی ہوئی ہے تیرے سینۂ مہرباں سےجو واقف نہیں تیرے درد نہاں سےاسے بھی تو ذلت کی پابندگی کے لیے آلۂ کار بننا پڑے گابہت ہے کہ ہم اپنے آبا کی آسودہ کوشی کی پاداش میںآج بے دست و پا ہیںاس آئندہ نسلوں کی زنجیر پا کو تو ہم توڑ ڈالیںمگر اے مری تیرہ راتوں کی ساتھییہ شہنائیاں سن رہی ہویہ شاید کسی نے مسرت کی پہلی کرن دیکھ پائینہیں اس دریچے کے باہر تو جھانکوخدا کا جنازہ لیے جا رہے ہیں فرشتےاسی ساحر بے نشاں کاجو مغرب کا آقا تھا مشرق کا آقا نہیں تھایہ انسان کی برتری کے نئے دور کے شادیانے ہیں سن لویہی ہے نئے دور کا پرتو اولیں بھیاٹھو اور ہم بھی زمانے کی تازہ ولادت کے اس جشن میںمل کے دھومیں مچائیںشعاعوں کے طوفان میں بے محابا نہائیں
پورب دیس میں ڈگی باجی پھیلا سکھ کا حالدکھ کی آگنی کون بجھائے سوکھ گئے سب تالجن ہاتھوں میں موتی رو لے آج وہی کنگالآج وہی کنگالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالپیٹھ سے اپنے پیٹ لگائے لاکھوں الٹے کھاٹبھیک منگائی سے تھک تھک کر اترے موت کے گھاٹجین مرن کے ڈانڈے ملائے بیٹھے ہیں چنڈال رے ساتھیبیٹھے ہیں چنڈالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالندی نالے گلی ڈگر پر لاشوں کے انبارجان کی ایسی مہنگی شے کا الٹ گیا بیوپارمٹھی بھر چاول سے بڑھ کر سستا ہے یہ مال رے ساتھیسستا ہے یہ مالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالکوٹھریوں میں گانجے بیٹھے بینے سارا اناجسندر ناری بھوک کی ماری بیچے گھر گھر لاجچوپٹ نگری کون سنبھالے چار طرف بھونچالچار طرف بھونچالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالپرکھوں نے گھر بار لٹایا چھوڑ کے سب کا ساتھمائیں روئیں بلک بلک کر بچے بھئے اناتھسدا سہاگن بدھوا باجے کھولے سر کے بال رے ساتھیکھولے سر کے بالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالاتی پتی چبا چبا کر جوجھ رہا ہے دیسموت نے کتنے گھونگھٹ مارے بدلے سو سو بھیسکال بکٹ پھیلائے رہا ہے بیماری کا جال رے ساتھیبیماری کا جالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگال
دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑباتیں ان کی ساری گڑبڑراہ چلیں تو رستہ بھولیںبس میں جائیں تو بستہ بھولیںپورب جائیں پچھم پہنچیںمنزل پر اپنی کم پہنچیںٹوپی ہے تو جوتا غائبجوتا ہے تو موزہ غائبپیالی میں ہے چمچہ الٹاپھیر رہے ہیں کنگھا الٹاکام ہے ان کا سارا الٹااور تو اور پجامہ الٹالوٹ پڑیں گے چلتے چلتےچونک اٹھیں گے بیٹھے بیٹھےسودا دے کر دام نہ دیں گےدام دئے تو چیز نہ لیں گےکوئی پکارے دام تو لاؤکوئی کہے بنڈل تو اٹھاؤتیرنے جائیں گھڑی بھول آئیںباغ میں جائیں چھڑی بھول آئیںوہ تو یہ کہئے کہ خدا نےجوڑ دئے ہیں اعضا تن سےباندھ رکھے ہیں سب کل پرزےورنہ ہر روز آپ یہ سنتےگر گئی میری داہنی چھنگلیڈھونڈ رہا ہوں بیچ کی انگلیکیا کہئے اوسان ہیں غائبکل سے دونوں کان ہیں غائبایک تو صابن دان میں پایاایک نہ جانے کس نے اڑایاران ایک لپٹی شال سے نکلیناک بندھی رومال میں نکلیتم نے تو نہیں دیکھی بھائیکھونٹی پر تھی کھال ہماریبھولے کہیں سر اور کہیں دھڑہائے بچارے بھائی بھلکڑ
کون سی بات سے جھنجھلائے ہوئے رہتے ہویوں جو اسکول سے اکتائے ہوئے رہتے ہو
دیکھو تم گنتی نمبروں کے حسابکتاب میں مت جاؤسب دکھاوا چھلاوا سا ہےمیں تو ابھی بھی وہی اسٹاپو کھیلنے کی باریکے انتظار میں ہوںگھر پر پیر پٹکتی ننھی بچی سیموٹے موٹے آنسو لئے کونے میں بیٹھی سی ہوںبارشوں میں چھپ چھپ کر مٹی میں سنے پاؤںسے بے پرواہ ہوا سی ہوںکہرے سے بھرے شیشے پر کچھ الٹا کچھسیدھا کچھ سچا جھوٹا لکھتی مٹاتیسی ہوںخیال میںاپنے اس کیسری پرنٹڈ پھولوں سے بھرے فراق میںتتلی کے پیچھے دوڑ لگاتیباؤلی سی ہوتم بار بار جنم دن پر کال کرعمر کا حوالہ نہ دومیرے لئے تو دل ابھی بھی روح کی بائیں طرف ہےجو بیسویں سال میں تھا شاید
ایک تھا ملا نصرالدینکرتا تھا باتیں نمکینکام تھا اس کا احمق بنناسیدھی بات کو الٹا کرناکھانے پینے کا شوقینایک تھا ملا نصرالدیناس سے ہیں منسوب لطیفےمزے مزے کے ڈھیروں قصےخوشیوں کی تھا ایک مشینایک تھا ملا نصرالدینایک گدھا تھا اس کے پاسایک گدھی تھی جس کی ساساور بچے تھے اس کے تینایک تھا ملا نصرالدین
عمر کی ڈھلتی ہوئی دوپہر میںٹھنڈی ہوا کے جھونکے کا احساس بھیآدمی کو تازہ دم کر دیتا ہےاور اگر سچ مچ خنک ہوائیںتھکن نصیب جسم سے کھیلنے لگیںتو شب کی تاریکی خضاب جیسی دکھائی دیتی ہےآس پاس گردش کرتا ہوا سناٹاآرزوؤں کی گہما گہمی سے گونجنے لگتا ہےخواب تعبیروں کی تلاش میں بھٹکنے لگتے ہیںبدن کی اکتاہٹیں چوپال کے شور شرابے میں ڈوب جاتی ہیںڈھلتے ہوئے سورج کی لالی سے سہاگ جوڑے کی خوشبوآنے لگتی ہےلیکن خوابیدہ آرزوؤں کی شاہراہ سے گزرتے ہوئےلوگاپنی منزل کا پتا بھول جاتے ہیںاسی پتا بھولنے کو سماجدھرم اور مذہب کی آڑ لے کرایسی بے ہودہ گالیاں دیتا ہےجو طوائفوں کے محلوں میں بھی نہیںسنائی دیتیں
جب بڑھاتے ہیں قدم پیچھے پھر ہٹتے ہی نہیںحوصلے ان کے جو بڑھتے ہیں تو گھٹتے ہی نہیںدم پیکار حریفوں سے یہ کٹتے ہی نہیںالٹے قدموں پہ بلا فتح پلٹتے ہی نہیںہیچ ہیں ان کے لیے آہنی دیواریں بھیروک سکتی نہیں فولاد کی دیواریں بھی
گھر سے بستہ اور ٹفن کے ساتھ نکلنا مکتب کوآدھے ہی رستے سے گھوم کے واپس آناشام ڈھلے تککھیلنا کودناجھگڑے کرناپھر مل جاناباغ سے جا کر آم چراناپکڑے جاناگھر پر آ کر ڈانٹیں سنناکبھی کبھی تھپڑ بھی کھاناگنے کے مرجھائے اور کالے پھولوں سےنقلی داڑھی مونچھ بناناچھپ کر جوٹھی بیڑی پیناکھیتوں میں جھاڑے کو جاناادھر ادھر کی باتیں کرنااک گورے لڑکے کے پیچھے تکتے رہناکم عمری میں بالغ ہوناالٹے سیدھے دھیان میں شب بھرجاگتے رہناکتنا اچھا لگتا تھاوہ راتیں کتنی پیاری تھیںوہ دن کتنے البیلے تھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books