aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ummiid-vaar-e-daaman-e-rahmat"
سایۂ دامان رحمت چاہئے تھوڑا مجھےمیں نہ چھوڑوں یا نبی تم نے اگر چھوڑا مجھےعید کے دن مصطفی سے یوں لگے کہنے حسینؔسبز جوڑا دو حسنؔ کو سرخ دو جوڑا مجھے
ہجوم سے ایک اک گنہ گار کو بلاتا اور اس کے ماتھے پہ کلمۂ صبح لکھ رہا تھاتمام مردے خزاں زدہ انگلیوں کے چھونے سے جاگتے تھےگناہ گار نفس تھا میں بھیامید وار شفا تھا میں بھیپھر اس زمستاں کی نیم شب میں ہزار لمحات شاق گزرےاور ایک لمحے نے میرے زخم جگر کو چھو کر کہامداوائے غم کی ساعت قریب ہےسجدہ ریز ہو جایہ اس زمانے کی بات ہے جب زمین کے بے شمار مردے لہو کا بپتسمہ لے رہے تھےلہو کا بپتسمہ لے رہے ہیںرسول خورشید کی صدا بھی تو مر گئی تھی کہر میں وہ کھو گیا اوراسی زمستاں کی نیم شب میں خبر ملی ہےاسی شبستاں نور و نکہت میں بے کفن لاش پر وہ بیٹھا ہوا ہےاپنے خزاں زدہ ہاتھ سے کسی کے لہو کی تقطیر کر رہا ہےاور اپنے کاسے کو بھر رہا ہےخبر ملی ہے،لہو وہ خورشید کا لہو ہے
دور تجھ سے اے وطن کی سرزمیں جاتا ہوں میںجانے کیوں تیرے چمن زاروں سے گھبراتا ہوں میںتیرے پھولوں میں نہ پائی میں نے خوشبوئے وفاتجھ سے چھٹنا پھر بھی ہے میرے لئے صبر آزمااے وطن آئے تجھے شاید کبھی میرا خیالتیری نظروں میں ہیں میری زندگی کے ماہ و سالآنکھ کو پر نم نہ کرنا دیکھ میری یاد میںتو نہ ٹھنڈی سانس بھرنا دیکھ میری یاد میںچند دنوں کے واسطے ہونا نہ تو اندوہ گیںہو نہ جائے نم کہیں غم کے پسینے سے جبیںجانتا ہوں مجھ کو ڈھونڈھے گی تری فصل بہارباغ کی رنگینیاں پوچھیں گی مجھ کو بار بارمسکراتے پھول دہرائیں گے میرے نام کوتذکرے احباب فرمائیں گے اکثر شام کوچٹکیاں لے گی دلوں میں میرے نغموں کی مٹھاسشاید اب تالاب کی ساری فضا ہوگی اداسغم کی ماری ماں کو میرا دھیان آئے گا ضرورکیا کروں خود ہو رہا ہوں دامن رحمت سے دورچھٹ رہا ہوں اس کی آغوش محبت سے مگریاد اس کی ساتھ ہوگی اور دعائیں راہبربد گماں ہونا نہ میں رسم وفا سے دور ہوںچھوڑ کر تجھ کو نہ جاتا اے وطن مجبور ہوں
یوں لب سے اپنے نکلے ہے اب بار بار آہکرتا ہے جس طرح کہ دل بے قرار آہہم عید کے بھی دن رہے امیدوار آہہو جی میں اپنے عید کی فرحت سے شاد کامخوباں سے اپنے اپنے لیے سب نے دل کے کامدل کھول کھول سب ملے آپس میں خاص و عامآغوش خلق گل بدنوں سے بھرے تمامخالی رہا پر ایک ہمارا کنار آہکیا پوچھتے ہو شوخ سے ملنے کی اب خبرکتنا ہی جستجو میں پھرے ہم ادھر ادھرلیکن ملا نہ ہم سے وہ عیار فتنہ گرملنا تو اک طرف ہے عزیزو کہ بھر نظرپوشاک کی بھی ہم نے نہ دیکھی بہار آہرکھتے تھے ہم امید یہ دل میں کہ عید کوکیا کیا گلے لگاویں گے دل بر کو شاد ہوسو تو وہ آج بھی نہ ملا شوخ حیلہ جوتھی آس عید کی سو گئی وہ بھی دوستواب دیکھیں کیا کرے دل امیدوار آہاس سنگ دل کی ہم نے غرض جب سے چاہ کیدیکھا نہ اپنے دل کو کبھی ایک دم خوشیکچھ اب ہی اس کی جورو و تعدی نہیں نئیہر عید میں ہمیں تو سدا یاس ہی رہیکافر کبھی نہ ہم سے ہوا ہمکنار آہاقرار ہم سے تھا کئی دن آگے عید سےیعنی کہ عید گاہ کو جاویں گے تم کو لےآخر کو ہم کو چھوڑ گئے ساتھ اور کےہم ہاتھ ملتے رہ گئے اور راہ دیکھتےکیا کیا غرض سہا ستم انتظار آہکیوں کر لگیں نہ دل میں مرے حسرتوں کے تیردن عید کے بھی مجھ سے ہوا وہ کنارہ گیراس درد کو وہ سمجھے جو ہو عشق کا اسیرجس عید میں کہ یار سے ملنا نہ ہو نظیرؔاس کے اپر تو حیف ہے اور صد ہزار آہ
تمہارا نام تصور بھی تھا، تخیل بھییقیں بھی، شوق بھی، امید بھی، تمنا بھیسجی تھی زلف جواں آرزو کے پھولوں سےامیدوار تھے ہر سمت عاشقوں کے گروہ
لو عید آئی اے دل بصد شان و شوکتخوشی ہر طرف ہر طرف ہے مسرتہوا گا رہی ہے خوشی کے ترانےفلک پہ ہے چھایا ہوا ابر رحمتکوئی دوستوں سے گلے مل رہا ہےکوئی کہہ رہا ہے مبارک سلامتوہ خود مجھ سے ملنے کو گھر میرے آئےعنایت عنایت عنایت عنایتہے دن عید کا آج تھوڑی سی پی لےکریں زاہد آج اور کیا تیری خدمتگلے آؤ مل لو کہ ہے عید کا دنجھجکتے ہو کیوں اس میں کیا ہے قباحترکھا نصف روزہ کبھی اس سے کچھ کمرکھا روزہ لیکن بقدر ضرورتہیں فرضی فسانے ہیں قصے خیالینہ دوزخ کہیں ہے کہیں ہے نہ جنتانہیں کو مبارک ہو دوزخ سے ڈرناہوئے ہیں جو دنیا میں مایوس رحمتخطا پر خطا میں نے کی یہ سمجھ کرخطا وار ہوں گے سزار وار رحمتیہ بے درد دنیا مصائب کا گھر ہےسکوں سے جو دم گزرے سمجھو غنیمتخدایا گنہ میرے حد سے سوا ہیںجو تو بخش دے ہے تری شان رحمت
اب کسی کو آتش دوزخ کا کوئی ڈر نہیںبارش رحمت میں بھی دامن کسی کا تر نہیں
جسے ملک سے اپنے الفت نہیں ہےوہ دل قابل عفو و رحمت نہیں ہےبڑی چیز ہیں اتحاد و محبتبغیر ان کے دنیا میں عزت نہیں ہےخدایا وطن کی محبت عطا کرکہ اس کے سوا کوئی دولت نہیں ہےیہ آپس کی ناچاقیاں ختم کر دوکوئی اس سے بڑھ کر جہالت نہیں ہےجو تعلیم دیتا ہے جنگ و جدل کیکبھی مصلح ملک و ملت نہیں ہےجو رکھتا ہے آپس میں بغض و عداوتوہ ہرگز سزاوار عظمت نہیں ہےسکھاتا ہے جو خود سری و شرارتوطن کو اب اس کی ضرورت نہیں ہےالٰہی ان آنکھوں کو بے نور کر دےجن آنکھوں میں نور مروت نہیں ہےجو انسان ہے آدمیت سے خالیاسے جانور پر فضیلت نہیں ہےنہیں عزت قوم جس کی نظر میںجہاں میں کہیں اس کی عزت نہیں ہےحکومت وہ برباد ہو کر رہے گیرعایا کو جس کی ضرورت نہیں ہے
ساقی شراب دے کہ الیکشن ہے آج کلبرسیں گے ووٹ جس میں وہ ساون ہے آج کلجمہوریت کے پاؤں میں جھانجن ہے آج کلیہ ملک اس کے ناچ کا آنگن ہے آج کلسودا ہے لیڈری کا جو دل کو ستائے ہے''دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہےلو ہو گیا ہے اونٹ الیکشن کا بے نکیلاب لٹھ چلیں گے جلسوں میں آباد ہوں گے جیلپھر لیڈروں کی ہوگی اکھاڑوں میں ریل پیلووٹوں کی ہر دکان پہ ہوگی گرانڈ سیلووٹوں سے بڑھ کے اب کوئی ہتھیار بھی نہیں''لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں''زندہ ہے وہ کہ جس کا رجسٹر میں نام ہےاور زندگی شریفوں کے اوپر حرام ہےہیں جس کے پاس ووٹ مدارالمہام ہےلیلائے لیڈری کی وہ تھامے لگام ہےلیڈر کے منہ پہ شہر کے کوچوں کی گرد ہے''عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد ہے''وقت آ گیا ضمیر کی بیع و خرید کاامپورٹ کے لسنس کے وعدے وعید کادن ہے برادری و قبائل کی عید کاآپس میں گلہ بانوں کی گفت و شنید کامسلم کو بے شک ایسی مساوات چاہئے''عارف ہمیشہ مست مے ذات چاہئے''دنگل کی کشتیوں میں ہر اک چیز ہے روایعنی ملے گی ملت عاصی کو ہر دوانغمے کا دور، دور مے و رقص کا مزاجس کو زبان کہہ نہ سکے اس سے بھی سوالکھا ہوا ہے قسمت امیدوار میں''اڑتی پھرے گی خاک تری کوئے یار میں''اہل بصیرت اب نہیں دیکھیں گے کھوٹ کوحاصل کریں گے لاکھ طریقوں سے ووٹ کوپانی ہی کی طرح سے بہائیں گے نوٹ کوروکیں گے زر کی ڈھال پہ دشمن کی چوٹ کوووٹر کو بخشا جائے گا بھاری مشاہرہپھر جیت کی خوشی میں کریں گے مشاعرہآئیں گے ووٹ دینے کو جب جاہلان قومان کو دکھائے جائیں گے پہلے نشان قومگینڈا نشان رکھے گا اک پہلوان قومہے اونٹ کوئی کوئی یکے از خران قومانسانیت کی قید سے سب ہو گئے بریان کا معالجہ ہو تو ہوگا ووٹرنری
دل مایوس میں ہے تیری یادجیسے ویرانہ میں ہو گنج نہاںجیسے مایوسیوں کی ظلمت میںاک شعاع امید ہو لرزاںجیسے خاموشیوں میں صحرا کیہو صدائے خرام جوئے رواںجیسے عارف کے دل میں نور خداجیسے عاشق کے سینہ میں ارماںجیسے بیمار کو نوید مسیحجیسے حاتم کو مژدۂ مہماںجیسے نازک سی ایک کشتی ہودرمیان کشاکش طوفاںجیسے ٹوٹے ہوئے کھنڈر میں ہوںباقی پچھلی عمارتوں کے نشاںہوں چمن میں بچے ہوئے جیسےموسم گل کے کچھ گل و ریحاںجیسے چنگاری زیر خاکسترجیسے اک شعلۂ تہ داماںہے تری یاد زندگی میریاس کو دے کر نہ لوں میں باغ جناںکبھی ظاہر ہے دل کی دھڑکن سےکبھی ضبط فغاں میں ہے پنہاںدرد بن کر کبھی ہے دل میں مقیمکبھی آنکھوں سے اشک بن کے رواںہوں غرض تیری یاد سے اے دوستحشر بردوش خلد در داماں
اگر اس گلشن ہستی میں ہونا ہی مقدر تھاتو میں غنچوں کی مٹھی میں دل بلبل ہوا ہوتاگناہوں میں ضرر ہوتا، دعاؤں میں اثر ہوتامحبت کی نظر ہوتا، حسینوں کی ادا ہوتافروغ چہرۂ محنت، غبار دامن دولتنم پیشانیٔ غیرت، خم زلف رسا ہوتاہوا ہوتا کسی دستار کج پر پھول کی طرحاور اس دستار کج کی تمکنت پر ہنس رہا ہوتاکسی مغرور کی گردن پہ ہوتا بوجھ احساں کاکسی ظالم کے دل میں درد ہو کر لا دوا ہوتاکسی منعم کے چہرہ پر خوشی حاجت روائی کیکسی نادار کی نظروں میں شرم التجا ہوتاکسی بھٹکے ہوئے راہی کو دیتا دعوت منزلبیاباں کی اندھیری شب میں جوگی کا دیا ہوتاکسی کے کلبۂ احزاں میں شمع مضمحل بن کرکسی بیمار مفلس کے سرہانے رو رہا ہوتاشرر بن کر کسی نادار گھر کے سرد چولھے میں''بصد امید فردا'' زیر خاکستر دبا ہوتایتیم بے نوا کی رہگزر پر اشرفی بن کرلئیم فاقہ کش کی جیب ممسک سے گرا ہوتانیستاں سے نکل کر حسرت آباد تمدن میںگدائے پیر و نا بینا کے ہاتھوں کا عصا ہوتاشکستہ جھونپڑے میں بانسریٔ دہقاں کی سر بن کرسکوت نیم شب میں راز ہستی کہہ رہا ہوتاغرض اس حسرت و اندوہ و یاس و غم کی بستی میںکہیں دور آفریں ہوتا، کہیں درد آشنا ہوتا''ڈبویا مجھ کو ہونے نے'' بقول غالب دانا''نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا''
دھماکے سے پہلے کی اک سنسنیبنی امتحاں گاہ میںخوف و دہشت کے ہم دوش اک ذمہ داری کا باریہاں ہم نہ ہوتے جو امیدوارتو ہوتے کوئی اور اپنے ہی وہ ہم نژادزمیں آسماں فخر سے اور غبار پس و پیش ہمدیکھتے ان کو کس رشک سےسوالات پیچاک سے ارتقا کے جڑے بے شماروہ حل کر رہے ہیںفطانت میں شامل دیانت کے ساتھ
پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئینیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئیڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتیوادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئیتیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیںآندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئیجیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیتایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئینونہالوں کو سناتی میٹھی میٹھی لوریاںنازنینوں کو سنہرے خواب دکھلاتی ہوئیٹھوکریں کھا کر لچکتی گنگناتی جھومتیسر خوشی میں گھنگروؤں کی تال پر گاتی ہوئیناز سے ہر موڑ پر کھاتی ہوئی سو پیچ و خماک دلہن اپنی ادا سے آپ شرماتی ہوئیرات کی تاریکیوں میں جھلملاتی کانپتیپٹریوں پر دور تک سیماب جھلکاتی ہوئیجیسے آدھی رات کو نکلی ہو اک شاہی براتشادیانوں کی صدا سے وجد میں آتی ہوئیمنتشر کر کے فضا میں جا بجا چنگاریاںدامن موج ہوا میں پھول برساتی ہوئیتیز تر ہوتی ہوئی منزل بمنزل دم بہ دمرفتہ رفتہ اپنا اصلی روپ دکھلاتی ہوئیسینۂ کہسار پر چڑھتی ہوئی بے اختیارایک ناگن جس طرح مستی میں لہراتی ہوئیاک ستارہ ٹوٹ کر جیسے رواں ہو عرش سےرفعت کہسار سے میدان میں آتی ہوئیاک بگولے کی طرح بڑھتی ہوئی میدان میںجنگلوں میں آندھیوں کا زور دکھلاتی ہوئیرعشہ بر اندام کرتی انجم شب تاب کوآشیاں میں طائر وحشی کو چونکاتی ہوئییاد آ جائے پرانے دیوتاؤں کا جلالان قیامت خیزیوں کے ساتھ بل کھاتی ہوئیایک رخش بے عناں کی برق رفتاری کے ساتھخندقوں کو پھاندتی ٹیلوں سے کتراتی ہوئیمرغ زاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خراموادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئیاک پہاڑی پر دکھاتی آبشاروں کی جھلکاک بیاباں میں چراغ طور دکھلاتی ہوئیجستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ واراپنا سر دھنتی فضا میں بال بکھراتی ہوئیچھیڑتی اک وجد کے عالم میں ساز سرمدیغیظ کے عالم میں منہ سے آگ برساتی ہوئیرینگتی مڑتی مچلتی تلملاتی ہانپتیاپنے دل کی آتش پنہاں کو بھڑکاتی ہوئیخودبخود روٹھی ہوئی بپھری ہوئی بکھری ہوئیشور پیہم سے دل گیتی کو دھڑکاتی ہوئیپل پہ دریا کے دما دم کوندتی للکارتیاپنی اس طوفان انگیزی پہ اتراتی ہوئیپیش کرتی بیچ ندی میں چراغاں کا سماںساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئیمنہ میں گھستی ہے سرنگوں کے یکایک دوڑ کردندناتی چیختی چنگھاڑتی گاتی ہوئیآگے آگے جستجو آمیز نظریں ڈالتیشب کے ہیبت ناک نظاروں سے گھبراتی ہوئیایک مجرم کی طرح سہمی ہوئی سمٹی ہوئیایک مفلس کی طرح سردی میں تھراتی ہوئیتیزئی رفتار کے سکے جماتی جا بجادشت و در میں زندگی کی لہر دوڑاتی ہوئیڈال کر گزرے مناظر پر اندھیرے کا نقاباک نیا منظر نظر کے سامنے لاتی ہوئیصفحۂ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوشحال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئیڈالتی بے حس چٹانوں پر حقارت کی نظرکوہ پر ہنستی فلک کو آنکھ دکھلاتی ہوئیدامن تاریکئ شب کی اڑاتی دھجیاںقصر ظلمت پر مسلسل تیر برساتی ہوئیزد میں کوئی چیز آ جائے تو اس کو پیس کرارتقائے زندگی کے راز بتلاتی ہوئیزعم میں پیشانی صحرا پہ ٹھوکر مارتیپھر سبک رفتاریوں کے ناز دکھلاتی ہوئیایک سرکش فوج کی صورت علم کھولے ہوئےایک طوفانی گرج کے ساتھ ڈراتی ہوئیایک اک حرکت سے انداز بغاوت آشکارعظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئیہر قدم پر توپ کی سی گھن گرج کے ساتھ ساتھگولیوں کی سنسناہٹ کی صدا آتی ہوئیوہ ہوا میں سیکڑوں جنگی دہل بجتے ہوئےوہ بگل کی جاں فزا آواز لہراتی ہوئیالغرض اڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطرشاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی
ذرہ میرے دل کا خورشید آشنا ہونے کو تھاآئنہ ٹوٹا ہوا عالم نما ہونے کو تھانخل میری آرزوؤں کا ہرا ہونے کو تھاآہ! کیا جانے کوئی میں کیا سے کیا ہونے کو تھا!ابر رحمت دامن ازگلزار من برچید و رفتاندکے برغنچہ ہائے آرزو بارید و رفت
کرے دشمنی کوئی تم سے اگرجہاں تک بنے تم کرو درگزرکرو تم نہ حاسد کی باتوں پہ غورجلے جو کوئی اس کو جلنے دو اوراگر تم سے ہو جائے سرزد قصورتو اقرار و توبہ کرو بالضروربدی کی ہو جس نے تمہارے خلافجو چاہے معافی تو کر دو معافنہیں، بلکہ تم اور احساں کروبھلائی سے اس کو پشیماں کروہے شرمندگی اس کے دل کا علاجسزا اور ملامت کی کیا احتیاجبھلائی کرو تو کرو بے غرضغرض کی بھلائی تو ہے اک مرضجو محتاج مانگے تو دو تم ادھاررہو واپسی کے نہ امیدوارجو تم کو خدا نے دیا ہے تو دونہ خست کرو اس میں جو ہو سو ہو
رقص کی شب کی ملاقات سے اتنا تو ہوادامن زیست سے میں آج بھی وابستہ ہوں،لیکن اس تختۂ نازک سے یہ امید کہاںکہ یہ چشم و لب ساحل کو کبھی چوم سکے!
رقص کی شب کی ملاقات سے اتنا تو ہوادامن زیست سے میں آج بھی وابستہ ہوںلیکن اس تختۂ نازک سے یہ امید کہاںکہ یہ چشم و لب ساحل کو کبھی چوم سکے
آدم خاکی کی پیدائش سے پہلےجن کا کہنا تھا زمیں پرخون بہائے گا یہ ناحقاور مچائے گا فساداب وہی پیشین گو امیدواراس کے گن گاتے ہوئے تھکتے نہیںامتحان گاہ مقدر ہو تو ایسیجس میں پر تاب و تواں ہمکارپردازان فطرت لا جواباور آدم اس کی طینت میں تو گویاحل شدہ پہلے سے تھے سارے سوالجن مظاہر کی طرف دیکھا نظر بھر کرمعانی کے دمک اٹھے انہیں میں مضمراتحکمت اشیا کے سانچے میں ڈھلیبے ساختہ اسم آفرینی مرحباخاک بے مقدار کے ذرات میںجوہر نطق و بیاں ایسا بھی مخفی ہےکسے معلوم تھاامتحاں ختماور مسجود ملائک بن گئی انساں کی ذاتمیں نے لیکن شیوۂ انکار اپنایاکہ میں آتش نہادمرتبے میں خاک افتادہ سے برتراصل میں والا گہرچاہے افلاک و زمین پرپھیل کر چھا جائے یہ مشت غبارحربہ تسخیر لیکن کارگر مجھ پر بھی ہو اس کایہی اک مرحلہ ہے معرکے کاامتحاں یہ سخت تر ہےکامیابی اس میں بھی پائے یہیامیدوار خوش گماںآساں نہیںمیری اپنی اک لغت ہےجس میں اسما کے معانی بار باراک نئی تعبیر کے آئینہ دارمنصب آزادگی آدم کااک پروانۂ غارت گریاس میں لکھا ہےاور آگاہیتباہی کے وسائل تک رسائی کا جوازاس میں چھپا ہےالغرض اس کھیل کا مہرہ وہیعلم اسما ہے مگراک پر فسوں تقلیب کاری کا شکاراک پر فسوں تقلیب کاری کا شکار
دل ایسے شہر کے پامال ہو جانے کا منظر بھولنے میںابھی کچھ دن لگیں گےجہان رنگ کے سارے خس و خاشاک سب سرو و صنوبر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گےتھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھربنتے بنتے رہ گیا ہےوہ اک گھر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گےمگر اب دن بھی کتنے رہ گئے ہیںبس اک دن دل کی لوح منتظر پراچانکرات اترے گیمری بے نور آنکھوں کے خزانے میں چھپے ہر خواب کی تکمیل کر دے گیمجھے بھی خواب میں تبدیل کر دے گیاک ایسا خواب جس کا دیکھنا ممکن نہیں تھااک ایسا خواب جس کے دامن صد چاک میں کوئی مبارک کوئی روشن دن نہیں تھاابھی کچھ دن لگیں گے
اے دل افسردہ وہ اسرار باطن کیا ہوئےسوز کی راتیں کہاں ہیں ساز کے دن کیا ہوئےآنسوؤں کی وہ جھڑی وہ غم کا ساماں کیا ہواتیرا ساون کا مہینہ چشم گریاں کیا ہواکیا ہوئی بالائے سر وہ لطف یزداں کی گھٹاآسمان دل پہ وہ گھنگھور عرفاں کی گھٹااب وہ نالوں کی گرج ہے اب نہ وہ شور فغاںاب نہ اٹھتا ہے کلیجہ سے محبت کا دھواںاپنے افعال سیہ پر اب پشیمانی نہیںاب پسینے کے ستارے زیب پیشانی نہیںدرد کی مدت سے اب دل میں چمک ہوتی نہیںوہ تپک چھالوں کی کوندے کی لپک ہوتی نہیںذکر مولیٰ سے لبوں پر اب وہ نرمی ہی نہیںبھاپ سینے سے اٹھے کیا دل میں گرمی ہی نہیںاب شرارے سوز غم کے دل میں رہتے ہی نہیںاشک اب پچھلے پہر آنکھوں سے بہتے ہی نہیںمعرفت دل میں نہ اب وہ روح میں احساس ہےلوگ کہتے ہیں کہ ہے لیکن ہمیں تو یاس ہےاب نہ وہ آنکھوں میں اشک خوں نہ وہ دل میں گدازاب نہ وہ شام تمنا ہے نہ وہ صبح نیازخشک ہیں آنکھیں جبینیں تنگ سینے سرد ہیںاب نہ وہ دکھتے ہوئے دل ہیں نہ چہرے زرد ہیںآہ کی اور دل امنڈ آیا یہ ہوتا ہی نہیںڈوب کر ذوق فنا میں کوئی روتا ہی نہیںپھول داغوں سے کھلے تھے جس دل سرشار میںخاک اب مدت سے اڑتی ہے اسی گل زار میںآنسوؤں سے نم جو رہتا تھا وہ داماں جل گیالہلہاتا تھا جو سینے میں گلستاں جل گیاروح میں بالیدگی کی قوتیں معدوم ہیںدونوں آنکھیں آنسوؤں کے فیض سے محروم ہیںپیچ و خم سے بہنے والا دل کا دریا خشک ہےوہ بھری برسات یعنی چشم بینا خشک ہےخون ہے دل میں مگر پہلی سی طغیانی نہیںابر ہے باد مخالف سے مگر پانی نہیںجب یہ عالم ہے تو بارش کی شکایت کس لئےبے محل یہ حسرت باران رحمت کس لئےاک مجسم خشک سالی خود ہماری ذات ہےضد ہماری ہستیوں کی ابر ہے برسات ہےرحمتوں سے جوش میں آنے کی خواہش کیا کریںخود سراپا قحط ہیں امید بارش کیا کریں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books