aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vaabasta-e-darbaar"
اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزریتنہا پس زنداں کبھی رسوا سر بازارگرجے ہیں بہت شیخ سر گوشۂ منبرکڑکے ہیں بہت اہل حکم بر سر دربار
مسجد کے مناروں سے وہ بانگ اذاں آئیدربار الٰہی میں اب ہوگی جبیں سائیجو رات تھی پربت سی وہ گھٹ کے بنی رائی
تم اہل حرف کہ پندار کے ثناگر تھےوہ آسمان ہنر کے نجوم سامنے ہیںبس اک مصاحب دربار کے اشارے پرگداگران سخن کے ہجوم سامنے ہیں
بادشاہ ہاتھی کے پاؤں کے نیچےاچانک نہیں آیا تھامگر درباریوں نے فیصلہ کیاکہ کل جو شخص سب سے پہلےشہر میں داخل ہوگابادشاہت اسے سونپ دی جائے گیاگلے دن ہاتھی نےچپکے سے ایک بونے کوشہر کے صدر دروازے پراپنی پیٹھ سے اتارااور بظاہر غائب ہو گیابونا شہر میں داخل ہواتو اہل دربار نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیااور اپنے فیصلے سے آگاہ کیابونے نے حیرت سے سر اٹھا کر انہیں دیکھاتو اس کی ٹوپی زمین پر گر گئییہ دیکھ کر مصاحبین بے ساختہ ہنس دئےبونا کھسیانہ ہو گیامگر اہالی موالی فوراً ہی آداب بجا لائےاور تخت پر بیٹھنے کی درخواست کیبونے نے کہاوہ صرف اس شرط پر حکمراں بنے گاکہ سب لوگ اس کے ہم قدر ہو جائیںمصلحت کی دلدل میں پھنسےمفادات کی ڈور میں بندھےان عاقبت نا اندیشوں نےبونے کی یہ بات مان لیاس مرتبہ بونے نے فخر سےسر اٹھا کر دیکھاتو نہ اس کی ٹوپی نیچے گریاور نہ ہی اہل دربار ہنسے
کوئی صورت فن عرض ہنر آ جائے مجھے بھیشام کو شام کہوں اور نگاہوں پہ اندھیرے اتر آئیںصبح کو صبح لکھوں اور پس سطر تپاں دھوپ بھرا دن نکل آئےکل بھی تاثیر تہی تھا مرا دامان سخن آج بھی تاثیر تہی ہےمیرا دامان دعا سر دربار عطا آج بھی فیضان طلب ہے
غضب کی تپش ہےگھٹن اس قدر دل میں بہتے لہو کی جگہآگ پھنکنے لگی ہےسو رگ رگ میں چنگاریاں ہیںسلگتی ہوئی سرخ آنکھوں میںآنسو نہیں ہلکا ہلکا دھواں ہےکسی نیم خوابیدہ آتش فشاں کے دہانے سےلاوا ابلنے کو بے چین ہےشہر کا شہر لقمہ بنے آگ کاڈھیر ہو راکھ کااس سے پہلے اگر میرا اک مشورہاہل دربار کو بار خاطر نہ ہولکھنے والوں کے ہاتھوں میں دے دو قلملفظ کی بیڑیاں کھول دو
مدتوں بعد ملا نامۂ جاناں لیکننہ کوئی دل کی حکایت نہ کوئی پیار کی باتنہ کسی حرف میں محرومئ جاں کا قصہنہ کسی لفظ میں بھولے ہوئے اقرار کی باتنہ کسی سطر پہ بھیگے ہوئے کاجل کی لکیرنہ کہیں ذکر جدائی کا نہ دیدار کی باتبس وہی ایک ہی مضموں کہ مرے شہر کے لوگکیسے سہمے ہوئے رہتے ہیں گھروں میں اپنےاتنی بے نام خموشی ہے کہ دیوانے بھیکوئی سودا نہیں رکھتے ہیں سروں میں اپنےاب قفس ہی کو نشیمن کا بدل جان لیااب کہاں طاقت پرواز پروں میں اپنےوہ جو دو چار سبو کش تھے کہ جن کے دم سےگردش جام بھی تھی رونق مے خانہ بھی تھیوہ جو دو چار نواگر تھے کہ جن کے ہوتےحرمت نغمہ بھی تھی جرأت رندانہ بھی تھیکوئی مقتل کوئی زنداں کوئی پردیس گیاچند ہی تھے کہ روش جن کی جداگانہ بھی تھیاب تو بس بردہ فروشی ہے جدھر بھی جاؤاب تو ہر کوچہ و کو مصر کا بازار لگےسر دربار ستادہ ہیں بیاضیں لے کروہ جو کچھ دوست کبھی صاحب کردار لگےغیرت عشق کہ کل مال تجارت میں نہ تھیآج دیکھو کہ ہیں انبار کے انبار لگےایسا آسیب زدہ شہر کہ دیکھا نہ سناایسی دہشت ہے کہ پتھر ہوئے سب کے بازودر و دیوار خرابات وہی ہیں لیکننہ کہیں قلقل مینا ہے نہ گل بانگ سبوبے دلی شیوۂ ارباب محبت ٹھہرااب کوئی آئے کہ جائے ''تنناہو یاہو''
اٹھلاتا ہوا جھوم کے آیا ہے نیا ساللہراتا ہوا جھوم کے آیا ہے نیا سالآیا ہے نیا سالاے سعیٔ مسلسل ترے اعجاز کے صدقےحاصل کو گئے سال کی معراج مبارککرنوں سے اندھیرے کی قبا کھولنے والےآغاز کو اس سال کا یہ آج مبارکپیغام کئی طرح کے لایا ہے نیا سالانعام کئی طرح کے لایا ہے نیا سالآیا ہے نیا سالبے لوث محبت کے اخوت کے کرم سےہر سمت جدھر دیکھیں مسرت کی فضا ہےافسانۂ جمہور کی رنگین حقیقتتہذیب و تمدن کی مروت کی فضا ہےہر دل کے رگ و ریشہ پہ چھایا ہے نیا سالہر ذہن کے آئینے پہ چھایا ہے نیا سالآیا ہے نیا سالپیکر تھے رفاقت کے وطن دوست سراسرمیدان ترقی میں ہمیشہ جو بہم تھےچلتے رہے ہر حال صلابت کی ڈگر پروابستۂ منزل وہ ہمارے ہی قدم تھےجھیلا ہے جو اک سال تو پایا ہے نیا سالکھویا ہے جو اک سال تو پایا ہے نیا سالآیا ہے نیا سالنیرنگیٔ افکار و عقائد سے لبالبہر چند رنگا رنگ ہے پیمانۂ جمہوراک روح وطن حسن ثقافت کے کرم سےیک رنگ ہی یک رنگ ہے مے خانۂ جمہورکردار مساوات کا جایا ہے نیا سالاک طرفہ کرامات کا جایا ہے نیا سالآیا ہے نیا ساللازم ہے کہ اعمال کو اک ایسی ادا دیںجمہور کے کردار کو کچھ اور اٹھا دیںنفرت کو تعصب کو تہ خاک سلا دیںتفریق کا تخریب کا ہر نقش مٹا دیںہر تیشۂ تعمیر کو محنت کی جلا دیںتدبیر سے جمہور کی تقدیر بنا دیںہم کیا ہیں سر دست زمانے کو بتا دیںہر خواب کو تعبیر کی سرحد سے ملا دیںکس آن سے کس بان سے آیا ہے نیا سالہاں دیکھیے کس شان سے آیا ہے نیا سالآیا ہے نیا سالآیا ہے نیا سال
جھوٹ کی گرمئ بازار کہاں سے لاؤںرقص بے معنی کی جھنکار کہاں سے لاؤںڈھونڈ کے حیلۂ تکذیب برائے انصافبے محابا سر دربار کہاں سے لاؤںبے خبر عشق سے ہیں آج ریاکار شیوخجذب منصور سر دار کہاں سے لاؤںبیچ کر چادر زہرا کو سجاتا فردوسریشمی مکر کی دستار کہاں سے لاؤںموت کی گود میں ہے عارف و دانا کا وجوددل ربا فکر سحر کار کہاں سے لاؤںمیں وہ فن کار ہوں اخلاص ہے جس کا شہکارمکر و تزویر کی گفتار کہاں سے لاؤںخانقاہوں میں بھی رائج ہے ہوس کی تدریسبا خدا شیخ نگہ دار کہاں سے لاؤںمکتب نو کا معلم ہے فرنگی بقالبوذر و خالد و کرار کہاں سے لاؤںروح توحید کی قاتل ہے سیاسی تعلیمسر فروشان وفادار کہاں سے لاؤںخوب واقف ہوں حدیث مے و مینا سے مگرعالم حشر میں دل دار کہاں سے لاؤںساز فطرت پہ غزل خواں ہے شعور تنقیدکاغذی کاکل و رخسار کہاں سے لاؤںشعلہ زن دامن گیتی ہے تو مضمون کوئیجنسیت بخش طرحدار کہاں سے لاؤںدل کا پیمانہ ہے زہراب الم سے لبریزبلبل زمزمہ آثار کہاں سے لاؤںتذکرے ہیں قد و گیسو کے بہر طور عزیزمفلسی میں دل گلبار کہاں سے لاؤںتشنگی صاحب نامہ کی بجھانے والوآبرو باختہ شہکار کہاں سے لاؤںعرصۂ دہر کا ہر ذرہ ہے آتش بہ کناررامش و رنگ کے اشعار کہاں سے لاؤںجنتی ہونے کی مانا کہ سند بکتی ہےگنج قارون کا انبار کہاں سے لاؤںزیب تن وقت کا پیراہن شعلہ ہے ابھیکیف انگیز میں افکار کہاں سے لاؤںخیر آگاہ مرا فکر ہے مصروف عملبحث و تکرار کی تلوار کہاں سے لاؤںجان پڑ سکتی ہے ببیاکؔ تن مردہ میںمرد فاروقؔ سا کردار کہاں سے لاؤں
لفظ زنجیر ہواخوف درباں ہے تذبذب زنداں
وابستہ ہیں سب جس سے وہ زنجیر یہی ہےفردوس زمیں جنت کشمیر یہی ہے
ہوئے فریادیوں پر بند ایوانوں کے دروازےکہ خود محتاج درباں ہیں جہاں بانوں کے دروازے
چپکے سے کانوں میں کہہ جاخوشیوں کا سندیس سنا جاپریم تو اپنی ڈگر بتا جاکیا تو جوگن بن بیٹھیدور کہیں مایا سے چھپ کرتو بن گئی انوکھیدیکھ ری تیرے سوگ میں کیسا حال کیا ہم نے اپنادکھ کے کنکر پتھر چنتے کومل ہاتھ ہیں پتھرائےجیون کے رستے پر بکھرے کانٹے سو سو ڈنک اٹھائےنفرت کی آندھی سے دھندلے پڑ گئے چندا تارےگھر آئی ہے چاروں اوردیکھ گھٹا گھنگھورآنکھوں سے اوجھل ہے امبرپاپ کا جھونکا چلے بھینکرہلچل مچ گئی باہر اندرچاروں اور بگولے اڑتے ادھر ادھر بولائےجیسے ان کو کھوج کسی کیسر ٹکراتے سر کو اٹھائے سر کو جھکائےسر کے بل کچھ پھرتے ہیںسب کو کھوج ہے تیریپریم کہاں تو چھپ کر بیٹھیہم سے کیوں ہے روٹھیآ دیکھ کہ تیرے نہ ہونے سےکیا کیا دکھ ہم نے جھیلےپریم پجاری جتنے تھے سب بن گئے اتیاچاریخود ہی اتیاچار کرے ہےبن بیٹھے بے چارےاپنے اتیاچار کو بھوگےکیسے کھیل نرالےلیکن ان کے من میں کیسی جوالا جاگ اٹھی ہےاب تو تیری ہی ان کو بس انتم آس لگی ہےاے جوگنکیا تو بھی ڈھونڈھے کوئی پریم پجاریاس کی کھوج میں بن گئی ہے تو بالکل ہی بن باسیمن میں جھانک کے دیکھ لے سب کےتیری چاہ بسی ہےدوری تیری بھڑکائے ہے اب تو من میں ڈاہاور ہمارے ہونٹوں کا ہر شبد بنا ہے آہ
تو نے دیکھا ہے اسےجاتے ہوئے ارض حجازکتنا موزوں تھا جواں قد درازدل میں کھبا جاتا ہےتو نے چاہا ہے اسےمصر ابوالہول جمالکتنے مردانہ تھے اس کے خد و خالدرد بڑھا جاتا ہےتو نے پایا ہے اسےشمع شبستان فرانسکس قدر گرم تھا اس کا ہر سانسجسم جلا جاتا ہےتو نے روندا ہے اسےجنگ لٹا میرا سہاگمادر گیتی مرے واسطے جاگوقت اڑا جاتا ہے
اے دلبر فرزانہ اے ساقئ مے خانہتیری مئے صہبا کا میں سائل تشنہ تھایہ آس تھی مجھ کو بھی کر دو گے عطا پیہمپیمانۂ رندانہاے ساقئ مے خانہلیکن یہ تمنا بھی تشنہ ہی رہی آخرکیا فرق پڑے تجھ کو اس گریۂ پیہم کاہر ایک پری رو کی ہے سنگ دلی فطرتاس واسطے تو نے بھی دکھلائی ہے اپنی خوپتھر بھی پگھل جائے روداد تمنا سےافسوس مرے دل بر پر پگھلا نہ دل تیرابخشا ہے غموں کا تو اک کوہ گراں مایہاے ساقئ مے خانہ اے ساقئ مے خانہسرگم ہے تو نصرت کا تو راگ ہے درباریبندش ہے خیالوں کی تو لحن ہے داؤدیخالق نے تجھے گویا تخلیق کیا ایسےتیرا یہ سراپا ہےحافظؔ کی غزل گوئی آزادؔ کی گویائیسچ ہے کہ ملے تجھ سےاشعار کو رعنائی سنگیت کو سچائیتو عشق کا ہے نغمہایک نعرۂ مستانہاے ساقئ مے خانہ اے ساقئ مے خانہ
بچھڑی ہوئی گلیوں کییادوں کا وہ میٹھا ذائقہاحساس کے ہونٹوں پہ اپنےمیں لئے در در پھرامٹی کی سوندھی باسصحرا میں متاع جاں تھیمیرے واسطے اب تکیہ کیا ہواکیوں یک بیکاپنے لہو کا ذائقہاپنی زباں پر پھیل کردل میں حقیقت کے چراغوں کی لویںکجلا گیااخبار کی خبروں کے آگےآیتیں قرآن کیگیتا کے سب اشلوک مدھم پڑ گئےنظروں میں مستحسنزنا کا جرم ٹھہرادودھ ماں سے بخشوانے کی تمناآج مردہ ہو گئی
خداوند کی کائنات کبیرہمرے بطن میں جی رہی ہےجس کی تکمیل کے واسطےمجھ کو نو روز درکار ہیں
تیرے غمزے زندگانی بھر نہ بھولیں گے مجھےپھول سی کلغی ملائم پر نہ بھولیں گے مجھےتیرے انداز حسیں یکسر نہ بھولیں گے مجھےچھوڑ کر مجھ کو تو دست داور محشر میں ہےتیرا ڈربہ تجھ سے بہتر ہے کہ میرے گھر میں ہے
کاسۂ چشم نے پرتو گل بھی پایا نہیںدرد اس کا کسی محرم درد کے واسطے
نکلا ہوں خود کو ڈھونڈنے اس کا مگر ہے مجھ کو غمراہ جنوں دراز ہے میرا سفر قدم قدممجھ کو خبر نہیں کہ یاں کتنے لٹے ہیں کارواںکتنی گری ہیں بجلیاں کتنے جلے ہیں آشیاںچاک ہے پردۂ وجود پھر بھی کوئی مرا نہیںکون ہے جس کے واسطے حکم سزا جزا نہیںعالم آب و خاک میں میرا ظہور بھی حجابحشر میں سب کے سامنے میرا عمل ہے بے نقابمیری تمام زندگی معرکہ ہائے خیر و شرمیری نگاہ عرش پر میں کف خاک و خود نگرمیرے لیے ہیں دو جہاں میں ہوں خدا کے واسطےمیرا وجود آئنہ اہل صفا کے واسطےجس میں کہ خوب و زشت کا مد و جزر ہے صاف صافمنظر دوزخ و بہشت پیش نظر ہے صاف صافراہ بد و راہ نجات ہیں میرے اختیار میںغم ہیں مگر یہ راستے رنگ برنگ غبار میںحرص و ہوا کی ڈھیر پر اپنے قدم جما کے رکھتیغ زمانہ تیز ہے سر کو بچا بچا کے رکھکار گہہ حیات میں رکھ لے خود اپنی آبروتیرا مقام بندگی کام ہے تیرا آرزوخود دل و جگر سے کر جذب دروں کی پرورشکرتے رہیں ضمیر کو عشق کے نغمے مرتعشسن لے مرے ندیمؔ سن اقبالؔ کے تھا درد لبعشق تمام مصطفیٰ عقل تمام بو لہبحاصل عشق مصطفیٰ ان سے نظام کائناتان کے بغیر شرع و دین بت کدۂ تصوراتاپنی خودی کی اوٹ سے جلوۂ بے حجاب دیکھقلب و نظر کو پاک رکھ یار کو بے نقاب دیکھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books