aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vuruud"
کیسی آیند ورود تھی یہ مہم جو ہجرتجس میں سیماب قدم چلتا رہا ہوں برسوں
چمن میں جشن ورود بہار ہو بھی چکامگر نگاہ گل و لالہ سوگوار سی ہے
ایسی حد ایسی حد سے میرا وجود انکار کرتا ہےتمہارا وجود تو پرندے رٹ چکے
جہاں میں لذت پرواز حق نہیں اس کاوجود جس کا نہیں جذب خاک سے آزاد
فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیراترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے
الم میں لپٹی چاہتیں ورود شب سے جاگ اٹھیںہے دل کو بیکلی سیاہ رات آئے گی
مہر و مہ و مشتری چند نفس کا فروغعشق سے ہے پائیدار تیری خودی کا وجود
ہے ابھی سینۂ افلاک میں پنہاں وہ نواجس کی گرمی سے پگھل جائے ستاروں کا وجود
مٹا ہی دے جو جہاں سے وجود نفرت کامحبتوں کے حسیں سلسلوں کے ساتھ آئے
ریزہ ریزہ ہو گئے میری طرح کتنے وجوداب نہیں ممکن کسی صحرا میں مجنوں کا ورود
کہ سر سے پا تک وجود میراخوشی کے پیکر میں ڈھل چکا تھا
کہ کس طرح ترے لطف و کرم کی محرومیمرے وجود کی تاریکیاں بڑھاتی ہے
اک بساط وجود و بدن کے تحتسالہا سال تک
دیکھتے ہیں تری غزال آنکھیںپہلا مصرعہ وجود پاتا ہے
کہ جن کا عطر سے بھرا وجود عکس ریز ہےکہاں سے آ رہی ہیں
میرا اپنا وجود کوئی نہیںمیری گویائی میری بینائی
مگر یہ فکر مجھے روز کھائے جاتی ہےکہ منتشر نہ کرے وحدۃ الوجود تجھے
تو ہے نامحرم تاب و تپ باطن ورنہتیری آہوں سے پگھل جائے ستاروں کا وجود
تقاضائے محبت تو یہی ہے تمتبسم سے تکلم سے وجود حسن طینت سے
تب اندھیراوجود پر طاری
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books