aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zaa"
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراںسبا ویراں، سبا آسیب کا مسکنسبا آلام کا انبار بے پایاں!گیاہ و سبزہ و گل سے جہاں خالیہوائیں تشنۂ باراں،طیور اس دشت کے منقار زیر پرتو سرمہ ور گلو انساںسلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں!سلیماں سر بہ زانو ترش رو، غمگیں، پریشاں موجہانگیری، جہانبانی، فقط طرارۂ آہو،محبت شعلۂ پراں، ہوس بوئے گل بے بوز راز دہر کمتر گو!سبا ویراں کہ اب تک اس زمیں پر ہیںکسی عیار کے غارت گروں کے نقش پا باقیسبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی!سلیماں سر بہ زانواب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟
یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئےشباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئےدھواں کہ برق حسن کا مہکتا شعلہ ہے کوئیچٹیلی زندگی کی شادمانیاں لئے ہوئےلبوں سے پنکھڑی گلاب کی حیات مانگے ہےکنول سی آنکھ سو نگاہ مہرباں لئے ہوئےقدم قدم پہ دے اٹھی ہے لو زمین رہگزرادا ادا میں بے شمار بجلیاں لئے ہوئےنکلتے بیٹھتے دنوں کی آہٹیں نگاہ میںرسیلے ہونٹ فصل گل کی داستاں لئے ہوئےخطوط رخ میں جلوہ گر وفا کے نقش سر بسردل غنی میں کل حساب دوستاں لئے ہوئےوہ مسکراتی آنکھیں جن میں رقص کرتی ہے بہارشفق کی گل کی بجلیوں کی شوخیاں لئے ہوئےادائے حسن برق پاش شعلہ زن نظارہ سوزفضائے حسن اودی اودی بجلیاں لئے ہوئےجگانے والے نغمۂ سحر لبوں پہ موجزننگاہیں نیند لانے والی لوریاں لئے ہوئےوہ نرگس سیاہ نیم باز مے کدہ بہ دوشہزار مست راتوں کی جوانیاں لئے ہوئےتغافل و خمار اور بے خودی کی اوٹ میںنگاہیں اک جہاں کی ہوشیاریاں لئے ہوئےہری بھری رگوں میں وہ چہکتا بولتا لہووہ سوچتا ہوا بدن خود اک جہاں لئے ہوئےز فرق تا قدم تمام چہرہ جسم نازنیںلطیف جگمگاہٹوں کا کارواں لئے ہوئےتبسمش تکلمے تکلمش ترنمےنفس نفس میں تھرتھراتا ساز جاں لئے ہوئےجبین نور جس پہ پڑ رہی ہے نرم چھوٹ سیخود اپنی جگمگاہٹوں کی کہکشاں لئے ہوئے''ستارہ بار و مہ چکاں و خورفشاں'' جمال یارجہان نور کارواں بہ کارواں لئے ہوئےوہ زلف خم بہ خم شمیم مست سے دھواں دھواںوہ رخ چمن چمن بہار جاوداں لئے ہوئےبہ مستیٔ جمال کائنات، خواب کائناتبہ گردش نگاہ دور آسماں لئے ہوئےیہ کون آ گیا مرے قریب عضو عضو میںجوانیاں، جوانیوں کی آندھیاں لئے ہوئےیہ کون آنکھ پڑ رہی ہے مجھ پر اتنے پیار سےوہ بھولی سی وہ یاد سی کہانیاں لئے ہوئےیہ کس کی مہکی مہکی سانسیں تازہ کر گئیں دماغشبوں کے راز نور مہ کی نرمیاں لئے ہوئےیہ کن نگاہوں نے مرے گلے میں باہیں ڈال دیںجہان بھر کے دکھ سے درد سے اماں لئے ہوئےنگاہ یار دے گئی مجھے سکون بے کراںوہ بے کہی وفاؤں کی گواہیاں لئے ہوئےمجھے جگا رہا ہے موت کی غنودگی سے کوننگاہوں میں سہاگ رات کا سماں لئے ہوئےمری فسردہ اور بجھی ہوئی جبیں کو چھو لیایہ کس نگاہ کی کرن نے ساز جاں لئے ہوئےستے سے چہرے پر حیات رسمساتی مسکراتینہ جانے کب کے آنسوؤں کی داستاں لئے ہوئےتبسم سحر ہے اسپتال کی اداس شامیہ کون آ گیا نشاط بے کراں لئے ہوئےترے نہ آنے تک اگرچہ مہرباں تھا اک جہاںمیں رو کے رہ گیا ہوں سو غم نہاں لئے ہوئےزمین مسکرا اٹھی یہ شام جگمگا اٹھیبہار لہلہا اٹھی شمیم جاں لئے ہوئےفضائے اسپتال ہے کہ رنگ و بو کی کروٹیںترے جمال لالہ گوں کی داستاں لئے ہوئےفراقؔ آج پچھلی رات کیوں نہ مر رہوں کہ ابحیات ایسی شامیں ہوگی پھر کہاں لئے ہوئے(۲)مگر نہیں کچھ اور مصلحت تھی اس کے آنے میںجمال و دید یار تھے نیا جہاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے آدمیجبیں پہ شاہکار دہر کا نشاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے دیوتاطہارتوں کا فرق پاک پر نشاں لئے ہوئےخدائی آدمی کی ہوگی اس نئے جہان پرستاروں کے ہیں دل یہ پیش گوئیاں لئے ہوئےسلگتے دل شرر فشاں و شعلہ بار برق پاشگزرتے دن حیات نو کی سرخیاں لئے ہوئےتمام قول اور قسم نگاہ ناز یار تھیطلوع زندگیٔ نو کی داستاں لئے ہوئےنیا جنم ہوا مرا کہ زندگی نئی ملیجیوں گا شام دید کی نشانیاں لئے ہوئےنہ دیکھا آنکھ اٹھا کے عہد نو کے پردہ داروں نےگزر گیا زمانہ یاد رفتگاں لئے ہوئےہم انقلابیوں نے یہ جہاں بچا لیا مگرابھی ہے اک جہاں وہ بدگمانیاں لئے ہوئے
کیف زا ہے یہ صورت بادہپی رہا تھا کبیرؔ آزادہ
عفریت سیم و کے کلیجے میں کیوں ہے پھانسکیوں رک رہی ہے سینے میں تہذیب نو کی سانس
محبت خدا کی حقیقت کا نورمحبت کسی کا پیام ظہورمحبت کے پیغامبر انبیامحبت کے زیر اثر اولیامحبت نقوش بیاض وجودتر و تازہ اس سے ریاض شہودمحبت نہیں تو نہیں زندگیمحبت سے ہے دل نشیں زندگیمحبت سے ہر ذرہ پیوستہ ہےطرب زا محبت کا گلدستہ ہےنشاط محبت رفیق حیاتکئے اس نے حل زندگی کے نکاتمحبت سے ہر اک حقیقت عیاںمحبت سے ماں کی فضیلت عیاںمحبت سے شان پدر سر بلندمحبت سے وصف پسر ارجمندمحبت سے مضبوط اجزائے قوممحبت سے مربوط آرائے قوممحبت سے قائم نظام حیاتتغیر میں بھی ان کا نور ثباتمحبت نہیں ہے تو کچھ بھی نہیںمحبت ہی ہے اصل دنیا و دیں
سکوت شب کی ہے جلوہ فروشیہے موجودات پر چھائی خموشیفضائے شام کو نیند آ رہی ہےمناظر پر سیاہی چھا رہی ہےہے بدلا رنگ دن کے شور و شر کاہوا تاریکیوں کا دور دورارکا ہنگامہ ہائے دن کا محشربڑھا شب کا سکوں بر دوش منظرہے آخر روز روشن کی کہانیہوئی تاریک برد آسمانیگیا راحت کدے میں مہر تاباںہوئے انوار آتش بار پنہاںہے تاریکی پیام خواب نوشیںخموشی ہے نوید رنگ تسکیںفضائے غرب ہے پیغام راحتافق کی خامشی الہام راحتہے رنگینی فضا کی کیف عشرتشفق کی سرخیاں سامان فرحتہواؤں میں بھرے ہیں نغمۂ شبہے راحت زا رباب زخمۂ شبہوا روشن نگار شب کا جلوہہیں تنویریں فلک پر کار فرما
نہ اضطراب غزنوی نہ مشرب ایاز ہےنہ خون میں حرارتیں نہ سوز ہے نہ ساز ہےنہ ذوق جام و مے کدہ نہ بت کدہ کی آرزونہ طوف کوئے یار کا نہ حسرتیں نہ جستجونہ ذوق تیغ ناز ہے نہ شوق ناوک نظرنہ نالۂ حزیں رسا نہ آہ سرد میں اثرنہ ہم نشیں نہ ولولہ کہ لو کہیں لگائیں ہمنہ حوصلہ کہ سختیاں فراق کی اٹھائیں ہمنہ ساز عشق غم ربا نہ کیف زا ہے جام غمنہ اضطراب ہجر ہے نہ انتظار شام غمنہ سر خوشی نہ عاقلی نہ عاشقی نہ بندگینہ نغمۂ طرب فزا نہ غم طراز زندگیمسرتیں نہ راحتیں محبتیں نہ لذتیںبڑھی ہوئی کدورتیں بڑھی ہوئی عداوتیںنہ درد مند عشق ہیں نہ چارہ ساز درد ہیںاٹھے تو کیا رہے تو کیا کہ رہ گزر کی گرد ہیںنہ شورشیں نہ کاوشیں نہ جوش ہے نہ ولولہبجھی ہوئی طبیعتیں بجھا ہوا سا حوصلہاگر یہی ہے زندگی اگر یہی شباب ہےتو میں کہوں گا دوستو یہ مستقل عذاب ہے
واہمے کی سسکیاں چاروں طرفاور ان میں اک صدا سب سے الگجیسے صحرا میں گلابتیرگی میں جیسے ابھرے ماہتابموت کی پرچھائیوں میں جیسے روشن زندگانی کی لکیرمنکروں کے درمیاں جیسے مسیحجیسے بپتا میں گھرے انسان کواپنے مرشد کا ملے آشیروادکورووں کے دل کا نرغہ اور اس میں جیسے کرشنبانسری کی موہنے والی صداہلکی ہلکی دھیمی دھیمی کیف زایہ صدا ہے عزم انساں کا پیامعزم انساں کی صدا آفاقیتعزم انساں کی صدا لا فانیتعزم انساں کی صدا جمہوریتیہ صدا ہے اک نوائے دلستاںیہ صدا افلاک میں پرچم فشاںیہ صدا ماحول میں ہر دم رواںیہ صدا ہر دل کی دھڑکن سے عیاںیہ صدا ہے روح جو ہے جاوداںجسم مرتا ہے صدا مرتی نہیں
خاموش ہوا بھیڑوں کا گلہ چلتے چلتے ممیا کرجا پہنچا شاید باڑے میں بوسی رستے میں پھیلا کرچپ چاپ کھڑا ہے دور ادھر وہ جنگل کالی چیلوں کاسر سبز پہاڑوں کو پر ہول بنانے والی چیلوں کاآواز نہیں آتی اب جھیل کی جانب سے مرغابی کیسنسان فضا بے جان ہوا میں لرزاں روح خموشی کییوں لائی دوش پہ لاش سی کیا رنگیں دن کی بربادی کییہ شام یہ گہری شام یہ ہر لحظہ بڑھتی ہوئی تاریکی!قدرت کے سکوت مجسم کی اس ہیبت زا آرائش سےوادی کے ذرے ذرے کی ہم آہنگی کی نمائش سےہر نقش شجر ہر فیل نما پتھر دنیا ہے طلسموں کیحد ہی نہیں آتی کوئی نظر اس طرفہ فسوں کی قسموں کیہر شے پر خواب سا طاری ہے اور میں ہوں صرف بے خوابیلینے ہی نہیں دیتی دم مجھ کو میری فطرت سیمابیاے کاش کبھی کم کر سکتی میرے بھی دل کی بیتابییہ شام یہ گہری شام یہ ہر لحظہ بڑھتی ہوئی تاریکیمیں مصنوعات کا پروردہ بلکہ انسان بھی مصنوعیمیرا سامان بھی مصنوعی میرا ایمان بھی مصنوعیبسنے والا میدانوں کے ہنگامہ پرور شہروں کابے ربط سکوں سے ناواقف اور شوریدہ سر شہروں کامیں قدرت کے اسرار و رموز پنہاں سے آگاہ کہاںاس اندھیار کے اتھاہ سمندر کی مرے دل میں چاہ کہاںاور مجھ کو دکھاتی ہے نور حقیقت کے جلووں کی راہ کہاںیہ شام یہ گہری شام یہ ہر لحظہ بڑھتی ہوئی تاریکییہ منظر خوش آیند تو ہیں میں ان سے مگر کیوں ڈرتا ہوںکیوں ان کی دلآویزی کو وحشت ناک تصور کرتا ہوںکیوں مجھ کو میسر سنگ و شجر کا سا بھی سکون قلب نہیںکیوں میری دنیا اس دنیا سے جا کے بسی ہے دور کہیںکیوں میں نے ڈالا ہے اپنے ہی جی کو آپ ہلاکت میںکیوں ہو ہی نہیں جاتا میں خود پیوستہ جہان قدرت میںکیوں لے ہی نہیں لیتی مجھ کو اپنی آغوش کی وسعت میںیہ شام یہ گہری تاریکی یہ ہر لحظہ بڑھتی ہوئی تاریکی
نیم تاریک جنگل کےلمبے سفر پہ جو نکلے ہو تمتو سن لونیم تاریک جنگل میں چاروں طرفابوالہول سے واسطہ بھی پڑے گا تمہاراکئی شکل میںورغلائیں گی تم کو چڑیلیںاژدہوں کے علاقوں سےگزرو گے تمجسم نیلا بھی ہوگا تمہارامگر آنکھ کی پتلیوں میںزندگی کا سویرا منور رہے گایہ الگ بات تمرقص ابلیس کے دائرے میں رہو گےنیم تاریک جنگل کےسارے بھیانک درندوں سے تنہانہتے لڑو گےتم نہ ہرگز ڈرو گےاستفادہ کرو گے مرے تجربوں سےتو پاؤ گے منزلسمندر کی موجیںالجھتی ہیں برسوں بھنور سےتو پاتی ہیں منزلنیم تاریک جنگلرقص ابلیسکالی چڑیلیںخوف زا جس قدر ہوطلسم سفراس کو منزل کی معراج سمجھو
پرانی قبریں ادھورے چہرے اگل رہی تھیںادھورے چہرے پرانی قبروں کی سرد زا بھربھری اداسی جو اپنے اوپر گرا رہے تھےتو عارض و چشم و لب کی تشکیل ہو رہی تھیوہ ایک کن جو ہزار صدیوں سے ملتوی تھا اب اس کی تعمیل ہو رہی تھیقبور خستہ سے گاہ خیزاں و گاہ افتاں، ہجوم عصیاںہر ایک رشتہ سے، ہر تعلق سے ماورا تھاگئے دنوں کی محبتوں کو، رقابتوں کو، صعوبتوں کو بھلا چکا تھاہجوم اپنے ازل کے مقسوم کے مطابقخود اپنے انجام کے جنوں میں کشاں کشاں راہ کاٹتا تھازمانہ اپنے جمال کو ترک کر چکا تھاجلال اس کے بزرگ چہرے کی ہر شکن میں دبک گیا تھابزرگ چہرہ، ہمیشگی کا قدیم چہرہازل سے اس دن کا منتظر تھاکہ کب یہ انبوہ خاکساراںخود اپنے اعمال کے کھنکتے ہوئے سلاسل میں غرق آئےگناہ برتے ثواب پائے
دلبری کرب زاعاشقی کرب زاآگہی کرب زا
یہ شفق پگھلے ہوئے سونے کی گویا کان ہےجس طرف دیکھو سنہرے رنگ کا طوفان ہےعرش سے تا فرش چھائی ہے گلابی روشنیاف چھڑک دی کس نے عالم پر شراب زندگیہو رہی ہیں صفحۂ عالم پر رنگ آمیزیاںبن گیا سارا جہان سادہ اک رنگیں جہاںجا رہا ہے قافلہ رنگینیوں نوروں کا یہبہہ رہا ہے یا سفینہ چرخ پر حوروں کا یہیہ سنہری کون بستی ہے نہیں چلتا پتاکہہ رہا ہے دل جزیرہ تو نہیں یہ خلد کاحسن مستی زا کچھ ایسا چھا رہا ہے دہر پردل سے میں ہوں بے خبر تو دل ہے مجھ سے بے خبرخلد کا زریں سمندر موجزن ہے چرخ پریا جواہر کا ذخیرہ آ رہا ہے یہ نظرجس طرف دیکھو زمیں تا آسماں ہے سرخ پوشاک زمین و آسماں کیا کل جہاں ہے سرخ پوشیہ تحیر زا نظارے یہ سہانی رنگتیںکیا اتر آئی ہیں گردوں سے زمیں پر جنتیںکاش اس دلچسپ تر دنیا میں کھو جائے شمیمؔکاش ان رنگینیوں میں جذب ہو جائے شمیمؔ
سحر کی کلیاں لٹی ہوئی ہیںگلوں کی شاخیں جھکی ہوئی ہیںحسین تالاب کے کنارےحسین پریاں کھڑی ہوئی ہیںبہ زیر شاخ گل شگفتہ میں صورت شمع چپ کھڑی ہوںفضا میں کوئل کی اک صدا ہےتمام جنگل لرز رہا ہےحسین دنیا کی رہنے والیحسیں فضاؤں میں نغمہ زا ہےمیں مثل اک غنچۂ فسردہ نوائے تصویر بن رہی ہوںیہ کون منظر ہے پیش دنیایہ کیسی دنیا ہے حسن آرایہ کیا تماشا سا ہو رہا ہےیہ کیسے منظر ہیں جلوہ آرامیں دل میں تصویر کھینچتی ہوں نگاہ حیرت سے دیکھتی ہوںیہ کیا ہے اے میری چشم حیراںہے کیا تماشا رخ گلستاںمیں کیا کروں اس مصوری کومجھے ہے الجھن مجھے ہے خلجانادھر ادھر کو جو دیکھتی ہوں حسین طائر ہیں زمزمہ زاوہ ان کا گانا بصد مسرتیہ کیوں نوا ہے نوائے عشرتیہ ان کے نغمے رباب جنتہیں صورت شمع محو حیرتالٰہی اس مشت پر میں چھپ کر ادا سے یہ کون گا رہا ہےکہ دل پہ چوٹیں لگا رہا ہےجگر میں ٹیسیں اٹھا رہا ہےفضا میں نغمے لٹا رہا ہےمجھے پریشاں بنا رہا ہےیہ مثل دیوار چپ کھڑی ہوں یہ کون گاتا ہے اس ادا سےفضا میں نغموں کی یہ نزاکتیہ پھول چن کر ہوں محو حیرتمیں کیا کروں زمزموں کا یا ربیہ ہے تعجب یہ ہی ہے حیرتجمالؔ حیران و پر تحیر ہے حسن دنیا فضاۓ حیرت
ترے اعجاز سے قائم مری دنیا کی رونق ہےتری دل بستگی سے شورشیں ہیں بزم ہستی میںترے دم سے جہاں میں سرفرازی مجھ کو حاصل ہےمیں تیرے گیت گاتا ہوں جہان کیف و مستی میںجنوں انگیز موسم کی قیامت خیز راتوں میںتبسم زا ستاروں کی قطاریں جب بکھرتی ہیںردائے نیلگوں پر چاندنی جب کھیت کرتی ہےترے آنچل کی لہروں پر ہوائیں رقص کرتی ہیںفضا میں آسمانی نور کی اک لوٹ مچتی ہےکنار آب جو سے جب خراماں تو گزرتی ہےکبھی جب تو مجھے موہوم لفظوں میں بلاتی ہےکبھی جب تو مری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیتی ہےجب اپنی دھڑکنیں تو میرے دل میں ڈھال دیتی ہےبہانے سے مری گردن میں بانہیں ڈال دیتی ہےبہاریں وجد میں آتی ہیں فطرت رقص کرتی ہےبہاروں میں مرے پہلو سے جب تو دور ہوتی ہےمجھے آنسو رلاتی ہے ضیا مدھم ستاروں کیتفکر چھین لیتا ہے امنگیں نوجوانی کیرلاتی ہے دل مضطر کو ویرانی بہاروں کی
گرج رہا ہے سیہ مست پیل پیکر ابراداس کوہ کی چوٹی پہ ایک تنہا پیڑاٹھا رہا ہے سوئے آسماں وہ تنہا شاخسرک رہی ہے ابھی جس میں زندگی کی نمیبڑھا ہو جیسے کسی بے نوا کا بیکس ہاتھہجوم یاس میں اک آخری دعا کے لیےبرس محیط کرم ایک بار اور برسبس ایک بار مجھے اور پھول لانے دےتڑپ رہا ہے ابھی مجھ میں ساز و برگ نمویہ میری کلیاں یہ پتے ابھی تو زندگی ہوںاتر اتر مرے دامن پہ پھول برسا دےمچل کے ابر کے پردوں سے بے حجاب آیادعائے نیم شبی کا مگر جواب آیاشرار برق کا ہیجانپیڑ طور بدستز فرق تا بہ قدم ایک پھولحسن قبول
فنا کی تیز اور تند آندھی میں ضو فشاں جو رہی ہمیشہحیات کا نور مجھ میں پنہاں جہاں میں اک مشعل بقا ہوں
سنور رہے تھے ہوا کے لطیف جھونکےابھر رہے تھے گلوں سے بہار کے نقشےنکھر رہے تھے بصارت نواز نظارےبکھر رہے تھے سماعت پہ کیف زا نغمےسدھر رہے تھے بگڑ کر حیات کے لمحے
آج پھر سوگوار ہے دھرتیدیکھ کے خوں فشاں اجالوں کوآج پھر شعلہ زا ہواؤں سےجل رہا ہے ہرا بھرا موسمآج پھر دیو زا پہاڑوں سےآ رہی ہیں گرسنہ آوازیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books